تیل کا کھیل

ہفتہ اگست    |    خالد ارشاد صوفی

ان دنوں سوشل میڈیا پرتیل کی قیمت میں کمی کے حوالے سے ایک پوسٹ گردش کررہی ہے جس میں موجودہ حکومت کو تیل کی قیمت کم کرنے کا ”اعزاز “دیا گیا۔ دھیان”تیل“ اور اس کی ”دھار“ کی طرف اٹھ گیا۔
تیل کے حوالے سے دو محاورے یقیناً آپ نے بھی سن رکھے ہوں گے‘ ”تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو“ ”نہ نو من تیل ہو گا اور نہ رادھا ناچے گی“۔ اب یہ مجھے معلوم نہیں کہ رادھا کے ناچنے کا نو من تیل سے کیا تعلق ہے اور یہ کہ تیل اگر پورے نو من نہ اکٹھا کیا جا سکے اور کچھ کم رہ گیا تورادھا ناچ سکے گی یا نہیں‘ البتہ یہ ضرور ہے کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں تیزی سے کمی نے نجی ٹرانسپورٹ رکھنے والوں کو ضرور خوشی کا ناچ ناچنے کا موقع دے دیا۔
دوسرے محاورے میں تیل کی دھار کا مطلب اگر” کاٹ“ لیا جائے تو وہ ان دنوں ضرور دیکھی جا سکتی ہے۔

(خبر جاری ہے)


ماضی میں تیل پیدا کرنے والی جو کمپنیاں ریکارڈ منافع کماتی رہیں ان کی آمدن کا گراف تیزی سے نیچے کی طرف پھسل رہا تھایہ کمپنیاں ہی سکڑ رہی ہیں انہوں نے اپنے انتظامات دو تہائی کم کر لئے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ سال رواں کے آغاز تک تیل کمپنیوں میں کام کرنے والے دو لاکھ پچاس ہزار ورکر ز اپنی نوکریاں کھو چکے تھے اور ڈرلنگ اور پروڈکشن کے لئے استعمال ہونے والے آلات اور دوسرے سازوسامان کی تیاری اور فروخت کا کاروبار بھی بند ہونے کے قریب تھا۔

