بے چارے صحافی

جمعہ اگست    |    خالد ارشاد صوفی

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستان کے کسی میڈیا ہاؤس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ایسے واقعات اس سے پہلے کئی بار رونما ہو چکے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق صحافیوں کے قتل اور میڈیا کو نشانہ بنانے کے خطرات کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے۔ صرف شام‘ عراق اور مصر میں میڈیا پر حملوں کے معاملے میں پاکستان کی نسبت زیادہ برے حالات ہیں۔اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں 2013میں پانچ صحافیوں کو قتل کیا گیا تھا‘ جبکہ 2012میں یہ تعداد سات تھی۔
جرنلسٹوں پر حملوں کا سلسلہ خاصا پرانا ہے۔ اس کا باقاعدہ آغاز غالباً دسمبر1994کو ہوا جب ہفت روزہ تکبیر کے ایڈیٹر صلاح الدین کو ان کے دفتر کے باہر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کے دو روز بعداردو روزنامہ پرچم کے بزنس منیجر محمد صمدانی وارثی کو گولی مار دی گئی تھی۔

(خبر جاری ہے)

فروری2002امرکی صحافی ڈینیئل پرل کو گڈاپ کراچی میں پہلے اغوا اور پھر قتل کر دیا گیا۔جنوری2003میں فری لانس جرنلسٹ فضل وہاب کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

ابھی پچھلے مہینے ہی ایکسپریس میڈیا گروپ پر ہونے والے حملے میں اس کے تین کارکن جاں بحق ہو گئے تھے؛ تاہم اس کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔ اس سے چند ماہ پہلے لاہور میں سٹی 42کے دفتر پر فائرنگ کی گئی ۔ گزشتہ سال دسمبر میں لاہور ہی میں دن نیوز کے گلبرگ میں واقع دفتر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ایکسپریس میڈیا گروپ اور جنگ گروپ کو اس سے بھی کئی بار نشانہا بنایا جا چکا ہے۔ جب پاکستان میں نجی ٹیلی وژن چینل شروع نہیں ہوئے تھے تو اخبارات کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی جاتی تھی اور اکثر اخبار کی کاپیاں جلا دی جاتی تھیں ‘ لیکن جب سے نجی ٹیلی وژن شروع ہوئے ہیں‘ انہیں بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اگست 2014میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے الیکشن2013میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف مارچ شروع کیا گیا اور پھر اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا تو اس دوران پی ٹی وی کی عمارت پر منظم حملہ کیا گیا تھا بلکہ نجی ٹیلی وژن چینلز کی ڈی ایس این جیز کو بھی نشانہ بنایا گیا اور وہ منظر تو اب تک آنکھوں سے محو ہی نہیں ہو پا رہا کہ لاہور میں ایک ریلی کی کوریج کرتے ہوئے جیو نیوز کی اینکر ثنا مرزا پر پتھر پھینکے گئے تھے اور انہیں ذہنی طور پر اتنا ٹارچر کیا گیا تھا کہ وہ بھرے مجمعے میں رو پڑی تھیں۔
اور انتہا پسند تو انہیں نشانہ بناتے ہی رہے ہیں اب سیاسی قوتیں بھی اسی ذیل میں شمار ہونے لگی ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انتہا پسندوں کے ساتھ ساتھ وہ سیاسی قوتیں بھی میڈیا گروپوں کو نشانہ بناتی ہیں‘ اظہار رائے کی آزادی کے تناظر میں جن کے مفادات پر زک پڑتی ہے۔
میڈیا ہاؤسز اور جرنلسٹوں پر حملوں کا معاملہ اب ایک عالمی مظہر ہے۔ گزشتہ سال پوری دنیا میں قتل یا ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد73تھی۔
ان میں سے دو کا تعلق پاکستان سے تھا۔2014میں یہ تعداد 61تھی اور ان میں سے تین پاکستانی صحافی تھے اور2016کے آٹھ مہینوں میں اب تک 27صحافی اپنی زندگیوں سے محروم ہو چکے ہیں اور اگلے چار ماہ میں کیا ہونے والا ہے‘ کوئی نہیں جانتا۔یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ صحافی شام میں ہلاک ہوئے‘ جس کی وجہ وہاں کے جنگ زدہ حالات ہیں۔ بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کا کہنا ہے کہ گزشتہ 25برسوں کے دوران دنیا بھر میں کم از کم 2297صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
تنظیم کے مطابق اب تک کسی ایک سال کے دوران سب سے زیادہ صحافیوں کو 2006میں قتل کیا گیا۔ ان کی تعداد155تھی۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میڈیا ہاؤسز کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ کی جاتی ہے‘ انہیں بم دھماکوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہیں کراس فائرنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اور انہیں اغوا کر کے ٹارچر سے ہلاک کیا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان سارے کیسز میں سے بہت کم کی تحقیقات کی گئی یا مجرموں تک پہنچ کر انہیں عبرت کا نشانہ بنایا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ اب میڈیا ہاؤسز پر ماضی کی نسبت زیادہ حملے ہونے لگے ہیں‘ چنانچہ یہ بات طے ہے کہ جب تک حکومت کی جانب سے میڈیا ہاؤسز کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا سچ بات کہنا ان کے لئے مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جائے گا۔ایم کیو ایم کی پاکستان میں موجود قیادت نے پیر کے روز کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پیر کے روز کراچی میں جو کچھ ہوا وہ اس سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتی ہے‘ جس نے ایم کیو ایم کا کارکن بن کر یا ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے تشدد کا راستہ اختیار کیا‘ اس سے ان کا کوئی تعلق نہیں‘ اب ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے یہ عمل نہیں دھرایا جائے گا اور یہ اکہ ایم کیو ایم کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے۔
ایم کیو ایم کے سینئر رہنما اور رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر داکٹر فاروق ستار کی ان باتوں اور یقین دھانیوں سے چلیں ایم کیو ایم کا معاملہ یا مسئلہ کسی حد تک حل ہو جائے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے بعد میڈیا ہاؤسز کو ٹارگٹ نہیں کیا جائے گا۔ یہ خطرہ پہلے کی طرح اب بھی موجود رہے گا۔ کل کو کسی اور سیاسی یا مذہبی گروہ کو کسی چینل کی کوئی بات ناگوار گزری تو ایک بار پھر ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہو گا۔
اس لئے میڈیا ہاؤسز کی سکیورٹی کے لئے فول پروف انتظامات کی ضرورت ہے‘ چاہے یہ خود کریں یا حکومت اس کا انتظام کرے۔دوسرا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ معاشرے کو معتدل بنایا جائے تاکہ وہ اپنے اندر حق بات کو برداشت کرنے کی طاقت پیدا کرے‘ تاہم ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی جس حد تک بڑھ چکی ہے لگتا نہیں کہ مستقبل قریب میں اس کے کچھ امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان حالات میں میڈیا ہاؤسز ‘ صحافیوں اور میڈیا میں کام کرنے والے دوسرے کارکنوں کی سکیورٹی ہی اس مسئلے کا واحد رہ جاتی ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

خالد ارشاد صوفی کے جمعہ اگست کے مزید کالم