ٹرک مارکہ جمہوریت!

منگل اگست    |    ارشاد بھٹی

جہازاور ہمارا رنگ ایک ساتھ اڑے ‘ ٹیک آف کیلئے لیفٹ رائٹ ہچکولے کھاتے جہاز کو دیکھ کر زندگی میں پہلی بار ہوائی سفر کرتے وہ سردار جی یا دآگئے کہ جنکے جہاز نے ٹیک آف کیلئے جب منہ اوپر اُٹھایا تو سردار جی چیخ پڑے ”بے شرمو ‘ میں پہلے ہی ڈرابٹھا ہوں اور تم ویلنگ کر رہے ہو “ ، ہمارے جہاز نے جب جھولتے جھالتے زمین چھوڑی تو اپنی کیفیت اُس شخص جیسی ہوگئی کہ جو آدھی رات کو قبر پر بیٹھی خاتون سے یہ پوچھ بیٹھا کہ ” اس وقت قبرپربیٹھے ڈر نہیں لگ رہا “ خاتون بولی ”ڈر کس بات کا ،قبر کے اندر گرمی لگ رہی تھی میں باہر آکر بیٹھ گئی “ ۔
ارے ہاں یہ بتانا تو میں بھول ہی گیا کہ شیخو اور واسکوڈے گاما کے ساتھ میں اس وقت اسلام آباد سے دبئی کیلئے روانہ ہوچکا تھا ۔

(خبر جاری ہے)

شیخو کو تو آپ جانتے ہی ہیں‘ واسکوڈے گاما کا تعارف میں کروادیتا ہوں ، ہوش سنبھالنے سے پہلے کا ہمارا یہ دوست ( ایسے دوست ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی بنائے جا سکتے ہیں ) جس کا اصلی نام افضل، جواپنی بے پناہ سفری حماقتوں کے تجربے پر دوستوں میں واسکوڈ ے گاما کے نام سے مشہور، جو اِس وقت عمر کے اُس حصے میں کہ جب نظر والی عینک لگا کر بھی بندے کو ناک سے آگے کچھ دکھائی نہ دے حتیٰ کہ عورت بھی ‘ جس کا قد اتنا کہ بیٹھے بیٹھے کھڑے اونٹ کامنہ چوم لے ، جس کی جسامت ایسی کہ جتنا وزن اٹھایا ہوااس سے ڈبل لٹکایا ہوا، جس کے منہ پر اتنی داڑھی اور مونچھیں کہ منہ دیکھ کر بھی پتا نہ چل سکے کہ وہ کیا سوچ رہا‘ لہذا خوش ہے یا ناراض یہ بھی اسی سے پوچھنا پڑے ، جس کی شکل پر ایسی حماقت کہ لوگ دیکھیں بعد میں ہنسناپہلے شروع کر دیں ، جوباتونی ایسا کہ کانوں کا سنا ہوا بھی منہ سے ہی نکالے ‘ جو جس تیزی سے باتیں کرے اس تیزی سے صرف باتیں ہی کی جا سکیں ، جو خود پرست ایسا کہ جب لوگ یہ سمجھیں کہ وہ دوسروں کی باتیں سن رہا‘ یہ اس وقت بھی دوسروں کے منہ سے اپنی ہی باتیں سن رہاہو ، جسکی چال زنانہ اور چلن مردانہ ، جسے پردہ اتنا پسند کہ سبزی میں بھی بندگوبھی کھائے ، جسے الٹا ہو کر دیکھیں تو بڑا سیدھا لگے ‘ جس کا دماغ ہر وقت چلے بس اس وقت نہ چلے جب وہ سوچ رہا ہو اور جو حاضر جواب ایسا کہ ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ کتنی بیویاں تو بولا” نکاح میں تو ایک ہی البتہ نگاہ میں کئی اور جس کی شیخو سے کبھی نہ بنی ‘دونوں میں ”اِٹ کتے دا ویر“ ، اب ان میں اِٹ کون یہ پتا تو نہ چل پایا لیکن یہ دونوں چپ بھی بیٹھے ہوں تو لگے کہ لڑ رہے ہیں ، مجھے انکی وہ پہلی ملاقات آج بھی یا دکہ جب واسکوڈ ے گاما سے ہاتھ ملاتے شیخو طنزیہ لہجے میں بولا ” آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی “ تو واسکوڈے گاما نے کہا ” مگر مجھے آپ سے مل کر خوشی نہیں ہوئی “ یہ سن کر شیخوبولا ”کیا آپ بھی میری طرح جھوٹ نہیں بول سکتے تھے “، اسی طرح ایک بارجب شیخو نے واسکوڈے گاما کے موٹاپے پرطنزکرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ ”آپ ہر 2 دو منٹ بعد صوفے سے اُٹھ جایا کریں کیونکہ بے چارے صوفے کو بھی سانس لینا ہوتی ہے “ تو واسکوڈ ے گاما نے اصلی شیخ شیخو کو شیخوں کی روایتی کنجوسی پر یہ لطیفہ سنادیا کہ ” ایک بلی شیخوں کے گھر سے روتی ہوئی نکلی توبلّے نے پوچھا ” کیا ہوا“بلی رو تے روتے بولی ” ایک تو شیخوں نے مجھے بہت مار ا اور اوپر سے مجھ سے میرا چوہا بھی چھین لیا “ ۔

