سیاستدان یانکموں کاہجوم

منگل اگست    |    عمر خان جوزوی

اس نے تین بار میٹرک کا امتحان دیا لیکن تینوں بار وہ اس میں بری طرح فیل ہو گیا۔۔ انگلش کے پیپرز میں تو اس کے نمبر تین سے اوپر گئے نہیں جبکہ قومی زبان اردو کے پیپر کا حال بھی انگلش سے کچھ کم تھا۔۔ اس کی اردو کی لکھائی دیکھ کر یوں محسوس ہوتا جیسے اس کو امریکہ یا یورپ سے جلاوطن کیا گیا ہو۔۔ کمال کا وہ شرارتی تھا۔۔۔ اگر کسی بازار ۔۔۔ چوک اور چوراہے میں وہ چند گھنٹوں کیلئے بھی مداریوں کے فرائض سرانجام دیتا تو اپنی شرارت کے بل بوتے پر ہی وہ اس سادھی قوم سے لاکھوں نہیں تو ہزاروں روپے ضرور بٹورتا لیکن اسے سرکارکی نوکری کرنے کا بہت شوق تھا اس لئے وہ اپنا کوئی کام شروع کرنے کی بجائے میٹرک فیل ڈگری کے سائے تلے سرکاری نوکریوں کے پیچھے ہی دوڑتارہا ۔
۔

(خبر جاری ہے)

۔ صرف کلاس فور کی پوسٹ کیلئے اس نے درجن سے زائد ٹیسٹ دئیے لیکن میٹرک امتحان کی طرح وہ کسی ایک ٹیسٹ میں بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ ناکامی کا سایہ اس کے ساتھ اس طرح چمٹ چکا تھا کہ وہ جہاں بھی جاتا کمرے اور عمارت میں داخل ہونے سے پہلے دروازے پر مایوسیوں کی تیز لہریں نئے چڑھتے سورج کی طرح ان کا استقبال کرتیں۔۔،، کام کا ۔۔نہ کاج کا۔۔ دشمن اناج کا ،،تو وہ پہلے سے تھا ادھر نوکری نہ ملنے اور کوئی کام نہ کرنے کی وجہ سے وہ گھر کے ساتھ پورے گاؤں میں ،،نکما ،،مشہور ہو گیا۔

