بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے

بدھ اگست    |    محمد ثقلین رضا

کہاجاتاہے آم کے آم‘ گٹھلیوں کے دام‘ شایدیہ جملہ ہرطرف سے فائدہ اٹھانے والوں کیلئے اٹھایاجاتاہے مگر پھلوں کابیچارہ بادشاہ ان دنوں بے قدر اہوچکا ہے ‘وہ یوں کہ کئی اقسام پر مبنی آم(ہمارے ہاں) ان دنوں گدھا ریڑھیوں پر فروخت ہوتا نظرآتا ہے اور باقاعدہ آوازے لگاکر کہ ”سو روپے میں اڑھائی کلو“ گویا آم نہ ہوا کوئی گلی محلے کی چپس ہوگئی۔ گویا جس چیز کی کثرت ہوجائے تویونہی قدر کھودیتی ہے چاہے وہ پھلوں کابادشاہ ہویا پھرجنگل کا بادشاہ‘ ہوسکتاہے کہ موخرالذکرجملوں کی وجہ سے بعض لوگ اعتراض اٹھاتے پھریں کہ ”آپ نے خواہ مخواہ حکمران جماعت کو ہی نشانہ بناڈالا“ قصور ان بیچاروں کا بھی نہیں ہے کہ ہمارے ہاں جونہی لفظ شیر منہ سے نکلتا ہے تو ایسے ایسے استعارے سامنے آنے لگتے ہیں کہ الامان والحفیظ‘ بلکہ اب تو بچے ٹائیگر اور لائن کی تشریح کرتے ہوئے حکمرانوں کو بھی رگڑا ضرور دے دیتے ہیں وہ یوں کہ ہم اپنے ایک عزیز کے چھوٹے سے بچے کو ”Lion“کی شباہت کے ضمن میں بتارہے تھے تو وہ فوراً بولا” آپ یہ تو بتائیں کہ نواج چھریف کی جماعت بھی خود کو چھیر کہتی ہے ناں اب بتائیں کہ وہ چھیر تائیگروالا ہے یالائن والا“’اب بیچارے کو کیسے سمجھاپاتے کہ ٹائیگر دراصل کس نسل سے ہے اور لائن کس سے۔

(خبر جاری ہے)

خیروہ جوکہتے ہیں کہ ”بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے“سو بچے آج کل عجیب وغریب سوال کرتے ہیں‘ والداگر کبھی ماں اوربچوں کے ٹی وی دیکھنے کے دوران ریمورٹ ہاتھ میں پکڑکرجونہی نیوز چینل لگاتے ہیں تو بچے فورا منہ بناکر کہتے ہیں”پاپاچھوڑیں یہ گندے سیاستدانوں والے چینل نہ لگایاکریں“ گویا نیوز چینل بھی بچوں میں سیاست کی وجہ سے بدنام ہوگئے۔ اب یہ الگ بحث کہ سیاستدان نیوز چینلوں کی وجہ سے بدنام ہوئے یا نیوز چینل سیاستدانوں کی وجہ سے‘ البتہ اگر ریپوٹیشن کی بات کی جائے تویہ واضح ہوچکا ہے کہ دونوں اپنی اپنی جگہ بدنامی کی ریٹنگ میں نمایاں ہیں۔
پتہ نہیں وہ کونساخوش نصیب ملک ہوگا کہ جہاں کے سیاستدان انسان ہونگے ورنہ ہمارے ہاں تو سیاستدان کوئی ماورائی مخلوق لگتے ہیں اب خدا لگتی کہئے کہ ان دنوں جب ہرشخص پسینے سے شرابو کپڑوں سے باہر نکلتا دکھائی دیتاہے ایسے میں ہمارے حکمران کوٹ پینٹ ٹائی باندھے چمکتے د مکتے چہروں کے ساتھ ٹیلیویژن سکرین پر نظرآتے ہیں تو عام آدمی سوال کرنے پرمجبورہوجاتا ہے کہ یہ مخلوق کیا سورج سے زمین پر اتری ہے کہ انہیں گرمی نہیں لگتی۔
بلکہ چاچا بشیرا تو دھوتی کو پکڑ چیختا چلاتا نظرآتاہے کہ اتنی شدید گرمی میں مجھ سے جسم پر یہ دھوتی برداشت نہیں ہوتی اور یہ ہیں کہ تین تین چار چار کپڑوں میں جسموں کو دھنسا ہوا ہے۔
صاحبو! حکمرانوں سے بات چلی اورمیڈیا کاذکر چھڑگیا ‘ ان دنوں جونہی ٹیلیویژن سکرین پر جونہی قندیل بلوچ کی خبر بمعہ تصویر سنائی اوردکھائی (سنائی کم اوردکھائی زیادہ جاتی ہے) جارہی ہوتی ہے تو بچے سوال کرتے ہیں ” انکل انکل یہ وہ گندی آنٹی ہیں جنہوں نے ایک مولوی صاحب کے ساتھ ”گندی “ تصویریں بنوائی تھیں۔
بھلا اب کون ان بچوں کو ”گندی“ کی وضاحتیں کرتا پھرے کہ معاملہ جو کچھ نظرآتاہے وہ ہے نہیں اور جو نہیں نظرآتا وہی اصل کہانی ہے۔ خیراب تو لگتاہے کہ دونوں مصاحبین ایک جیسے ہی ہیں۔ خیر چھوڑئیے ہمارے ایک دوست کے بہت ہی پیارے سے بیٹے کی ٹانگ ٹوٹ گئی‘ ہفتہ دس دن کے بعد جب کبھی ان کی طرف جانا ہوتا ہے تو وہ معصوم بچہ ہمیشہ مسکراتے مسکراتے حال طبیعت بتاتا ہے بلکہ نہایت ہی دلچسپ انداز میں آنکھیں مٹکامٹکا کرحادثے کی روداد سناتا تو ہے پھربندہ خواہ مخواہ ہی بچے کو پیار کرنے پر مجبورہوجاتاہے ‘ ابھی کل ہی جاناہوا تو وہ بچہ پوچھنے لگا کہ ”انکل! میری تو ایک حادثے میں ٹانگ ٹوٹی ہے اور مجھے اتنے دنوں تک بیڈ پر سوناپڑرہا ہے مگر انکل نوازشریف تو اتنے دن تک بستر پر آرام نہیں کرپائے‘ شاید انہیں کسی نے سونے نہیں دیاہوگا یا میرے پاپا ‘ماما کی طرح ان کاکوئی خیال رکھنے والا نہیں ہوگا تبھی تو فورا ہی بستر سے اترے اور ہوائی جہازپر بیٹھے اور زوں زوں زوں کرتے پاکستان آگئے اورپھر ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر کشمیر پہنچ گئے‘ہم بچے کی سیاسی معلومات اور مشاہدات پر ابھی حیران ہی ہورہے تھے کہ وہ فوراًبولا میرے پاپاکہتے ہیں جب انسان کے دل کا آپریشن ہوتا تو ہے تو اسے کئی مہینے تک آرام کامشورہ دیاجاتا ہے اور پھر اسے منع کیاجاتا ہے کہ تم نے سیڑھیاں نہیں چڑھنی‘ لگتا ہے کہ انکل نوازشریف کی خدمت کرنیوالوں نے ایسا نہیں کیا۔

