”انسانیت کے معیار“

پیر اگست    |    حافظ مزمل رحمان

انسانیت آج بھی اس دنیا میں قائم و دائم ہے۔ شاہد اس نقطے پر اہل فکر میں اختلاف پا یا جاتا ہو مگر انسانیت تذلیل کی انتہا پر ہے اور اس کی لاش سسکیاں لے لے کر دم توڑ رہی ہے۔ شاہد کسی کو اس بات سے کو اختلاف نہ ہو۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ہمارے ہاں معاشرے میں انسانیت کی تقسیم نے اس کے مختلف درجات بنا رکھے ہیں ایک غریب کی بیٹی انسانیت کے وہ معیارات حاصل نہیں ہیں جو ایک امیر اور کسی طاقت ور کی بیٹی کو حاصل ہے۔
ایک مزدور سارا دن مزدوری کر کے بھی انسانیت کی اُن حدود تک پہنچنے سے قاصر ہے جو کہ ایک امیر اپنے پالتو کتوں کو دینا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اگر عالمی سطح پر دیکھا جائے تو یہ انسانیت دنیا کے مختلف ممالک کے باشندوں کے لئے مختلف ہے۔ ایتھوپیا میں کوئی انسان کا بچہ بھوک اور پیاس سے چاہے بلک بلک کر مر جائے مگر کسی کی انسانیت نہیں جاگتی ۔

(خبر جاری ہے)

جبکہ اگر کسی ترقی یافتہ میں کوئی اپنے پالتو جانور کو کھانہ نہ کھلائے یہ کھیلا نہ سکے تو اُسے عدالت میں جواب طلبی کے لئے بلا لیا جاتا ہے۔

ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے تو انسانیت بذات خود شش و پنج کا شکار ہو گئی کہ اس کی حقیقی پہچان کیا ہے۔ کیا انسانیت آج بھی زندہ ہے یا پھر اپنے وجود کی بقا میں آخری سانسیں لے رہی ہے۔ اس کا فیصلہ تو میں آپ پر چھوڑتا ہوں مگر اتنا ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ دنیا میں ہمدردی اور انسانیت کے معیار بھی متاثرین کو دیکھ کر ہی بنائے جاتے ہیں ۔ پورے حساب و کتاب کے بعد ہی کسی کو مظلوم قرار دیا جاتا ہے۔ عالمی ضمیر کے جاگنے کا بھی کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے۔
جب یہ جاگنا ہو تو کسی جانور کی موت پر جاگ جاتا ہے۔ مگر جب یہ سویا ہو تو اس کو انسانوں کے دودھ پیتے بچوں کے گولیوں سے چھلنی لاشے نہ فلسطین میں نظر آتے ہیں نہ کشمیر میں ، نہ عرا ق میں نظر آتے ہیں اور نہ ہی شام میں۔ عالمی ضمیر جب غشی کے عالم میں ہوتا ہے تو اس کو فرانس اور برطانیہ میں حجاب پہننے والی خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک نظرنہیں آتا ہے۔ کیا دنیا میں ہر کسی کو اپنی مرضی سے پہننے کی آزادی نہیں ہے۔
اگر ایسا ہے تومسلمانوں کے ساتھ اس طرح کے سلوک پر عالمی دنیا کی انسانیت کیوں نہیں جاگتی۔ اور شام میں فضائی حملے کے بعد معصوم بچوں کے بکھرے ہوئے اعضاء دیکھ کر ان کی انسانیت شرم سے ڈوب کیوں نہیں مرتی ۔ حال ہی میں کشمیر میں بھارتی مظالم پر بھی یہ عالمی ضمیر غشی کے عالم میں ہی ہے۔ جہاں بھارتی فوجیوں نے معصوم بچوں کی آنکھوں میں چھرے مار کر اُن کی زندگیوں کو ہمیشہ کے لئے تاریک کر دیا ہے۔ نوجوانوں کو ہمیشہ کے لیے محتاج بنا دیا گیا ہے ۔
مگر عالمی انسانیت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیا انسانیت کو مذہب اور قومیت کی بنیاد پر تقسیم کیا جا سکتا ہے؟ کیاں ہیں عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہے؟ پوری دنیا میں انسانیت کے ٹھیکے دار کہاں ہیں؟ کیا سب صرف اس لئے خاموشی سے بیٹھے ہیں کہ یہ سب مظالم مسلمان سہہ رہے ہیں۔ ان سب باتوں کو دیکھ کر سر چکرا جاتا ہے اور دل میں سوال اُٹھتا ہے کہ آخر یہ انسانیت کس بلا کا نام ہے۔انڈنیشیا میں مشرقی تیمور کو صرف اسلام کی مخالفت میں سپورٹ کیا گیا؟ کشمیر پر علمی دنیا کی اس خاموشی کو کیا معنی دیے جائے؟کیا کشمیریوں کے لیے انسانیت کے معیا ر مختلف ہیں؟ آج کل سوشل میڈیا پر ایک پانچ سالہ شامی بچے کی ویڈیو نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی ہے ۔
جس میں بچے کو زخمی حالت میں دکھا یا گیا ہے۔ اس معصوم کی بے بسی پر عالمی میڈیا بھی ٹسوے بہاتا نظر آتا ہے ۔ مگر یہ سب کون کر رہا ہے ان معصوموں کے خون کا ذمہ د ار کون کون ہے اس پر بات کیوں نہیں کی جاتی۔ حال ہی میں عراق جنگ کی حقیقت سب کے سامنے آچکی ہے کہ عراق پر امریکی حملہ غلط تھا مگر پھر بھی اتنے انسانوں کا نہ حق خون بہانے پر کوئی کاروائی عمل میں کیوں نہیں لائی گئی۔ اس سے پہلے بھی ایک شامی بچے ایلان کی ساحل سمندر پر پڑی لاش نے دنیائے انسانیت کو جھنجوڑا تھا۔
مگر اُس کے بعد صرف رسمی پروگرامز کے بعد سب کچھ بھلا دیا گیا اور آج یہ زخمی شامی بچہ اپنی آنکھوں میں یہ سوال لئے ہوئے پوری عالمی برادری سے تقاضا کر رہا ہے کہ بتاوٴ میں تمھاری انسانیت کے معیار پر پورا اترا ہوں یا نہیں؟ بتاوٴ اس سب کے بعد بھی انسانیت زندہ ہے؟ اس انسانیت کو جگانے کے لئے مجھ جیسے کتنے معصوموں کو اپنی زندگی کی بازی ہارنی ہو گی؟۔۔۔ بتاوٴاگر کوئی جواب ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ مزمل رحمان کے اتوار اگست کے مزید کالم