بُرہان…کشمیریوں کی نئی پہچان!!!

جمعرات جولائی    |    صریر خالد

جب کوئی شخص انسان سے ”آئکن“بن کر اتنا بڑا ہوجائے کہ لوگ اُسکے سحر میں گرفتار ہوجائیں ،تو اُسکا جسمانی طوراپنے چاہنے والوں یا پیروکاروں میں موجود رہنا یا نہ رہنا زیادہ مختلف نہیں رہتا ہے…بُرہان وانی یقیناََ اتنے ہی بڑے ہوگئے تھے۔اور اب جبکہ کئی برسوں تک اُنکے تعاقب میں اپنی نیند کھوتی رہیں بھارتی فورسز نے اُنہیں ایک پُر اسرار اور مختصر ”جھڑپ“میں مار گرایا ہے ،ایسا لگتا ہے کہ بھارت کے ہاتھ کچھ بھی نہیں لگا ہے ۔
خود بھارت کے کئی صحافی اور دانشور وضاحت کے ساتھ یہ سوال بھی پوچھنے لگے ہیں کہ کہیں زندہ بُرہان شہید بُرہان سے کم خطرناک تو نہیں تھے اور کہیں اُنہیں مار گراکر بارود کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے جیسی غلطی تو نہیں ہوئی ہے؟۔

(خبر جاری ہے)


بُرہان وانی کے جموں کشمیر میں جاری عسکری جدوجہد کے ہیرو کے بطور اُبھرنے سے اُنکے مارے جانے تک سرکاری ذرائع تک یہ تاثر دیتے آرہے تھے کہ وانی فلک بوس پہاڑوں کے دامن میں آباد اپنے آبائی علاقہ ترال یا یہاں کے آس پاس پلوامہ ضلع کے دیہات میں سرگرم ہیں۔

لیکن وہ دور اسلام آباد (اننت ناگ)کے کوکرناگ علاقہ میں فورسز کے ہتھے چڑھے جس سے لگے ہاتھوں یہ مفروضہ بھی ٹوٹ گیا کہ انٹرنیٹ کی وساطت سے ریاست کے بچے بچے کے لئے جانے پہچانے بُرہان وانی ترال یا اسکے مضافات تک ہی محدود ہیں۔جاتے جاتے اُنہوں نے بتادیا ہے کہ وہ کسی بند کمرے کے اسیر نہیں تھے بلکہ وہ سکیورٹی کے حوالے سے تمام تر چلینجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے وادی کے مختلف علاقوں میں آتے جاتے ہیں۔

حالانکہ بُرہان وانی میں فقط اخباری دُنیا کے لوگوں کی ہی دلچسپی نہیں رہی ہے بلکہ جموں کشمیر کے عام لوگ بھی اُنکی سرگرمیوں کی دلچسپی کے ساتھ واقفیت رکھتے آئے ہیں البتہ معاملے کے خبری پہلو کی وجہ سے اخباری دُنیا سے وابستہ لوگ اُنکے بارے میں کچھ زیادہ ہی کان کھول کر سنتے رہے ہیں۔بُرہان کے مارے جانے کا واقعہ چونکہ عید کے ماحول میں پیش آیا ہے لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ اس واقعہ نے وادی میں لوگوں کی عید خراب کردی تو بے جا نہیں ہوگا۔

