” بدل رہا ہے خیبرپختونخوا “

ہفتہ جولائی    |    عمر خان جوزوی

خیبرپختونخوا کے اکثر علاقوں میں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرتے درجنوں اور سینکڑوں نہیں ہزاروں بچے۔ ۔۔۔ سرکاری ہسپتالوں کے وارڈوں میں ایک ایک بیڈ پر رلتے اورتڑپتے تین تین مریض ۔۔۔۔ مہنگائی، غربت و بیروزگاری کے ہاتھوں بھوک سے بلکتے لاکھوں بچے۔۔۔ گلی ، محلوں میں بھیک مانگتے چھوٹے اور معصوم پھول و بے شمارکلیاں ۔۔۔۔ محافظ خانوں میں وحشی درندے و گلوبٹ اور مسیحا خانوں میں پاؤں پرپاؤں رکھ کرعیش وعشرت کی نوکری کرنے والے قصائی اور ڈاکوؤں کو دیکھ کر مجھے فورا ً ۔
۔۔۔،، بدل رہا ہے خیبرپختونخوا ، ،کے الفاظ یاد آنے لگتے ہیں ۔۔۔۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے ”بدل رہا ہے خیبرپختونخوا“ کے ان حسین ۔۔۔ دلفریب اور خوبصورت الفاظ کے مجموعے کو اپنا سلوگن بنایا ہوا ہے ۔

(خبر جاری ہے)

میں جب بھی اس جملے کو پڑھتا ہوں یا جب بھی ان پر فریب الفاظ پر میری نظر پڑتی ہے تو مجھے یہ شعر یاد آجاتا ہے ۔۔۔ آؤ ان کی مست نگاہوں میں ڈوب جا دلسوز ۔۔۔ بڑا حسین سمندر ہے خودکشی کیلئے ۔۔

