نیب کہانی!

بدھ اگست    |    ارشاد بھٹی

رات کے ساڑھے آٹھ بجے تو قمرزمان چوہدری کے ساتھ بیٹھے مجھے ڈیڑھ گھنٹہ ہو چکا تھا لیکن ان 90 منٹوں میں ہی ایک تو میری یہ خوش فہمی دور ہو چکی تھی کہ موجودہ نظام کے ہوتے ہوئے کرپشن یا کرپٹ مگرمچھوں پر قابو پایا جا سکتا ہے کیونکہ یہاں اتنے چوردروازے کہ ایک قدم آگے بڑھنے کا مطلب تین قدم پیچھے ہٹنا اور دوسرا مجھے یہ یقین بھی ہو گیا تھا کہ پاکستان میں اب صرف غریبی ہی وہ جرم کہ جس کی سز ا ملتی ہے ۔
ہمیشہ دوسروں کی سننے مگر آج مسلسل بولنے والے قمر زمان چوہدری بولتے بولتے رکے اورپھر پانی کے چند گھونٹ چائے کی طرح چسکیوں میں پی کربولے ” پچھلے سال اکتوبر میں ایک دن اخبار پڑھتے ہوئے میں نے یہ خبر دیکھی کہ ” سبط الحسن المعروف ڈبل شاہ جیل سے رہائی کے بعد جب اپنے علاقے میں پہنچا تو عمائدین شہر اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس کا استقبال کیا ، اس پر پھول کی پتیاں نچھاور کیں اور اسے جلوس کی شکل میں اس کی رہائش گاہ تک پہنچایا “ اگلے دن میں نے ڈبل شاہ کی فائل منگوائی تو پتہ چلا کہ موصوف نے 12 ارب سے زیادہ کا فراڈ کیا تھا اور تقریباً ساڑھے 9 ارب واپس کرنے کے بعد وہ نیب قوانین کے تحت سب سے بڑی 14 سال کی سزا بھگت کر نکلا تھا ۔

(خبر جاری ہے)