وادی کے مسلمان سال میں آنے والی دونونں عیدوں پر کئی دنوں تک یوں گنتے رہتے ہیں”آج گیارہویں ،بارہویں…عید“ہے یعنی کئی دنوں تک خوشی کا ماحول رہتا ہے جبکہ پہلے تین دن پوری طرح سے عید منائی جاتی ہے جسکے دوران لوگوں کا دوست احباب کے یہاں آنا جانا،بچوں کا نئے کپڑے پہن کر پارکوں اور بازاروں وغیرہ میں گھومتے رہنا اور اس طرح کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔جموں کشمیر نے چونکہ ہمیشہ کی ہی طرح اس بار بھی بھارت کی،جس نے جمعرات کو عید الفطر منائی،بجائے پاکستان کے ساتھ بدھ کو ہی عید منائی لہٰذا جمعہ کو جب بُرہان مارے گئے یہ یہاں تیسری عید کا دن تھا۔
میں عید کے سلسلے میں اپنے ایک رشتہ دار کے گھر گیا ہوا تھا جہاں دیکھتے ہی دیکھتے اور بھی رشتہ دار آنے لگے اور میزبان نئے آنے والوں کے ساتھ مصروف ہوگئے۔اس دوران پاس کی مسجد سے مغرب کی اذان سُنی گئی اور ،یہ سوچ کر کہ جب تک میزبان دوسرے مہمانوں کے ساتھ مصروف رہتے ہیں میں مغرب کی نماز پڑھ کے آتا ہوں،میں مسجد چلاگیا۔میرے پیچھے پیچھے میرے میزبان کے اور مہمان بھی مسجد کو ہولئے اور ہم نے سکون کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی۔

حالانکہ پانچ رکعت کی نماز میں بہت زیادہ وقت بھی نہیں لگا لیکن جب تک ہم مسجد سے باہر آکر پھر سے اپنے میزبان کے یہاں پہنچ گئے ایسا لگا کہ جیسے دُنیا ہی بدل گئی ہو۔میزبان کے یہاں ایک لڑکی کو ہاتھ میں اپنا سمارٹ فون لئے میں نے انتہائی بے چینی اور تذبذب کے ساتھ یوں سیڑھوں پر بیٹھے پایا کہ جیسے کوئی فقیر بھیک مانگنے آیا ہو۔جونہی گھر کا مرکزی پھاٹک کھولا ،وہ میری طرف انتہائی مظطرب حالت میں لپک کے بولیں”بُرہان اینکاونٹر میں پھنس گیا ہے،خالد شہید ہوگیا ہے اور بُرہان ایک اور ساتھی سمیت محصور ہے،یہ کیسے ہوگیا،ایسا کیسے ہوسکتا ہے،اے اللہ بچا اُسے، وہ تو…“۔
وہ کچھ اس طرح بول رہی تھیں کہ جیسے اُنکی بُرہان اور اُنکے ساتھیوں کے ساتھ شناسائی ہو بلکہ جیسے وہ خود اُنکا اپنا بھائی ہو کہ جو ابھی ابھی کوئی بہانہ کرکے گھر سے گیا ہو۔حالانکہ میں سرینگر میں تھا جہاں سے بُرہان کا ترال میں واقع گھر قریب اسی کلومیٹر اور اینکاونٹر کی جگہ قریب ڈیڑھ سو کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور میرے میزبان کی لڑکی اور بُرہان کا آپس میں کوئی رشتہ بھی نہیں ہے۔میں حیران ہورہا تھا کہ یکایک سبھی میزبانوں اور مہمانوں کی ہچکیاں بندھ گئیں اور اسکے ساتھ ہی میں نے باہر سے بلند ہوتی صدائیں سُنیں جنکے بارے میں بعدازاں معلوم ہوا کہ یہ بُرہان کے مارے جانے کے خلاف نکلے جلوسوں میں ہورہی نعرہ بازی کی تھیں۔
گوکہ میں اُسی راستے سے گھر لوٹ رہا تھا کہ جس راستے سے میں اپنے رشتہ داروں کو عید کی مبارکباد دینے آیا تھا لیکن نہ جانے سب کچھ بد سا کیوں گیا تھا اور پورا ماحول الگ اور مختلف کیوں لگ رہا تھا۔کئی جگہوں پر بلکہ جگہ جگہ پر مظطرب نوجوانوں کی ٹولیاں تھیں جو ایک طرف ٹریفک روک رہی تھیں اور دوسری جانب”ہم کیا چاہتے،آزادی“، ”تم کتنے بُرہان ماروگے،ہر گھر سے بُرہان نکلے گا“، ”بُرہان تیرے خون سے،انقلاب آئے گا“اور ”بھارت تیری موت آئی،حزب(المجاہدین)آئی،حزب آئی“کے جیسے جذباتی نعرے لگارہی تھیں۔