“ بدل رہا ہے خیبرپختونخوا “ کے جملے میں موجودالفاظ کوحقیقت مان کران الفاظ کی سرسبزی اورمستی میں ڈوب جاناکسی خودکشی سے کم نہیں۔ویسے ایک بات ہے ایک طرح اس جملے سے سچائی کے موتی بھی بکھر رہے ہیں ۔کیونکہ پشاور سے کوہستان ۔۔۔۔ چترال سے بٹگرام اورشانگلہ سے کاغان تک خیبرپختونخوا کے عوام کی حالت زار۔۔۔۔کھنڈرنماسڑکیں۔۔۔۔خانہ بدوشوں کے خیموں کی طرح بوسیدہ ٹینٹوں میں قائم سرکاری سکولز۔
۔۔۔بدمست سرکاری افسران ۔۔۔ گلوبٹ نما پولیس ۔۔۔ پھگواڑی کے پھول جیسے پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی اور سرکاری اداروں پر ریٹائرڈ باباؤں کی حکمرانی دیکھ کریہ گمان ہوتاہے کہ واقعی “ بدل رہا ہے خیبرپختونخوا “ ۔میرے خیال میں تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد بدل رہا ہے خیبرپختونخوا نہیں بلکہ کافی حد تک بدل چکا ہے خیبرپختونخواکہنازیادہ مناسب ہوگا۔ تحریک انصاف نے اقتدار میں آکر خیبرپختونخوا کے اندر واقعی ہر چیز کو تبدیل کردیا ہے مگر افسوس پی ٹی آئی نے صوبے میں جو اصل تبدیلی لائی ہے یہ خود ان کو نظر نہیں آرہی۔
عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے جدید سسٹم پر سرسبز باغات کی ویڈیوز بنوانے اور بدل رہا ہے خیبرپختونخوا جیسے نت نئے اور دلفریب الفاظ ڈھونڈنے کی بجائے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کواپنی یہ تبدیلی اورتبدیلیاں بھی عوام کے سامنے لانی چاہییں جوانہوں نے پچھلے تین ساڑھے تین سال میں جھاری کس سے کوہستان اور چترال سے کاغان تک کھنڈر نما سڑکوں ۔۔۔ سرکاری اداروں کی نجکاری۔۔ غربت و بیروزگاری میں اضافے کے ذریعے لائی ہیں۔
خیبرپختونخوا کے دیگر حصوں کی طرح ہزارہ بھر میں کھنڈر نما سڑکیں ۔۔۔ بھوک سے بلکتے بچے ۔۔۔۔ طبی سہولیات کیلئے ایڑھیاں رگڑرگڑ کر تڑپتے مریض اور شدید سردی و گرمی میں کھلے آسمان تلے تعلیم کی پیاس بجھانے والے پھول جیسے نازک اورمعصوم بچے دیکھ کرمیں کیسے یہ یقین کروں کی کہ ” بدل رہا ہے خیبرپختونخوا “۔۔ تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی کتابوں اور خوابوں میں واقعی خیبرپختونخوا بدل رہا ہوگا لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
ترقی سے تباہی اور بلندی سے پستی کی طرف تو خیبرپختونخوا واقعی بدل رہا ہے مگر تباہی سے ترقی اور پستی سے بلندی کی طرف خیبرپختونخوا کیا۔۔۔۔؟ خیبرپختونخوا کا کوئی ایک ضلع یا شہر بھی نہیں بدل رہا ۔ ماناکہ خیبرپختونخوامیں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت قائم ہونے کے بعدوزیراعلیٰ پرویزخٹک اورپی ٹی آئی ممبران اسمبلی اورپارٹی عہدیداروں کے حالات بد ل گئے ہوں گے لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ نہ غریب خانوں کوجانے والی سڑکیں بدلیں نہ غریب بدلے اورنہ ہی غریبوں کے حالات بدلے۔
۔اپنے آبائی گاؤں جوزسے کچھ دورخیمے میں قائم گرلزپرائمری سکول میں تعلیم کی پیاس بجھانے کیلئے گرمی سے بلبلاتے اورسردی سے ٹھٹھرتے بچوں کاخیال اورکھنڈرنماجوزسڑک کی حالت ذہن میں آتے ہی میں آج بھی کانپ اٹھتاہوں ۔۔کیایہ وہ تبدیلی ہے۔۔۔۔؟جس کے خواب قیمتی ووٹ تحریک انصاف کے امیدواروں کودیتے ہوئے غریبوں نے دیکھے تھے۔۔پی ٹی آئی کوووٹ دینے والے آج جب خیموں میں قائم سکولوں میں اپنے معصوم اورپھول جیسے بچوں کوگرمی سے بلبلاتے اورسردی سے ٹھٹھرتے ہوئے دیکھیں گے توان کے دلوں پرکیاگزرے گی ۔
۔۔۔؟ ان کھنڈرنماسڑکوں جن پرجانوربھی چلتے ہوئے منہ کے بل گرتے ہیں ان پرجیپ،ڈاٹسن اوردیگرگاڑیوں میں دھکوں پردھکے کھاتے ہوئے جب جسم کی خوب مالش کے بعدغریب لوگ منزل مقصودپرپہنچیں گے تووہ پی ٹی آئی کی تبدیلی بارے کیاسوچیں گے۔۔۔۔؟طبی سہولیات کے لئے ہسپتالوں کارخ کرنے والے غریب جب ڈاکٹروں اورہسپتال منتظمین کی زبانوں سے ،،مفت ادویات کاکوٹہ کب کاختم،،یا،،زکوٰة کاکوئی فنڈزنہیں ،،کے الفاظ سنیں گے توان پراس وقت کیاگزرے گی ۔
۔۔۔؟تھانوں اورکچہریوں میں عوام کی نظریں آج بھی جب گلوبٹوں اوررشوت بٹوں پرپڑے گی توعوام اس وقت عمران خان اورپرویزخٹک کے بارے میں کیاسوچتے ہوں گے۔۔؟عمران خان اورپرویزخٹک کے ہاں ایک نہیں ہزاربارتبدیلی آئی ہوگی لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ خیبرپختونخوامیں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔۔جولوگ غریبوں کوبنیادی سہولیات ہی فراہم نہ کرسکیں ان سے تبدیلی کی کیاامیدکی جاسکتی ہے۔۔ ؟خیبرپختونخواکے غریب عوام کل بھی سڑک،بجلی،ہسپتال ،سکول ،روزگاراورپانی کارونارورہے تھے اورحقیقت یہ ہے کہ وہ آج بھی انہی چیزوں کارونارورہے ہیں ۔
ماضی میں جس طرح دیگرسیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے منتخب ممبران قومی وصوبائی اسمبلی گمنام ہوتے تھے عین اسی طرح آج تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی بھی گوہرنایاب ہیں ۔ہرحلقے میں مسائل کے انبارلگے ہوئے ہیں ۔ہرووٹراورسپورٹرکسی نہ کسی پریشانی اورمسئلے کاشکارہے مگران سونامیوں کوان کی کوئی فکرنہیں ۔عمران خان اورپرویزخٹک کی طرح پی ٹی آئی کے نادان ایم این ایزاورایم پی ایزبھی سیمنٹ اورسریے کے استعمال اورگلی،محلوں اورشاہراہوں کی تعمیرکوشجرممنوع سمجھ رہے ہیں ۔
۔جن لوگوں کے ہاں ترقیاتی کاموں کی کوئی اہمیت نہ ہو۔۔۔۔جولوگ شاہراہوں اورپلوں کی تعمیرکووقت کاضیاع قراردیں ۔۔ان کے بارے میں کیسے یہ کہاجاسکتاہے کہ وہ تبدیلی لائیں گے۔۔؟شاہراہوں اورپلوں کی تعمیرواقعی وقت اورپیسے کاضیاع ہوگا لیکن یہ ان لوگوں کیلئے جوسونامی ہیلی کاپٹروں پرہروقت سفرکرتے ہوں گے جن لوگوں کاپیدل مارچ ،جیپ ،ڈاٹسن اوردیگرکھٹارہ گاڑیوں میں سفرکے علاوہ کوئی چارہ نہیں ان کیلئے یہی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ہی توسب سے بڑی غنیمت ہیں ۔
۔عمران خان اورپرویزخٹک کوکاعذی تبدیلی اورترقی کی دنیاسے نکل کرحالات کااپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرناہوگا۔ایک بات یادرکھنی چاہئے اب تو،،خیبرپختونخواہی بدل رہاہے،،جس دن خیبرپختونخواکے لوگ بدل گئے توپھرکسی کی خیرنہیں ہوگی ۔۔یہ بڑے جذباتی لوگ ہیں ۔۔یہ جتنی جلدی کسی کوکندھوں پراٹھاتے ہیں اس سے جلدی یہ پھران کو زمین پردے بھی مارتے ہیں ۔۔ایسااگرنہ ہوتاتوخیبرپختونخوامیں مسلم لیگ ن۔۔پیپلزپارٹی ۔۔اے این پی۔۔جے یوآئی ۔۔جماعت اسلامی ودیگرپارٹیوں کواقتدارمیں آنے کاموقع کبھی نہ ملتابلکہ اب تک صوبے میں کسی ایک پارٹی کی ہی حکومت ہوتی ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

خیبرپختونخوا

عمر خان جوزوی کے جمعہ جولائی کے مزید کالم



متعلقہ کالم