آمروں کی غلطیاں اور مہاجروں کی اذیت

جمعہ ستمبر    |    خواجہ محمد کلیم

جنرل ضیاء الحق نے یوں تو بہت سی غلطیاں کیں لیکن دو ان میں سے نمایاں ترین ہیں ۔ایک تو ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی چڑھانا اور دوسرا مزار قائد پر پاکستانی پرچم نذر آتش کرنے والے فاشسٹ کو ہلا شیری دینا۔موٴرخ ان کی دونوں غلطیا ں معاف نہیں کر سکے گا۔
خاکسارہمیشہ سے اس بات کا سخت مخالف ہے کہ سیاسی یا حکومتی مخالفت کرنے والوں کو غداری کے تمغے عطا کئے جائیں ۔لیکن اتنی ہی مخالفت میں اس بات کی بھی کرتا ہوں کہ کسی غدار کی گردن ناپنے میں تاخیر کی جائے تاوقتیکہ زمین میں شر پھیل جائے اورقوم پرست محب وطن عناصر کے حوصلے ٹوٹ جائیں۔
میں جانتا ہوں کہ میرا یہ کالم بہت سے دوستوں کو ناگوار گزرے گا لیکن معاف کیجئے !اپنی ماں کو گالی دینے والے پر اگر کوئی تھوکے بھی نہ، تو کیا میں اس کے شجرے کا قصیدہ لکھوں؟ شیخ مجیب اور بھٹوکی سیاسی لڑائی میں کون حق پر تھا کون نہیں اس پر ہر کسی کی رائے اپنی ہو سکتی ہے لیکن سیاسیات کا طالب علم ہونے کے ناطے میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کا وزیراعظم بننے کا حق دار وہ مجیب تھا جسے جمہورکے مسلمہ اصولوں کے مطابق متحد ہ پاکستان کی اسمبلی میں بھاری اکثریت حاصل تھی۔

(خبر جاری ہے)

یاد رہے یہ وہی مجیب تھا جو کبھی سائیکل پر سبز ہلالی پرچم لہر ا کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگایا کرتا تھا۔نام نہاد دانشور جب شیخ مجیب اور لندن کے ”بدہوش“ کا تقابلہ کرتے ہیں تو عقل سر پیٹتی ہے۔
چودہ اگست انیس سو سینتالیس سے لے کربائیس اگست دوہزار سولہ کے درمیان بھی بہت سے ماہ و سال گزرے ہیں!کیا راوی ان دنوں میں چین لکھتا رہا؟۔ایک آمر کے سر یہ الزام ہے کہ اس نے ایم کیو ایم کی پرورش کی لیکن اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے عوام کے منتخب نمائندوں نے ایم کیو ایم کو جمہور کے قاعدے اور قومی دھارے میں لانے کے لئے کیا کیا؟اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔

سارے جہان نے دیکھا کہ ایک اور آمر نے مٹھی بھر غنڈوں کے ہاتھو ں اپنے ہی ادارے اور ریاست کو بے دست وپا بنا کر رکھ دیا اور پھرمکے لہر ا کر اس پر فخر کا اظہار بھی کیا۔پرویز مشرف کی آمریت کے دنوں میں ایک میثاق جمہوریت بھی ہوا تھا لیکن افسوس بینظیربھٹو کو شہید کردیا گیا اور ان کے وارثوں نے اقتدار میں آنے کے بعد شہید بینظیر بھٹو کے میثاق جمہوریت کو صرف بقدر ضرورت اپنے سیاسی بیانوں میں استعمال کیا۔
یہی وجہ ہے کہ بارہ مئی کو مزار قائد پر گلے کی رگیں پھلا پھلا کر ہذیان بکنے والے آج طعنہ دیتے ہیں کہ ہمت ہے تو اس پر مقدمہ چلا کر دکھاوٴ۔لیکن کیااس کا مقصد یہ ہے کہ ناگ کے زہر سے خوفزدہ ہو کر اس کا سر نہ کچلا جائے؟۔ بائیس اگست کے دن لندن میں بیٹھے ایک بھگوڑے نے اپنی مادر وطن کو جو گالی دی ہے اس نے پوری مہاجر برادری کے سر شرم سے جھکا دئیے ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنی ماضی کی غلطیوں پر سجدہ سہو کرتے ہوئے الطاف حسین کی جماعت کو اپنے ساتھ اقتدار میں بٹھانا گوارا نہیں کیا ،بائیس اگست کے واقعہ پر نعرے مارنے اور مذمت کرنے کی بجائے حکومت بظاہر ایک سنجیدہ اور قانونی عمل کا آغاز کر چکی ہے۔
ایک موثر،شفاف مگر قانونی ردعمل ضروری ہے جس میں کسی کو ناجائز طو ر پر ہدف نہ بنایا جائے۔ اب بھی ریاست مناسب قانونی ردعمل کا اظہار نہ کر سکی تو پھر بقول شہبازانورخان!
اگر غدار بچ جائے سزا سے
تو سمجھو وہ ہے کارندا کسی کا
اسے حاصل ہے شہ اس کے بڑوں کی
زبان اس کی ہے ایجنڈاکسی کا
ریاست اگر قانون کی عملداری اور امن کی خواہاں ہے اور اسے ہرحال میں ان بڑوں کی گوشمالی کرنا ہوگی جنہوں نے ہمیں اس حال کو پہنچایا۔

