تیارہیں ہم

ہفتہ اگست    |    پروفیسر رفعت مظہر

بلوچستان میں بم دھماکوں ، ٹارگٹ کلنگ اور خودکُش حملوں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے ۔ پورا بلوچستان خوف اور بے یقینی کی صورتِ حال میں زندگی گزاررہاہے ۔ یہ وہ خطّہ ہے جو عالمی قوتوں کی سازشوں کا مرکز بن چکاہے اور آئے دِن یہاں خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے ۔ ایک زمانہ تھا جب کوئٹہ پُرامن ترین ہوا کرتاتھا لیکن عروس البلاد کراچی کی طرح پتہ نہیں اِس کو کِس کی نظر کھاگئی کہ اب اِسے خطرناک ترین شہر قرار دیا جا رہاہے ۔
8 اگست کو یہاں ایک دفعہ پھر قیامتِ صغریٰ بپاہوئی۔ خون آشام درندوں نے اُس جگہ کو خونم خون کردیا جہاں زخم لگائے نہیں ، سیئے جاتے ہیں ۔ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی صبح 9 بجے اپنی گاڑی میں گھر سے ہائیکورٹ جانے کے لیے نکلے ۔

(خبر جاری ہے)

راستے میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے اُن پر فائرنگ کردی اور وہ موقع پرہی شہید ہوگئے ۔اُن کی شہادت کی خبر جب ہائیکورٹ پہنچی تو وکلاء کی کثیر تعداد سول ہسپتال کوئٹہ پہنچ گئی ۔

