افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

اتوار ستمبر    |    عبدالماجد ملک

قوم کا لفظ عربی زبان سے لیا گیا ہے جو کہ اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے ،اردو میں کسی خاص گروہ ،جن کی اقدار و روایات آپس میں مشترک ہوں اور ایک خاص خطے میں آباد ہوں کو قوم کہا جاتا ہے اور اس ایریے کو ان کا وطن کہا جاتا ہے ۔
دوسرے لفظوں میں وطن(ملک) کی تعریف کچھ اس طرح سے بیان ہو گی کہ کسی خاص خطے کی ارضیاتی و جغرافیائی وجود کی سیاسی یا نظریاتی تقسیم کو ملک کہا جاتا ہے۔
دنیا میں ایک ایسا ملک بھی معرض وجود میں آیا ،جس کو خالص نظریاتی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا،جس خطے پر وہ ملک بنا ،وہ جغرافیائی لحاظ سے نہایت اہمیت کا حامل ،زرعی لحاظ سے زرخیز،موسمیاتی لحاظ سے انتہائی زبردست ،فطرتی خوبصورتی کے لحاظ سے نہایت خوبصورت و دلکش اور رآب و ہوا کے اعتبار سے نہایت عمدہ ہے ،اس ملک کا نام ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘رکھا گیا ۔

(خبر جاری ہے)


اسلامی جمہوریہ پاکستان کو حاصل کرنے کے بعد اس کے نام کے پہلے حصے پر تجربے شروع ہوئے جو آج تک جاری ہیں اور بقول مولانا عبدالکلام کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان میں اسلام پر تجربے ہونا شروع ہو جائیں گے اور ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے زمین تنگ کر دی جائے گی۔
ٓآج اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام پھنس چکا ہے ،بلکہ اسلام کو مسالک میں تقسیم کر کے ہم اس کی تعلیمات سے دور مگر ایک دوسرے کو کافر قرار دینا اپنی مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں ۔

اس کے نام کا دوسرا حصہ جسے ”جمہوریہ“ کہیں گے،اس نام کی تعریف تو کچھ یوں ہونی چاہیے تھی کہ عوام کی حکومت ،عوام کے ذریعے ،عوام پر ہونی چاہیے مگر موجودہ حالات میں اس کی تعریف کچھ یوں ہے کہ بدترین طرز حکومت جمہوریت ہے لیکن راقم کے نزدیک بدترین جمہوریت بھی بہترین آمریت سے بہتر ہے مگر ’جمہوریہ پاکستان“میں جمہوریت کی بجائے بادشاہت قائم ہے جس میں اشرافیہ کی حکومت ہے اورغریب عوام محکوم بنے ہوئے ہیں #
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن،اندروں چنگیز سے تاریک تر
اس نام کا تیسرا حصہ جو کہ اس کا اصل ہے جسے ”پاکستان“کہتے ہیں ،یہ پاک سرزمین جو کہ ایک نظریہ کے تحت وجود میں آئی ، مگر حاصل کرنے کے بعد اس کا نظریہ کہیں دفن کر دیا گیا اور آج وہ نظریہ صرف نصاب کی کتابوں میں موجود ہے مگر حالات اشارہ کرتے ہیں کہ ہم بھلکڑقوم سے ہیں ،ہم تو آباوٴ اجداد کی قربانیوں کو بھلا چکے ہیں جن کی وجہ سے آج ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں،اور کوئی بعید نہیں کہ کہیں وہ نظریہ بھی ہم بھول جائیں گے اور قربانیاں بھی۔

کیونکہ بھول جانا ہماری سرشت میں شامل ہے ہم زیادہ پہلے کی بات نہیں کرتے اگر عصر حاضر کے واقعات کی بات کریں ،اور خاص کر ان واقعات کو یاد کریں ،جن پہ کافی شور اٹھا تھا،جن پر سوشل میڈیا پر بھی طوفان اٹھایا گیا مگر سوشل میڈیا کے دانشور فصلی بٹیروں کی مانند اپنے تجزیے سمیت دبک کر بیٹھ گئے اور آج وہ سانحے اور حادثات ہمیں یاد تک نہیں اور جن واقعات پر انسانیت نے بھی دم توڑ دیا ہوگا مگر ہم انہیں بھی بھول گئے ،کیونکہ ہماری یاداشت خاصی کمزور واقع ہوئی ہے ۔

بھول کی بیماری انفرادی کی بجائے قومی بن چکی ہے اور بحثیت قوم ہم اس عادت میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ پہلے کسی سانحے پر خوب شور شرابا مچایا جائے پھر وقت کے ساتھ اسے ذہن سے محو کر دیا جائے ،ہم کسی حادثے پر واویلا کر کے تھک جاتے ہیں تو بجائے اس حادثے سے سبق سیکھنے کے ہم نئے حادثے کا انتظار کرتے ہیں اور ہر نئے سانحے پر نت نئی احتجاجی بیان بازی پھر ٹائیں ٹائیں فش ۔
بیان بازی میں اس قوم کا کوئی ثانی میں نہیں مگر عمل سے کوسوں دورہے ،جس کی وجہ سے یہ بجائے ترقی کے زینے طے کرنے کے تنزلی کی طرف گامزن ہیں اور اگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی اور یوں ہی چلتے رہے تو پھر ”داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں“۔

اگر آپ کامیاب قوموں کی تاریخ پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے اپنے اسلاف کو یاد رکھا ،اپنی تاریخ کو سینے سے لگا کر رکھا،اور اپنے حادثات سے سبق سیکھا،مگر یہاں اور اس قوم کا باوا آدم ہی نرالا ہے،اس قوم کے افراد دوسروں پر تنقید کرتے ہیں مگر اپنی تصحیح نہیں کرتے اس وجہ سے ہم قوم کی بجائے ہجوم نظر آ رہے ہیں جس کی کوئی اہمیت ہے نہ وقعت۔
اگر آپ اپنے ملک کے ساتھ مخلص ہیں اور اپنے قوم کو ترقی کی راہ پر دیکھنا چاہتے ہیں تو پہلے خود میں مثبت تبدیلی کے سانچے میں ڈھالیں تاکہ آپ کی بدولت آپ کا گھرانہ ،آپ کا معاشرہ،آپ کی قوم اور آپ کا ملک دنیا کے ترقی ممالک کی صف میں جا کھڑا ہو،تو آج سے ہی ابتدا کریں #
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عبدالماجد ملک کے ہفتہ ستمبر کے مزید کالم