سوالات جو نہ پوچھے جاسکے

اتوار اگست    |    شاہد سدھو

قارئین کرام آپ نے حالیہ برسوں میں مختلف پاکستانی ٹی وی چینلوں پر پاکستان کے چند صاف شفاف سیاستدانوں کے سینکڑوں انٹرویوز دیکھے ہونگے۔یہ تمام انٹرویوز ہفت روزہ اخبار جہاں اور فیملی میگزین میں شائع شدہ انٹرویوز کی طرح ہوتے ہیں جنکا مقصد عام طور پر مدعو شخصیت کی پروموشن ہوتا ہے، ایسے انٹرویوز میں مذکورہ شخصیت پر کسی بھی قسم کی تنقید کر نے کے بجائے اس کے فرمائے ہوئے ہر لفظ کو مستند سمجھ کر چھاپ دیا جاتا ہے۔
چند سیاستدانوں کے ضمن میں پاکستانی نیوز ٹی وی چینلز بھی یہی کردار ادا کر رہے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ان نیوز چینلوں نے باری لگائی ہوئی ہے جِس کے تحت ان کے اینکر ایک دن نئے پاکستان کے قائد اعظم ثانی کے سامنے ون ٹو ون دوزانوں بیٹھے ان کی گوہر افشانیاں حفظ فرما رہے ہوتے ہیں، اگلے دن یہ فرزندِ بھابھڑا بازار کی مغلظات پر سر دھن رہے ہوتے ہیں اور اس سے اگلے روز کینیڈویوں کے شیخ الاسلام کے سامنے بیٹھے اُنکی کف اڑاتی بپتا سن رہے ہوتے ہیں۔

(خبر جاری ہے)

