الشفاء آئی ٹرسٹ اور گل زمین خان

منگل اگست    |    عمار مسعود

صبح صبح معروف صحافی اور کالم نگار جبار مرزا صاحب کا فون آگیا۔ کہنے لگے چلو بھئی پھر چلیں؟ سوال پوچھنے کے انداز میں اطلاع تھی نہ مشورہ مانگا گیا تھا۔ بس ایک حکم تھا جو درون گفتگو پوشیدہ تھا۔ تعمیل کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ جبار مرزا میرے والد کے قریب ترین دوست ہیں۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا جبار مرزا صاحب میرے قریب ترین دوست ہو گئے اور کچھ بعید نہیں آنے والی نسلوں کے بہترین دوست ہونیکا اعزاز بھی ان ہی کے پاس ہی آئے ۔

ورلڈ کالمسٹ کلب کے تحت الشفاء آئی ہسپتال کا دورہ مقصود تھا۔ اس کلب کا بنیادی مقصد تو یہی طے ہوا ہے کہ سیاست کے خار زار سے نکل کر کبھی کبھی سماجی بہبود کا فریضہ بھی قلم کو سونپا جائے۔ اکھاڑ پچھاڑ کے بجائے مرہم بھی لفظوں سے رکھا جائے۔

(خبر جاری ہے)

محبت کا فقرہ ، بھائی چارے کی بات، انسانیت کا درس بھی تو اسی قلم پر قرض ہے۔ اسی قرض کو چکانے الشفاء آئی ہسپتال پہنچ گئے۔ وہاں پہنچے تو کالم نگاروں کی بہار آئی ہوئی تھی۔

ہر ایک ہاتھ میں قلم سونتے تیار بیٹھا تھا۔ بڑے بڑے نامور اور معتبر قلم کارتھے جو اس ہسپتال کے دورے میں شریک ہو گئے تھے۔
الشفاء آئی ہسپتال کا آغاز انیس سو پچاسی میں ہوا ۔ اس کار خیر کا آغاز جنرل جہانداد مرحوم نے کیا۔ اگر چہ ہسپتال میں انتظامیہ ایک ریٹائرڈ جنرل صاحب کے سپرد ہے اسکے باوجود یہ ادارہ مکمل طور پر ایک غیر سیاسی، غیر حکومتی اور غیر منافع بخش تنظیم اور پرائیوٹ ادارے کے طور پر رجسٹر ہے۔
جنرل جہانداد نے جس محنت، خلوص اور محبت سے ادارے کی بنیاد رکھی اسی جذبے سے یہ ادارہ کار خیر میں اپنا حصہ بٹا رہا ہے۔الشفاء آئی ٹرسٹ کی شاخیں راولپنڈی، کوہاٹ ، مظفرآباد اور سکھر میں ہیں۔ بنیادی کام اس ادارے کا آنکھوں کے امراض کا علاج اور نابینائی سے بچاو ہے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر روزانہ سینکڑوں مریضوں کے آپریشن ہوتے ہیں۔ استطاعت کے اعتبار سے مریضوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
ایک حصہ ان مریضوں کا ہے جو علاج کا خرچ برداشت کر سکتے ہیں۔ دوسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو سفید پوش لوگ ہیں اور علاج کی کچھ رقم ادا کر سکتے ہیں اور ایک حصہ ان مریضوں کا ہے جو جیب سے ایک پائی نہیں ادا کر سکتے۔ ایسے مریضوں کا علاج یہاں پر بالکل مفت کیا جاتا ہے۔ لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ حامد جاوید اب ادارے کے روح رواں ہیں۔ جنرل صاحب نے کالمسٹ کے اس گروپ سے خطاب کر تے ہوئے جس با ت پر سب سے زیادہ زور دیا وہ یہ تھی کی مریض چاہے متمول ہو یا زکواة کا مستحق اسکے علاج کامعیار ، سہولیات اور نگہداشت میں رتی بھی فرق نہیں ہے۔
آنکھوں کے علاج کے حوالے سے جو ایک خوفناک حقیقت بتائی گئی وہ یہ تھی کہ اس ملک میں اسی فیصد نابینا افراد کا بروقت علاج کر کے انکو نابینائی سے بچایا جا سکتا تھا۔ سہولیات کی کمی اور علاج کے اخراجات بے شمار لوگوں کو نابینائی کے اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو علاج کی سہولت مہیا کی جارہی ہے مگر پھر بھی آنکھوں کی روشنی ہر انسان کا حق ہے۔جو کچھ ہم سے بن پڑتا ہے ضرور کرتے ہیں لیکن ابھی بہت سا کام باقی ہے۔

