ایوان بالا اور مظلوم اردو

جمعہ اگست    |    خواجہ محمد کلیم

لکھنے کو موضوعات تو اور بھی بہت ہیں لیکن بہت دن سے خواہش تھی کہ اردو کی مظلومیت پر کچھ لکھ سکوں، وطن عزیز میں جس کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی اولاد کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔پہلے ہم بیوروکریسی اور اعلٰی تعلیم یافتہ افراد کو مورد الزام ٹھہراتے تھے کہ جا بجا غیر ضروری طور پر منہ ٹیڑھا کر کے بدیشی بولی بول کر اپنے جھوٹے فخرو غرورکا اظہار کرتے ہیں لیکن اب یہ بیماری ہمارے اپنے گھروں میں آگھسی ہے۔
تعلیمی نظام کچھ ایسا ہے کہ بچوں کی اکثریت کی حالت آدھا تیتر آدھا بٹیر والی ہے۔ چار پانچ سال کا بچہ جب یہ کہتا ہے کہ ”مامامیرے ہینڈ میں کانٹا چبھ گیا ہے “ توسر پیٹنے کو جی چاہتا ہے کہ ان بچوں کو سکول میں کیا پڑھایا جارہا ہے اور والدین اس پر توجہ کیوں نہیں کرتے ، اور برگر سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی تو بات ہی کیا !چار پانچ برس کی عمر میں فرفرا نگریزی بولتے ہیں اور اگر کوئی اردو میں بات کرے تو حیرت سے منہ دیکھتے ہیں کہ شائد کوئی جنگلی جگالی کر رہا ہے ۔

(خبر جاری ہے)

شکوہ یہ نہیں کہ بچوں کو انگریزی کیوں پڑھائی جاتی ہے بلکہ اذیت ناک امر یہ ہے کہ ان کو اپنی قومی زبان سے مناسب آشنائی بھی نہیں ہے۔کوریا میں تعلیم کی نگرانی کے ذمہ دار ادارے کے سربراہ سے ملاقات میں خاکسار کو حیرت ہوئی کہ موصوف کو انگلش نہیں آتی اور انہوں نے ترجمان کے ذریعے گفتگو فرمائی ،بعد میں عقدہ کھلا کہ بہت اچھی انگریزی بول لیتے ہیں لیکن اہمیت قومی زبان کو ہی دیتے ہیں ۔قومی غیرت شائد اسی کا نام ہے لیکن ہمیں اس کا احساس تب ہو گا جب ہم غیرت کے نام پر قتل کرنے سے بازآ جائیں گے ۔