آپ حیران ہوتے ہونگے کہ ان نیوز چینلوں کے نڈر، بے باک اور مادر پدر آزاد اینکروں کی ان انقلابی شخصیات کے سامنے پہنچتے ہی گھگھی کیوں بندھ جاتی ہے اور یہ اپنی ساری دھما چوکڑی بھول کر ان انقلابیوں کی بین کے آگے کیوں جھومنا شروع کر دیتے ہیں، ان اینکروں کی پٹاری میں موجود سوالات کہاں غائب ہو جاتے ہیں۔ بات تو حیرانی کی ہے کہ نئے پاکستان کے ان انقلابی لیڈران کی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ لینے کے بجائے ، ان کی دو عملیوں پر جرح کرنے کے بجائے، ان کے ثابت شدہ جھوٹے دعووں پر ان سے جواب طلبی کے بجائے، ان کی ناکام اور بری طرح پٹ جانے والی حکمت عملیوں پر کوئی بھی سوال کرنے کے بجائے ، انکے ایک کے بعد یو ٹرن پر سوال کرنے کے بجائے، یہ مادر پدر آزاد اینکر حضرات اپنے تمام سوالوں کی توپوں کا رخ حکومت اور ان لاڈلے انقلابیوں کے مخالفین کی طرف کیوں کیے رکھتے ہیں اور یہ انقلابی لیڈر انٹرویو دینے کے نام پر اپنی بار بارکی گئی پرانی تقریریں دہرائے چلے جاتے ہیں۔
بات اتنی سیدھی بھی نہیں ، ہمارے یہ گھاگ اینکرز اتنے سیدھے سادے بھی نہیں،انہوں نے ہوم ورک کیا ہے لیکن چند حساس وجوہات کی بناء پر انہوں نے اپنے اصل سوالات روکے ہوئے ہیں۔کرنا خدا کا یہ ہوا کہ راقم کے ہاتھ ان سوالوں کی فہرستیں لگ گئیں جو ایک معروف اینکر نے نئے پاکستان کے انقلابی لیڈران سے پوچھنے تھے مگر چند حساس وجوہات کی بناء پر پوچھنے سے اب تک گریز کیا ہے۔ راقم نے مفادِ عامہ کے پیشِ نظر اس ” اینکر لیک “ فہرست سے پردہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔
اِس سلسلے میں نئے پاکستان کے قائد اعظم ثانی سے اب تک نہ پوچھے گئے سترہ سوالات پیش خدمت ہیں۔واضح رہے کہ راقم نے انکی ذاتی زندگی سے متعلق سوالات حذف کر دیئے ہیں ۔ اور ایسے تمام سوالات بھی حذف کر دیے ہیں جو انکی مختلف ذہنی کیفیات کے زیر اثر دیئے گئے بیانات سے متعلق تھے جن میں آپ ایک دن کسی کو چپڑاسی نہ رکھنے کا اعلان فرماتے ہیں اور اگلے دن اس کے ساتھ ہم پیالہ ہوتے ہیں، یا جن سے یہ پتا نہیں چلتا کہ قصور وار اسکول میں شہید ہونے والے بچے اور دیگر بے گناہ پاکستانی ہیں یا ان کے قاتل دہشت گرد۔
دیگر سوالات مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔ محترم قائد اعظم ثانی صاحب قوم آپ کے ذرائع آمدنی جاننا چاہتی ہے۔آپ پچیس سال پہلے کھیل کود کر ریٹائر ہوگئے تھے ، اس کے بعد آپ کے دولت خانے ، شاہی دستر خوان اور شاہی سواریوں کے اخراجات کے لئے کیا سبیل ہے۔
۲۔ آپ دوسروں پر تو الزام لگاتے رہے مگر اپنی آف شور کمپنی چھپا کر بیٹھے رہے جب تک یہ راز نہ کھل گیا۔ اسکی اصل وجہ کیا ہے۔
۳۔ ہسپتا ل کے بورڈ ممبراور آپ کے ذاتی دوست کی ملکیتی آف شور کمپنی میں اتنی بھاری رقم کیوں لگائی گئی ، جبکہ یہ کھلا کانفلکٹ آف انٹرسٹ کا بھی معاملہ تھا۔
عوام سے جمع شدہ زکوٰة ، صدقات، چندے کی رقم اپنے ذاتی دوست کو کاروبار کے لئے دینے کو آپ جائز سمجھتے ہیں۔
۴۔ ہسپتال کی ایک اور بورڈ ممبر جو آپکی ہمشیرہ بھی ہیں، انکی آف شور کمپنیوں اور بیرون ملک جائیداد کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔
۵۔آپ نے ڈکٹیٹر کی طرف سے ٹیکس چوروں کے لئے جاری کی گئی اسکیم میں اپنا فلیٹ ڈکلیئر کیا ۔ اسکی آپ کے پاس کیا اخلاقی توجیہ ہے۔
۶۔ آپ نے اپنا ذاتی گھر ہوتے ہوئے بھی درخواست میں گھر نہ ہونے کا جھوٹ لکھ کر پلاٹ لیا۔
یہ کونسی اخلاقیات اور کہاں کا انصاف ہے۔
۷۔ کیا آپ بے نامی ٹرانزیکشنز کو جائز سمجھتے ہیں۔ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو اسطرح کی ٹرانزیکشنز کی وجوہات کیا ہوتی ہیں۔
۸۔ آپ مختلف اوقات میں ایک کہانی بیان کرتے ہیں اور اگر آپ سے وضاحت چاہی جاتی ہے تو آپ غصے میں آجاتے ہیں۔ آج آپ یہ وضاحت کر ہی دیں۔ کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ فرماتے ہیں ”آپ نے شادی کے بعد اپنی بیگم کو تین سو کنال کے محل کا تحفہ دینا تھا مگر آپ کے پاس پیسے نہیں تھے، لِہٰذا آپ نے اپنی بیگم ہی سے ادھار لے کر پلاٹ خریدا اور ان کو تحفہ دے دیا۔
پھر آپ نے لندن والا فلیٹ بیچ کر بیگم کا ادھار چُکایا۔ اور طلاق کے بعد وہ محل آپکی بیگم نے آپ کو تحفے میں دے دِیا“۔
۹۔ دوسروں سے آپ اثاثے ڈکلیئر کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں مگر آپ نے خود اپنے اثاثے چھپائے اور لندن والے فلیٹ اور آف شور کمپنی کا ذکر الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے گوشواروں میں نہیں کیا۔
۱۰۔ زیادہ نہ سہی صرف یہ بتادیں آپ نے گذشتہ دس برسوں میں کتنے بیرونی سفر کئے ہیں۔
آپ کی فرسٹ اور بزنس کلاس ٹریول اور فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام و طعام کے اخراجات کہاں سے پورے کئے جاتے ہیں۔
۱۱۔گذشتہ کچھ سالوں سے آپ ایک شخص کا جہاز اور تحفے میں دی گئی لگژری گاڑی کثرت سے استعمال کرتے ہیں، اسی شخص کو آپ کی حکومت نے صوبے میں وسیع پیمانے پر حکومتی ٹھیکوں سے نوازا ہے۔ یہ شخص کھلے عام صوبائی حکومت کی شخصیات کو ہدایات بھی دیتا ہے۔ کیا یہ کانفلکٹ آف انٹرسٹ نہیں۔
۱۲۔
آپ فرماتے ہیں ، اگر آپ کے پاس اختیار آئے تو آپ صرف بیان نہیں دیں گے بلکہ بد عنوانوں کو جیل میں ڈالیں گے۔ کیا آپ بتائیں گے کہ آپ کے صوبے میں کتنے بدعنوان سیاستدان جیل گئے ہیں۔ ایزی لوڈ والے کس جیل میں ہیں۔ سب سے بھاری پرسنٹیج والے کس جیل میں ہیں۔اب تک لوٹی ہوئی کتنی قومی دولت بر آمد ہوئی ہے۔
۱۳۔ جس پارٹی کے وزراء کو بد عنوانی کے الزامات پر کابینہ سے نکالاگیا تھا ان پر کتنے مقدمے درج کئے گئے اور کونسی عدالتوں سے بری ہونے کی وجہ سے انہیں دوبارہ کابینہ میں لیا گیا ہے۔