ہسپتال کی کلینکل سائیکالوجسٹ مدیحہ عروج نے شعبہ لائٹ ہاوس کے بارے میں بتایا۔ اس شعبے میں لو وژن اور نابینا افراد کی زندگی کی طرف بحالی کے اقدامات کیئے جاتے ہیں۔ بولنے والے کمپیوٹر، بریل کی کتابیں اور سفید چھڑی سے چلنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ جو
مریض اب نہیں دیکھ سکیں گے ان کو زندگی کیسے بسر کرنی ہے اس کی تربیت اس شعبے میں د ی جاتی ہے۔ ایسے مریضوں کی نفسیاتی بحالی بھی ایک بڑا کام ہے۔
نفسیاتی طور پر مریض کئی مرحلوں سے گزرتے ہیں۔ مدیحہ عروج نے بتایا بہت سے مریض ایسے ہیں جو علاج سے ڈرتے ہیں۔ آپریشن سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ایسے مریضوں کو ذہنی طور پر تیار کرناایک بہت مرحلہ ہوتا ہے۔بعض اوقات والدین اتنے متفکر ہوتے ہیں کہ علاج میں غفلت ہوتی ہے۔ ان سب مرحلوں میں کلینکل سائیکالوجسٹ مریضوں کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں ۔ ہر مرحلے پر انکی راہنمائی ہوتی ہے۔ ان کا حوصلہ بڑھایا جاتا ہے۔
ان کو پیش آنے والے علاج سے آگا ہ رکھا جاتا ہے۔انکے کہنے کے مطابق سب سے مشکل مرحلہ وہ ہوتا ہے جب کسی وجہ سے کسی مریض کی بینائی مکمل طور پر چلی جاتی ہے اس کو یہ خبر بتانا اور اسے کے خاندان کو آنے والے وقت کے لیئے تیار کرنا ایک دشوار ترین مرحلہ ہوتا ہے۔ بہت سے والدین ایسے مرحلے پر ایسی کیفیت میں چلے جاتے ہیں جسے بزبان انگریزی ڈینائل کہا جاتا ہے۔ جہاں وہ حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ نابینا بچے کی ری ہیبلٹیشن کی بجائے پیروں فقیروں کے چکر لگانا شروع کر دیتے ہیں اور اس طرح نابینا افراد کی بحالی میں قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔

اشفاء آئی ٹرسٹ ایک بہت قابل قدر ادارہ ہے۔ لاکھوں لوگوں کو آنکھوں کی روشنی دے چکا ہے۔لوگ اس ادارے پر اعتماد کرتے ہیں جس کی وجہ اسکا اعلی معیار اور علاج کی بہترین سہولیات ہیں۔ دنیا بھر سے مخیر حضرات اور تنظیمیں اس کار خیر میں دل کھول کر اس ادارے کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں جنرل حامد جاوید نے بتایا کہ یہاں آنکھوں کے علاج کی تو ہر طرح کی سہولیات میسر ہیں مگر مکمل اور مستقل طور پر نابینا افراد کے تعلیم کا کوئی انتظام نہیں ہے۔

میرے ذاتی مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کی نابینا افراد کی تعلیمی مشکلات اس ملک میں بے پناہ ہیں۔حکومتی سطح پر جو ادرے ہیں انکی کارکردگی مایوس کن ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جو ہر حکومت میں نظر انداز رہا ہے۔صوبائی حکومتیں بھی اس معاملے میں کوئی خاص کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوئی ہیں۔ تعلیم نہ ملنے کے سبب نابینا افراد پیشہ ورانہ زندگی میں حصہ نہیں لے پاتے اور معاشرے کا فعال حصہ نہیں بن پاتے۔
جہاں تک ہنر کی بات ہے تو یہ لوگ کسی طرح بھی بینا لوگوں سے کم نہیں۔بس ذرا سے حوصلہ دینے کی ضرورت ہے پھر یہ مٹی بڑی زرخیز ہے۔
گل زمیں خا ن کی روشن مثال پر بات ختم کرتے ہیں۔ انکا تعلق لوئر دیر مالاکنڈ سے ہے۔ نابینا ہونے اور نامسائد حالات کے باوجود کے تعلیم مکمل کی۔ پہلے ایم اے انگریزی ادب کیا پھر اسی مضمون میں ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔اور اب انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ آج کل مالاکنڈ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور اپنی قابلیت اور محنت کے سبب صوبائی حکومت سے اس سال کے بہترین یونیورسٹی پروفیسر کا اعزاز بھی پا چکے ہیں۔ الشفاء آئی ٹرسٹ اور گل زمین خان دونوں اس دھرتی پر روشن ستارے ہیں دونوں پر فخر ہم سب کا حق ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمار مسعود کے پیر اگست کے مزید کالم