تیل کی صنعت سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ پٹرولیم کی قیمتیں دوبارہ 2013کی سطح پر آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
بھٹو وہ پہلا سیاست دان تھا‘ جس نے عرب ممالک کو تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور اس کے ذریعے مغربی ممالک کو قابو میں کرنے کا گر سکھایا تھا۔ تیل کارڈیا آئل کارڈ کی اصطلاح اسی تناظر میں استعمال کی جاتی رہی۔ افسوس کہ تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک یہ گر ٹھیک طرح سے استعمال نہیں کر سکے اور الٹا مغرب نے ہی عرب ممالک کو اپنے جال میں پھنسا لیا ہے۔
اب مشرق وسطیٰ‘ جہاں سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ تیل پیدا کیا جاتا ہے‘ کو عرب بہار نامی انقلاب کے ذریعے ایک ایسی خزاں کا نشانہ بنا دیا گیا ہے‘ جس کے اثران اگلی کئی دہائیوں تک محسوس کئے جاتے رہیں گے اور حقیقت یہ ہے کہ ماضی والا مشرق وسطیٰ اب کبھی نہیں دیکھا جا سکے گا۔ مغرب تیل میں خود کفیل ہوتا جا رہا ہے؛ چنانچہ اب تیل کارڈ کا استعمال ناممکن ہو چکا۔
یہ سوال بہت سے ذہنوں میں ابھر رہا ہو گا کہ تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی کیوں واقع ہوئی‘ اور اب ہی کیوں ہوئی ؟ یہ کمی کچھ سال پہلے یا کچھ سال بعد کیوں نہیں ہوئی؟ اور یہ کہ اب اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ اگرچہ عام سوچ یہ ہے کہ اس کے پیچھے طلب اور رسد کا اکنامکس والا پُرانا معاشی فارمولا کارفرما ہے‘ لیکن حقیقت اس کے علاوہ بھی کچھ ہے۔
پچھلے کچھ سالوں میں امریکہ میں تیل کی مقامی پیداواردگنی ہو چکی ہے اور وجہ ہے اس کی شیل (Shale)آئل کی پیداوار میں اضافہ۔شیل آئل تیل سے بھری چٹانوں اور پتھروں سے کشیدکیا جاتا ہے۔ امریکہ خود کافی تیل پیدا کرنے لگا تو ظاہر ہے اس نے خلیجی ممالک سے تیل خریدنا کم کر دیا۔ سعودی عرب‘ نائیجیریا اور الجیریا سب سے زیادہ تیل امریکہ کو برآمد کرتے تھے۔تیل کی پیداوار زیادہ ہے‘ لیکن اس کی طلب میں کمیتیل پیدا کرنے والے ممالک کو تیل کی قیمتیں کم کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔
علاوہ ازیں کینیڈا اور عراق کی تیل کی پیداوار میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تیل کی برآمدات میں بھی‘ حتیٰ کہ روس بھی اپنی تمام تر معاشی مشکلات کے باوجود تیل کی پیداوار بڑھا رہا ہے۔ یہ ساری پیش رفتیں بھی تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب یعنی طلب کا جائزہ لیں تو یورپ اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں کمزور ہو رہی ہیں اور پٹرول سے چلنے والی جو نئی گاڑیاں تیار ہو رہی ہیں وہ کم توانائی سے زیادہ فاصلہ طے کرنے والی ہیں‘ جس سے کم پٹرول خرچ ہوتا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی طلب میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ پٹرول کے ساتھ ڈیزل‘ ہیٹنگ آئل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔
ایران کا شمار تیل برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ گزشتہ چند برس ایران پر مغربی ممالک کی جانب سے پابندیاں عائد رہیں‘ جس کی وجہ سے ایران کی تیل کی پیداوار میں ایک ملین بیرل یومیہ کی کمی واقع ہوئی ۔ علاوہ ازیں ایران کو مغرب سے جدید ترین آئل فیلڈ ٹیکنالوجی کی درآمد کے حوالے سے بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
اب جبکہ ایران اور امریکہ کے مابین معاہدہ طے پا جانے کی وجہ سے یہ پابندیاں ختم ہوتی جا رہی ہیں تویہ توقع کی جا رہی ہے کہ ایران بھی اپنی تیل کی پیداوار میں اضافہ کر دے گا۔ اس سے بھی تیل کی پیداوار بڑھے گی لیکن طلب اتنی ہی رہے گی۔ تیل کی قیمتوں اور دوسرے معاملات پر نظر رکھنے والے ماہرین بتا سکتے ہیں کہ اس کے تیل کی قیمتوں‘ جو پہلے ہی خاصی کم ہو چکی ہیں‘ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
اس بحران کے پس منظر میں ایک اور کھیل بھی کارفرما محسوس ہوتا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں تیزی سے کمی کی ایک وجہ اوپیک جو کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کا کارٹل(قیمتوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لئے تیل پیدا کرنے والے ممالک کا گٹھ جوڑ)ہے ‘ کی جانب سے تیل کی پیداوار کم کرنے پر رضامند نہ ہونا ہے‘ حالانکہ تیل ضرورت سے زیادہ پیدا اور برآمد کیا جا رہا ہے۔ ایران‘ وینزویلا‘ ایکواڈور اور الجیریا اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ قیمتوں میں استحکام لانے کے لئے تیل کی پیداوار میں کمی کی جانی چاہئے‘ لیکن سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور خلیج کے علاقے میں ان کے دوسرے اتحادی ایسا کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ بھی ہے کہ عراق پہلے کی نسبت زیادہ تیل پیدا کر رہا ہے جبکہ ایران بھی تیل کی پیدوار بڑھانے کے بارے میں سوچ رہا ہے تاکہ وہ ایک بار پھر تیل کا ایک بڑا برآمد کنندہ بن سکے۔تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی کے حوالے سے بہت سی سازشی تھیوریاں بھی عالمی سطح پر گردش کر رہی ہیں۔حتیٰ کہ تیل کی صنعت سے وابستہ کچھ حکام کا یہ بھی خیال ہے کہ تیل پیدا کرنے والے کچھ ممالک تیل کے برآمد کنندہ کچھ دوسرے ممالک‘ جیسے ایران اور روس‘ کو نقصان پہنچانے کے خواہش مند ہیں۔
اس کے پس منظر میں جو محرک بیان کیا جاتا ہے وہ کچھ کم اہم نہیں۔1980ء کی دہائی میں تیل کی قیمتوں میں کمی سوویت یونین کو گرانے میں بھی تو کامیاب ہوئی تھی‘تو گویا اب کسی اور بڑی طاقت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا مقصود ہے۔ یہ ریاست کون سی ہو سکتی ہے؟ ان سازشی تھیوریوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے لیکن ان کی حمایت میں کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس لئے مناسب ہو گا کہ صرف زمینی حقائق کو ہی مدنظر رکھا جائے ‘ جو یہی بتاتے ہیں کہ تیزی سے بدلتے ہوئے معاشی و اقتصادی معاملات نے پٹرولیم مصنوعات کی پیداوار کو بھی بے حد متاثر کیا ہے اور پٹرولیم ماہرین کے مطابق اثرات مرتب ہونے کا یہ سلسلہ ابھی جاری رہے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

کھیل تیل

خالد ارشاد صوفی کے ہفتہ اگست کے مزید کالم



متعلقہ کالم