اللہ ! میں صبر کروں گی

پیر اگست    |    حافظ ذوہیب طیب

صبر کر رہی ہوں ۔۔۔ اللہ نے صبر کا حکم دیا ہے ۔۔۔اور ۔۔۔مجھے تو شرم آتی ہے آپ سے بات کرتے ہوئے ۔۔۔اپنی مجبوری اور غربت کا آپ کو بتاتے ہوئے۔۔۔ڈررہی ہوں کہ اللہ مجھ سے ناراض نہ ہو جائے کہ میں اپنی پریشانیوں اور مسئلوں کا ذکر دوسروں سے کیوں کررہی ہوں؟ اللہ میں صبر کروں گی۔یہ الفاظ تھے کہ جومیرے ذہن میں گونج رہے تھے۔ یہ ایک ماں کی آہ تھی ۔ایک صبر تھا جو پہاڑوں سے زیادہ مضبوط تھا۔گھر کا سامان بک گیا ،برتن، بستر، چار پائی۔
۔۔سب کچھ ، ہر ہفتے چارہزار کی دوائی درکار، خون لگوانا ہے ۔ ۔۔یہ سوچ اس بے سہارا ماں کو کھائے جاتی ہے ۔ عثمان 16سال کا ہے اور 9سال پہلے اس کے والد فوت ہو گئے تھے۔
عثمان تھیلسیمیا کا مریض ہے جو پل پل جی رہا ہے ۔اس کے والد کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس روٹی کے لئے آٹا نہیں ہوتا تو بیٹے کا علاج کیسے کرائیں ، اسی صدمے نے ان کی جان لے لی اور اب عثمان کی ماں ہے جو اسے دیکھ کر جیتی اور تکلیف میں دیکھ کر پل پل مرتی ہے ۔

(خبر جاری ہے)

اس کے پاس میلسی سے ملتان ،آنے جانے کا کرایہ بھی نہیں ہوتا ،کرایہ اکھٹا کرتے ہیں ، ادھار لیتے ہیں بلکہ اب تو کوئی ادھار بھی نہیں دیتا۔ مہینے میں دو دفعہ خون لگوانا پڑتا ہے ۔ ان اخراجات کو پورا کر نے کے لئے عثمان کی ماں لوگوں کی بکریاں اور مرغیاں لیکر پالتی ہے اور بمشکل گذر بسر کرتی ہے ۔
روز بروز موت کی جانب بڑھتے ہوئے ہوئے معصوم بچے کو لاحق بیماری کے علاج کی وجہ سے گھر کا تما م سامان بھی بک چکا ہے لیکن اس بیماری سے لڑنے کے لئے جن ادویات کی ضرورت ہوتی ہے وہ بہت مہنگی ہیں اور جس کے لئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔
بیت المال سے امداد اور زکوٰة بھی ان لوگوں کو ملتی ہے جس کا کوئی تگڑا سفارشی ہو تا ہے۔بچہ ہے جو ماں سے یہ سوال کرتا دکھائی دیتا ہے کہ یہ سب میرے نصیب میں آخر کیوں؟مجھے فلاں چیز لے کر دو، کھلونے، جوتے، کپڑے، یہ سب میرا نصیب کیوں نہیں؟ میں کیوں اچھا کھاپی نہیں سکتا؟ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں؟ آنکھوں میں آنسوؤں کے علاوہ عثمان کی ماں کے پاس اور کوئی جواب نہیں ہوتا۔
عثمان اور اس کی ماں۔۔۔
آزمائش یا مصیبت یا پھر معاشرے کا قرض۔۔۔وہ دیہاتی عورت جو اسے خدا کی طرف سے آزمائس سمجھ کر مشکلات کا سامنا کر رہی ہے ۔ ایک بے سہارا عورت کس کے آگے ہاتھ پھیلائے اور کس سے مدد مانگے؟ وہ تو بس یہ دعا کرتی ہے کہ اے اللہ ! میرے اور میرے بچوں کے لئے اگلے جہان میں آسانی پیدا کرنا اور مجھے صرف تیرا سہارا درکار ہے ۔ایک ماں اور ایک معصوم، ان کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالوں کا جواب کون دے؟ میں ۔۔۔آپ ۔
۔۔معاشرہ؟ یا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وہ حکمران جو اپنی چھوٹی چھوٹی بیماریوں کے علاج کے لئے بھی یورپی ممالک کی جانب کوچ کر جاتے ہیں عوام کے خون پسینے کی کمائی سے اپنا ذاتی علاج کرانے؟؟؟
قارئین !معروف سماجی کارکن اور بالخصوص تھیلیسمیا کے مرض میں مبتلا ، مرجھاتے ہوئے پھولوں کی طرح معصوم بچوں کو امید اوران کی سانسوں کو مزید کچھ مہلت دینے کی کوشش کرنے والے اظہر محمود شیخ کی کتاب ”اللہ! میں صبر کروں گی“ تھیلیسمیا میں مبتلا بچوں اور ان کے والدین کی آپ بیتی پر مشتمل ہے جس کا ہر لفظ، صفحہ اور کہانی پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ۔
کیسے یہ بچے اور ان کے والدین کرب کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔یہ ساری آپ بیتیاں پڑھ کر اپنے اور اپنے معاشرے کی بے حسی پر بھی رونا آتا ہے کہ ہم لوگ کتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ ہمیں اپنے پیٹ سے آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ بڑے بڑے محلات اور بلڈنگیں تعمیر کر کے جو استعمال میں بھی نہیں ہوتیں اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں ۔
قارئین کرام !100لفظوں کی کہانی کے موجد جناب مبشر علی زیدی کی ایک کہانی ”زندگی“ آپ کے ساتھ بھی شئیر کر رہاہوں ۔
ہسپتال کے انتظار گاہ میں کئی بچے والدین کے ساتھ موجود تھے ۔ میں نے اپنا تھیلا تھپتھپایا، ایک بچے کو ٹا فیوں کا پیکٹ دیا ، اس نے خوشی خوشی لے لیا ، ایک لڑ کے کو کہانیوں کی کتاب دی ، اس نے خوشی خوشی لے لی ، ایک بچی کو کھلونا پیش کیا ، اس نے انکار میں سر ہلا دیا ، میں نے کہانیوں کی کتاب پیش کی ، اس نے انکار میں سر ہلا دیا ، میں نے ٹافیوں کا پیکٹ پیش کیا ، اس نے انکار میں سر ہلا دیا ، ”بیٹی!“ آپ کو کیا چاہئے؟ میں نے اسے چمکارا، تھیلسیمیا کی مریض وہ بچی بولی: ”خون کی بوتل“۔

ایسے ہزاروں بچوں کو صرف ایک خون کی بوتل زندگی بخش سکتی ہے ۔ آئیے !اظہر محمود شیخ اور ان کی ٹیم کی طرح اپنے آس پاس، گلی ، محلے اور شہر میں ایسے بچوں کو تلاش کریں اور مہینے میں صرف دو دفعہ خون کی بوتلیں دے کر یا انتظام کر کے تیزی سے موت کی جانب سفر کرتے ہوئے ان معصوم بچوں کو زندگی کی چند سانسیں دینے میں اپنا کردار ادا ء کریں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے اتوار اگست کے مزید کالم