چناچہ حزب کمانڈر بُرہان وانی کے مارے جانے کے فوری بعد سے وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور کرفیو کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اور ٹیلی فون تک کو بند کردیا گیا ہے لہٰذا اُنکے بھارتی فورسز کے ساتھ ہوئے سامنا یا اس ”جھڑپ“کے بارے میں آزادانہ طور زیادہ کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے ۔سرکاری ذرائع سے جو کچھ بتایا گیا ہے اُسکے مطابق بُرہان تک پہنچنے کے لئے برسوں سے جاری کوششوں کو کچھ دنوں سے تیز کردیا گیا تھا اور جمعہ کی صبح کو پکی خبر ملنے پر سرینگر سے پولس کے ایک خصوصی دستے کو کوکرناگ روانہ کیا گیا جہاں ایک مختصر معرکے میں بُرہان کو اپنے دو ساتھیوں سمیت مار گرایا گیا۔
اس ”معرکہ“کے شروع ہونے کے فوری بعد پولس نے ایک چار پائی پر ٹھنڈے پڑے بُرہان کی خون میں لت پت نعش کی تصویر انٹرنیٹ پر جاری کرکے شائد اپنی ”فتح“کا اعلان کرنا چاہا تھا لیکن اس نے بھوسے میں ایک چنگاری کا کام کرکے آن کی آن میں جنگل میں آگ لگا دی۔سرکاری انتظامیہ نے اپنے آزمودہ ہتھیار کو حرکت میں لاتے ہوئے انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کو بند کرنے کے علاوہ سرینگر کے بیشتر علاقوں میں کرفیو لگادیا اور جنوبی کشمیر میں بھی پہرے بٹھادئے۔
معاملہ مگر عشق کا ثابت ہوا اور یہ بات تاریخ کے اوراق میں پھر محفوظ ہوگئی کہ عاشقوں کے سامنے پہاڑ بھی رائی کے دانے ہوجاتے ہیں۔
سنیچر کی صبح کو میں ایک اور ساتھی کے سمیت بُرہان کے آخری سفر کا شاہد بننے کے لئے موٹر سائیکل پر سوار ترال کی جانب نکلا،راستے میں ایک عجیب خوف تھا،ہم دو لوگوں کے سوا آگے پیچھے کہیں کوئی نہیں تھا یہاں تک کہ ہم جموں-سرینگرشاہراہ پر واقعہ پانپور قصبہ میں داخل ہونے لگے۔
یہاں پژمردہ چہروں کے ساتھ سینکڑوں نوجوان بکھرے پڑے تھے،آگے پہنچنے پر ہم نے دیکھا کہ بھارتی فورسز نے ایمبولنس گاڑیوں کو روک کر ان میں سے کئی زخمیوں کو نیچے اُتارا تھا اور اُنکی مارپیٹ کئے جانے کے علاوہ اُنہیں سنگباز نوجوانوں کے سامنے انسانی ڈھال بناکر استعمال کیا جارہا تھا۔یہاں ماحول اس قدر خوفناک تھا کہ لوگوں نے ہمیں ترال نہ جانے کی صلاح دی اور کہا کہ فورسز بے قابو ہوچکی ہیں اور وہ لوگوں کو پکڑ کر انسانی ڈھال کی طرح استعمال کرتی ہیں۔
ہاتھوں میں پتھر لئے ہوئے مگرکئی زخمیوں کے فورسز کی تحویل میں ہونے کی وجہ سے خاموش ان نوجوانوں میں سے کئی ایک نے بتایا”بُرہان نے تو ہماری کمر توڑ دی ہے،اُسکا مشن نہیں رُکے گا لیکن ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہمارا سہارا کھو گیا“۔سرینگر سے پانپور تک جہاں بھی دیکھا ایک غم،دکھ اور مایوسی مشترکہ تھی۔ایسا لگا کہ جیسے سبھی لوگ ”بُرہان کے رشتے میں“ ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔پانپور میں پتہ چلا کہ بُرہان کے مارے جانے کے فوری بعد سرینگر سے کم از کم دو سو گاڑیوں میں سوار ہوکر لوگ راتوں رات ترال پہنچ گئے تھے تاکہ اس نوجوان بلکہ کمسن کمانڈر کومر کر ہی سہی کم از کم ایک بار اپنی آنکھوں سے دیکھ پائیں۔
پانپور میں نوجوانوں نے بتایا کہ بڈگام ضلع کے چاڈورہ قصبہ سے تین چھوٹی بچیاں پاپیادہ چل کر یہ کہتے ہوئے ترال کے لئے یہاں سے گزری ہیں کہ وہ ”بُرہان بھیا“کو ایک بار دیکھنے کی تمنا رکھتی ہیں۔یہ واقعہ سُناتے ہوئے ایک نوجوان کی آنکھ بر آئی اور ایک آہ کے ساتھ اُنہوں نے بر آئی ہوئی آواز میں کہا”سب ختم ہوگیا،ہمارا سہارا ختم ہوگیا“۔
