ایم کیوایم کا مائنس وَن فارمولہ

ہفتہ اگست    |    پروفیسر رفعت مظہر

عالمی بڑھک بازالطاف حسین نے شراب کے نشے میں دُھت ہوکر جو ہزیان بکا ، وہ اِس قابل نہیں کہ اُسے نوکِ زبان پرلایا جائے یاسپردِ قلم کیاجائے ۔ ہم تواُس کے اِس ہزیان پراِس لیے خوش ہیں کہ ”خَس کم ، جہاں پاک“۔ ویسے بھی چاندپر تھوکنے سے اپنے ہی مُنہ پر گرتاہے ۔ اُس نے جو غلاظت اُگلی ، اُسی کے مُنہ پر جاگری اور اب وہ معافیاں مانگتا پھرتاہے۔ وزیرِاعظم نوازشریف کی زیرِصدارت ہونے والے اجلاس میں اِس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ملکی سلامتی اور وقار کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا اور اِس کے منافی کام کرنے والوں کے لیے معافی کی کوئی گنجائش نہیں ۔
پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کو اِس کی قیمت چکانی ہوگی۔ وزیرِداخلہ چودھری نثارعلی خاں نے برطانوی وزارتِ داخلہ کے حکام سے رابطہ کرکے سنگین جرم میں ملوث الطاف حسین کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے معاونت طلب کر لی ہے۔

(خبر جاری ہے)

یہ شخص اتنا جھوٹاہے کہ اِس نے متعدد بار ایم کیوایم کی قیادت چھوڑنے کا اعلان کیا لیکن اُسی تقریر میں اپنے الفاظ واپس بھی لے لیے ۔ اُس نے کئی بار ہزیان بکا اوراگلے ہی دِن معافیاں مانگتا نظر آیا ۔

