پاکستان جاگ رہا ہے

بدھ اگست    |    ارشاد بھٹی

دس لاکھ ، دس ہزار یا دس لوگ ، اب یہ سب کچھ اہم نہیں رہا ۔ اب بات اس سے بہت آگے نکل گئی ہے ،پاکستان جاگ رہا ہے ، پیغام گھر گھر پہنچ چکا اور اب ہر بات سمجھ آنے لگی ہے ۔ فرض کریں حکومتی مرضی کے عین مطابق یہ دھرنے آج ختم بھی ہوجائیں ،عمران خان اور طاہر القادری اس طرح ناکام واپس لوٹ جائیں کہ ان کا ایک مطالبہ بھی نہیں مانا جاتا ۔ماڈل ٹاوٴن کی ایف آئی آر اور اسلام آباد کے سارے پرچے خارج بھی ہوجائیں اور وزیراعظم تو کیا وزیراعلیٰ پنچاپ کا استعفیٰ بھی نہیں لیا جاسکتا ۔
انقلاب ڈاکٹر قادری کے ساتھ کینیڈا واپس چلا جائے او رآزاری مارچ خان صاحب کے ساتھ بنی گالہ تک ہی محدود ہو جائے ، متحدہ پارلیمنٹ فتح یاب ٹھہرے اور باہر بیٹھے تمام گھس بیٹھیے ،دہشت گرد اور بلوائی حوالاتوں اور جیلوں کی نذر ہوجائیں ،تحریکِ انصاف کی سیاست کو ریورس گئیر لگ جائے ، فضل الرحمن کو پختونخواہ مل جائے ، اے این پی اور شیر پاوٴ گروپ بھی جمہوری دیگ سے اپنا حصہ وصول کر لیں اور نواز شریف ایک طاقتور وزیراعظم کی حیثیت سے اگلے پانچ سال تک حکومت کرنے کی پوزیشن میں آجائیں ، تب بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ بات اب بہت آگے نکل گئی ہے ،پاکستان جاگ رہا ہے ،پیغام گھر گھر پہنچ چکا اور اب ہر بات سمجھ آنے لگی ہے ۔

(خبر جاری ہے)

