ہم ۔۔ہمارے حکمران اورطلوع سحر

پیر اگست    |    عمر خان جوزوی

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔۔۔۔نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔۔۔۔اس ملک کو ایک طویل جدوجہد اور لازوال قربانیوں کی عظیم داستان رقم کرنے کے بعد 14 اگست 1947ء کو آزاد کرایا گیا، اس ملک کے قیام کیلئے ہمارے بزرگوں ۔۔۔ بھائیوں ۔۔۔ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں نے وہ لازوال قربانیاں دیں کہ جن پر آج تک دنیا رشک کر رہی ہے۔ اس ملک کیلئے ماؤں کی مامتا چھینی گئی، بہنوں کے دوپٹے نوچے گئے۔
۔۔ معصوم کلیوں کو مسلنے کے ساتھ ہزاروں اور لاکھوں نوجوانوں کو شہید کرکے گھروں کے گھر اور گلشنوں کے گلشن اجاڑ دئیے گئے۔۔ہمارے آباؤ اجداد اور بزرگوں نے خون کے دریا عبور کرکے لازوال اور بے مثال قربانیاں دینے کے بعد اس ملک کو کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا ۔

(خبر جاری ہے)

۔ اس ملک کو اس لئے حاصل کیا گیا تھا کہ مسلمان غلامی کے شکنجے یا پنجرے سے آزاد ہوکر پاکستان کی آزاد فضاؤں میں آزادی کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کر سکیں۔

