بدلتا عالمی منظرنامہ

اتوار ستمبر    |    پروفیسر رفعت مظہر

سب سے پہلے ایک واردات کے بارے میں جس سے ہم بال بال بچے اور اُس کے بعد بھارت اور امریکہ کی روزافزوں ”لنگوٹے وَٹ“ دوستی پر کچھ گزارشات۔ ہوا یوں کہ جمعہ 26اگست کو واپڈاٹاوٴن لاہور کی رحمت مارکیٹ میں کچھ خریداری کے لیے جانا ہوا۔ اِس مارکیٹ میں ہمیشہ کی طرح بہت رَش تھا ۔ میرے میاں پروفیسر مظہر صاحب نے گاڑی پارک کی ۔ وہ ابھی گاڑی کو لاک کر ہی رہے تھے کہ میں مارکیٹ کی طرف چل دی۔ سڑک پر چند قدم ہی چلی تھی کہ اچانک دو موٹرسائیکل سوار آئے اور میرے کندھے پر لٹکے پرس پر جھپٹا ماراجس سے میں سڑک پر گِر گئی، کچھ چوٹیں بھی آئیں لیکن پرس محفوظ رہا ۔
یہ سب کچھ اتنا آناََ فاناََ ہوا کہ میرے میاں سمجھے کہ شاید میرا پاوٴں پھسل گیا اور میں گر گئی۔

(خبر جاری ہے)

حیرت ہے کہ اُس مارکیٹ میں ہمیشہ پولیس کاناکہ لگا رہتاہے لیکن اُس دِن نہیں تھا ۔ شاید پولیس نے سوچاہو کہ عیدِ قُربان قریب آ رہی ہے ،پیسوں کی ہر کسی کو اشد ضرورت ہے اِس لیے ناکہ نہیں لگاتے تاکہ جس کسی نے واردات کرنی ہو ”کھُل کھُلا“ کے کرلے۔ ویسے یہ بھی زبان زدِعام ہے کہ ایسی وارداتوں میں پولیس کا حصّہ طے شُدہ ہوتاہے۔