۱۴۔ یہ کونسی گیدڑ سنگھی ہے کہ سب سے بھاری پارٹی کا ہر بدعنوان سیاستدان آپ کی پارٹی میں شامل ہوتے ہی نہ صرف صاف شفاف ہوجاتا ہے بلکہ دیرینہ لیڈروں اور کارکنوں کو کہنی مارتے ہوئے الیکشن لڑنے کا ٹکٹ بھی حاصل کر لیتا ہے۔
۱۵۔ آپ نے سب سے بھاری پرسنٹیج والوں کے وزیر اعظم سے کالج کا افتتاح کر وانے سے پہلے اُن کے اثاثے چیک کر لئے تھے۔
۱۶۔ سب سے بھاری پرسنٹیج والوں کے ساتھ مل کر تحریک چلانے سے پہلے کیا آپ نے ان کے بچہ لیڈر اور لیڈر کے والد کے پاکستان، فرانس، برطانیہ ، دبئی وغیرہ میں موجود اثاثے چیک کر لئے ہیں۔
کیا آپ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سب سے بھاری پر سنٹیج والوں کا ڈکٹیٹر سے کوئی این آر او ہُوا تھا۔
۱۷۔ آپ نے سیاسی جوڑ توڑ کرنے سے پہلے کیا اپنے کینیڈوی کزن کے ذرائع آمدن کی تصدیق کر لی ہے۔ کیا آپ اس کزن کے مشن اور خیالات سے متفق ہیں۔ کیا آپ اپنے اور اپنے کزن کے جلسوں اور دھرنوں میں کسی ٹھیکیدار کی سرمایہ کاری کو جائز سمجھتے ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

شاہد سدھو کے ہفتہ اگست کے مزید کالم