باتوں سے باتوں نکلے تو پتہ نہیں کہاں جاپہنچتی ہے‘ ایک سماجی تنظیم کے پروگرام میں جانے کااتفاق ہوا ‘وہاں خواتین کے ساتھ آئے ہوئے چھوٹے چھوٹے بچوں کو دیکھ کر طبیعت ہشاش بشاش ہوگئی ‘ ایک بچی دوڑتی ہوئی آئی اور بولی ”آپ ماموں ثقلین ہیں ناں“ ہم حیران کہ یہ بچی کون ہے؟؟ وہ بچی خودبولی کہ میری ماما کہتی ہیں کہ ثقلین رضامیرے بھائی ہیں‘ ہم نے اس بات پر اس بچی کے ماتھے پر بوسہ دیا تو وہ بچی زیادہ فری ہوکر بولی ”آپ یہ بتائیں کہ ایک سرکاری ملازم کی ریٹائرمنٹ کی عمر کتنی ہوتی ہے؟“ ہم نے جواب دیا کہ زیادہ سے زیادہ ساٹھ سال“ وہ بچی ہاتھ کی انگلیوں کو گھماتے گھماتے اورآنکھوں کو مٹکاتے مٹکاتے بولی”پھر سیاستدان انکل کیوں ریٹائرنہیں ہوتے“ اس سے پہلے کہ بات بڑھتی ہم پاس والے صاحب سے باتوں میں مصروف ہوگئے کیونکہ ان صاحب کی تیوریوں سے صاف پتہ چل رہاتھا کہ موصوف پیپلزپارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں یقین تھا کہ اگر ہم بچی کو نہ روکتے تو اس نے لامحالہ قائم علی شاہ کا ذکر ضرور کرنا تھا۔

گدھاریڑھی پر سامان بیچنے والے ایک دیہاڑی دار مزدور کا بیٹا محلے کی کرکٹ ٹیم میں بہت ہی ٹیلنٹڈ سمجھاجاتا تھا ‘ باؤلنگ ‘بیٹنگ ‘فیلڈنگ گویا پوری کی پوری کرکٹ کا ماہر‘ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے کرکٹ کھیلتے دیکھا ‘دو ایک ٹپس دیں اس بچے نے فوراً سے پہلے ہی ”پک “ کرلیں اورپھر پریکٹس کے بعد آیا اور نہایت تشکرآمیز انداز میں شکریہ ادا کیا ۔ غریب گھرانے کے اس بچے کی تربیت بتارہی تھی کہ اس کاوالدین گو کہ غریب ہیں مگر تربیت خوب کی ہے‘ ابھی وہ گراؤنڈ سے نکل ہی رہاتھا کہ اس کاباپ ادھر آنکلا اور نہایت ہی غصے سے آواز دی ”جمال“۔
وہ بچہ سہم گیا ہم نے قریب ہوکر بچے کے والد سے کہا کہ آپ کا بچہ بہت ٹیلنٹڈ ہے اگراس کی حوصلہ افزائی کی جائے تو بہت آگے نکلے گا“ اس بچے کاان پڑھ باپ بولا ”کہاں جی! پاکستانی کرکٹ ٹیم میں بھلا ٹیلنٹ کی قدر کہاں؟اگر ٹیلنٹ کی بات ہوتو حفیظ‘احمدشہزاد جیسے لوگوں کی جگہ بن پاتی ٹیم میں․․․․؟؟ وہ شخص ہمیں حیران چھوڑ کرچلاگیا اورہم اب تک سوچ رہے ہیں کہ وہ کہتا تو ٹھیک تھا کہ ایسے ٹیلنٹ سے ٹیم لنڈوری ہی بھلی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد ثقلین رضا کے منگل اگست کے مزید کالم