کہتی ہے یہ خلق خدا

منگل جولائی    |    محمد ثقلین رضا

عموماً تصور کیاجاتاہے کہ جیسے عوام کے روئیے ہونگے ویسی کی حکومت مسلط ہوگی یا پھر اسے الٹ پڑھیے کہ جیسے حکمران ہونگے ویسی ہی رعایا ہی ہوگی۔ بات سیدھی ہو یا الٹی دونوں صورتوں میں عوام ‘حکمران یکساں نظرآتے ہیں اب بعض لوگ شاید نقطہ اعتراض اٹھالائیں کہ ہمارے حکمران تو شاہانہ مزاج رکھتے ہیں ‘معمولی سی تکلیف پر فورا ً لندن‘ امریکہ کا قصد کرڈالا اور وہ بھی پورے کے پورے ”ٹبر“ کے ساتھ ‘ لیکن عام آدمی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں دھکے کھاتا کھاتا مرجاتا ہے۔
پھر حکمران اورعوام یکساں کیسے ہوگئے؟ عرض یہ ہے کہ بالحاظ عہدہ یا حیثیت جس کا جتنا بس چلتا ہے وہ اپنا ”حصہ بقدر جسہ “ وصو ل کرتا ہے۔ چاہے وہ عوام ہوں یا حکمران۔ خیر عوام اورحکمران کے جمہوری معاشروں میں لازم وملزم سمجھتے ہیں(ہمارے جیسے آدھے تیتر ‘آدھے بٹیر معاشروں میں نہیں)بلکہ جمہوریت کی تشریح” عوام کی حکومت ‘عوام کے ذریعے اور عوام پر“میں ہرطرف عوام ہی عوام نظرآتے ہیں مگر ہم کیاکریں کہ ہمیں اپنے ملک میں اکثریت میں ہونے کے باوجود عوام کم اور اقلیت میں رہنے والے حکمران زیادہ نظرآتے ہیں۔

(خبر جاری ہے)

خیر یہ باتیں یوں یادآئیں کہ جس انداز میں ہمارے ہاں ”تھڑا تجزیہ نگار “ سامنے آئے ہیں ویسے ہی ہمارے حکمرانوں کے ”انداز حاکمیت “ میں تھڑوں جیسا رویہ بالکل واضح دکھائی دیتاہے۔ خیر کل رات گھر لوٹتے ہوئے ایک تھڑے پر بیٹھے ”تجزیہ نگاروں/تبصرہ نگاروں سے ملاقات کا شرف نصیب ہوا ‘ چونکہ سبھی جان پہچان والے ہیں ‘کوئی دھوبی ہے تو کوئی مزدور ‘کوئی دکاندا ر ہے تو کوئی سرکاری ملازم ‘مگر ایک خاصیت سبھی میں یکساں ہے کہ سبھی لوئرمڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
ٹی وی چینلز پربیٹھے تجزیہ نگاروں جیسی بے تکی اورلاحاصل گفتگو یا پھر بات سے بات نکال کر کئی طرح کے موضوعات کو لپیٹنے کا فن کوئی ان سے سیکھے‘ یقین کریں جب یہ گفتگو کررہے ہوتے ہیں تو پھر پتہ نہیں چلتا کہ ان میں سے حامد میر کون ہے‘ جاوید چوہدری کس کانام ہے‘ یا پھر مبشرلقمان کون ہے‘ یعنی تبصرہ نگاری‘ تجزیہ نگاری کامکمل فن ان میں پوری طرح سے اتراہوا ہے ہاں ایک اورخاصیت بھی ہے کہ اپنی بات کے دوران کسی دوسرے کو بولنے کی اجازت نہیں ہوتی جو انکے نقطہ نظر سے اختلاف رکھتاہے اس کی ماں بہن ایک کرنے کا ہنر بھی انہیں خوب آتا ہے ۔