محب وطن مہاجروں سمیت مادر وطن کا ہر بیٹااذیت میں مبتلا ہے،چشم تصور سے میں ان ماوٴں کو دیکھتا ہوں جنہوں نے اس وطن کی طرف ہجرت کے ہنگام اپنی عصمت کی حفاظت کے لئے اپنی کو کھ میں پلتے لعلوں سمیت اندھے کنووٴں میں چھلانگیں لگا ئیں ۔ وہ مائیں اگر زندہ ہوتیں تو اپنے ہی نام پر کسی کو اس وطن کا سبز ہلالی پرچم جلانے کی اجازت کیسے دے سکتی تھیں؟ اس وطن کو گالی دینے کی جسارت کرنے والے کووہ مائیں کیسے اپنا رہنما مان لیتیں؟ماں اپنے لخت جگر کے لئے کتنی ہی مہربان کیوں نہ ہو لیکن اگر اس کی کوکھ سے جنم لینے والا اسی کی عزت کے درپے ہو تو وہ اسے کبھی معاف نہیں کرتی ۔
زیادتیاں صرف اردو بولنے والے مہاجروں سے نہیں ہوئیں،آمریت وردی کی محتاج نہیں یہ ذہنوں میں پنپتی ہے۔ سندھی،بلوچی،پنجابی یا پشتون عوام کے ساتھ یہ زیادتیاں ریاست پاکستان نے نہیں بلکہ اقتدار کی کرسی پر براجمان ناجائز قابضین نے کیں،یہ پنجابی اور سندھی یا مہاجر اور مقامی کی لڑائی نہیں بلکہ جمہور کی بالادستی کے خواہش مندوں اور ریاست پر قابض رہنے کی ہوس میں مبتلا وڈیروں اور سرمایہ داروں کی جنگ ہے۔
آپ سندھی ہیں یامہاجر،پنجابی ہیں یا بلوچ،پشتون ہیں یا قبائلی ،پاکستانی ہیں یا بھارتی، برطانوی ہیں یا امریکی ،عربی ہیں یا عجمی ،مسلم ہیں یا غیر مسلم اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اگر آپ کے ذہن میں تعصب نامی خناس کا کیڑا ہے تو آپ شرف انسانیت سے گر چکے ہیں اور انسانیت کے نام پر محض ایک دھبہ ہیں۔قومی پرستی اپنی اصل میں کوئی بری چیز نہیں لیکن تعصب ایک منفی اور مختلف جذبہ ہے جو صرف ایک قوم یا دنیا کے کسی ایک خطے تک محدود نہیں ۔
میر ا ماننا یہ ہے کہ متعصب افراد دنیا کے ہر خطے اور ہر قوم میں پائے جاتے ہیں لیکن وہ ہمیشہ اقلیت میں رہے ہیں۔الطاف حسین کے نام پر مہاجروں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کی بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ تعلیم اور تہذیب کے علمبردار مہاجروں کو کیسے یرغمال بنایا گیا؟کبھی حقوق کے نام پر،کبھی صوبے کے لالچ میں اور کبھی الگ وطن کا سراب دکھا کر۔ قوم جانتی ہے کہ الطاف حسین سے دبی زبان یا کھلے لفظوں میں برات کا اظہار کرنے والوں پر الطاف حسین کی برائیاں آج منکشف نہیں ہوئیں ، اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ ہر برائی کا ذمہ دار تن تنہا لندن کا بھگوڑ اہے تو یہ بات بھی عقل تسلیم نہیں کرتی۔
کل تک الطاف حسین کے دست وبازو بننے والے اپنا سارا زور اس کو گالی دینے پر صرف نہ کریں، ایک بار پھرکسی کا آلہ کار بننے کی بجائے اپنی غلطیوں کو کھلے عام تسلیم کریں اور اپنے اعمال سے متاثر ہونے والوں سے معافی کے خواستگارہوں ۔جو اپنی غلطی پر سچے دل سے نادم اور اصلاح کا طالب ہواسے معاف کردینے سے بڑی سزا اور کوئی نہیں۔جو طاقت اور قوت کراچی اور سندھ کو لہولہان کرنے میں صرف کی گئی اسی کو عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے استعمال کیا جائے، قوم کی رہنمائی میں خلوص کا جو دعویدار ہے اسے یہ کرنا ہی ہوگا،اور برائی کے راستے سے پلٹنے پر جو تیار نہیں ،انہیں قانون کے حوالے کیا جائے اور قانون پوری طاقت سے اپنا راستہ اختیارکرے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

خواجہ محمد کلیم کے جمعہ ستمبر کے مزید کالم