کیاہم آزادہیں۔۔۔۔؟

اتوار اگست    |    عمر خان جوزوی

ماناکہ شادی بیاہ کی طرح قومی ایام کودھوم دھام سے منانا غیرت مندقوموں کاکام ہے لیکن چودہ اگست کادن قریب آتے ہی نہ جانے کیوں ذہن میں یہ سوال ابھرنے لگتا ہے کہ کیاواقعی ہم آزاد اورچودہ اگست کودھوم دھام سے منانے کے قابل ہیں۔۔؟ثمر ان کوملتا ہے جومحنت کرتا ہے۔۔فصل وہ لوگ کاٹتے جوبوتے ہیں۔۔دیہاڑی ان کوملتی ہے جودن بھر محنت مزدوری اورکام کرتے ہیں ۔۔پھر سال کے 364دن گھروں میں بیٹھنے ۔۔
دفتروں میں لیٹنے یااقتدار کے بالا خانوں میں سرخ وسبز قالینوں اورنرم گرم مولٹی فوموں میں خود کو لپیٹنے کے بعد صرف ایک دن 14اگست کوہاتھوں پرقومی پرچم کے سٹکر لگانے ۔۔سبزجھنڈیاں لہرانے۔۔ڈھول باجے بجانے ۔۔شراب وشاب کی محفلیں سجانے ۔۔موٹرسائیکلوں سے سائلینسر نکال کر آسمان کوسرپراٹھانے یاانڈین گانوں پر اچھل اچھل کرناچنے سے 364دنوں کاحق ادا اورآزادی کی قیمت چکائی جاسکتی ہے۔

(خبر جاری ہے)