۔۔۔ ہمارے بزرگوں نے خون کے دریا بہا کر غلامی کی زنجیریں اس لئے توڑی تھیں کہ اس ملک میں بسنے والے مسلمان آزادی کے ساتھ زندگی گزارسکیں لیکن افسوس کہ حضرت قائد اعظم کے بعد آنے والے مفاد پرست حکمرانوں ۔۔۔سیاستدانوں اوربے حس عوام اپنے بزرگوں کی ان لازوال قربانیوں کا بھرم تودور۔۔۔۔ان کے پاک خون کی لاج بھی نہ رکھ سکے۔۔ ۔۔ہمارے بزرگوں نے اپنے خون سے جس گلشن کی آبیاری کی تھی اس گلشن کا مشرقی حصہ توقیام پاکستان کے چند سالوں میں ہی ہم گنوا بیٹھے۔
پاکستان کی کوکھ سے بنگلہ دیش کا جنم ہماری ناکامی کا واضح ثبوت اور ہمارے ماتھے پر وہ بدنما داغ ہے جسے اب کوئی مٹا نہیں سکتا۔۔۔۔ جو لوگ اپنے گھر کی حفاظت نہ کر سکیں ان سے پورے گاؤں اور شہر کی حفاظت کی تمنا رکھنا جس طرح عبث اور بلی کے خواب میں چھیچھڑے ہیں عین اسی طرح اس ملک کے حکمرانوں۔ ۔۔۔ سیاستدانوں اور عوام سے طلوع سحر کی امید رکھنا بھی کسی پاگل پن سے ہر گز کم نہیں ۔۔۔۔۔ ماضی اور حال کے مقابلے میں مستقبل زیادہ اہمیت اور توجہ کا طالب ہوتا ہے کیونکہ ماضی سے صرف سیکھنے اور سبق حاصل کرنے کا کام لیا جاسکتا ہے۔
جبکہ اس کے مقابلے میں مستقبل زیادہ اہمیت کا حامل اس لئے ہوتا ہے کہ مستقبل میں تاریخ نئے سرے سے خود کو دہراتی ہے۔۔ مستقبل میں روشن صبح کی طرح کسی قوم کا استقبال ہوتا ہے تو کئی اقوام پر مستقبل زوال کے منحوس سایوں کی طرح اندھیرا اور آسمانی بجلی بن کر گرتا ہے۔ اسی لئے قوموں کی نظریں ہمیشہ طلوع سحر پرمرکوز ہوتی ہیں۔ طلوع سحرسے امیدیں اور توقعات بھی اسی لئے وابستہ ہوتی ہیں کہ مستقبل کی خوشحالی کی امیدبھی اسی کے ذریعے روشنی بن کے سامنے آتی ہے۔
مگرملکی تاریخ سے متعلق کتاب کی ورق گردانی کے بعدہم آج اس ملک میں کسی ایک سحرکے طلوع ہونے سے بھی ناامیدہیں ۔کیونکہ کلمہ طیبہ کے نام پربننے والے ملک کے ساتھ حکمرانوں ۔۔سیاستدانوں۔۔ڈاکٹروں ۔۔انجینئروں ۔۔ٹیچروں ۔۔درباری ملاؤں اورعام عوام نے آج تک جوکچھ کیااس کودیکھتے ہوئے اب طلوع سحرکی امیدبھی حماقت معلوم ہوتی ہے ۔۔۔۔69سالوں میں جس ملک کودونوں ہاتھوں سے لوٹنے کیلئے خاص سے عوام تک کسی نے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔
۔۔۔69سالوں میں ظالم حکمرانوں اورسیاستدانوں نے ملک کواندراندرسے دیمک کی طرح کھانے اورچھاٹنے کے ساتھ جس طرح دولخت کیا۔۔۔کرپٹ حکمرانوں کے ان کارناموں کوسامنے رکھتے ہوئے اب ان سے کیسے یہ امیدکی جاسکتی ہے کہ وہ طلوع سحرکاذریعہ بن سکیں گے ۔قوم کے بچوں کوہی مستقبل کامعمارسمجھ کران سے طلوع سحرکی امیدیں باندھی جاتی ہیں لیکن یہاں توان بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے بھی اندھیراہی اندھیرانظرآرہاہے کیونکہ چور،لٹیرے،ڈاکواورقاتلوں کے بچے بھی چور،ڈاکواورقاتل ہوتے ہیں جو قوموں کے لئے طلوع سحرنہیں بن سکتے۔
طلوع سحر کیلئے ایماندار، امانت دار، خودار، نڈر اور بے باک انسانوں کی ضرورت ہے۔۔۔۔ہمارے یہ بچے ایماندار، امانت دار، خودار، نڈر اور بے باک تب ہونگے جب ہم خودایماندار، امانت دار، خودار، نڈر اور بے باک ہونگے۔ہمارے حکمران اورسیاستدان 69سالوں سے اس ملک کوبیدردی سے نہ لوٹتے ۔۔۔۔ہم چندڈالروں کیلئے اپنی ماؤں ۔۔بہنوں اوربیٹیوں کوامریکہ پرنہ بیجتے۔۔۔۔چوروں۔۔ڈاکوؤں ۔۔قاتلوں اورظالموں کوگلے سے لگاکرہم مظلوموں کے ارمانوں کاخون نہ کرتے۔