وقت رہتے ہوئے ترال پہنچنے میں کامیاب رہے صحافی دوستوں کی لکھی ،بتائی اور تصویروں کی زبانی بتائی ہوئی کہانیوں کے مطابق تمام تر پابندیوں کے باوجود بھی کم از کم زائد از ایک لاکھ لوگوں نے بُرہان کے جنازے میں شرکت کی اور تقریباََ پچاس الگ الگ جلوسوں نے اُنکا جنازہ پڑھا۔
اتنا ہی نہیں بلکہ بُرہان کی نعش کو اُسوقت قبر میں ڈالتے ڈالتے واپس نکالا گیا کہ جب کہیں سے آئے ایک جلوس میں شامل لوگوں نے انتہائی جذباتی ہوکر اپنے ہیرو کا چہرہ دیکھے بغیر یہاں سے جانے سے انکار کردیا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ترال پہنچے ان سوگواروں میں آس پاس کے علاقوں کے علاوہ،بانہال،کپوارہ،پہلگام،کوکرناگ،سرینگر اور دیگر دوردراز علاقوں سے آئے بہت لوگ شامل تھے۔علاوہ ازیں وادی کے مختلف علاقوں میں نہ صرف یہ کہ ہزاروں لوگوں نے بُرہان اور اُنکے ساتھیوں کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی بلکہ سرکاری فورسز کے خلاف احتجاج بھی کیا یہاں تک کہ ضبط سے کام لینے کی دعویدار فورسز نے ،اس تحریر کے مکمل ہونے تک،تیس افراد کو گولیوں سے بھون دیا جبکہ اسپتالوں میں کراہ رہے زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں بتائی جارہی ہے۔
بُرہان کے مارے جانے کے تیسرے دن بعد بھی وادی میں ماحول دھماکہ خیز تھا اور درجنوں افراد کے گولیوں سے بھون دئے جانے کے باوجود بھی مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کے ذرئعہ مزید لوگ بُرہان کے ساتھ وابستگی جتلاتے ہوئے اُنکے تئیں محبت کا اظہار کر رہے ہیں۔
جموں کشمیر میں بھارت مخالف جنگجوئیت اب قریب تیس سال پُرانی ہوگئی ہے اور اس دوران ہم نے اشفاق مجید وانی سے لیکر شمس الحق اور ناصرالاسلام سے لیکر ندیم خطیب تک ایک سے ایک نامور،جرّی،پڑھے لکھے اور کھاتے پیتے گھرانے کے چشم و چراغ جنگجو کمانڈروں کو بھارتی فورسز سے لوہا لیتے ہوئے جاں بحق ہوتے دیکھا ہے مگر بُرہان کے مارے جانے کے خلاف ردعمل الگ بھی تھا ،حیران کن بھی اور مختلف بھی۔
ویسے تو علیٰحدگی پسندوں کے سیاسی اتحاد حُریت کانفرنس نے بُرہان کے مارے جانے کے خلاف فوری طور ہڑتال کی کال دی تھی لیکن جو حالات بُرہان کے مارے جانے کے بعد سے وادیٴ کشمیر کو اپنی گرفت میں لے چکے ہیں وہ اتنے الگ اور اچانک ہیں کہ جس کا شائد ہی،سرکاری ایجنسیوں کے سمیت، کسی کو موہوم سا اندازہ بھی رہا ہوگا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بُرہان کا مارا جانا ایک طرفسے خود سرکاری ایجنسیوں کے لئے ناقابلِ یقین سا تھا اور دوسری طرف اس نو جوان بلکہ کمسن کمانڈر کی شہرت کا عالم یہ ہے کہ سرکاری ایجنسیاں اپنے اس نا قابلِ یقین کارنامے پر پوری طرح سے جشن بھی نہیں مناپارہی ہیں بلکہ ٹیلی ویژن پر ایک اہم پولس افسر کو یوں بات کرتے دیکھا گیا کہ جیسے وہ بُرہان جیسے ہر دلعزیز کمانڈر کے مارے جانے کو جوازیت بخشنے کے لئے خود کو مشکل میں پارہے تھے۔
بُرہان جیسے بڑے خطرے کو ”ٹالنے“پر اپنے چہروں پر فاتحانہ مسکراہٹ سجانے کی بجائے ”افسوس“کے تاثرات نہ چھپا پانے،سینوں کو ہدف بناکر کر برس رہی گولیوں کی پرواہ کئے بغیر احتجاج کرنے والے ہزاروں لوگوں کی صداوٴں ،خفیہ ایجنسیوں کے کیمرہ اوربدنام زمانہ ٹاسک فورس کی نظروں میں آکر تباہ کردئے جانے کے ڈر سے بے پرواہ ہوکر ہزاروں بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے بُرہان اور اُنکے ”مشن“کے ساتھ کھلے عام وابستگی جتلانے اور غصہ ظاہر کرنے کا مطلب کیا ہے؟،یہ ایک اہم سوال ہے۔

