علم اور دولت !

منگل جولائی    |    محمد عرفان ندیم

پلیٹ فارم پر رش بڑھ رہا تھا، لوگ افرا تفری میں بھاگ رہے تھے ، ٹرین آنے میں چند منٹ باقی تھے اور شور کی وجہ سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ قلی سامان اٹھائے ادھر ادھر دوڑ رہے تھے ، ایک طرف بک سٹال تھا ،دور کونے پر برگر اور کولڈ ڈرنک کے کھوکھے سجے تھے ،لوگ بکھرے ہوئے پتنگوں کی مانند منزل کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اتنے میں ٹرین کی آواز سنائی دی ، اناوٴنسر نے اعلان کیا ، گاڑی پلیٹ فارم پر آکر رک گئی ۔
مسافروں کی دھکم پیل اور بچوں کی چیخیں بلند ہونے لگیں ،ساتھ آئے میزبانوں نے اپنے پیاروں کو رخصت کیا ،ماں نے آگے بڑھ کر بیٹی کو سسرال کے گھر رخصت کیا ، ایک خوش نصیب بیٹے نے آگے بڑھ کر والدہ اور والد کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور ٹھیک پانچ منٹ بعدٹرین نے سیٹی بجادی۔

(خبر جاری ہے)

یہ پنجاب کے ایک غیر معروف قصبے کے ریلوے اسٹیشن کا منظر تھا ، میں کھڑکی کے بالکل ساتھ بیٹھا تھا ، بارش ابھی ابھی تھمی تھی اورموسم بہت خنک اور خوشگوار ہو گیا تھا۔