پھر ابھی کل ہی وہ قاسم ضیاء جویہ لکھ کر دیتا ہے کہ میں اپناجرم تسلیم کرتے ہوئے اپنے حصے کے2 کروڑ 40 لاکھ واپس کرونگا اور پہلی قسط کے طور پر80 لاکھ کا چیک حاضر ہے اسی قاسم ضیاء کی جب مشروط ضمانت ہوتی ہے تواس کا ایسے استقبال ہوتا ہے اور اس پر ایسے پھول پھینکے جاتے ہیں کہ جیسے وہ ورلڈ کپ جیت کر آیا ہو ۔ یہ ہے ہمارا معاشرہ اوریہ ہے ہماری قوم ۔ آگے سنیں،چند ہفتے پہلے یہاں ایک طرف یوسف رضا گیلانی کی میگا کرپشن سکینڈل سمیت11کیسوں میں پہلی پیشی پر ہی ضمانت ہو جاتی ہے جبکہ دوسری طرف ایک قیدی سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکاتا ہے کہ حضورمیں 5 سال سے جیل میں ہوں لیکن میری پہلی پیشی ہی نہیں ہو رہی۔
خود ہی دیکھ لیں ایک طرف یہ جانوروں جیسا سلوک اور دوسری طرف ایسیhandling VIP کہ درجنوں بااثر ملزمان کوعدالتی پیشیوں سے ہی استثنیٰ حاصل ۔
آپ نیب کی کارکردگی سے مطمئن ہیں ؟ باتیں کرتے کرتے رک کر ایک بار پھر پانی پیتے چئیر مین نیب سے میں نے پوچھاتوانہوں نے کہا ” میرے آنے سے پہلے زمین میں دھنسے نیب کو وہ شخص چلا رہا تھا جسے ایک بزنس ٹائیکون نے چئیر مین بنوایا تھا اور جو روز اس بزنس مین کے گھر حاضری دیتا اور اگلے دن کی ہدایات لے کر لوٹتا ۔
مگریہی نیب جو مذاق بن چکا تھا اور جسے لوگوں نے سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیا تھا ، اسی نیب کی اب دوسالہ کارکردگی یہ ہے کہ 2014میں 585 انکوائریاں مکمل کی گئیں جبکہ 2013 میں یہ تعداد 243 تھی ، پچھلے سال 188 کیسز نمٹائے گئے جبکہ 2013 میں یہ تعداد 129 تھی اور گزشتہ سال احتساب عدالتوں میں 208 ریفرنسز فائل کئے گئے جبکہ 2013 میں یہ تعداد 135تھی۔جہاں یہی کارکردگی مجھے اطمینان بخشتی ہے وہاں مجھے یہ سوچ کر دکھ بھی ہوتا ہے کہ یہ کارکردگی اوربھی بہتر ہوتی اگر ایک جج صاحب خواہ مخواہ ہمیں سولی پر نہ لٹکائے رکھتے۔
ان کی عدالت میں ہمارے ساتھ ہوتا کیا تھا یہ بھی سن لیں میرے آنے سے پہلے نیب میں پتوکی کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کا کیس پڑا ہوا تھا جس میں 4 افراد نے 12کروڑ کا فراڈ کیا تھا ہم نے یہ کیس دوبارہ کھول کر ایک ملزم فیاض غوری ولد منشی خان کو پکڑا تو اس نے سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواست دیدی اور پھر پہلی پیشی پر ہی یہ جج صاحب برس پڑے ” نیب سے بڑے ملزم تو پکڑے نہیں جاتے ، بے چارے منشیوں کو گرفتار کر رکھا ہے“۔
بس پھر کیا اس پوری پیشی کا ماحول یہ تھاکہ ہمارے وکیل کو یہ بتانے کی بھی اجازت نہ ملی کہ جناب عالی ہم نے کسی منشی کو نہیں بلکہ اس ملزم کو پکڑا ہے کہ جس کے والد کا نام منشی خان ہے اور جونہ صرف ہاؤسنگ سوسائٹی کا ڈائریکٹر تھا بلکہ پچھلے انتخابات میں قومی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑ چکا ہے ۔ نیب کی اوگرا سکینڈل میں پہلی انکوئری ہوئی تو” دو بڑے“ قصوروار نکلے مگرپھر دوسری انکوائری ہوگئی اور یہی دونوں بے قصور ٹھہرے ۔
یہ کیوں ہوااور پھر یہ تاثر کیوں ہے کہ نیب (ن) لیگ کے حوالے سے بڑا فرینڈلی ہے ۔میرے اس سوال پر قمر زمان چوہدری ایک قہقہہ مار کر بولے ”جب پہلی انکوائری ہوئی تو میں دو ماہ کی چھٹیوں پر تھا۔میں واپس آیا تو مجھے تحریری درخواست ملی کہ یہ انکوائری دفتر میں بیٹھ کر کی گئی ہے اور اس میں Site Inspectionسمیت بہت سارے حقائق نظرانداز ہوئے ہیں لہٰذا دوبارہ انکوائری کی جائے ۔میں نے اس درخواست پر دوبارہ انکوائری کرادی لیکن دونوں انکوائریاں ایک ہی افسر نے کیں ۔
باقی بحیثیت چئیر مین نیب نہ تومیں کبھی کسی انکوائری میں شامل ہوتا ہوں اور نہ کسی انکوائری پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہوں۔اور دوسری بات کہ نیب (ن) لیگ سے فرینڈلی ہے تو یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ نواز شریف خاندان کے کیسز جب احتساب عدالتوں سے خارج ہوئے تو یہ نیب ہی تھاکہ جس نے ان فیصلوں کیخلاف اپیل کی لیکن اب تو ایسا لگتاہے کہ ایک دن مجھ پر یہ الزام بھی لگے گا کہ این آر او بھی میری وجہ سے ہی ہوا ہے ۔