بُرہان وانی خود 2010ءء کی عوامی تحریک کے پیداوار ہیں کہ جب اُنہیں اُنکے بھائی خالد،جنہیں سال بھر قبل فوج نے نہ جانے کیوں مار ڈالا اور پھر اُنہیں جنگجو قرار دینے کی ناکام کوشش بھی کی تھی،کے سمیت فورسز کی ایک ٹکڑی نے ناحق ذلیل کیا اور اُنکے بھائی کی مارپیٹ کی تھی جسکے فوری بعد وہ ایک شوخ کرکٹر اور طالب علم سے مطلوب ترین جنگجو ہوگئے تھے۔خود سرکاری ایجنسیاں اعتراف کرچکی ہیں کہ بُرہان اور اُنکی کمان میں صف بندی کرچکے پڑھے لکھے نوجوان 2010ءء کی تحریک سے متاثر بلکہ مایوس ہوکر بندوق تھام چکے ہیں۔
جس وقت بُرہان نے 16/سال کی عمر میں بندوق اُٹھائی تھی جموں کشمیر میں جنگجوئیت کا تقریباََ جنازہ نکل چکا تھا۔گوکہ بھارت مخالف عسکری تحریک شروع ہونے کے بعد سے اگرچہ جنگجوئیت کے ختم ہونے کا کبھی باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ جب بُرہان نے بندوق تھامی تھی اُسوقت اس بات کو تقریباََ ایک حقیقت کے بطور تسلیم کیا جاچکا تھا کہ اب بندوق کا کوئی رول نہیں رہا ہے یا پھر کشمیر میں شائد کوئی بندوق اٹھانے پر آمادہ نہیں ہے۔