سینکڑوں وکلاء شعبہ حادثات کے بیرونی گیٹ کے پاس اپنے صدرکی لاش لینے کے لیے کھڑے تھے کہ خودکُش حملہ آور نے اُن کے درمیان پہنچ کر اپنے آپ کو دھماکے سے اُڑا لیا ۔ انسانی اعضاء دور دور تک بکھر گئے اور زخمیوں کی چیخ وپکار سے قیامت کا سا سما ں پیدا ہوگیا ۔ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر باز محمد خاں کاکڑاور 50 سے زائد وکلاء سمیت 72 افراد نے جامِ شہادت نوش کیا جس میں مریض بھی تھے ، عورتیں بھی اور الیکٹرک میڈیا کے 2 کیمرہ مین بھی ۔
150 سے زائد زخمیوں سے ہسپتال بھرگئے جن میں سے 27 کی حالت اب بھی نازک ہے ۔ قومی پرچم سَرنگوں ہوا اورخودکُش حملے نے پورے ملک کی فضاء کو سوگوار کردیا ۔ یوں محسوس ہوتاہے کہ جیسے دہشت گردوں نے فاٹا اور وزیرستان سے اب بلوچستان کا رُخ کر لیاہو ۔
سوال مگر یہ ہے کہ آخر کب تک ہم جنازے اٹھاتے رہیں گے ، کب تک گھر اجڑتے رہیں گے ۔ کب تک ہماری مسجدوں ، سکولوں ، ہسپتالوں پارکوں ، جنازوں اور گھروں کو خودکُش حملوں کی غذا بنایاجاتا رہے گا؟ ۔
قوم جب یہ سوال کرتی ہے کہ آخر اِن دہشت گردوں کی فنڈنگ کون کررہاہے اور دہشت گردی کی فیکٹریوں کو کون پروان چڑھا رہاہے تو جواب ملتاہے کہ یہ سب کچھ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کی کارستانی ہے ۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر لہو لہو پاکستان میں ”را“ کا ہاتھ ہے تو کیا ہم نے چوڑیاں پہن رکھی ہیں؟۔ کیا ہم اتنے ہی گئے گزرے ہیں کہ اینٹ کاجواب پتھر سے نہیں دے سکتے؟۔ کیا بھارتیوں کا خون ، خون اور ہمارا خون پانی ہے؟۔
کیا ہماری خفیہ ایجنسیاں جن کی تعریفوں کے پُل باندھتے ہماری زبانیں نہیں تھکتیں ، اب سَتّو پی کر سو رہی ہیں؟۔ بلوچستان کے وزیرِاعلیٰ ثنا اللہ زہری کہتے ہیں کہ اُن کے پاس ”را“ کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں لیکن یہ ثبوت تو ہمارے پاس پہلے بھی موجود تھے جنہیں ہم کشکول میں ڈال کر امریکی ”رکھیل“ اقوامِ متحدہ کے دَر پر پہنچے لیکن ہمارا کشکول عدل کے سِکّوں سے خالی ہی رہا ۔ اب پھر یہ شور کہ اقوامِ عالم کو ”را“ کے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کیے جائیں گے لیکن جس کا ضمیر ہی مُردہ ہو چکاہو اُس کا دَر کھٹکٹانے کا کیا فائدہ ۔
سب عبث ، سب بیکار ۔ ہمیں جو کچھ کرنا ہوگا ، خودہی کرنا ہوگا ، حکمت کی عظیم الشان کتاب کا یہ فیصلہ ہے کہ
خُدا نے آ ج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
اگر نہتے کشمیری گزشتہ سات عشروں سے بھارتی سورماوٴں کو ” نَتھ“ ڈالے ہوئے ہیں تو کیا ہم نہتے کشمیریوں سے بھی زیادہ کمزور ہیں؟۔ اگر دشمن ہمارے دِل پر وار کر سکتاہے تو ہم کیوں نہیں؟۔ آخر ہم نے گھاس کھاکر ایٹم بم بنایا ہی کیوں تھا۔
اگر بنالیا تو پھر ہمیں ادراک کیوں نہیں ہوتا کہ ایٹم بم کے سامنے عددی برتری کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ۔ اگر مرنا ہی مقدر ٹھہرا تو پھر دو ، چار کو مار کر کیوں نہ مریں لیکن یہ طے کہ بھارت ہمارے ساتھ براہِ راست جنگ کا خطرہ کبھی مول نہیں لے گا ۔ وہ اپنی رذالتوں ، خباثتوں اور وحشتوں کا اسی طرح ثبوت دیتا رہے گا جیسا کہ وہ دے رہاہے ”بغل میں چھری ، مُنہ میں رام رام “ تو ہندووٴں کی گھٹی میں پڑی ہے ۔
اگر ہندو لالے کو یہ یقین ہوجائے کہ ہم اُسی کے منتخب کردہ مَیدان میں اُسی کے ساتھ دو ، دو ہاتھ کرنے کو تیار ہیں تو وہ ہمیشہ کے لیے اپنی خباثتوں سے باز آجائے گالیکن ہم تو مصلحتوں کی ”بُکل“ مارے بیٹھے ہیں ۔ ہم نے بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے آفیسر کل بھوشن یادو کو بلوچستان ہی سے پکڑا۔ اُس نے اقرار بھی کیا کہ وہ ایران میں بیٹھ کر بلوچستان کی علیحدگی پسند تحریکوں کی فنڈنگ بھی کرتا تھا اور اُنہیں ہدایات بھی دیتا تھا ۔
پھر وہ منصہ شہود سے یوں غائب ہوا کہ نشاں تک بھی نہ چھوڑا ۔ ہم سے تو یہ بھی نہ ہوسکا کہ الیکٹرانک میڈیا پر کل بھوشن یادو کے ”اقراری ویڈیوکلپس“ بار بار نشر کرکے اقوامِ عالم کو جھنجوڑتے کہ شاید اُن میں ضمیر کی کوئی رمق باقی ہو ۔ حافظ سعید نے بالکل درست مطالبہ کیا کہ کَل بھوشن یادَو کو تین دنوں کے اندر کوئٹہ میں پھانسی دی جائے۔
سانحہ کوئٹہ ہسپتال نے تو پوری قوم کو یک جان کر ہی دیا ، اچھی خبریہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں بھی ایک صفحے پر ہوگئیں ۔
سیاسی وعسکری قیادت نے آخری دہشت گردکے خاتمے تک اپنے عزم کا اعادہ کیا ۔ محترم عمران خاں، جوحکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کر چکے ہیں ، اُنہوں نے بھی بَرملا کہا ” سیاسی اختلافات اپنی جگہ ، ملک کی خاطر ہم سب ایک ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف پوری اپوزیشن حکومت کے ساتھ ہے ۔ کوئٹہ آنے کا مقصد متاثرین کویہ یقین دلاناہے کہ پوری قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہے ۔ دہشت گرد انسانیت اور دین دونوں کے دشمن ہیں۔
پوری قوم مِل کر دہشت گردوں کو شکست دے گی ۔ اِس معاملے پر تمام سیاسی اختلافات ختم ہیں ۔ ہم دہشت گردوں کو اکٹھے مِل کر شکست دیں گے “۔ علامہ طاہرالقادری نے کہا کہ وزیرِاعظم دہشت گردی میں ملوث ممالک اور افراد کے حوالے سے مُنہ کھولیں۔ سیاسی قیادت کو دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں مصلحتوں کاشکار نہیں ہوناچاہیے ۔ ہم سب مِل کر دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے ۔ امیرِ جماعتِ اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ”سانحہ کوئٹہ میں بھارتی ہاتھ خارج از امکان نہیں“۔
مولانا سمیع الحق نے کہا ”ملکی سالمیت کے لیے حکومت اورفوج کوبڑا فیصلہ کرنا ہوگا“۔ اِس کے علاوہ ملک کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی ومذہبی جماعتوں نے دہشت گردوں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کے کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کے عزم کا اظہار کیا ۔ محترم سپہ سالار جنرل راحیل شریف توپہلے ہی آخری دہشت گرد کا پیچھا کرنے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں ۔ اُنہوں نے کومبنگ آپریشن کا اعلان بھی کردیا۔سانحہ کوئٹہ کے بعد قوم نے دہشت گردوں کو یہ پیغام بھی دے دیاکہ اِس بزدلانہ حملے نے اُس کی قومی جرأت و ہمت اور جوش وجذبے کو پہلے سے کئی گنا زیادہ کردیا ہے ۔اُس کے حوصلے پست نہیں ہوئے بلکہ وہ ہر میدان میں اُن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہمیں یقین کہ دہشت گردی کے خلاف اِس جنگ میں جیت ہمارے دَر تک آن پہنچی اور انشاء اللہ بالآخر جیت ہماری ہی ہو گی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

پروفیسر رفعت مظہر کے ہفتہ اگست کے مزید کالم