کسی اور سے کیا شکوہ ؟ پاکستانی مقننہ کے اعلیٰ ترین ایوان سینیٹ کے چیئرمین میاں رضاربانی اعلیٰ تعلیم یافتہ اورنفیس انسان ہیں ۔ بہت سی خوبیاں ان میں ہیں جو بیان کی جاسکتی ہیں لیکن خاکسار بھاڑے کے ٹٹو کی طرح خوشامد کا الزام نہیں لینا چاہتا اس لئے ان کے تفصیلی ذکر سے گریز ہی بہتر ہے۔ بصداحترام لیکن یہ ضرور کہوں گا چئیرمین سینیٹ نے اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں۔ربانی صاحب نے سینیٹ میں پابندی وقت کی جو روایت قائم کی ہے اس کی اثرات بہت دیرپا ہوں گے اگر ان کے بعد ان کی جگہ آنے والوں نے بھی اس تسلسل کو برقراررکھا۔
ماشا اللہ ربانی صاحب کی انگریزی بہت اچھی ہے لیکن اردو بولنے اور سمجھنے پر بھی ان کو پورا عبور ہے اس کے باوجود سینیٹ کی زیادہ تر کارروائی میں وہ انگریزی زبان ہی کا سہارا لیتے ہیں۔قریب ایک سال پہلے ربانی صاحب نے پارلیمانی صحافت کرنے والے دوستوں کو ظہرانے پر مدعو کیا تو ان سے یہ پوچھنے کی جسارت کی کہ وہ سینیٹ کی کارروائی کو اردو میں چلانے کی حوصلہ افزائی کیوں نہیں کرتے ؟حیران ہو کر غور سے انہوں نے خاکسارکودیکھا اور گویا ہوئے ”پھر آپ کہیں گے کہ علاقائی زبانوں کو بھی شامل کیاجائے“۔
صاحب !علاقائی زبانیں اپنانے میں دقت ہی کیا ہے؟سینیٹ کا کوئی بھی رکن پنجابی،سندھی ،بلوچی یا پشتو میں بات کرے تو اس پر اعتراض کیوں؟زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ سینیٹ میں چار ،چھ ترجمان بٹھانے پڑیں گے ؟لیکن اس کے مقابلے میں قومی اور عالمی سطح پر جو پیغام جائے گا اس کی اہمیت پر کس کی نظر نہیں ۔ نقار خانے میں لیکن طوطی کی آوا ز کون سنتا ہے۔
کچھ دن پہلے ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں ہوا ،تقریباََ اٹھائیس ملکوں کے وفود جس میں شامل تھے لیکن انتظامات دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ اجلاس کے شرکا کے لئے انگریزی ،عربی ،چینی اور روسی زبان کے ساتھ ساتھ انڈونیشیا کی زبان کا ترجمہ کرنے کے لئے توعملہ موجود تھا لیکن قومی زبان اردو کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا۔
حالانکہ سب جانتے ہیں کہ سینیٹ کے معزز ایوان کے بہت سے ارکان انگریزی سے نابلد ہیں۔ اب وہ انگریزی میں ہونے والے مباحثے کو خا ک سمجھیں گے ؟اور جب سمجھیں گے نہیں تو اس سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیسے کریں گے ؟بس ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی تصویر بنے رہتے ہیں لیکن بولتے نہیں ۔ چھ اکتوبر کو مگر خوشگوار حیرت ہوئی جب سینیٹ کے چوالیسویں یوم تاسیس کے سیمینار میں سیکرٹری سینیٹ امجد پرویز نے خلاف توقع استقبالیہ کلمات میں انگریزی فصاحت وبلاغت کا مظاہرہ نہیں کیا اور پھر سیمینار کے پہلے مقرر کراچی یونیورسٹی کے ڈاکٹر جعفرنے حاضرین کی اکثریت کے مزاج اورماحول کو بھانپتے ہوئے اپنا انگریزی میں لکھا ہوا مقالہ ایک طرف رکھا اور خوبصورت اردو میں پارلیمانی تاریخ کو موٴثر انداز میں بیان کیا۔
بس پھر کیا تھا ان کی دیکھا دیکھی تمام مقررین نے اردو میں ہی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اعتزاز احسن اور خود چئیرمین سینیٹ نے بھی قومی زبان کو ہی ذریعہ اظہار بنایا۔خاص طور پر سینیٹر مشاہد اللہ خان نے تو اپنے خیالات کو مزاحمتی شاعری کے سانچے میں ڈھال دیا۔ لیکن سابق چئیرمین سینیٹ نیر حسین بخاری اورنقیب محفل سینیٹ کی جائنٹ سیکرٹری ربیعہ نے شائد اپنی علمیت کی دھاک بٹھانے کے لئے حاضرین کو انگریزی سے بدمزہ کیا ۔