اب ایک عجیب منظر تھا ،ٹرین تھی،ٹرین کے ایک ڈبے کی سب سے کونے والی سیٹ پر میں تھا اور میرے ساتھ کھڑکی تھی ، میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو باہر ہریالی تھی، ہرے بھرے کھیت تھے ، کھیتوں میں چرتی بھیڑ بکریاں تھیں ، بھیڑ بکریوں کے ساتھ کسان تھے ، کسانوں کے ہاتھ میں حقہ تھا اور حقے کے کش سے اٹھنے والا دھواں تھا، دھواں ہوا میں جا کر ایک ہیولا سا بنتا تھا ، ہوائیں اس ہیولے کو اڑا کر آسمان پر لے جاتی تھیں اور آسمان کی پریاں اس ہیولے میں رقص کرتی ساون کے گیت گاتی زمین پر اتر آتی تھیں اور آسمان کی ان پریوں کو صرف میں دیکھ اور محسوس کر سکتا تھا کیونکہ ان دیکھی چیزوں کو دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے ایک حس چاہئے جو ہر کسی کو عطا نہیں ہوتی۔
اگر سورج کچھ دیر اور ساتھ دیتا تو میں اس منظر میں گم رہتا لیکن سورج کی ہار نے مجھے لاچار کر دیا تھا۔ ٹرین کی لائٹیں روشن ہو ئیں تو رات کا یقین پختہ ہو گیا ۔ سفر لمبا تھا اور کٹھن بھی میں نے بیگ کھولااور کتاب پڑھنی شروع کر دی ۔ میرے سامنے چالیس سال کی عمر کا ایک سوٹڈ بوٹڈ بابو بیٹھا تھا ، شاید وہ سفر سے اکتا گیا تھا ، اس نے پہل کی ” لگتا ہے پڑھائی کا بہت شوق ہے، کیا کر و گے پڑھ کر “ میں اچانک سوال سن کر سمٹ کر بیٹھ گیا ،ایک لمحے توقف کیا اور عرض کیا ” بس کتاب کا شوق ہے اور ساری زندگی کتاب کے ساتھ ہی گزارناچاہتا ہوں “ اس نے قہقہہ لگایا اور بولا” کتاب سے تمہیں کیا ملے گا ، ساری زندگی کتابیں پڑھ پڑھ کر بڈھے ہو جاوٴ گے ، آنکھیں اندھر کو دھنس جائیں گی اور جس حال میں پید اہوائے تھے اسی حال میں مر جاوٴ گے“ مجھے یہ باتیں عجیب سی لگی اور یہاں سے ہماری ایک نئی بحث شروع ہو گئی، میں علم اور تعلیم کی بات کر رہا تھا اور وہ دولت اور بزنس کی بات کرنے لگے۔
وہ بولے ” مجھے دیکھو میں نے شروع میں ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ مجھے بزنس میں جانا ہے اور آج میں ایک کمپنی کا مالک ہوں ، اگر میں بھی تمہاری طرح کتاب کو لے کے بیٹھا ہوتا تو آج کسی گاوٴں میں نوویں اسکول کا اسکول ٹیچر ہوتا ، تم لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ تم صرف خیالی دنیا میں رہتے ہو، اپنی ساری محنت اور قوت کتابوں مقالوں اور تھیسسز لکھنے میں صرف کر دیتے ہو اور جب تمہیں ڈگری ملتی ہے تب تک آپ اپنی زندگی کا بہترین حصہ اور کام کرنے کی عمر گزار چکے ہوتے ہو اور آخر میں تمہیں اپنی ساری زندگی ایک اسکول ٹیچر ،کلرک یا ذیادہ سے ذیادہ سترھویں اسکیل میں ملازمت کے ساتھ گزارنی پڑتی ہے اور یہی تم لوگوں کا مستقبل ہے ، جب تک تم لوگ اپنے نظریات ، تھیسسز اور مقالو ں سے فارغ ہوتے ہو اتنے وقت میں ہم جیسے لوگ اچھا خاصا بزنس کر کے کروڑ اور ارب پتی بن چکے ہوتے ہیں، اس لیے جو محنت تم علم اور تعلیم پر خرچ کوتے ہو وہ دولت اور بزنس پر صرف کرو اور پھر دیکھو تم کتنی جلدی کامیاب ٹھہرتے ہو۔
“میں نے اس کی یہ سب باتیں سنیں اور عرض کیا ” آپ نے تاریخ پڑھی ہے ، اگر پڑھی ہے تو آپ مجھے بتائیں پوری انسانی تاریخ کے کون کون سے کردار اور ان کے نام آپ کو یاد ہیں “ اس نے تھوڑ ی دیر سو چا اور بڑے فخر سے بولا ” ہاں میں نے تم سے ذیادہ تاریخ پڑھی ہے اور میں تمہیں بہت سارے نام بتاسکتا ہوں ، پھر اس نے نا م گنوانا شروع کیے” یونانی تاریخ میں سقراط، بقراط،ارسطو ،افلاطون،جالینوس،ارشمیدس اور دیگر بہت سارے نام زندہ ہیں۔
بعد کے ادوار میں مسلمانوں میں ہزاروں صحابہ ،چاروں آئمہ ، مختلف فقہاء، محدثین اور دیگر بہت سارے لوگوں کے نام زندہ ہیں ۔ برصغیر میں شاہ ولی اللہ ، قاسم نانوتوی ، محمد علی جوہر ، ابو الکلا م آزاد اور علامہ اقبال کے نام بھی زندہ ہیں ۔ مغرب میں آپ کو آئن اسٹائن ، نیوٹن ، ایڈیسن ، میڈم کیوری اور اسٹیو جابز کے نام بھی آپ کو زندہ ملیں گے“ وہ بڑے فخر سے یہ نام گنوا رہا تھا ، جب وہ خاموش ہوا تو میں نے عرض کیا ” کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان ناموں میں سے کتنے لوگ بزنس مین تھے اور ان میں سے کس کس نام کو اس کے بزنس یا اس کی دولت کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے “ میرے اس سوال پر وہ چو نک گیا ، اس نے کچھ دیر غور کیا اور باری باری سب کے نام دہرانے کے بعد خاموش ہو گیا ، اب میری باری تھی میں نے عرض کیا” دولت کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن علم علم ہے اور دو لت علم کے پاوٴں پر لگی خاک کے کھربویں حصے کے برابر بھی نہیں ، علم سے وابستہ لوگ نظریاتی لوگ ہوتے ہیں ، وہ اپنے نظریئے کے لیے ساری زندگی قربان کر دیتے ہیں جبکہ دولت کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا آپ اسے جب چاہیں جس طرف چاہیں ڈھال لیں ۔
آپ علم سے دولت کما سکتے ہیں لیکن دولت سے کبھی آپ علم نہیں کماسکتے ۔ دولت آپ کو علاج کے لیے اچھے سے اچھے ہسپتال میں داخل کر وا سکتی ہے لیکن آپ کا علاج علم ہی کرے گا، دولت آپ کو اچھی سے اچھی بلڈنگ میں بٹھا سکتی ہے لیکن مت بھولو کہ اس کی تعمیر بھی علم ہی کے ذریعے ممکن ہوئی ۔ علم انسان کی خدمت اور اس کی حفاظت کرتا ہے اور دولت کی حفاظت انسان کو خود کرنی پڑتی ہے ۔ اس کائنات میں انسان سے اصل مقصود مکارم اخلاق کی تکمیل ہے اور یہ صرف علم سے ہوتی ہے دولت سے دور بھاگتی ہے ، علم کا حصول مقصود اور دولت کا حصول مذموم ہے ، علم انبیاء کی وراثت اور دولت قارون کی وراثت ہے ، علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے اور دولت خرچ کرنے سے کم ہوتی ہے ، علم آنے سے انسان کشادہ دل ہو جاتا ہے جبکہ دولت دل میں بخل پیدا کرتی ہے ، علم کی وجہ سے آدم کو فرشتوں پر فضیلت عطا کی گئی اور علم کی وجہ سے موسیٰ جیسے عظیم پیغمبر کو خضر کی شاگردی اختیار کرنی پڑی۔
علم علم ہے اور ساری دنیا کی دولت اکٹھی ہو کر بھی علم کے عین کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔“میں سانس لینے کے لیے رکا اور دوبارہ عرض کیا ” علم انسان میں عجز اور انکساری پیدا کرتا ہے اور دولت انسان کو مغرور بناتی ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک کبھی کسی صاحب علم نے خدائی کا دعویٰ نہیں کیا “۔وہ میری باتیں بڑے غور سے سن رہا تھا ،میری بات ختم ہو ئی تو میں خاموش ہو گیا، مجھے اس سے مزید سوال کی توقع تھی لیکن میں اس کی خاموشی کا مفہوم سمجھ گیا تھا۔
ٹرین پنجاب کے کھیتوں سے ہوتی ہوئی لاہور شہر کی سرحدوں میں داخل ہو چکی تھی، سنسان کھیت اب بلند و بالا بلڈنگوں اور چمکتی دمکتی روشنیوں میں تبدیل ہو چکے تھے ، منزل قریب آچکی تھی ہم دونوں ابھی تک علم اور دولت کی گھتیاں سلجھا رہے تھے ، ٹرین رکی اور میں اپنی کتاب اور وہ اپنے بزنس کو لے کر پلیٹ فارم کی بھیڑ میں گم ہو گیا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد عرفان ندیم کے پیر جولائی کے مزید کالم