یقین جانیئے اس وقت میری حالت بھی اسی بلی جیسی ، میں بھی اس لیئے نہیں رو رہا تھا کہ شیخو اور واسکوڈے گاما میرے ساتھ بلکہ مجھے رونا اس لیئے آرہا تھا کہ اگلے 5دن یہ دونوں میرے ساتھ اور ان دونوں اوران دنوں کے دکھ دردوں کا سوچ کر مجھے وہ بھلی مانس خاتون یاد آگئی کہ جس نے اپنے ہونیوالے خاوند سے جب کہا کہ ” جانو میں شادی کے بعد تمہارے سارے دکھ درد بانٹ لوں گی “ تو وہ شخص حیران ہو کر بولا” مگرمیری زندگی میں تو کوئی دکھ درد ہے ہی نہیں “ خاتون بولی ” جانو میں شادی کے بعد کی بات کر رہی ہوں“۔

ابھی آدھا گھنٹہ ہی گذرا ہوگا کہ ایک نانی کی عمر کی ائیر ہوسٹس سیٹوں کے سہارے”نا نیانہ چال“ چلتے ہوئے اپنی طرف آتے دکھائی دی ،شیخوبولا” یہ پہلے سے ہی بزرگ تھیں یا ہم تک پہنچتے پہنچتے اس عمر کو پہنچ گئیں “ واسکوڈے گاما کا جواب تھا ” پہلی بات تو یہ کہ سارا قصور تمہارا اگر تم 30سال پہلے اس جہاز میں سفر کر لیتے تو تمہیں یہ ائیر ہوسٹس اتنی بوڑھی نہ ملتی ، اور دوسری بات ائیر ہوسٹس چونکہ زمین اور آسمان کے درمیان ہو لہذا اس کا درجہ عورت اور حور کے درمیان والا اور درمیان والوں کی بد دعا سے ڈرنا چاہیے لہذایہ چھچھورا پن نہ ہی کرو تو بہتر“ اتنی دیر میں یہ بزرگ ہم تک پہنچ کر پھولی پھولی سانسوں میں پد رانہ شفقت بھری آواز میں بولی ”آپ کیا پینا پسند کریں گے “ اس نے ابھی یہی کہا ہو گا کہ جہاز لڑکھڑانے لگا ، یہ دیکھ کر شیخو بولا” ہمیں بھی وہی پلادیں جو پائلٹ پی رہا ہے “۔