۔۔۔ توآج ہم طلوع سحرسے ناامیدکبھی بھی نہ ہوتے ۔۔۔۔جولوگ اپنی ذات ومفادکیلئے اس ملک جس کی مٹی میں شہیدوں کالہوشامل ہو۔۔ کودوٹکڑے کرنے سے بھی دریغ نہ کرے ۔۔جولوگ بنک بیلنس بڑھانے کے لئے کشکول ہاتھ میں اٹھائے بے غیرتی کی تمام حدیں عبورکرلیں ۔ان لوگوں سے طلوع سحرکی امیدرکھناظلم نہیں ظلم عظیم ہے۔۔سحروہاں طلوع ہوتی ہے جہاں صلاح الدین ایوبی۔۔ٹیپوسلطان ۔۔محمدبن قاسم ،سیداحمدشہید،شاہ اسماعیل شہیداورقائداعظم جیسے لوگ وحکمران ہوں ۔
۔جہاں نوازشریف۔۔عمران خان ۔۔آصف زرداری۔۔مولانافضل الرحمن۔۔اسفندیارولی۔۔آفتاب شیرپاؤاورچوہدری شجاعت وشیخ رشیدجیسے بھکاری ۔۔ضمیرفروش اوربکاؤمال حکمران وسیاستدان ہوں۔۔ وہاں کے لوگوں کی قسمت میں ہی اندھیرے ہی اندھیرے ہوتے ہیں ۔۔جولوگ اپنی آزادی کی حفاظت نہ کرسکے وہ طلوع سحرکاذریعہ کیسے بنیں گے۔۔۔۔؟ہزاروں نہیں لاکھوں بزرگوں نے ہماری آزادی کے لئے اپنے خون سے یہ مٹی سیراب کی لیکن ان بھکاری حکمرانوں کی وجہ سے آج ہم پھر بھی غلامی کی زندگی گزارنے پرمجبورہیں ۔
۔ہم جس طرح کل غلام تھے۔۔ اسی طرح ہم آج بھی غلام ہیں ۔۔فرق صرف اتناہے کہ کل ہم کالے ہندوؤں کے غلام تھے۔۔ آج ہم ترقی یافتہ اورماڈرن بن کر سفیداورگورے انگریزوں کے غلام بن چکے ہیں ۔۔جولوگ خودکوٹھیک کرنے کی بجائے اپنی انگلیوں کارخ دوسری طرف کریں ۔۔جودوسروں کی بھلائی کے بارے میں سوچنے کی بجائے اپنی ذات ومفادکی فکرکریں ان سے طلوع سحرکی امیدنہیں کی جاسکتی۔ہماری بدقسمتی یہی ہے کہ ہم 69سالوں سے خودتبدیلی لانے کی بجائے ان مفادپرست حکمرانوں کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔
اسی لئے توشاعرنے کہاکہ۔۔۔۔عمربھرغالب یہی بھول کرتارہا۔۔۔۔دھول چہرے پر تھی اور وہ آئینہ صاف کرتارہا۔۔۔۔آئینہ صاف کرنے کی بجائے ہم اگرآج ہی چہرے سے دھول صاف کردیں توسحرطلوع ہوسکتی ہے ۔اس سحرکیلئے ہمیں اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کی تربیت کرکے ان کوسچامسلمان اوپکاپاکستانی بناناہوگا۔جب تک ہم۔۔ سچامسلمان اورپکاپاکستانی۔۔ سکول ۔۔ کالج۔۔پارلیمنٹ۔۔سرکاری اداروں سمیت ہرمیدان میں نہیں بھیجیں گے تب تک وہ۔
۔ سحر۔۔جس کابرسوں سے ہرکسی کوانتظارہے ۔۔وہ یہاں طلوع نہیں ہوگا۔ اس سحر کیلئے ہمیں اپنے بچوں کے ہاتھوں میں ہتھیار تھمانے کی بجائے ان کے ہاتھوں میں قلم اور کتاب دینی ہوگی۔۔ان کو چور، ڈاکو اور لٹیرے بنانے کی بجائے ان کو ایماندار، امانت دار اور خودار بنانا ہوگا۔ بھکاری اور فقیر بنانے کی بجائے ان کو اپنے اپنے گھروں کے حکمران بنانے ہوں گے۔۔دوسروں کی طرف انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکناہوگا۔۔ظالموں سے ڈرنے کی بجائے اپنے دلوں میں خداکاخوف پیداکرناہوگا۔۔تب اس ملک میں مشرق کے ساتھ مغرب اورشمال کے ساتھ جنوب سے بھی نئی سحرطلوع ہوگی۔۔ورنہ ہاتھوں پرہاتھ رکھ کردوسروں کامنہ دیکھنے اوردنیاکاتماشا کرنے سے طلوع کچھ نہیں ہوگا۔۔غروب ہوگاسوچوں سے بھی زیادہ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمر خان جوزوی کے پیر اگست کے مزید کالم