سلگتا بلوچستان اور بھارت‘بنگلہ دیش‘ افغان ٹرائیکا

منگل اگست    |    محمد ثقلین رضا

کچھ ہی عرصہ قبل امریکی ایوان نمائندگان میں رکن کانگریس ڈینارو ہرابا نے بلوچستان کی علیحدگی سے متعلق قرار داد پیش کی۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ انیس سو اٹھاون ،انیس سو تہتر اور سال دوہزار پانچ میں ہونے والی بغاوتیں اسلام آباد پر بلوچ عوام کے عدم اطمینان کا مظہر ہیں۔ قرار داد کے متن کے مطابق بلوچستان کے قدرتی ذخائر کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ جبکہ بلوچ عوام غربت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔
قرار داد میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان، پاکستان، افغانستان اور ایران میں تقسیم ہے اور تینوں ممالک میں بلوچ عوام کو خودمختاری حاصل نہیں۔ قرار داد میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بلوچ عوام کو اپنے لئے آزاد ملک کا حق حاصل ہے جو انہیں ملنا چاہیے،بلوچوں کو سیاسی و نسلی امتیاز اور ماورائے عدالت قتل کا سامنا ہے۔

(خبر جاری ہے)

قرار داد میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں بلوچ عوام پر ظلم کیا جا رہا ہے اور امریکا بلوچ عوام پر ظلم کرنے والوں کو ہی اسلحہ اور امداد فراہم کر رہاہے۔

دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان میں اسامہ بن لادن کی مخبری کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکی شہریت دینے کا بل پیش کردیا گیا۔ وکٹوریہ نولینڈ کا کہنا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی پاسداری کرتے ہوئے ان جماعتوں کے قائدین کی آزادانہ نقل و حرکت اور اسلحے کے حصول پر پابندیاں لگائے اور ان کے اثاثے منجمد کرے
یہ کہانی کچھ پرانی نہیں اب تازہ ترین وار بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے کیا ۔
بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر انہوں نے خطاب کے دوران بلوچستان کا بھی ذکر کیا ‘ بلکہ ان کے مطابق بلوچستان کے عوام آزادی چاہتے ہیں وہ پاکستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے ‘مودی کے پیغام کو ابھی تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد نے بھی مودی کے موقف کو حقیقت پسندانہ قرا ردیا اور پھرابھی کل ہی سابق افغان صدرحامد کرزئی بھی مودی کے ہمنوانظر آئے ان کے مطابق واقعی بلوچستان میں مظالم جاری ہیں۔
گویا یہ توثابت ہوگیا کہ خدانخواستہ بلوچستان میں شورشیں زیادہ ہوئیں تو اس کی ذمہ داروں میں بھارت کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش‘ افغانستان بھی شامل ہونگے۔
یہ ذکر ضروری ہے کہ بھارتی وزیراعظم کے خطاب کے محض دو ہی دن بعد بلوچستان کی گلیاں ‘محلے‘ سڑکیں ”مودی کاجو یار ہے‘ غدا ر ہے غدار ہے“ کے نعروں سے گونج رہے تھے ساتھ ہی دبنگ وزیراعلیٰ ثنا اللہ زہری نے واضح اعلان کیا کہ وہ کسی صورت بندوق کے زور پر دبنے والے نہیں ‘ ہاں ناراض بلوچوں سے وہ مذاکرات ضرور کرناچاہیں گے ان کے مطابق براہمداخ بگتی بھی اگر مذاکرات کیلئے راضی ہوتے ہیں تو ہمیں اعتراض نہیں لیکن بندوق کے زور پر غیروں کے ایماپر اب بلوچستان میں قتل گری کی اجازت نہیں دی جائیگی ۔
بہرحال حکومت ‘افواج پاکستان کی کوششیں رنگ لارہی ہیں انشااللہ بلوچستان کامعاملہ اب امن کاسفر ضرور طے کریگا
یہ عجیب وغریب کہانی پڑھنے کے بعد ہرذی شعور یہی سوچنے پر مجبور ہے کہ آخر امریکہ اوراس کے ایماپر بعض چہیتے بھی دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں کیوں مداخلت کرتاہے خاص طورپر یہ امر تو نہایت ہی افسوسناک ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی کمزوریوں یا غلط پالیسیوں کی بدولت ہمیشہ نزلہ پاکستان پر ہی گرتاہے۔
گوکہ امریکی ترجمان وکٹوریہ نولینڈنے ایک بات تو بہرحال واضح کردی کہ امریکہ کو بلوچستان سے اتنی ہمدردی نہیں بلکہ اس کے پیچھے پاک ایران گیس منصوبہ ہے جو مسلسل درد بن کر کبھی اس کے پیٹ میں اٹھتاہے تو کبھی بخار بن کر اس کے دماغ پر چڑھ جاتاہے ۔سوچنے والے تو یہ بھی سوچتے ہونگے کہ آخر بلوچ قوم کے درد میں ہلکان ہونیوالے امریکہ کو اس وقت کیوں افغانیوں پر ترس نہ آیا جب وہ بھاری بھرکم بارود کے بل بوتے پر لاکھوں انسانوں کی بلی چڑھارہا تھا اسے تر س تو اس وقت بھی نہ آیا جب امریکہ اور اس کے حواریوں کے ہاتھوں کئی عراقی شہری شہید ہوگئے ۔
سوچنے کا مقام تو یہ بھی ہے کہ گذشتہ سیاسٹھ سٹرسٹھ سالوں سے آزادی آزادی کانعرہ لگاتے وہ کشمیر ی امریکہ کو نظرنہ آئے جو جان تو دے دیتے ہیں لیکن آزادی آزادی کانعرہ نہیں چھوڑتے ۔ انسانی حقوق کے چمپئن کو وہ روتے چلاتے اور جان نچھاور کرتے فلسطینی کیوں دکھائی نہیں دیتے جن کی زندگی امریکی بغل بچے اسرائیل کے ہاتھوں اجیرن ہوچکی ہے۔ یہ تو ہرکوئی جانتاہے کہ امریکہ کبھی بھی اورکسی بھی وقت کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرسکتاہے اس کے لئے اس کے پاس من گھڑت دلائل بھی ہوتے ہیں اورمن پسند ثبوت بھی لیکن جونہی اسے مرضی کے نتائج حاصل نہیں ہوتے تووہ دم دباکربھاگتے ہوئے یہی نہیں سوچتا کہ اس کا اپنا گھر بھی اس آگ کی لپیٹ میں آنے والا ہے۔