خیر گزشتہ شب اس محفل میں شریک ہونے کا موقع ملا ‘موضوع تھا ترکی کا ناکام فوجی انقلاب‘ چونکہ تازہ ترین ایشو تھا اس لئے دلچسپی کی خاطر ایک سامع کی حیثیت سے بیٹھ گئے‘سب سے پہلے دیہاڑی دار رشید کا کہناتھا کہ” دیکھا یہ ہوتی ہے عوام کی طاقت ‘کیسے ٹینک والوں کو روک دیا“بھولا نظریاتی اعتبار سے رشید کے بالکل ہی خلاف ہے‘کیوں چپ رہتا بول اٹھا”جی جی وہ عوام بھی ترکی کے ہیں ‘پاکستان کے نہیں“ رشید فوراً بات کاٹ کر بولا ” عوام تو عوام ہوتے ہیں ا س میں بھلا ترکی اورپاکستان کا کیا فرق“ بھولا بولا ” دیکھو ترکی میں حکمران عوام کے ساتھ رہتے ہیں انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں‘ان کے دکھ درد کو جاننے کیلئے انہی کے پاس آتے ہیں اس لئے عوام بھی حکمرانوں پر جان چھڑکتے ہیں دوسرا یہ کہ ترکی کی جمہوریت نے وہاں کے عوام کے جسم سے کپڑے نہیں اتارے بلکہ انہیں کھانے پینے اوررزق روزی کاانتظام کرکے دیاہے‘ عوام میں تحفظ کا احسا س پیداکیا ہے‘ وہاں کوئی لاوارث ہوکر نہیں مرتا مگر ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے‘ ہمارا معاملہ بالکل ہی الٹ ہے‘ہمارے حکمران عوام کے قریب آنا اپنی توہین سمجھتے ہیں‘ انہیں سیاستدان تو کہاجاسکتا ہے مگر عوامی لیڈر نہیں ‘ لیڈرتو طیب اردگان کی طرح ہوتے ہیں جو ہروقت عوام میں رہتے ہیں اسی لئے عوام بھی ان کی ایک کال پر جمہوریت بچانے نکل آئے“ ا س سے پہلے کہ بھولا ترکی کے ناکام انقلاب پر بات کرتے کرتے پانامہ لیکس پر آتا ‘رشید نے فوراً ٹوک دیا ” نہ نہ تمہیں تو میرے قائدین سے خداواسطے کا بیر ہے‘ مجھے پتہ ہے کہ تم نے یہ باتیں کرکے پانامہ لیکس کا ذکر چھیڑنا تھا‘ مجھے ایک بات خداواسطے بتاؤ ‘کیا پاکستان کی تاریخ میں کسی نے ملکی خزانہ نہیں لوٹا‘ کسی نے بیرون ملک جائیدادیں نہیں بنائیں‘کیا اپنے بھائی بیٹوں کو دوسرے حکمران نہیں نوازتے رہے‘ کیا جرنیل ملکی استحکام کیخلاف اقدامات نہیں اٹھاتے رہے پھر ہمارے قائدین کانام ہی کیوں“ اس سے پہلے کہ بھولاجواب دیتا ‘چاچا فخر ہٹی والا بول اٹھا ”یار چھوڑو کیوں جھگڑ رہے ہو‘ دیکھو ایک بات تو طے ہے کہ عوام بہت طاقتورہوتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ وہ ایک قوم کی صورت میں ہوں ‘ بھیڑ کی صورت میں نہیں‘ بے شک نظریاتی اختلافات ہوناچاہیں لیکن جب پاکستان اور ملکی مفاد کی بات آئے تو ہمیں یہ اختلافات ایک طر ف رکھتے ہوئے بالکل ترکی کے عوام کی طرح میدان میں آجاناچاہئے ‘ لیکن ایک فرق ہے ہم بھی ترکی کے عوام جیسے ہی ہیں بس ہمارے حکمرانوں کا فرق ہے وہاں طیب اردگان قائد ہے اورہمارے․․․․․․․․․ دیکھو جب حکمران عوام کیلئے قربانی دیتے ہیں تو عوام بھی حکمرانوں کیلئے ٹینکوں کے سامنے لیٹ جاتے ہیں‘ گولیاں کھانے کو فخر محسوس کرتے ہیں۔
مگر ہمیں ویسے حکمران تبھی نصیب ہونگے جب ہم طالع آزماؤں سے نجات حاصل نہیں کرلیتے‘ سیاست میں خریدوفروخت کرنے والوں سے چھٹکارا پانہیں لیتے‘ ظاہر ہے کہ یہ کام بھی ہمیں ہی انجام دینا ہے“ ابھی چاچا مزید کچھ کہتا بھولا فوراًبات کاٹ کر بولا ” چھوڑ چاچا فخر! کیا باتیں کرتا ہے‘ ہم نے سب کو آزمایا ہے مگر کوئی عوام کاخیال رکھنے والا نہیں آیا‘ کوئی سچا لیڈر سامنے نہیں آیا‘ سبھی سیاست سیاست کھیلنے والے میدان میں ہیں‘ اب بھلا بتاؤ ‘عوام بیچارے کیاکرسکتے ہیں“ چاچا بولا ” بھولیا‘کہتا تو ٹھیک ہے لیکن اگر جمہوری عمل اسی طرح سے چلتا رہے اور ہم اپنی پرچی کی اہمیت کو پہچا ن کر ووٹ ڈالیں تو پھر دیکھنا آنیوالے کئی برسوں میں ملکی حالات کیا سے کیاہوجائیں گے پھر نہ تو سرے محل والے آئیں گے اورنہ ہی پانامہ لیکس والوں کو جرات ہوگی بس شرط یہ ہے کہ عوام اپنے آپ کو پہچانیں“ ابھی یہ باتیں ہورہی تھیں کہ چاچافخر کے موبائل کی گھنٹی بج اٹھی‘ اسکی نظر جونہی موبائل سکرین پر ابھرتے ڈوبتے نمبرپرپڑی تو دھک سا رہ گیا اورپھر کال اٹینڈکرتے ہوئے بولا ”آرہاہوں ناراض کیوں ہوتی ہو“ یہ بات سنتے ہی سب ”تجزیہ نگاروں “ کے منہ سے قہقہہ نکلا ” لے دسو! ہمیں جرات کرنے کا حوصلہ دیتاہے اورخود اپنی نصف بہتر سے ڈرتاہے“ پھر ایک آواز آئی کہ” بیچارے چاچا کاقصور نہیں یہ تو عالمی مسئلہ ہے“ا س بات پر ختم نہ ہونیوالا قہقہہ گونجنے لگا‘ ہم نے بھی اٹھنے میں عافیت جانی کہ یہ ادھوری محفل میں ہمارے ہاں کے نجی ٹی وی چینلز کے ادھورے اور بے سروپا ٹاک شوز جیسی ہی ثابت ہوئی کہ بات کہاں سے چلی اورکہاں ختم ہوئی ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد ثقلین رضا کے منگل جولائی کے مزید کالم