عجیب بات یہ ہوئی کہ سیمینار کے اختتام پر سینیٹ کے اختیارات اور کارکردگی سے متعلق جو کتب تقسیم کی گئیں وہ بھی انگریزی میں تھیں ۔اس سے پہلے تیئس مارچ کو بھی سینیٹ کے زیرا نتظام یوم جمہوریہ کی تقریب کے شرکا کو آئین پاکستان کی انگریز ی کاپی پیش کی گئی ۔ میری دانست میں کسی خود دار قوم کو یہ زیب نہیں دینا کہ وہ اپنے ہی دستور کو اپنی قومی زبان کی بجائے غیروں کی زبان میں شائع کرے اورپھر مقننہ کے سب سے بڑے ایوان کے زیرانتظام تقسیم بھی کرے ۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں کتنے لوگ ہیں جو انگریزی پڑھ سکتے ہیں ؟کیا ہی بہتر ہوتا کہ عوام کو آئین سے آگاہی دلانے کے لئے دستور پاکستان کی کاپی قومی زبان میں فراہم کی جاتی ۔پارلیمان کے کسی رکن یا پاکستانی شہری کو انگریزی نہیں آتی تو اس میں کوئی برائی نہیں،قابل شرم بات تو یہ ہے کہ کوئی پاکستانی اردو بولنے میں ہتک محسوس کرے ،قابل تشویش بات تو تب ہے جب کسی پاکستانی کو اردو بولنے میں دشواری محسوس ہو۔

میں تو آج تک یہ نہیں سمجھ پایا کہ ایک ایسا معاشرہ جس میں ایک زبان کو سمجھنے والے افراد کی تعداد شائد دو فیصد سے بھی زیادہ نہیں ہے وہاں کا پڑھا لکھا طبقہ اس بات کو کیوں نہیں سمجھتا ؟ابلا غ میں بنیادی چیز کسی کا آپ کی بات کو سمجھ لینا ہے نہ کہ آپ کا مقصدمخاطب پر اپنی علمیت یا قابلیت کی دھاک بٹھانا ہے۔گور اتوا تنا قابل ہے کہ اپنی زبان کے علاوہ نہ کچھ بول سکتا ہے نہ سمجھ سکتا ہے لیکن پاکستانی اس سے زیادہ قابل اس لئے ہیں کہ سندھ کے ریگستان ہوں یا بلوچستان کے پہاڑ، پنجاب کے میدان ہوں یا خیبر پختونخوا کی حسین پہاڑی وادیاں نہ صرف یہاں کے باسی بلکہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے رہنے والوں کی بہت بڑی اکثریت اپنی مادری اور مقامی زبان کے علاوہ اردو نہ صرف سمجھ سکتے ہیں بلکہ بول بھی سکتے ہیں ۔
بہت سے تو ایسے بھی ہیں جو اپنی مادری زبان اور اردو کے ساتھ ساتھ دوسری مادری زبانوں پنجابی ،پشتو،سرائیکی ،سندھی اور بلوچی بھی بول سکتے ہیں۔ایسی صورت میں تو ہمیں فخر کے ساتھ اپنی مادری اورقومی زبان کی ترویج و ترقی کے لئے ہر وہ کوشش کرنی چاہیے جو ہمارے بس میں ہو نہ کہ ہم احساس محرومی کے شکار ذہنوں کی طرح اپنے گھر کی دولت استعمال کرنے کی بجائے پرائے کے ادھار پر اتراتے رہیں۔ میری گزارش ہے کہ نہ صرف چئیرمین سینیٹ بلکہ تمام سرکاری ،نیم سرکاری اور قومی اداروں کے سربراہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ دفتری خط وکتابت اور بول چال میں اردو کو فروغ دیا جائے جہاں کہیں انگریزی کے استعمال سے گریز ممکن نہ ہو وہاں بھی انگریزی کے استعمال کے ساتھ ساتھ اردو استعمال کی جائے اور اس حوالے سے دفاتر کے عملے کو خاطر خواہ تربیت بھی دی جائے تاکہ دنیا کو احساس ہو کہ #
سلیقے سے ہواوٴں میں بھی خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ زندہ ہیں جو اردو بول سکتے ہیں
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

خواجہ محمد کلیم کے جمعہ اگست کے مزید کالم