بات بلوچستان کی چلی ہے تو معدینات کے حوالے سے معلومات رکھنے والے بخوبی جانتے ہونگے کہ بلوچستان کے پہاڑوں میں اللہ کریم نے سونے سے زیادہ مہنگی اورقیمتی خزانے چھپارکھے ہیں اس کے بارے میں آج تک ہمارے حکمرانوں نے نہیں سوچا البتہ ریکو ڈک منصوبے جیسے اقدامات کے ذریعے انہیں برآمد کرنے کے نام پر ٹھیکہ دیکردولت کمانے کا بے ڈھنگ طریقہ ضرور اپنا یا ۔ یہ تو بھلاہوسپریم کورٹ کا کہ یہ معاملہ تاحال لٹکا ہوا ہے ۔
بہرحال بلوچستان کی پہاڑیوں میں چھپے خزانے بھی امریکہ کی آنکھوں میں ہوس بن کر جھلک رہے ہیں اور اس نے ایک بار پھر روایتی انداز میں پہلے پہل اس معاملے کو کانگریس میں اٹھایا ہے پھر وہ اپنے چند چہیتے ممالک کے ذریعے بلوچ قوم پر ہونیوالے نام نہاد مظالم کا ڈرامہ رچائے گا پھر آواز بلند ہوگی۔ پھر علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے انہیں شدت پسندانہ کاروائیوں پر مجبور کرکے علیحدگی کی باقاعدہ تحریک چلائی جائیگی(یہ عمل اب بھی جاری ہے ‘علیحدگی پسندوں کے بیانا ت یہی ظاہر کررہے ہیں جبکہ آئے روز ہونیوالی ٹارگٹ کلنگ کاسلسلہ بھی جاری ہے)خدا نہ کرے اگر امریکی عزائم کامیاب ہوگئے تو پھر․․․․․․․مزید بتانے اور سننے کی ہمت نہیں‘یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ امریکہ اس حوالے سے آج نہیں بلکہ کئی سال قبل منصوبہ ترتیب دے چکا ہے ‘بلوچستان کی محرومیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ آہستگی سے کبھی بھارت کے ذریعے اور کبھی اپنے پروردہ پاکستانی حکمرانوں کے ذریعے ان محرومیوں کوآگ کی تپش دیکر لوگوں کے جذبات کوگرماتا رہا ہے اور آج نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
گو کہ سابق حکومت نے بلوچستان کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان تو کیا لیکن ان پانچ سالوں میں اس پیکیج کی کسی ایک شق پر عمل نہیں ہوسکااب یہ بھی ضروری ہوگا کہ ان محرومیوں کو‘ جو‘ اب انتقام کی شکل اختیار کرچکی ہیں ‘کیسے دور کرناہے ‘بلوچ قوم کے زخموں پر پھاہاکیسے رکھناہے‘ آئے روز غائب ہونیوالے بلوچ شہریوں کو کیسے بازیاب کراناہے‘ ٹارگٹ کلنگ کیسے روکنی ہے‘ دوسری جانب امریکی بلیک میلنگ کا تریاق اسی کے انداز میں کرنے کے ساتھ ساتھ اس معاملے کو اقوام متحدہ میں لے جایاجائے(فی الوقت اقوام متحدہ سے بھی کوئی خیر کی امید نہیں) ایران‘ چین سمیت دوست ممالک کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیاجائے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

بلوچستان


متعلقہ کالم