فراز کی کچھ یادیں کچھ باتیں

پیر اگست    |    یونس مجاز

شعور نے جب آنکھ کھولی تو شعروشاعری کا شغف بھی شاہدکسوٹی میں موجودتھا۔جس کی وجہ سے شعروں کے انتخاب نے ہمیں بھی رسوا کیا ۔اس طرح فراز کے شعروں کاچسکا دیگر نوجوانوں کی طرح میری ہابی میں بھی شامل رہا۔ان سے ملنے کی خواہش دل میں رکھے خود بھی اس دشت کی طرف آ نکلا ۔چونکہ کہ آغاز سفر میں اصلاح سخن لینے کی ضرورت ہر لکھاری کو ہوتی ہے ۔ سو اسی تلاش میں ناصر زیدی صاحب سے راہ ورسم استوار ہوئی ۔
فروری 1999ء کی ایک شام میلوڈی میں واقع اسوقت ایک قومی اخبار کے دفتر جس میں راقم کام بھی کرتا تھا سے نکلا تو توعلم کی پیاس مجھے ہالیڈے ان اسلام آباد میں کھینچ لائی جہاں شام کو ناصر زیدی صاحب بیٹھتے تھے۔وہاں پہنچا تویہ دیکھ کر خوشگوار حیر ت ہوئی ۔کہ وہاں پر احمد فراز صاحب کے علاوہ اشرف ڈار مرحوم پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اور جاوید احمد جومشہور کشمیری ملی نغمہ” اے دنیا کے منصفو “ کے خالق بھی ہیں موجود تھے۔

(خبر جاری ہے)