۔؟آزادی ان کوملتی ہے جن کوآزادی کی قدرہو۔

۔آزادی کی قدروقیمت کوئی تحریک پاکستان کے ان ہزاروں اورلاکھوں شہداء سے پوچھے۔۔ جو کالے ہندوؤں سے آزادی چھینتے ہوئے ٹکڑے ٹکڑے ہوئے ۔۔آزادی کی قیمت کوئی ان ماؤں،بہنوں اوربیٹیوں سے پوچھے۔۔ آزادی کی جنگ میں جن کے سہاگ اورگھردونوں اجڑے۔۔آزادی کی قیمت تو کوئی ان بوڑھوں، جوانوں اور بچوں سے پوچھے۔۔ جو آزادی کی تحریک میں کالے ہندوؤں کی سفاکیت تلے زندہ درگور ہو کر روندے گئے۔۔ آزادی کی قیمت تو کوئی ان ماؤں سے پوچھے۔
۔ جن کے لخت جگروں کو ان کی آنکھوں کے سامنے آگ میں جلایا اور پانی میں ڈوبویا گیا۔۔۔ آزادی کی قیمت تو کوئی ان پاک دامن بہنوں اور بیٹیوں سے پوچھے۔۔ جن کی عزتیں گلی ،محلوں ،چوکوں اورچوراہوں پرتار تار ہوئیں ۔۔۔ آزادی کی قیمت تو کوئی ان سے پوچھے۔۔ جو آگ و خون کے دریا عبور کرکے آزادی کے مقام پر پہنچے ۔۔۔ آزادی کی قیمت تو کوئی ان سے پوچھے جن کو ہندوستان کی گلیوں۔۔۔ محلوں ۔۔۔ بازاروں اور شاہراہوں پر بدترین دہشتگردی۔
۔۔ وحشیت۔۔ درندگی اور بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔۔۔ آزادی کی قیمت تو کوئی ان سے پوچھے۔۔ جن کو آگ کے انگاروں پر لٹایا اور سولی پر چڑھایا گیا۔۔۔ آج گلی۔۔ محلوں ۔۔ چوکوں ۔۔چوراہوں ۔۔ شہروں اور بازاروں میں سرخ سبز بتیاں جلا کر اور گھروں ۔۔ دفاتر ۔۔ سکولوں اور ہسپتالوں پر قومی پرچم لہرا کر ہم تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہی آزادی ہے۔۔ مگر انتہائی معذرت کے ساتھ آزادی کا حق اسی طرح ادا نہیں ہوتا۔
یہ قدرت کا قانون ہے جس چیز کی قدر نہ کی جائے اسے واپس لے لیا جاتا ہے ۔۔ ہمارے بزرگوں ۔۔ماؤں ۔۔ بہنوں۔۔ بیٹیوں۔ ۔ بوڑھوں ۔۔ جوانوں اور بچوں نے ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر پاکستان کی صورت میں ایک آزاد۔۔ خودمختار اور جان سے بھی پیارا ملک ہمیں دیا مگر افسوس صد افسوس نہ ہم اس ملک کی حفاظت کر سکے اور نہ ہی ہم آزادی کی ذرہ بھی قدر۔۔ پچھلے 70 سالوں سے ہم اس ملک میں آزادی کے ساتھ کھلواڑ کھیل رہے ہیں ۔
۔۔ سال کے 365 دنوں میں صرف14 اگست کا ایک دن آزادی کیلئے مختص کرنا کہاں کا انصاف اور کہاں کی عقلمندی ہے ۔۔۔۔؟ 70 برس سے ہر سال 364 دن آزادی سے نظریں چراتے چراتے آج ہمارے ہاتھوں سے آزادی بہت دور نکل چکی ہے۔۔70سال سے 14 اگست کے دن سرخ سبز بتیاں جلانے اورپرچم لہرانے کاکام توہم بڑے اہتمام سے کرتے ہیں لیکن ان 70سالوں میں ہم نے ،،بے چاری آزادی ،،کی سچے دل،خلوص،پیاراورمحبت سے کسی ایک دن بھی کوئی خبرنہیں لی جس کے باعث آزادی بھی سترسالوں سے عجب نظروں کے ساتھ ہماری طرف دیکھتے دیکھتے آخرکارہم سے روٹھ گئی۔
۔آج آزادی اورہمارے درمیاں دنوں اورمہینوں نہیں سالوں کے سفرکافاصلہ پھرآچکا۔۔آزادی کی وہ منزل جوخون کی ندیاں بہانے کے بعدہمارے آباؤاجدادنے حاصل کی تھی آج ایک مرتبہ پھرہمارے ہاتھوں سے نکل گئی ہے۔۔سال کے364 دن دوسروں کی غلامی میں ہرحدپارکرنے کے بعدپھرصرف 14 اگست کوہمیںآ زادی کاخیال یاد آجاتاہے۔۔غلامی میں سرسے پاؤں تک رنگنے کے بعدہمیں آزادی کی فکرلاحق ہوتی ہے۔۔کیاپچھلے70سالوں میں ہم میں سے کسی نے ایک دن بھی یہ سوچناگوارہ کیاکہ جس ملک میں ہم آزادی کے ساتھ رہ رہے ہیں اسے کس طرح حاصل کیاگیاتھا۔
۔؟کیاقیام پاکستان کی تحریک میں ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے شہداء کے بارے میں کسی نے ایک لمحے کے لئے بھی سوچا۔۔؟کیاان ماؤں،بہنوں اوربیٹیوں کاکسی کے دل وذہن میں کوئی خیال آیا جن کی عزتیں اورعصمتیں ہماری آزادی کے لئے نیلام ہوئیں ۔۔؟ہم توآزادی کوبچوں کاکھیل سمجھ رہے ہیں مگر،،آزادی،، کوئی تماشانہیں نہ یہ بچوں کاکوئی کھیل ہے۔۔آزادی کے لئے ہزاروں نہیں لاکھوں مسلمانوں کی گردنیں کٹیں۔۔ہزاروں سہاگ اجڑے۔
۔ہزاروں خواتین بیوہ ہوئیں ۔۔ہزاروں ماؤں کی ممتاچھینی گئی۔۔لاکھوں بچوں کویتیم کیاگیا۔۔خون کاایک دریابہانے کے بعدکہیں جاکرپاکستان آزادہوا۔۔لیکن آزادی کے بعدہم اورہمارے حکمرانوں نے اس پاکستان کاجوحشرکیاوہ انتہائی شرمناک اورافسوسناک ہے۔۔کوئٹہ سے گلگت اورکراچی سے سوات تک آج اگرہرطرف دہشتگردی۔۔مہنگائی۔۔غربت۔۔بیروزگاری۔۔بھوک وافلاس کاسایہ اور19کروڑعوام کے دونوں دونوں ہاتھوں میں غلامی کی زنجیریں باندھی گئی ہیں تواس کی بڑی وجہ شہدائے تحریک پاکستان کی قربانیوں کاوہ مذاق اڑاناہے جس کافریضہ ہم پچھلے 70سال سے بخوبی سرانجام دے رہے ہیں ۔
۔آج آزادی کاجشن توہم بڑے دھوم دھام سے منارہے ہیں مگرہمارے اردگردآزادی کاکوئی نام ونشان نہیں ۔۔آج ہم دہشتگردی ۔۔مہنگائی۔۔غربت ۔۔بیروزگاری اورغلامی کی زنجیروں میں اس طرح جھکڑے ہوئے ہیں کہ آزادی سے ایک سانس بھی ہم نہیں لے سکتے۔۔جن سروں پربم دھماکوں۔۔خودکش حملوں۔۔چوری ۔۔ڈکیتی۔۔پولیس گردی۔۔انتقامی سیاست ۔۔بھوک وافلاس اورراہزنوں کاخوف ہروقت طاری ہو۔۔وہ کبھی آزادنہیں ہوسکتے۔۔آج ہم کسی شہر۔
۔بازار۔۔گلی اورمحلے تودوراپنے گھروں میں بھی بے خوف وخطرایک قدم اٹھااورسانس لے نہیں سکتے۔۔جولوگ اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہ رہے وہ آزاد نہیں ہوسکتے۔۔کالے ہندوؤں سے آزادی کے بعدآج ہم گوروں کے غلام بن چکے ۔۔ہمارے فیصلے یہاں کم اورامریکہ اوربرطانیہ میں زیادہ ہوتے ہیں ۔۔ہمارے حکمران حکمرانی ہمارے سروں پرکرتے ہیں مگربنک بیلنس اورکھاتے ان کے امریکہ ۔۔برطانیہ اورسوئیزرلینڈمیں ہوتے ہیں ۔
۔جس قوم کے حکمران ہی فیصلوں میں آزاد نہ ہوں وہ قوم کیسے آزادہوسکتی ہے۔۔؟پوری قوم آزادی کاجشن ایک نہیں سوسوبارمنائیں مگرانتہائی معذرت کے ساتھ سال کے 364دن غفلت کی چادرلپیٹنے والی قوم کبھی آزاد نہیں ہوسکتی۔۔ماناکہ شادی بیاہ کی طرح قومی ایام کودھوم دھام سے منانا غیرت مندقوموں کاکام مگرہمیں جشن منانے سے پہلے ایک بارپھرآزادی حاصل کرنی ہوگی۔۔کیونکہ گوروں کی اس غلامی میں جشن مناناہمارے جیسے باغیرت۔۔خوددار۔۔محنتی اورجفاکش قوم کاہرگزشایان شان نہیں ۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمر خان جوزوی کے اتوار اگست کے مزید کالم