22اگست کوچڑیا والے صاحب کی چڑیا بالکل درست خبرلائی کہ جونہی الطاف حسین ہوش میں آکر سوچیں گے تومعافیاں مانگنا شروع ہو جائیں گے ۔
الطاف حسین کی تقریرنے ایم کیوایم کی پوری قیادت کوبَدحواس کردیا ۔ فاروق ستارتو بھاگم بھاگ پریس کلب کراچی پہنبچے تاکہ لندن میں بیٹھے الطاف حسین سے لاتعلقی کااعلان کرکے اپنی جان بچائیں لیکن رینجرزنے اُنہیں”جَپھا“ مارا اورگاڑی میں ڈال کر یہ جا ، وہ جا ۔
چھٹانک بھر کے بیچارے فاروق ستّار ”کُرلاتے“رہ گئے کہ وہ تو ایم کیوایم لندن اور الطاف حسین کی تقریرسے لاتعلقی کااعلان کرنے آئے ہیں لیکن رینجرز نے اُن کی ایک نہ سُنی اوراُنہیں لے کر اُڑن چھُو ہوگئے ۔ فاروق ستّار نے ڈی جی رینجرز میجرجنرل بلال اکبر کے سامنے جاکربھی دہائی دی کہ وہ توپریس کلب میں الطاف حسین کی تقریر کو قابلِ مذمت اور قابلِ نفرت قرار دینے آئے تھے مگررینجرز اُنہیں بغل میں دباکریہاں لے آئے ہیں۔
میجرجنرل صاحب نے ”بھائی“ فاروق ستّار کی بگڑتی حالت کودیکھ کر اُنہیں رہا کرنے کاحکم صادر فرمادیا لیکن ساتھ ہی پانچ سات دَبکے بھی مارے تاکہ وہ سیدھے کراچی پریس کلب جاکر اپنی لاتعلقی کا اعلان کریں ۔(ہم نے فاروق ستّارکو ”بھائی“ اِ س لیے لکھاہے کہ اب وہ الطاف بھائی کی جگہ لے چکے ہیں)۔
23 اگست کوفاروق ستار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وہ سب کچھ کہہ دیا جس کا وہ پہلے کبھی تصور بھی نہیں کرسکتے تھے ۔
اُن کے ہمراہ ایم کیوایم کی تقریباََ تمام قیادت موجودتھی اور وہ لوگ بھی جو 22 اگست کوالطاف حسین کی حمایت میں بیان دے رہے تھے ۔ ایم کیوایم ایک رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر عامر لیاقت میٹھی زبان میں یہ کہنے کی کوشش کررہے تھے کہ اتمامِ حجت ضروری ہے لیکن اُن کی باتوں پر کوئی بھی دھیان دینے کوتیار نہیں تھا ۔ رات گئے رینجرز اُنہیں بھی اُٹھاکر لے گئے لیکن پھر چھوڑدیا ۔ وہ تواتنے گھبرائے کہ اُنہوں نے ایم کیوایم ہی چھوڑنے کااعلان کردیا ۔
اب وہ بھی گلیوں میں بلند آہنگ سے گاتے پھرتے ہیں کہ
وفا کیسی کہاں کا عشق جب سَر پھوڑنا ٹھہرا
تو پھر اے سنگدل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو
یہ سب کچھ تو ہوتا رہا اور آئندہ بھی اربابِ اختیارکو یقین دہانیاں کرائی جاتی رہیں گی کہ ایم کیوایم پاکستان کا ایم کیوایم لندن سے کوئی تعلق نہیں لیکن بات بنتی نظر نہیںآ تی کیونکہ ہمارا میڈیابہت بھڑکا ہواہے اورتقریباََ تمام سیاسی جماعتیں اسے ڈرامہ سمجھ رہی ہیں جس کا ہدایت کاربھی الطاف حسین ہی ہے ۔
اُدھر لندن میں بیتھے ایم کیوایم کے رہنما واسع جلیل نے دوٹوک الفاظ میں کہاہے کہ ایم کیوایم دو نہیں ، ایک ہی ہے ، فیصلے اب بھی الطاف حسین ہی کریں گے ۔ فاروق ستارنے الطاف حسین سے اعلانِ لاتعلقی نہیں کیا بلکہ اُس بیان سے لاتعلقی کااظہار کیاہے جو 22 اگست کو الطاف حسین نے دیااور بعدمیں اِس پر معذرت بھی کرلی ۔ فاروق ستار کے بیان کو ڈرامہ قرار دینے والوں میں پاک سَرزمین پارٹی کے رہنما رضاہارون پیش پیش ہیں ۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ سب الطاف حسین کوبچانے کا ٹوپی ڈرامہ ہے اور فاروق ستارکا مقصد ایم کیوایم کوبچانا اور دفتر کھلوانا ہے ۔ اُنہوں نے یہ بھی کہاکہ فاروق ستار کسی بھی صورت میں ایم کیوایم کی قیادت نہیں سنبھال سکتے کیونکہ متحدہ کے آئین کی آخری شِق کے مطابق الطاف حسین کو مکمل ویٹو پاور حاصل ہے اورکوئی شخص اُس کی توثیق کے بغیر ایم کیوایم کی قیادت نہیں سنبھال سکتا ۔ اگر فاروق ستار ایم کیوایم سے علیحدگی کااعلان کرکے نئی جماعت تشکیل دیتے تواُسے اُن کی خوش نیتی تصور کیاجاتا لیکن ایسا ہوا نہیں اِس لیے یہ سب ڈرامہ ہے ۔
پاک سرزمین کے سربراہ مصطفےٰ کمال کہتے ہیں کہ ابھی توپارٹی شروع ہوئی ہے لیکن ہم کہتے ہیں کہ محترم اِس حمام میں سبھی ننگے ہیں ۔ آپ بھی تواُسی درخت کی ٹوٹی ہوئی شاخ ہیں جس کا پھل ہمیشہ زہرآلود ہوتاہے ۔ جب سندھ میں ایم کیوایم کاعروج تھا اور آپ کراچی کے میئر ، تب آپ کی چال ڈھال ہی نرالی تھی ۔ ایاز لطیف پلیجو کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ غداری کیس سے بچنے ، ایم کیوایم کے دفاتر کھلوانے اوراپنا میئر منتخب کروانے کی چال ہے ۔
اُدھر رینجرز نے ایک بیان جاری کیاہے جس کے مطابق ایم کیوایم کے 654 ٹارگٹ کلرز کوگرفتار کیاگیا ہے جنہوں نے 7424 قتل کرنے کااعتراف کیاہے ۔ وفاقی وزیر خرم دستگیر خاں نے کہا کہ اگر فاروق ستار سچّے ہیں تو وہ اُن لوگوں کو گرفتار کروائیں جنہوں نے 22 اگست کوتوڑ پھوڑکی لیکن ہم کہتے ہیں کہ فاروق ستارسے یہ پوچھا جائے کہ 7424 افراد کوکِس کے حکم پر قتل کیاگیا۔ہمارے خواجہ آصف سیالکوٹی کہتے ہیں کہ ایم کیوایم کی پشیمانیاں اور استعفے چلتے رہتے ہیں اِس لیے مائنس وَن کی بات کرنا قبل اَزوقت ہے ۔

ہمیں نہیں معلوم کہ یہ فاروق ستارکا ڈرامہ ہے یاکچھ اور۔ یہ توآنے والے چند دنوں میں کھُل کرسامنے آجائے گا لیکن یہ بحرحال طے ہے کہ اگر یہ ڈرامہ ہوا تواِن لوگوں کو بدترین حالات کاسامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اب کوئی بھی غیرت مند پاکستانی الطاف حسین کی قیادت توکجا ، اُس کانام بھی لے کراپنی زبان گندی نہیں کرے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

متحدہ قومی موومنٹ

پروفیسر رفعت مظہر کے جمعہ اگست کے مزید کالم



متعلقہ کالم