اٹھنا بیٹھنا تو دور گاؤں کے لوگ پھر اس سے سیدھے منہ بات بھی نہیں کرتے تھے۔۔۔ والدین اپنے بچوں سے کہتے کہ اس،، نکمے ،، کے قریب نہ جایاکرو ۔۔۔ گاؤں کے لوگوں کا یہ رویہ دیکھ کر تکلیف تو اس کو بہت ہوتی تھی لیکن وہ حالات کے ہاتھوں مجبور تھا۔۔ اس لئے وہ کچھ کربھی نہیں سکتا تھا۔ شرارت کے ساتھ کمال کا ہوشیار بھی تو وہ تھا۔گاؤں کے چھوٹے بڑوں کاناروارویہ دیکھ کر اس نے اس امتحان سے نکلنے کیلئے بہت سی تدبیریں سوچنی شروع کر دیں لیکن اس کو کوئی واضح راستہ نظر نہیں آرہا تھا۔
کسی ٹیسٹ اور انٹرویو میں کامیاب ہونا تو اس کے بس کی بات نہیں تھی سو اسی وجہ سے کسی سرکاری نوکری کے بارے میں سوچنا بھی پھر اس نے چھوڑ دیا تھا۔ لکھائی اور حساب کتاب میں بھی وہ تقریباً کورا تھا کہ کسی پرائیویٹ نوکری کیلئے غور و فکر کرتا۔ چاروں طرف تاریکیوں میں آخر اس کو ایک کونے سے روشنی کی تھوڑی سی کرن نظر آئی۔ لوگوں کے ناروا رویے سے مایوس ہوکر وہ اسی طرح گہری سوچوں میں گم تھا کہ اچانک کسی نے اس کے دل و دماغ کے بند دریچوں کو کھولنے کیلئے دستک دی۔
۔ان کے کانوں میں اچانک شوں شوں کی آوازآئی ۔۔ میٹرک پاس نہیں ہوتا تو کیا ہوا ۔۔۔؟ سرکاری اور پرائیویٹ نوکری نہیں ملتی تو اس میں پریشانی کی کیا بات ۔۔۔؟ لوگوں کے پیچھے دوڑنے کی بجائے ان کو اپنے پیچھے کیوں نہیں دوڑاتے۔ ویسے بھی انتخابات قریب ہیں ۔۔۔ کاغذات جمع کرا کے سیاستدان بن جاؤ۔۔۔ سیاستدان بننے کا آئیڈیا ذہن میں آتے ہی اس کا بجھا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ ۔۔ اسی وقت اس نے گھرکی چھت پرچڑھ کر اعلان کر دیا کہ میں الیکشن لڑوں گا۔
۔دوسرے دن کوٹ اورٹائی پہن کروہ میدان میں نکلا۔۔ ادھر ادھر سے پیسے قرض لے کرانتخابی مہم چلاناشروع کردیا۔۔وہ لوگ جوان کونکماکہتے تھے اس کے اردگردجمع ہونے لگے ۔۔اس نے بھی لوگوں کو خوب کھلایااور پلایا ۔۔آخرانتخابات بھی ہوگئے۔۔جب رزلٹ آیاتووہ جیت چکاتھااوریوں وہ اسمبلی کا ممبر بن گیا۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ وہ ایک تھا لیکن نہیں نہیں وہ ایک نہیں تھا ۔۔۔بلکہ بہت تھے اور آج بھی ہیں۔۔۔ آج قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھنے والوں میں اگر اکثر نہیں تو کئی وہی نکمے ہیں۔
۔جن کوگاؤں کے لوگ نکمے کہتے تھے۔۔ان میں کئی وہی میٹرک فیل ہے جوتین باربھی امتحان دینے کے بعدمیٹرک پاس نہ کرسکے۔۔آج ایم این اے اورایم پی اے کہلانے والے یہی سیاستدان تووہی ہیں جومیٹرک اورایف اے پاس نہ کرنے کی وجہ سے سیاستدان بنے۔۔ان میں کئی تو ایف اے اور بی اے میں فیل ہونے کے باعث سیاست میںآ نے پر مجبور ہوئے جبکہ کئی کو توبے روزگاری اس مقام تک کھینچ لائی ۔۔۔ اس ملک میں چھوٹی سی سرکاری نوکری کیلئے بھی این ٹی ایس سمیت نہ جانے کون کون سے ٹیسٹ دینے پڑتے ہیں ۔
۔ ایٹا ٹیسٹ پاس کئے بغیر تو کوئی ٹیچر ۔۔ ڈاکٹر ۔۔ انجینئر ۔۔ پروفیسر۔۔ سیاستدان اور سرکاری افسر نہیں بن سکتا لیکن اس ملک میں صرف سیاستدان بننے کیلئے کوئی ٹیسٹ ۔۔انٹرویو اور امتحان نہیں ۔۔۔سیاستدان بننے کیلئے اصول و قیود نہ ہونے کی وجہ سے آج اس ملک کی یہ حالت ہے ۔۔۔ این ٹی ایس جیسا کوئی ٹیسٹ اگر سیاستدانوں کیلئے پاس کرنا ضروری ہوتا تو کیا اس طرح کے لٹیرے ہمارے سروں پر حکمرانی کرتے۔۔
۔۔؟ اس ملک میں تو جو میٹرک پاس نہ کر سکے ۔۔۔ جس کو نوکری نہ ملے یا جو بیروزگار ہو وہ ایک لمحے میں سیاستدان بن جاتا ہے ۔۔ جس ملک میں چور ۔۔۔ ڈاکو اور لٹیرے حکمران بنیں گے اس ملک کی دولت پھر سوئس بنکوں میں منتقل نہیں ہوگی تو اور کہاں ہوگی ۔۔۔۔ ؟ ایسے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے پھر پاناموں میں ہنگامے اور چرچے نہیں ہوں گے تواور کیا ہوں گے۔۔۔۔؟ سیاست کو سیاہ است بنانے کی وجہ سے اس ملک و قوم کی بھاگ دوڑ آج نااہل لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جن سے کسی خیر کی کوئی توقع نہیں۔
کہتے ہیں ایک شخص میٹرک یا ایف اے کے امتحان میں فیل ہوا تو ٹیچر نے اس کو سکول سے نکال دیا ۔ وہ سیاست میں آکر ایم این اے یا ایم پی اے منتخب ہوا اور پھر اس نے اسی ٹیچر کو سکول یا کالج سے نکال دیا جس ملک میں سیاست اور سیاستدانوں کا یہ حال ہووہاں چوروں ۔۔۔ ڈاکوؤں اور لٹیروں کا راج نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا۔۔۔۔؟ اس ملک سے بدامنی ۔۔۔ دہشتگردی ۔۔۔ مہنگائی۔۔۔۔ غربت و بیروزگاری کے خاتمے کیلئے سب سے پہلے سیاستدانوں کو ٹھیک کرنا ضروری ہے۔جب تک اہل ، تعلیم یافتہ ، باشعور اور درد دل رکھنے والے لوگ سیاستدان نہیں بنیں گے اس ملک کا نظام کبھی ٹھیک نہیں ہوگا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمر خان جوزوی کے منگل اگست کے مزید کالم