ہمارے اَنتھک خادمِ اعلیٰ کو نِت نئے منصوبے سوجھتے رہتے ہیں اور دروغ بَرگردنِ راوی ،اُنہیں تو رات کو اُس وقت تک نیند نہیں آتی جب تک وہ اگلے دِن کے لیے کوئی منصوبہ سوچ نہ لیں۔ ہم تہ دِل سے اُن کی صلاحیتوں کے معترف ہیں، بَس اتنی سی گزارش ہے کہ جب کوئی منصوبہ پایہٴ تکمیل تک پہنچ جائے توپھر گاہے گاہے اُس کی افادیت کی رپورٹ بھی لیتے رہیں۔ اُنہوں نے ایسی ہی وارداتوں کے خاتمے کے لیے کثیر رقم صرف کرکے ”ڈولفن فورس“ بنائی ۔
جس کسی نے بھی اِس فورس کا نام تجویز کیا، ہم اُس کی صلاحیتوں کے معترف ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ یہ فورس اسم با مسمٰی ہے ۔” ڈولفن“ جسیم اوربظاہرہیبت ناک مچھلی کانام ہے لیکن وہ ہے بہت معصوم اور انسان دوست۔ بچوں کو تو اُس کی پانی میں اُچھل کودبہت مرغوب ہے ۔ ڈولفن کسی کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت نہیں رکھتی لیکن تفریح کا باعث ضرور بنتی ہے۔ یہی حال ہماری ”معصوم ڈولفن فورس“ کاہے۔ بظاہر ہیوی بائیکس پر بیٹھے یہ نوجوان بہت خوفناک دکھائی دیتے ہیں اور یوں محسوس ہوتاہے کہ جیسے یہ کسی دوسرے سیارے سے آئی ہوئی مخلوق ہو۔
یہ اکثر کسی نہ کسی سڑک پر گپیں ہانکتے پائے جاتے ہیں یا پھر دو ہیوی بائیکس پر خراماں خراماں جاتے ہوئے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ آج تک اِنہوں نے جرائم کی کمی میں کوئی قابلِ ذکر کارنامہ سرانجام دیا ہو یا کسی ”وارداتیے “ کو رنگے ہاتھوں پکڑا ہو البتہ ڈولفن کی طرح اِن کی دہشت بہت ہے۔
اب کچھ بات بھارت اور امریکہ کے ”یارانے“ کی ۔ 29 اگست کو امریکہ اور بھارت کے مابین ایک دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے مطابق دونوں ممالک ایک دوسرے کے بری ،بحری اور فضائی اڈے استعمال کر سکیں گے۔
ہم نے تو یہ سُن رکھاتھا کہ ہندو لالہ کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتا لیکن وہ تو بہت احمق نکلا۔ کوئی اِن بھارت واسیوں سے پوچھے کہ وہ بھلا امریکہ کے بری ،بحری اور فضائی اَڈے کیوں اور کس لیے استعمال کریں گے۔ کیااُن کا پروگرام کینیڈا پر حملہ آور ہونے کا ہے؟۔ البتہ امریکہ اِس دفاعی معاہدے سے بھرپور فائدہ ضرور اُٹھا سکتاہے کیونکہ اُس کے مفادات اِس خطے میں اَٹکے ہوئے ہیں ۔ وہ گوادر تک پہنچنے کے لیے افغانستان میں گھُسا ، اپنی معیشت کا بیڑا غرق کیا لیکن گوہرِ مقصود ہاتھ نہ آیا اور ہم نے گوادر کا انتظام و انصرام اپنے عظیم دوست چین کے سپرد کردیا۔
سعودی عرب کے ساتھ سردمہری کی بنا پر اُسے گلف بھی ہاتھ سے سرکتا نظر آرہا ۔ اب ظاہر ہے کہ اُس نے کہیں نہ کہیں تو ٹھکانہ کرنا ہی تھا ۔ امریکی میڈیا بھی کہہ رہا ہے کہ اِس دفاعی معاہدے کے پاکستان اور چین پر براہِ راست اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکی جریدے ”فوربز“ نے پاکستان اور چین کو اِس دفاعی معاہدے سے خبردار کرتے ہوئے لکھاہے کہ بھارت کے ساتھ کیا جانے والا معاہدہ دراصل چین کے خلاف ہے جوایشیا میں اپنا اثرورسوخ بڑھاتا جا رہاہے اور یہ چین کو قابو میں رکھنے کی اوباما انتظامیہ کی حکمت عملی کا حصّہ ہے۔
ہم نے تو سات عشروں تک امریکہ سے دوستی کی پینگیں بڑھا کر دیکھ لیں لیکن ”کَکھ“ ہاتھ نہ آیا ، اب بھارت کی باری ہے لیکن شاید اُس کی نگاہ سے ہنری کسنجر کا یہ قول نہیں گزرا کہ ”امریکہ کی دشمنی بُری لیکن دوستی اُس سے بھی بُری ۔
بھارتی دَورے پرآئے ہوئے امریکی وزیرِخارجہ جان کیری اور بھارتی وزیرِخارجہ سشما سراج نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں جان کیری نے کہا ”دہشت گرد ، دہشت گرد ہوتا ہے ، اچھا یابُرا نہیں ۔
دہشت گردی کہیں بھی ہو ، کوئی بھی کرے ، دہشت گردی ہی ہوتی ہے۔ نواز شریف اور جنرل راحیل شریف سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے کے لیے کہاہے “۔ ہم جان کیری کی اِن باتوں سے مکمل طور پر اتفاق کرتے ہیں کیونکہ ہمارے نزدیک تو عالمی دہشت گرد خود امریکہ ہے اور اُس کی دہشت گردی عالمِ اسلام میں دکھائی بھی دیتی ہے ۔ اسی لیے ہم عالمی دہشت گرد امریکہ کے پاکستان میں موجود ٹھکانے ختم کرنے کی بھرپور سعی کر رہے ہیں اور اُمیدِواثق ہے کہ بہت جلد اِس میں کامیاب بھی ہو جائیں گے ۔
جان کیری خود ہی فیصلہ کرلیں کہ اُن کا شمار اچھے دہشت گردوں میں کیا جائے یا برے دہشت گردوں میں ۔ ویسے ہمارے نزدیک تو امریکہ بُرا دہشت گرد ہی ہے۔
دوسرا بڑا دہشت گرد امریکہ کا حواری بھارت ہے جس کی مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی جان کیری کو نظر آتی ہے نہ اُن کے یورپین حواریوں کو ۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں سشما سراج نے کہا کہ پاکستان پٹھانکوٹ حملے کی تحقیقات سے جلد آگاہ کرے ۔ ہم کہتے ہیں کہ پٹھانکوٹ حملے میں پاکستان ملوث ہے نہ بھارت کے پاس کوئی ثبوت۔
اگر اُس کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ اقوامِ عالم کے سامنے پیش کیوں نہیں کرتا ؟۔ ہمارے پاس تو بھارت کی پاکستان میں کی جانے والی تخریبی سرگرمیوں کے مکمل ثبوت موجود ہیں اور ہم یہ ڈوزیر اقوامِ عالم کے سامنے پیش کر بھی چکے لیکن بھارت کا معاملہ محض ”چور مچائے شور “کے مصداق ہے ۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ اِس بھارتی تخریب کاری کا مقصد”اکھنڈ بھارت“ کا احمقانہ خواب ہے جس میں پاکستان ، بنگلہ دیش ، سری لنکا، نیپال ، حتیٰ کہ افغانستان تک شامل ہیں ۔
ہمیں یہ بھی علم ہے کہ بھارت خطّے کے چودھری کی پَگ اپنے سَر پر سجانا چاہتا ہے اور امریکہ کی خواہش اُسے دفاعی طور پر مضبوط کرکے چین کے سامنے کھڑا کرنا ہے ۔ سبھی جانتے ہیں کہ پاک چائنہ سی پیک منصوبہ بھارت کے دِل میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے اور اِس منصوبے نے اُس کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں لیکن سی پیک منصوبہ تو بقول وزیرِاعظم میاں نواز شریف ”پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے “۔29 اگست کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سی پیک کانفرنس میں پاکستان کے تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ موجود تھے جنہوں نے بیک زبان اعلان کیا کہ وہ اِس منصوبے سے مکمل طور پر مطمئن ہیں اور اِس کی جلد از جلد تکمیل کے لیے دعاگو۔
چینی سفیر نے اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی راہداری عنقریب آپریشنل ہو جائے گی۔ اندریں حالات بڑے بڑے خواب سجانے والے بھارت کو ہم یہی پیغام دے سکتے ہیں کہ خواب دیکھنے میں ہرج ہی کیا ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

پروفیسر رفعت مظہر کے ہفتہ ستمبر کے مزید کالم