اس رات قمرزمان چوہدری ہر موضوع پر بولے اور کھل کر بولے ۔انہوں نے جہاں ہمیشہ انہیں پسند کرنے اور برے وقتوں میں ساتھ دینے والے جسٹس افتخار چوہدری کی آخری دنوں میں ناراضگی کی وجہ بتائی وہاں اپنی 6 مہینے تک ہوئی انکوائری کا قصہ بھی سنایا ۔ انہوں نے یہ بھی برملا کہا کہ” پرویز مشرف نے بہت مایوس کیا اور زرداری صاحب نے ملک کو ریورس گئیر میں ڈال دیا ۔چئیر مین نیب نے یہ بھی بتایا کہ آج تک نواز شریف نے نہ کسی کی سفارش کی اور نہ کبھی ناجائز دباؤ ڈالا“۔
اس رات قمر زمان چوہدری نے پیسے اور کرسی کی خاطر اپنے چند بھگوانوں کا وہ کچھا چٹھابھی کھولا کہ جسے سنتے ہوئے بھی شرم آرہی تھی ۔اُس رات قمرزمان چوہدری کے گھر سے نکلتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ جہاں ہمیں یہ حق حاصل کہ نیب اگر ڈنڈی مارے یا کہیں” ہتھ ہولا “رکھے تو اس ”ملی بھگت “ کو ہم بے نقاب کریں ،وہاں ہمارا یہ فرض بھی کہ ہم نیب کو اتنا کریڈٹ تو دیں کہ 175کرپٹ ممالک میں 126 ویں نمبر والے پاکستان میں گزشتہ دو سالوں سے 74فیصد کیس نمٹا کرنہ صرف 30ارب کی ریکور ی ہوئی بلکہ 2014کا ”پلڈاٹ سروے“ بتائے کہ حکومتی اداروں سے 26 فیصد عوام مطمئن جبکہ نیب پر اعتماد 42 فیصد لوگوں کا اور یہ سب کچھ ان حالا ت میں کہ چیئرمین نیب ” 16ویں بین الااقوامی کانفرنس برائے انسداد کرپشن “ میں شرکت کیلئے ملائشیاجاتے ہیں مگر یہاں مشہور یہ کر دیا جاتا ہے کہ وہ سابق چیف جسٹس کے خوف سے باہر چلے گئے۔

واپس جاتے ہوئے مجھے یہ خیال بھی آ رہا تھا کہ یا تو ہم سب ہی صحافی ہو گئے مطلب جس کی جب بھی نظر پڑی کسی بری چیز پر ہی پڑی یا پھرہم سب وہ مکھیاں کہ جوپورا جسم چھوڑ کر زخم پر ہی بیٹھیں کیونکہ کتنی عجیب بات ہے کہ اگر نیب کسی کو پکڑ لے تو شور مچے ، کسی کو نہ پکڑے تو واویلا ، کسی سے کچھ نکلوایا اگلوا نہ سکے تو پراپیگنڈا اورتو اور اگرنیب کسی ”بڑے پیٹ“ کو چیر کر کچھ نکالنے میں کامیاب ہو جائے تو بھی یہ شکایت کہ ” لوجی چند کروڑ لے کر کلین چٹ دے دی گئی “۔
یقین جانئے مجھے تواب اپنا حال دیکھ کر اکثر وہ خاوند یاد آجاتا ہے کہ جس نے ایک دن بیوی کو انڈا بناکر لانے کو کہا ،جب بیگم انڈا لے کر آئی تو خوب ڈانٹ ڈپٹ کے بعدخاوند نے کہا ” میں آملیٹ کھانا چاہتا تھا اور تم فرائی انڈا لے آئی ہو “۔ تھوڑی دیر بعدبیگم آملیٹ لے آئی توانتہائی غصے میں خاوند بولا’ ’ جب میں آملیٹ کھانا چاہتا تھا ، تم فرائی لے آئی اور جب میں نے فرائی انڈے کا موڈ بنایا تو تم آملیٹ اٹھا لائی ہو ، پتا نہیں کب سدھروگی ۔ پھر آدھے گھنٹے بعدجب ڈری ہوئی بیگم فرائی اور آملیٹ دونوں طرح کے انڈے بنا کر حاضر ہوئی تو لمحہ بھر کیلئے انڈوں کو دیکھنے کے بعد خاوند چیخا ” پاگل عورت جس انڈے کو فرائی کرنا تھا اس کا تم نے آملیٹ بنا دیا اور جس کا آملیٹ بنانا تھا اسے تم نے فرائی کر دیا ، تمہاراواقعی کچھ نہیں ہو سکتا “۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

نیب

ارشاد بھٹی کے بدھ اگست کے مزید کالم



متعلقہ کالم