آٹھ سات، آٹھ سات

پیر اگست    |    شاہنواز سرمد

ایک لمحے کے لئے تصور کریں کہ آپ ایک عام پاکستانی ہیں جس کا نہ تو کوئی اثرو رسُوخ ہے ، نہ پیسہ اور نہ ہی ”اوپر تک“ تعلقات ۔ شو مئی قسمت آپکا کوئی حریف روایتی دُشمنی میں آپکے خلاف جھُوٹا مقدمہ درج کروا دیتا ہے اور پولیس آپ کو گرفتار کر لیتی ہے۔کیا آپ کو اندازہ ہے ایسی سنگین صورتحال میں آپ کا بنے گا کیا؟
ہمارے روایتی نظامِ عدل و انصاف کے تحت آپ کو خود کو بے گناہ ثابت کرنے میں سالوں لگ جائیں گے۔
کوئی معجزہ ہی آپ کو اس مشکل سے نکال سکتا ہے۔
اچھی خبر یہ ہے کہ حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں اور جدید ٹیکنالوجی روایتی نظام کی جگہ لینے کو تیار ہے۔ پنجاب پولیس میں شکایات کا آن لائن اندراج متعارف کرائے جانے سے ایسے معجزات حقیقتاََ رُونما ہو رہے ہیں ۔

(خبر جاری ہے)

میری طرح شاید یہ انکشاف باقی پاکستانیوں کو بھی خوُشگوار حیرت میں مبتلا کر دے مگر حقائق یہی کہتے ہیں کہ اس سال فروری میں انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس مشتاق احمد سُکھیرا کا متعارف کرایا گیا ” پولیس کمپلینٹ سنٹر“ پولیس کے روایتی نظام میں تبدیلی اور عوامی خدمت کے شعبے میں ایک انقلاب ثابت ہورہا ہے۔


مہنگائی ، بے روز گاری، لوڈ شیڈنگ اور بُرے معاشی حالات سے تنگ عوام کے لئے پولیس کا غیر مہذب رویہ اور عدم تعاون مسائل میں اضافے اور سرکاری اداروں پر عدم اعتماد کی وجہ بنتا ہے ۔ رشوت ستانی، درست اور قابلِ دست اندازی درخواست پر بھی ایف آئی آر کا اندراج نہ ہونا، بے گناہ افراد کی گرفتاری، جھُوٹی ایف آئی آر کا اندراج اور غیر تسلی بخش تفتیش پولیس سے متعلقہ ایسے مسائل ہیں جن کا عوام کو سب سے زیادہ سامنا ہے۔
مگر اب جدید ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئےSMS,Call, Email,اور Website کے ذریعے ان مسائل کے خلاف شکایات اعلٰی پولیس حکام تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔آن لائن سسٹم میں درج کرائی گئی شکایت تک سائل اور پولیس حکام ، دونوں کو رسائی حاصل ہوتی ہے تا کہ حکام شکایت کا جائزہ لے کر اس کے ازالے کے لئے کام شروع کر سکیں اور سائل ٹریکنگ کے نظام کی مدد سے اپنی شکایت پر ہونے والے ایکشن سے با خبر رہے ۔ کاغذ کے پلندوں سے آزاد یہ ڈیجیٹل نظام نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ ریکارڈ کی تلاش بھی صرف چند clicksکی مدد سے کی جا سکتی ہے۔

عوام دوست رویے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کی بہترین صلاحیت رکھنے والے خواتین اور حضرات 8787 پر بذریعہ کا ل ، میسج یا ای میل اور ویب کے ذرائع سے درج کرائی جانے والی عوامی شکایات وصول کر کے متعلقہ علاقے او رمسئلے کی نوعیت کے مطابق کارروائی کے لئے کم سے کم DSP رینک کے پولیس آفیسر کو بھیجتے ہیں تا کہ بہترین کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ خودکار طریقے سے درخواست کے درج ہوتے ہی متعلقہ آفیسر کی تفصیلات، ٹریکنگ نمبر اور شکایت بیک وقت سائل اور آفیسر کو بذیعہ SMS بھیجے جاتے ہیں۔
جس پر متعلقہ آفیسر زیادہ سے زیادہ آٹھ گھنٹوں میں جواب دینے کا پابند ہے۔ کمپلینٹ سنٹر سائل سے مسلسل رابطے میں رہتا ہے اور اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ان سے رابطہ کیا گیا ہے یا نہیں۔ مکمل تفتیش کے بعد پولیس آفیسر آن لائن نظام میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کراتے ہیں۔ جس پر شکایت کنندہ کی رائے لی جاتی ہے اور شکایت کے ازالے پر عدم اطمینان کی صورت میں کیس ایک درجہ سینئر آفیسرکو منتقل کر دیا جاتا ہے جو نئے سرے سے شکایت کو دیکھتا ہے اور جب تک سائل مطمئن نہ ہو تفتیش کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔

مختلف سطحوں پر نگرانی کا بہترین نظام ”پولیس کمپلینٹ سنٹر“ کو مزید ممتاز بناتا ہے، یہا ں تک کہ آئی جی پنجاب آن لائن نظام میں لاگ اِن ہو کر ساری کارروائی کی تفصیلات دیکھتے ہیں ۔ نگرانی کا یہ موثر نظام ہر رینک کے پولیس آفیسرز کو جوابدہ بناتا ہے اور ایسے افسران جو عوامی شکایت پر خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھاتے، اُن کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔
اسسٹنٹ آئی جی کمپلینٹس (AIG Complaints) ، سیّد خرم علی، سنٹرل پولیس آفس میں ”آئی جی پنجاب پولیس کمپلینٹ سنٹر“ کو دیکھ رہے ہیں۔
انھوں نے سنٹر کی افادیت پر بات کرتے ہوئے کہا، ”لوگ سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے اپنی شکایات آئی جی صاحب کی کھُلی کچہری میں جمع کرانے آتے تھے یا ڈاک کے ذریعے بھیجتے تھے جس پر انکا بہت سا پیسہ اور وقت ضائع ہوتا تھا اور کارروائی کا عمل بھی سست تھا۔ اس کے برعکس ” پولیس کمپلینٹ سنٹر“ پر ڈیجیٹل ذرائع سے درج کی گئی درخواست سے نہ صرف پیسے اور وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ شکایات پر کارروائی کی رفتار بھی بہت تیز ہے ۔
فوری جواب، درخواست پر سائل کی رائے کا اظہار اور پیروی کا نظام، پولیس آفیسر زکی جوابدہی، نقائص سے پاک سافٹ وئیر، بہترین مانیٹرنگ اور سب سے بڑھ کرسائلین کا اطمینان اور گلو خلاصی اس نظام کی چند نمایاں خصوصیات ہیں۔“
فروری 2016 میں شروع کئے گئے اس نظام میں اب تک مختلف ذرائع سے موصول ہونے والی 14000سے زائد شکایات درج کی جا چکی ہیں ،جن میں سے 72 فی صد شکایات کارروائی کے بعد خارج کی جا چکی ہیں جبکہ باقی 28 فی صد پر کارروائی جاری ہے۔
خارج کی جانے والی درخواستوں میں سے 37فی صدشکایات کا ازالہ کیا گیا، 35فی صدشکایات جھُوٹی ثابت ہوئیں،5 1فی صدشکایات فریقین کی باہمی رضا مندی پر خارج کی گئیں جبکہ 3 1فی صدشکایات ناقابلِ دست اندازی یعنی ایسے معاملات سے متعلق تھیں جن میں پولیس کا براہِ راست عمل دخل ممکن نہیں ۔ درخواستوں پر بروقت کارروائی کا تناسب بتاتا ہے کہ عوامی شکا یات کے ازالے کے لئے پنجاب پولیس میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بہت موئثر ثابت ہوا ہے۔

ذمہ دار شہریوں سے توقع کی جانی چاہیئے کہ وہ اس سروس سے صحیح طور پر فائدہ اُٹھائیں گے اور اسکا استعمال پہلے قائم کی جانے والی ہیلپ لائینز کی طرح غیر ضروری کالز کر کے نہ کیا جائے۔ اگر کسی شہری کو کوئی ایمرجنسی پیش آ جائے تو اس مقصد کے لئے پہلے سے موجو دسروس 15 پر فوراََ کال کی جائے جبکہ8787 چونکہ ا یمرجنسی ہیلپ لائن نہیں ہے اس لئے اسے صرف اس وقت ڈائل کیا جائے جب کسی شہری کو پولیس سے متعلقہ کسی مسئلے کا سامنا ہو۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

شاہنواز سرمد کے پیر اگست کے مزید کالم