جمہوری حکومت اور سائبر کرائم بِل2016

پیر اگست    |    حافظ محمد فیصل خالد

وجودہ حکومت جہاں عوام کو بنیادی سہولیاتِ زندگی فراہم کر نے کی بجائے انفراسفراسٹرکچر پر اپنی پوری توجہ مزکوز کئے ہوئے ہے وہیں کئی ایسے اقدامات بھی اٹھا رہی ہے جو کسی بھی صورت جمہوری اقدار کے عکاس نہیں۔ مثلاََ حکومت نے حال ہی میں سائبر کرائم بل کے نام سے ایک بل پاس کیا جو انٹر نیٹ، میسنجرزوغیرہ کے ذریعے سوشل میدیا پر ہونے والی متشدد بیان بازی و دیگر حر کات کے خلاف حر کت میں آئے گا۔
اس بل کی چیدہ چیدہ شقیں قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔ (۱) اس بِل کی رو سے اب آپ کسی بھی قسم اختلافی بات نہیں کر سکتے(گو کہ آپ حق پر ہی کیوں نہ ہوں گویا کہ آپ کو اگرعزت سے رہنا ہے تو گونگے بہرے بن کے رہیں ) ۔ (۲) اب آپ کسی بھی قسم کی ایسی ویب سائٹ نہیں بنا سکتے جو کسی طرح سے بھی تنقید برائے اصلاح کرنے کیلئے بنائی گئی ہو(گویا کہ حکومتِ وقت ہی عقلِ کل ہے اور اس کے کسی بھی فیصلے کو چیلنج کرنے کی صورت میں آپکو سزا بھگتنا ہوگی)۔

(خبر جاری ہے)

(۳) آپ کسی کے خلاف بھی اور خاص طور پر حکمران طبقے کے خلاف منفی بات نہیں کرسکتے اگر چہ آپ کی تنقید جائز ہی کیوں نہ ہو یہاں تک کہ آپ اس طبقے کے بارے میں بھی بات نہیں کر سکتے جو پاکستان کے آئین کے مطابق کافر ہے، ہاں البتہ وہ جیسے مرضی چاہے آئینِ پاکستان کی دھجییاں اڑاتا پھرے) ۔ حکومت آپ پر جس طرح مرضی ٹیش لگائے، آپ کی آزادءِ اظہارِ رائے پر جس قدر مرضی قدغن لگائے مگر آپ کو یہ حق بالکل حاصل نہ ہوگا کہ آپ اس پر جائز تنقید یا کوئی رائے قائم کر سکیں۔
اس کے علاوہ دیگر کچھ ایسی شقیں اس بِل کا حصہ ہیں جنکو پڑھ کر جمہوری حکومت اور آمریت میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
الغرض کہ اس بِل کے تحت ذاتی طور پر استعمال ہونے والے اکاؤنٹس کی بھی رکھوالی کی جائے گی اور ضرورت پیش ٓانے پر بغیر کسی تحریری شکایت کے متعلقہ بندے کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔یہ بِل چند دنوں میں پاس کیا گیا اور جلد ہی نافذ العمل بھی ہوگا۔
اب اس ساری سورتِ حال میں دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بِل انہیں معزز سیاست دانوں نے پیش چند دنوں میں پاس کیا ہے جنہیں جب سیاست دانوں کی بد عنوانیوں کے خلاف بِل منظور کرنے کو کہا جاتا ہے تو ان سیاست دانوں کی جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے جبکہ اس قسم کے قوانین عوامی آراء پر قدغن لگانے کیلئے منطور کرنے ہوتے ہے تو وہ چند دنوں میں منظور و مقبول بھی ہو جاتے ہیں۔

اب مذکورہ بالا صورتِ حال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسی جمہوری حکومت ہے جسمیں عوام کے ہی حقِ رائے دہی پر قد غن لگایا جاتا ہیاور حکمران طبقے کے خلاف بات کرنا بھی قابلِ گرفت عمل ٹھرایا جاتا ہےَ؟یہ کہاں کی جمہوریت ہے جس میں عوام کو بنیادی سہولیاتِ زندگی فراہم کرنے کی بجائے انکے چند حاصل شدہ حقوق بھی چھینے جا رہے ہیں؟یہ کیسا جمہوری نظام ہے جس میں عوام پر تو ہر قسم کے قوانین مسلط کر دئیے جاتے ہیں مگر جب سیاست دانوں کے احتساب کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو انکی جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے؟ یہ کیسا منصفانہ نظام ہے جس میں ایک محنت کش کی تنخواہ میں دس سے پندرہ فیصد اضافہ کیا گیا جبکہ سیاست دان طبقے کی تنخواہوں میں تین سو سے چار سو فیصد تک اضافہ کیا گیا؟یہ کہاں کی عوامی حکومت ہے جس میں حکمران طبقے کے ٹی۔
اے۔ ڈی۔ اے تک میں دو سو فیصد اضافہ کیا گیا اور دوسری جانب عام ادمی پر اتنی ہی ٹیکسز لگا دئیے گئے؟
کیا اس جمہوری حکومت کے پاس اور کوئی کام نہیں رہ گیا ما سوائے سیاست دانوں کی بد عوانیاں چھپانے اور غریب عوام کی کمر توڑنے کے؟
یہ کیسی قانون ساز اسمبلی ہے جسمیں عام آدمی کے خلاف قانون سازی تو چند ہی دنوں میں منظوری ہو جاتی ہے جبکہ بد عنوان سیاست دان طبقے کے احتساب کیلئے آج تک کوئی ایک قانون سازی نہ ہو سکی؟ یہ کیسا طرزِ جمہوریت ہے جسمیں سرِ عام قتلِ عال کرنے والے اور آئین شکن آمرکو با عزت طریقے سے ملک سے باہر بھیج دیا جاتا ہے جبکہ عام آدمی کے خلاف یہاں کا اندھا قانون فوراََ حرکت میں آجاتا ہے؟
یہ وہ چند بنیادی سوالات ہیں جو راقم الحروف کے ذہن اس لئے نہیں نکل پا رہے کیونکہ ان کا ابھی تک کسی بھی فورم سے مئوثر جواب نہیں ملا۔
او ر اب تو اس بات کا یقین ہوتا جا رہا ہے کہ اگر میاں صاحب اور انکی کابینہ نے اپنا یہ آمرانہ طرزِ حکمرانی نہ بدلا تو انکو آئندہ انتخابات میں اپنی ان حرکات کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ کیونکہ یہ بات تو مثلِ خورشید عیاں ہے کہ ایک دن انکو تختِ بادشاہت سے اتر کر عوامی عدالت میں بھی پیش ہونا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ محمد فیصل خالد کے پیر اگست کے مزید کالم