تاریکیوں میں اپنے حصے کا چراغ جلانے والے ادارے

جمعرات اگست    |    حافظ ذوہیب طیب

ہر طرف سبز ہلالی پر چموں کی بہار، ہر چہرہ شاداب، بچے، جوان اور بوڑھے ، کئی سالوں بعد جنہیں آزادی کا جشن اتنے جوش و ولولہ کے ساتھ مناتے دیکھا۔ امیرو غریب سب ، اپنی اپنی استطاعت کے مطابق آزادی کے جشن میں اپنا حصہ ڈال رہے تھے ۔ کئی عرصے بعد ایسے نظارے دیکھنے کو ملے کہ دہشت گردی، بیروزگاری، غربت اور نا انصافی کی لعتوں کا شکار بنی پاکستانی قوم اپنے تما م دکھوں کو بھلا کریکجا نظر آئی ۔
لیکن بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ سالہا سال سے سیاسی آقاؤں کی لاپرواہی اور غفلتوں کی وجہ سے مایوسی اور نا امیدی کی وجہ سے بننے والے گہرے کالے بادلوں نے اہلیان وطن کے دلوں پر برسوں جس ناامیدی کی بارش کی ہے وہ کئی کوششوں کے باوجود بھی تھمنے کا نام نہیں لیتی ۔

(خبر جاری ہے)

لیکن مجھے امید ہے کہ جس یقین اور عزم کے ساتھ محمدی میڈیکل ٹرسٹ اور علی ہجویری فری ڈرگ بینک جیسے ادارے اپنا اپنا چراغ روشن کرنے کی سعی میں مصروف ہیں، یہ دونوں اور اس جیسے کئی ادارے پوری تندہی کے ساتھ جس طرح اپناکام جاری کھے ہوئے ہیں اس سے مایوسیوں اور ناامیدیوں کی وادیوں میں پھنسے لوگ خود بھی بہت جلد امید اور یقین کے رستے کے مسافر بن جائیں گے ۔


قارئین کرام !ملک میں پھیلی تاحد نگاہ تاریکی میں اپنے حصے کا چراغ جلائے محمدی میڈیکل ٹرسٹ ،پچھلے کئی عشروں سے بینائی کی دولت سے محروم لوگوں کامفت علاج کر رہا ہے۔تاجدار کون و مکان حضرت محمد ﷺ کے نام مبارک کی نسبت سے جڑا یہ ادارہ کئی سالوں میں لاکھوں کے قریب غریب ولاچار مریضوں کو بینائی کی دولت سے مالامال کر چکا ہے ۔ کچھ روزقبل جب میرا اس ادارے میں جانا ہوا تو یہاں کا نظام اورمعیاری سر وسز کو دیکھ کر حیرت میں ڈوب گیا کہ کیسے یہ لوگ روزانہ 600سے زائد مریضوں کا مفت علاج کرتے ہیں تو دوسرے ہی لمحے مجھے اس بات کا جواب مل گیا کہ محمد عربی ﷺ کے نام مبارک کی نسبت اور ہسپتال کے انتظامی معا ملات کے سر براہ جناب شفیق جنجو عہ صاحب اور ان کے بیٹوں کی خوف خدا اور محبت مخلو ق خدا کے جذبوں میں ڈوبے مزاج ہیں جس سے یہ سب ممکن ہو رہا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ لوگوں کے آگے ہاتھ دراز کئے بغیر پرانی اور وسیع و عریض نئی بلڈنگ کے انتظامات بخوبی انجام کو پہنچتے ہیں ۔
علی ہجویری  فری ڈرگ بینک بھی ایک ایسا ہی ادارہ ہے جوغریب، لاچار اور مستحق لوگوں کو مفت ادویات کی سہولت فراہم کر رہا ہے ۔میو ہسپتال کے آؤٹ ڈور میں حضرت سیدنا عثمان الہجویر  کے روحانی شاگرد اور درویش منش شخصیت جناب ڈاکٹر ظہیر الحسن میر اور ان کے ساتھیوں نے اس نیکی کا آغاز اپنے ذاتی سر مایہ سے کیا،جو اب تک 3، کروڑ سے زائد کی ادویات مستحق لوگوں میں تقسیم کر چکا ہے ۔
لاہور کے مئیو ہسپتال سے ہو تا ہوا خدمت خلق کا یہ وسیع پروجیکٹ اب جنرل ہسپتال اور منشی ہسپتال میں بھی روزانہ 500مریضوں کو ادویات مفت فراہم کر رہا ہے جس میں عام ادویات کے علاوہ کینسر جیسے مہنگے اور موذی مرض اور دل کی ادویات ، شوگر ، ۔بی۔پی، ہیپا ٹا ئیٹس ، بچوں کے مخصوص امراض جس میں بچوں کے ہارمونز ڈسٹرب کی ادویات، ایم۔آئی۔آر، سی۔ٹی سکین اور گائنی وارڈ میں استعمال ہونے والے قیمتی انجکشن اور ادویات بھی مفت مہیا کی جارہی ہیں۔

قارئین کرام ! سیانے کیا خوب کہتے ہیں کہ رات جتنی بھی تاریک ہو بالآخر روشنیوں اور رعنائیوں والی سحر کو اس کا مقدر بننا ہو تا ہے ۔ قیا م پاکستان سے اب تک بظاہر دیکھا جائے تو ہمارے سیاسی اور غیر سیاسی آقاؤں نے اس دھرتی کے ساتھ جو جو مظالم رو اء رکھے اور جس جس طرح اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ، اس کے نتیجے میں تو سب کچھ ختم ہو جا نا چاہئے تھا لیکن حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے معجزے کی مانند مملکت خدادا پاکستان کو نقصان پہنچا نے والے، اس کی جڑوں کو کھو کھلا کرنے کی کوشش کرنے والوں کا نام ہی تاریخ کے بے نام قبرستانوں میں دفن ہو کے رہ گیا ہے ۔
ان لوگوں کی ستم ظریفیوں کے باوجوداور محمدی میڈیکل ٹرسٹ اور علی ہجویری فری بلڈ بنک جیسے اداروں کی خدمت خلق کے جذبوں کی وجہ ہے کہ آج پاکستان اس نہج پر کھڑا ہے کہ انشا ء اللہ آنے والے وقت میں پوری دنیا کے فیصلے ہماری ہاں اور ناں میں ہوا کریں گے۔ اور وہ وقت زیادہ دور نہیں ۔ انشا ء اللہ!!!
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے منگل اگست کے مزید کالم