ڈاکٹر قادری کے عالم اور مقرر ہونے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ، وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بھی ہر پاکستانی کی خواہش مگر مجھ جیسوں کو اس سے زیادہ انکے انقلاب اور انکے ایجنڈے کے بارے میں کوئی علم نہیں ، ہاں جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے تو بلاشبہ اگر وہ آزادی مارچ سے پہلے تھوڑا سا بھی سیاسی ہوم ورک کر لیتے تو کم ازکم اس وقت جماعت اسلامی تو ضرور ان کے ساتھ ہوتی ، وہ دو چار ماہ اگر شہر شہر اور گاوٴں گاوٴں اپنے مارچ اور دھرنے پر لوگوں کی ذہن سازی کر لیتے تو وہ لاکھوں کے دعوے کر کے ہزاروں لانے کے طعنوں سے بچ جاتے ، وہ بحیثیت سیاستدان لچک کا مظاہرہ کر پاتے تو وزیراعظم کے استعفیٰ کے بغیر بھی باقی مطالبات منوا کر اب تک فاتح کی حیثیت سے لوٹ چکے ہوتے ۔
کنٹینر پر کھڑے ہو کر جاوید ہاشمی سے راہیں جدا کرنے کی بجائے پارٹی فورم پر یہ فیصلہ کرتے تو صورتحال یکسر مختلف ہوتی اور اگر آج بھی وہ دوسروں کی سننے اور معقول بات ماننے لگ جائیں تو انہیں کبھی کسی بند گلی میں نہ آنا پڑے مگر اپنی تمام تر غلطیوں اور جلد بازیوں کے باوجود اور مہینہ بھر سے زیادہ ہر کوشش کر چکنے کے بعد بھی ابھی تک ایک بات بھی نہ منواسکنے والے عمران خان چند ہفتوں میں وہ کچھ کر گئے ہیں جو وہ اپنی 18سالہ سیاست میں بھی نہ کر سکے ۔
زمان پارک سے ڈی چوک تک پہنچتے پہنچتے اس قافلے نے ایسی تبدیلی کی بنیاد رکھی جو کسی جماعت یا کسی حکومت کے خلاف نہیں بلکہ اس نظام کے خلاف ہے اور آزادی مارچ نے گھر گھر ایسا پیغام پہنچایا کہ وہ لوگ کل تک جن کو نہ ملکی معاملات سے کوئی دلچسپی تھی اور جن کو نہ ملکی وسائل سے کوئی سروکار مگر آج وہ یاتو سٹرکوں پر ہیں یا ٹی وی ریموٹ تھامے گزشتہ ایک ماہ سے سارا دن بیٹھے ہیں اور ساری ساری رات جاگتے ہیں یہ اسی آزادی مارچ کا کمال او ریہ اسی دھرنے کی کامیابی ہے کہ آج خوف کی زنجیریں ٹوٹ رہی ہیں ، وی آئی پیز اور ان کا کلچر سکتے کے عالم میں ہے ،کل تک گونگے بہرے آج بول رہے ہیں ،سوال پوچھے جار ہے ہیں جواب مانگے جا رہے ہیں ، اب پوچھا جارہا ہے کہ سیلاب ہمارے لیے سالانہ ایونٹ کیوں بن گیا ہے ؟ 2010کی فلڈ کمیشن سفارشات کا کیا بنا اور کل تک ہمارے رہنما خشک سالی سے مرتی مخلوق کو جہاں پانی پہنچا پہنچا کر فوٹو سیشن کروا رہے تھے آج وہی قائدین اسی جگہ پانی میں ڈوبی عوام کے ساتھ کیوں تصویریں کھنچوا رہے ہیں اب تبدیلی کو کوئی بند باندھ کر نہ روکا جا سکتا ہے اور اب نہ ان روشن ہوتے ذہنوں کے سوالوں کو دبایا جا سکتا ہے ۔
یہ عمران خان کی کامیابی ہے ، یہ اس مارچ کی فتح ہے اور یہ اسی دھرنے کا اثر ہے کہ آج وزیراعظم پاکستان کے خلاف بھی قتل کے دو پرچے کٹ چکے ، یہ اسی مارچ اور دھرنے کی دی ہوئی جرأت ہے کہ عوام میں بھی ایم این اے اور سنیٹیر کو جہاز سے اتارنے کی ہمت پیدا ہوگئی ہے ، وی آئی پی روٹ کی خلاف ورزیاں کرنے کا حوصلہ آگیا ہے ، یہ اسی مارچ اور دھرنے کا دیا ہوا شعور ہے کہ کل تک سورہ رحمان کی ہر نعمت بلوچستان میں گنوانے کے بعد بھی اپنے صوبے اور عوام کو بھوک وننگ کی کہانیوں سے بڑوں بڑوں کا پتا پانی کر دینے والے محمود اچکزئی آج جب اسمبلی میں تقریر کرنے کھڑے ہوتے ہیں تو لوگ کہ کہہ کر چینل بدل لیتے ہیں کہ اگر بھائی گورنر اور آدھ درجن رشتہ دار اعلیٰ عہدوں پر ہونے کے باوجود عام بلوچی کی ابھی تک حالت نہیں بدلی تو پھر اب کہنے سننے کو کیا رہ جاتا ہے ،یہ اسی مارچ اور اسی دھرنے کی برکتیں ہیں کہ مسلم لیگ ن اور پی پی مطلب آگ اور پانی کا ملاپ ہوگیا اور یہ اسی مارچ اور دھرنے کا دیا ہوا صبر کہ سابقہ اور موجودہ وزراء داخلہ ایک دوسرے پر ہر الزام لگانے کے باوجود ایک ساتھ ہیں ۔
عمران خان ان کے آزادی مارچ اور انکے دھرنے نے خرید لو یا دبا دو کی سوچ کی تبدیلی کا آغاز کر دیا ۔جھوٹے مقدمے ،جعلی ایف آئی آر زا ور خوف و ہراس کی سیاست کو ننگا کر دیا اور یہی وجہ ہے کہ وقت سے پہلے ہی گردنوں سے سریئے نکلنے کا موسم سر پر آن چکا ۔ ابھی کل ہی بات کہ جب وزیراعظم پہلے قیدی اور پھر جلا وطن ہوئے ، جب پولیس ایک وزیر کو ڈنڈا ڈولی کر کے پولیس وین میں پھینک رہی تھی اورلاہورکی ایک مقامی عدالت کے باہر دو وزراء ہتھکڑیاں پہنے کھڑے تھے ،آج یہ سب وہی کچھ کر رہے ہیں جو ان کے ساتھ گزشتہ کل ہوچکا مگر کس کو یاد رہتا ہے اور وہ بھی اقتدار میں آکر ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ ” اقتدار ،اختیار اور دولت ملنے کے بعد انسان بدلتا نہیں بے نقاب ہو جاتا ہے “ ۔ خوشی اس بات کی ہے کہ آج سب کچھ بے نقاب ہو رہا ہے ،پاکستان جاگ رہا ہے ،پیغام گھر گھر پہنچ گیا ہے اور ب یہ بات سمجھ آر ہی ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

پاکستان

ارشاد بھٹی کے منگل اگست کے مزید کالم



متعلقہ کالم