صدر بنایا ہے تو کردار بھی دیں

ہفتہ اگست    |    عارف محمود کسانہ

شائد اسلام آباد نے یہ محسوس کر ہی لیا ہے کہ وہ خود عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو موثر انداز میں نہیں اٹھا سکتا ہے اور نہ اس بارے میں دنیاکی حمایت حاصل کرسکا ہے ۔ پالیسی سازوں کو ممکن ہے اس بات کی سمجھ آہی گئی ہے کہ دنیا کشمیر کی بات جب کشمیریوں کی زبان سے سُنتی ہے تو اس پر توجہ بھی دیتی ہے لیکن جب پاکستان بین الاقوامی دنیا میں کشمیر کی بات کرتا ہے تو اُسے کوئی شنوائی حاصل نہیں ہوتی اور دنیا اسے پاک بھارت تنازعہ سمجھ کر نظر انداز کردیتی ہے ممکن ہے اسی وجہ کے پیش نظر آزادجموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے سابق سفیر جناب مسعود خان کے نام قرعہ فال نکلا اور وہ آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کے صدرکے عہدہ پر فائیز کردئے گئے ہیں۔
یہ ایک مستحسن فیصلہ ہے اگرچہ انہیں صدر بنانے کے طریقہ کار پر بہت سے تحفظات ہیں اور انتخابی عمل شروع ہونے کے بعد کسی بھی شخص کے ووٹ کا اندراج غیر قانونی عمل ہے جس پر الیکشن کمیشن نے بھی فیصلہ دیا ۔

(خبر جاری ہے)

جو سہولت مسعود خان کو دی گئی ہے کیا آزادکشمیر کے باقی شہریوں کو بھی حاصل ہوسکتی ہے؟ فیصلہ سازوں میں دور اندیشی کا فقدان ہے اور وہ عجلت میں فیصلے کرنے کے عادی ہیں۔ قانونی تقاضوں کو بہت پہلے پورا کرلینا چاہیے تھا تاکہ صدر ریاست کے انتخاب سے قبل ہی جوصورت حال پیدا ہوئی تھی وہ سامنے نہ آتی۔

بحرحال اب یہ سارا عمل مکمل ہوچکا ہے اور جناب مسعود خان صدر ریاست ہیں اس لئے اب آگے دیکھاہو گا کہ وہ کیا کردار ادا کریں گے۔ اپنے ایک گذشتہ کالم میں بھی ان کی بابت لکھا تھا کہ وہ وہ چین اور اقوام متحدہ میں سفیر رہے ہیں اور وزارت خارجہ میں طویل عرصہ ملازمت کی وجہ سے بین الاقوامی حالات کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ وہ ایک منجھے ہوئے سفارت کار اور مشکل صورت حال میں بھی کام کرنے اور اپنا نقطہء نظر پیش کرنے کی خوبیوں کے حامل ہیں۔
وہ بہت ذہین، معاملہ فہم اور اپنا نقطہ نظر موثر انداز میں فریق ثانی کو سمجھانے کی خوبیوں کے حامل ہیں۔ صدر آزاد جموں کشمیر کی حیثیت سے وہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو بہتر انداز میں پیش کرسکتے ہیں۔
ایک غیر سیاسی شخص کو صدر آزادجموں کشمیر بنانے کے پیش نظر جو حکمت عملی اور منصوبہ بندی ہے اُسے فعال بنا نے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں جب صدر بنا یا ہے تو انہیں کردار بھی ادا کرنے دیں۔ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی دنیا کو متاثر نہیں کرسکی ۔
دوسری جانب پارلیمانی کشمیر کمیٹی ایک کاغذی ادارہ ہے جو سیاسی رشوت کے طور پر دی جاتی ہے کیونکہ کشمیر کمیٹی کے صدر کاعہدہ ایک وفاقی وزیر کے برابر ہے اور یہ مراعات دے کر سیاسی مخالفوں کا منہ بند کیا جاتا ہے۔ اس لئے بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے وزارت خارجہ اور کشمیر کمیٹی کا مینڈیٹ صدر آزاد کشمیر کا دیا جائے جو عالمی سطح ُپر بہت بہتر اور موثر انداز میں سرانجام دے سکتے ہیں۔
وزیر خارجہ کی عدم موجودگی میں تو یہ اور بھی ضروری ہے۔ پارلیمانی کشمیر کمیٹی ختم کرکے اس کے چیئرمین اور دیگر عہدیداران کو کوئی اور عہدہ دے کر مراعات کو جاری رکھا جاسکتا ہے تاکہ وہ نہ بے روزگار ہوں اور نہ ہی حکومت مخالف ہوں۔ صدرریاست آزادجموں کشمیر کو بحر صورت مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھانے کا کردار دینا ہی وقت کا تقاضا ہے۔ پاکستان اپنے دوست ممالک میں آزادجموں کشمیر کے دفاتر قائم کرکے انہیں مسئلہ کشمیر کی ترویج کی ذمہ داری دی جاسکتی ہے۔
بیرونی ممالک میں پہلے سے قائم کشمیری تنظیموں کو ان مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ جناب مسعود خان کی بھی صلاحیتوں کا بھی امتحان ہے کہ وہ کچھ کرتے ہیں یا محض نمائشی صدر کی حیثیت سے اپنی مدت پوری کرکے گھر چلے جاتے ہیں۔ وہ مسئلہ کشمیراور عالمی رائے عامہ کو بہت بہتر سمجھتے ہیں۔انہیں مسئلہ کشمیر کو پاک بھارت تنازعہ سے ہٹ کر کشمیری عوام کے غیر مشروط حق خود آرادیت کی بنیاد پر عالمی رائے عامہ کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔کشمیر میں بہنے والے خون اور جاری تحریک کو سفارتی محاد پر سرگرمی سے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کا اس سے بہتر اور کوئی وقت نہیں اور امید یہی ہے نو منتخب صدر ریاست کشمیری قوم کی بہتر طور پر ترجمانی کریں گے اور اُن کی توقعات پر پورا اُتریں گے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عارف محمود کسانہ کے ہفتہ اگست کے مزید کالم