میں بھی کرسی کھینچ کرمحفل میں شریک ہوگیا ۔ فراز صاحب سے یہ میری پہلی باقاعدہ ملاقات تھی ۔ ناصر صاحب نے تمام شخصیات کاتعارف کرایا ۔ تھوڑی دیر کے بعد پاس ہی دوسری میز پر بیگم سرفراز اقبال اپنے شوہر ملک اقبال کے ہمراہ آکر تشریف فرما ہوئیں ۔یہ لوگ غالبا کھانا کھانے آئے تھے ۔چونکہ ہمارے ہاں شعرو شاعری کے ساتھ ساتھ چائے کا دور بھی چل رہاتھا ۔سوآتے ہی سلام دعا کے بعد ملک اقبال صاحب نے یہ جملہ پھینکا کہ فراز صاحب شاعری کے ساتھ کیا پیا جارہا ہے ۔
۔۔چائے یا کچھ اور بھی ۔۔۔فراز صاحب نے انتہائی خوبصورتی سے جملہ لٹاتے ہوئے کہا”ہاں چائے بھی پی جاتی ہے “اور پھرشاعری کا بڑا گہرا تعلق ہے ”چاہے “سے کہ یہ ظالم ہوتی ہی چاہت کی وجہ سے ہے ۔ار پھر بات انگور کی بیٹی کی چل نکلی ۔اس دوران دونوں طرف سے انگریزی میں خوبصورت جملوں کا تبادلہ ہوتا رہا ۔بذلہ سنجی اور ذو معنی گفتگو کے اس نئے روپ نے مجھے فراز صاحب کا اور گرویدہ کر دیا ۔میری ان سے دوسری ملاقات ناصر زیدی کے توسط سے ہی یوم خواتین کے حوالے سے مارچ1999 میں فیڈرل گورنمنٹ کالج برائے خواتین ایف سیون ٹو میں منعقدہ ایک خوبصورت محفل مشاعرہ میں ہوئی ۔
جسکی صدارت اس وقت کے چہرمین پی ٹی وی سینٹر پرویز رشید کررہے تھے ۔جب کہ مہمان خصوصی کی مسند پر محترمہ شبنم شکیل تشریف فرما تھیں۔فراز محفل میں دیر سے پہنچے تو راقم اسٹیج پر اپنی ایک غزل سنا رہا تھا ۔اور اتفاق سے یہ غزل فراز ہی کی زمین میں تھی ۔جس کامقطع تھا ۔۔۔
ہزار مشکلیں ہوں راہ میں مگر پھر بھی
مجاز قلب ونظر میں صداقتیں رکھنا
جوں ہی میں نے دوسری غزل کے اشعار پڑھنا شروع کیے تو فراز صاحب جو اس وقت تک اپنی نشست پر تشریف فرما ہوچکے تھے۔
کی آواز گونجی بھئی میں نے پشاور میں بھی ایک تقریب میں پہنچنا ہے اس لیے بعد میں سنا لینا فی الحال اتنا ہی کافی ہے ۔میں بھی اپنی حاضری بھر لوں ۔چند اشعار سنانے کے بعد میں اسٹیج سے نیچے آگیا ۔چند سنئیر شعرا کے بعد یہ کہہ کر فراز صاحب کو اسٹیج پر بلا لیا گیا ۔کہ انھوں نے جاناہے ۔ رمز شناس احمد فراز جاتے جاتے اپنی حسب موقع یہ مشہور زمانہ غزل سناکر چلے گئے۔
،،،سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
کتنا آسان تھا تیرے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمرلگی جان سے جاتے جاتے
اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا
تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے
ان سے تیسری ملاقات حال ہی میں ایبٹ آباد میں ان کی وفات سے چند ماہ قبل ایک غیر سرکاری تنظیم کی منعقدہ تقریب میں ہوئی ۔
جہاں انھوں نے اپنی شاعری سنانے کے علا وہ حاضرین کی طرف سے کیے گئے ملکی حالات کے تناظرمیں سوالات کے جواب بھی دیئے ۔راقم کہ اس سوال پر کہ فوج جب بھی ملک پر قابض ہوئی سیاست دانوں کی نااہلیوں اور ذاتی چپقلش کی وجہ اس کا بنیادی محور رہا۔جس کی وجہ سے عوام نے اسے خوش آمدید کہا ․کیا موجودہ سیاست دان جن کی اکثریت کو عوام دو دو بار آزما چکی ہے ۔ملک کو موجودہ بحران سے نکال سکتے ہیں ۔فراز صاحب کا موقف تھا اس میں کوئی شک نہیں ہمارے حکمران ذاتی مفادات کی دلدل میں پھنسے ہونے کی وجہ سے ہمیشہ ملک کو سیاسی بحرانوں کا شکا ر کرتے چلے آرہے ہیں ۔
لیکن اس کی آڑ میں یہ ہر گز اجازت نہیں دی جاسکتی کہ ملک میں ہر چند ماہ بعدکوئی ڈکٹیٹر طالع آزما آدھمکے ۔اس ملک کی بقا جمہوری کلچر کو پروان چڑانے میں ہے ۔جس کے لیئے جمہوریت کا چلتے رہنا ضروری ہے ۔کیونکہ لولی لنگڑی جمہوریت بھی ایک اچھے ڈکٹیٹر کی حکومت سے کئی درجے بہتر ہوتی ہے ۔فراز کا نظریاتی اور سیاسی رخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ان کی رومانوی شاعری کی عظمت اور شہرت اپنی جگہ مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ان کی شہر ت کی اصل وجہ ان کی مزاحمتی شاعری کے ہی مرہون منت ہے ۔
ضیاء دور میں لکھی گئی ان کی نظم ”پیشہ ورقاتلو“کی وجہ سے انھیں جیل یاترہ کرنا پڑی ۔جبکہ اگلے برس ”محاصرہ “ لکھنے پر انھیں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنا پڑی ۔اوریہی ان کی شہرت اور عروج کا زمانہ گنا جاتا ہے ۔فراز کا اسلوب سادہ اور دلکش ہونے کی وجہ سے غزل گو شاعر کے طور ابھر کر سامنے آئے تو انھیں آدم جی ایوراڈ سے”دردِآشوب “کو 1966 میں نوازا گیا ۔انھوں نے کلاسیکی اور نیم کلاسیکی بحروں میں طبع آزمائی کی ۔
بلکہ اردوغزل میں نئی نئی طرحیں اور بحریں نہ صرف ایجاد کیں بلکہ دریافت کیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی چھوٹی بحروں میں کہی گئی غزلیں عوام میں مقبول ہوئیں ۔فراز عوامی جذبات واحساسات سے خوب واقف تھے ۔ان کے اشعاردلوں میں گھر کر جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے بہت سے اشعار اور مصرعے ضرب المثال کی حثیت رکھتے ہیں ۔ فیض کے بعد اگر کسی نے حقیقی معنوں شہرت دوام پائی تو وہ فراز ہی تھے ۔فراز کی شاعری نے تین نسلوں کو متاثر کیا ہے ۔
وہ ایسے خوس قسمت شاعر تھے جنھیں ان کی زندگی ہی میں شہرت کا وہ عروج ملا ۔جو اب شاہد ہی کسی کے حصہ میں آئے ۔ان کی شاعری میں موسیقیت رچی بسی ہے ۔بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔کہ ان کی شاعری روایت اور جدیدیت کا حسین امتزاج تھا۔
فراز ظلم ہے ایسی خود اعتمادی بھی
کہ رات بھی تھی اندھیری چراغ بھی نہ لیا
شکوہ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
سیاسی شعور اور رومانویت کا ایک خوبصورت امتزاج دیکھیے ۔
۔
لگا کے زخم بدن پر قبائیں دیتا ہے
یہ شہریاربھی کیا کیا سزائیں دیتا ہے
تمام شہر ہے مقتل اسی کے ہاتھوں سے
تمام شہراسی کو دعائیں دیتا ہے
فراز کے ان متنازعہ خیالات و نظریات جن میں ایک دفعہ انھوں نے کہا تھا کہ شادی بھی ایک طرح کی تحریری جسم فروشی ہے ۔اور ایک اورمقام پر یہ بھی بیان ان سے منسوب ہوا تھا کہ اردو ایک دم توڑتی ہوئی زبان ہے ۔جس سے ملک میں لسانی تنازعے نے جنم لیا ۔ان کی شخصیت پر بڑی انگلیا ں اٹھائی گئیں ۔لیکن اس کے باوجود فراز کی رحلت نے اردوغزل ونظم کی دنیا میں وسیع خلا پیدا کر دیا ہے ۔جسے شاہد صدیوں تک نہ پورا کیا جاسکے ۔اللہ تعالیٰ انھیں اپنی جوررحمت میں عطاکرے ۔آمین ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

یونس مجاز کے پیر اگست کے مزید کالم