2008ئاورپھر2010ئمیں سرکاری فورسز کی غنڈہ گردی میں قریب دو سو لوگوں کے قتل اور معاملات کے کسی حد تک ٹھنڈا ہونے کے بعد بھارتی قیادت نے جس طرح مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کی خواہشات و احساسات کے تئیں جس آزمودہ بے حسی کو جاری رکھا اُس نے بُرہان کے ”انتخاب“کو درست ٹھہرا یا۔ بُرہان کے مارے جانے پر کشمیر میں لگی آگ نے بہ الفاظِ دیگر اور بہ آوازِ بلند واضح کیا ہے کہ مذاکراتی سلسلے کے مذاق ،نئی دلی کی بے حسی،نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جیسی نام نہاد کشمیری پارٹیوں کے عشقِ اقتدار اور استحصالی سیاست سے مایوس کشمیری بُرہان اور اُنکے مٹھی بھر جنگجووٴں کو آخری اُمید کی طرح دیکھتے ہیں۔
بُرہان نے کس طرح اپنی کمسنی اور ذرائع کی کمی کے باوجود سماجی رابطے کی ویب سائٹوں اور فوجی وردی وغیرہ کا استعمال کرکے اپنے چند ایک ساتھیوں کے گروہ کو بھارت کی لاکھوں فوج کے سامنے یوں کھڑا کردیا کہ جیسے برابر کی فوج ہو،یہ ایک الگ موضوع ہے جو بُرہان کی صلاحیتوں کی تعریفوں کے ارد گرد گھومے گا۔البتہ اہم بات یہ ہے کہ بُرہان کو جس دھج سے سیاست سے مایوس کشمیریوں نے الوداع کہا ہے وہ نہ صرف اپنے آپ میں اہم ہے بلکہ آنے والے کشمیر کے حالات اسی کی بنیاد پر قائم ہونے میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیئے۔
یہ بات الگ ہے کہ اُنکا اپنا دامن داغدار ہے اور اُنکے موجودہ بیانات سیاسی روٹیاں سینکنے کی کوشش ہے لیکن عمر عبداللہ کے منھ سے نکلے اس بیان کی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ بُرہان کی شکل میں کشمیریوں کو نیا ”آئکن“مل گیا ہے اور اُنکی قبر مزید جنگجووٴں کو جنم دے سکتی ہے۔سابق ملٹری کمانڈر جنرل حسنین نے بھی کچھ اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا ہے بلکہ سچ یہ ہے کہ اس طرح کی کھلی اور آسانی سے سمجھے جانے والی باتوں کے لئے کسی سیاسی پارٹی کا لیڈر یا ملٹری کمانڈر ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایک عام انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ جس ہیرو کے آخری دیدار کے لئے لاکھوں لوگ بے تحاشا چل رہی گولیوں سے بے پرواہ ہوں اور گولیاں کھانے کے بعد جو لوگ اسپتالوں کی دیواروں پر اپنے خون سے کچھ یوں لکھ رہے ہوں”بُرہان بھائی آپ شہید ہوگئے،ہمیں کس کے سہارے چھوڑ دیا“،وہ کس طرح اس ہیرو کو زندہ رکھنے اور اسکے ساتھ جُڑے رہنے کی کوشش کرینگے…!!!حاصلِ کلام یہ ہے کہ برسوں تک نہ جانے کہاں غائب ہوکرلاکھوں فوج کو تگنی کا ناچ نچاتے رہے بُرہان وانی سے کہیں زیادہ آج اپنی قبر کا واضح پتہ رکھنے والے اور اب کے بعد کبھی فرار نہ ہو پانے والے بُرہان وانی نئی دلی کے لئے زیادہ خطرناک ہوگئے ہیں۔
جموں کشمیر میں ”سکیورٹی“کے معاملات کے ساتھ ساتھ سیاسی ہیرا پھیری کے کرتا دھرتا افسروں کے افسردہ چہروں پر یہی سب پڑھا جاسکتا ہے…!!!
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

صریر خالد کے بدھ جولائی کے مزید کالم