جب 3 گھنٹوں کے سفرمیں واسکوڈ ے گاما او رشیخو خوب لڑ اور ایکدوسرے پر طنز کا ہر تیر چلا چکے ، جب واسکوڈ ے گاما شیخو کو یہ سنا چکا کہ ” اس دنیا میں مردے سے جان ، گدا سے صدقہ ،خسیس سے نصیب او رمرغی سے دودھ ملنا توممکن مگر کسی شیخ کی جیب سے کچھ نکلوانانا ممکن “ جب شیخو جوابی حملے کے طور پر واسکوڈ ے گاما کی لیٹ ہوئی شادی پر یہ فقرہ کس چکا کہ ” بوڑھے کا شادی کرنا اور ان پڑھ کا اخبار خریدنا میری سمجھ سے تو باہر “ اور جب ان دونوں کے درمیان یہ فقرے بازی بھی ہو چکی کہ # ہمارے ملک میں اب پان والا ہی وہ سچا انسان رہ گیا جو پوچھ کر چونا لگائے # وطنِ عزیز میں وہی صادق اور امین کہ جن کے نام صادق اور امین #کنوارے اپنی حرکات اور شادی شدہ اپنی سکنات سے پہچانے جائیں# کچھ لوگ رائتے کی طرح مطلب بات بات پر پھیل جائیں #سلفیوں کے شوقین خواتین وحضرات کی اگلی نسل کامنہ چونچ جیسا اور ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ سے لمبا ہوگا اور پرانی بیوی اور نئے مارشل لاء سے ہمیشہ بچو “ مطلب جب یہ سب کچھ ہو چکا تو پھر واسکوڈے گاما اور شیخو میں موضوع چھڑ ا جمہوریت اور مارشل لاء کا اور یہاں بھی شیخو اور واسکوڈ ے گاما حسب سابق ایکدوسرے کے آمنے سامنے آن کھڑے ہوئے ‘ شیخو بولا ” مجھے تو دونوں نظام ہی ناپسند کیونکہ مارشل لاء میں کوئی بولتا نہیں اور جمہوریت میں کوئی سنتا نہیں “ واسکوڈے گاما کہنے لگا ” نہیں بالکل نہیں‘لوگ مارشل لاء میں بولیں بھی اور جمہوریت میں سنیں بھی ، بس مسئلہ صرف یہ کہ مارشل لاء میں بولنے کے بعد بولتی بند کروا دی جائے اور جمہوریت میں اسکی سنی جائے جو کبھی نہ بولے“ واسکوڈے گاما نے جب یہ کہا کہ ” جیسے ہمارے ہاں موسیقی دوطرح کی ، ایک جسکی ہم تعریف کریں اور دوسری جو ہم سننے پر مجبور ، ایسے ہی یہاں جمہوریت بھی دو طرح کی ایک جو کتابوں ، تقریروں اور حوالوں میں ملے اور دوسری جو ہم بھگت رہے “ تو شیخو نے جواب دیا ” قصور جمہوریت کا نہیں قصور تو اس مائنڈ سیٹ کا جس میں بُلٹ اور بیلٹ اور صندوقچی اوربند وقچی کا چکر ہی ختم نہ ہو اور پھر جب شیخو نے کہا ” ہمارے سیاستدان تو عوام سے اب بے اختیار محبت بھی نہ کریں حالانکہ عوام اب ان سے بااختیار محبت چاہیں تو شیخو بولا” ہمارے سیاستدان تو عوام سے اتنی محبت کریں کہ انہوں نے توا ن عوامی مسائل کے حل بھی ڈھونڈ لیئے کہ جوابھی پیدا ہونے باقی “ ۔
دوستو! جب یہ سب کچھ ہو چکا مطلب جب میں 3گھنٹے ان کی نان سٹاپ بک بک جھک جھک سن چکا تب مجھے اس وقت اپنی آنکھوں اور کانوں پر یقین ہی نہ آیا کہ جب عمر بھر کبھی کسی غیبت یا چغلی پر بھی متفق نہ ہونیوالے واسکوڈے گاما اور شیخو کو نہ صرف میں نے ایک پوائنٹ پر متفق ومتحد دیکھا بلکہ ایکدوسرے کی تائید کرتے بھی سنا ‘ جانناچاہتے ہیں کہ وہ پوائنٹ کیا تھا تو وہ پوائنٹ یہ کہ” اپنے رہنماوٴں کو چاہیے کہ وہ جمہوری گاڑی کی رفتار اتنی ہی رکھیں کہ جتنی رفتار قوم کی دعاوٴں کی “ ”ورنہ“ تیزی سب کو بھاتی ہے مگر جان اسی میں جاتی ہے “۔ نوٹ: بقول شیخو اور واسکوڈے گاما آپ اس شعر میں اگر جان کی جگہ جمہوریت لگاکر یہ ٹرک مارکہ شعر دوبارہ پڑھیں گے تواصل بات سمجھ میں آجائے گی ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ارشاد بھٹی کے پیر اگست کے مزید کالم