ایم کیو ایم کی پیدائش ۔قسط نمبر2

اتوار ستمبر    |    شاہد سدھو

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ذوالفقار علی بھٹو نے سندھ میں کوٹہ سسٹم اور لسانی بِل جیسے اقدامات کیوں کئے اور ایسے حالات کیوں پیدا کئے کہ مہاجروں سمیت دیگر زبانیں بولنے والے لوگ خوف و ہراس کا شِکار ہوگئے۔ دانشوروں کو اِس بات کا تجزیہ کرنا چاہئے کہ بحیثیت انسان تحریک پاکستان کے رہنماوٴں بشمول قائداعظم محمد علی جناح کے اس وقت کئے گئے چند فیصلے ہوسکتا ہے غلط ہوں۔ مثال کے طور صرف ایک ہی زبان کو قومی زبان قرار دینے پر زور دینا جِس کے نتیجے میں ان ابتدائی دنوں میں ہی جب ملک کو یکجہتی اور یکسوئی سے تعمیر و ترقی کی ضرورت تھی ملک کے مشرقی حِصّے میں مزاحمت اور نفرت نے جنم لے لِیا۔
اِسی طرح آبادی کے تمام مراکز سے دور ساحلی شہر کراچی کو ملک کا دارالحکومت بنانا بھی شاید ایسا ہی غلط فیصلہ تھا۔

(خبر جاری ہے)

مغربی پاکستان میں آبادی کے بڑے مراکز پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقے کراچی سے سینکڑوں کلومیٹر دور تھے ۔ اِسی طرح شمال مغربی علاقے بھی سینکڑوں کلومیٹر دور تھے۔ جب کے مشرقی پاکستان بھی تقریباً ڈھائی ہزار کلومیٹر کی دوری پر تھا۔ ایک اور بڑی غلطی تقریباً تمام ہی اہم قومی اداروں کے ہیڈ کوارٹرز کراچی میں بنانا تھا۔

آزادی کے وقت کراچی کی ساٹھ فیصد آبادی غیر مسلم تھی ۔ جب کہ چالیس فیصد مسلم آبادی میں لیاری کے بلوچ ، شہر کے قدیم علاقوں کے گجراتی ،میمن ، مارواڑی اور سندھی مسلمان شامل تھے۔ ہندو آبادی کی اکثریت بھارت ہجرت کر گئی۔ نئے ملک کا دارالحکومت قرار پانے کے بعد کراچی میں ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوئیں۔ یہ چھوٹی بڑی تقریباً تمام ملازمتیں مہاجروں کے حِصّے میں آئیں۔ وفاقی بیوروکریسی تقریباً تمام ہی مہاجر وں کے حِصّے میں آئی۔
اُس وقت کے سندھ کے دارالحکومت حیدرآباد سے بھی شہر کی اکثریتی ہندو آبادی بھارت ہجرت کر گئی اور شہر میں اکثریت مہاجروں کی ہوگئی، نتیجتاً زیادہ تر صوبائی ملازمتوں کے بھی مہاجرہی حقدار ٹھہرے۔ اُس وقت کے حالات میں جب مہاجرین کی آمد جاری تھی، نئے ملک میں افراتفری کا عالم تھا، ذرائع آمدورفت محدود اور ناپید تھے یہ تقریباً نا ممکن تھاکہ لوگ وفاقی حکومت کی ملازمتوں کے حصول کے لئے سینکڑوں، ہزاروں کلومیٹر دور کراچی کا رُخ کرتے، لِہٰذا اعلیٰ اور ادنیٰ سرکاری ملازمتوں کے معاملے میں مہاجروں کو واک اوور مِل گیا۔
ہر قسم کی تعلیمی استعداد اور ذہنیت کے لوگ اعلیٰ ملازمتوں پر قابض ہوتے گئے۔اِس بیورو کریسی کی کرامات میں سے ایک اہم کرامت تقریباً ہر قومی ادارے کا ہیڈ آفس کراچی میں بنانا بھی تھا۔ آزادی کے فوراً بعد مواخات کا جو ماحول تھا اس میں شروع میں تو یہ معاملہ دبا رہا مگر تھوڑے ہی عرصے بعد اس کی حِدّت سندھیوں کو محسوس ہونا شروع ہوگئی۔ مُلک کے باقی علاقوں میں تو اردو بولنے والے مہاجر بھی مقامی آبادی میں بڑی حد تک گھل مل گئے اور اردو کے ساتھ ساتھ مقامی زبانیں بھی بولنا شروع کردیں اور مقامی رسم و رواج کو بھی اپنا لِیا مگر سندھ میں ایسا نہیں ہوسکا۔
ایسا نہ ہونے کی ٹھوس وجہ تھی ۔ کراچی کبھی بھی سندھی زبان بولنے والے مسلمانوں کا اکثریتی شہر نہیں رہا۔ اِ س شہر میں جو ہندو ، سندھی زبان بولتے تھے وہ تقریباً تمام ہی بھارت ہجرت کر گئے اور ہندوستان سے آنے والے اِس شہر کی اکثریتی آبادی بن گئے۔ اب اِس شہر کی اکثریتی آبادی کِس کی زبان اور کلچر اپناتی؟ اِس آبادی کو کِسی اور زبان اور کلچر کے اپنانے کی کوئی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔ویسی بھی یہ بات منطق کے خلاف لگتی ہے کہ جب سارا کا سارا شہر ہندوستان سے ہجرت کرنے والے مہاجرین سے بھرا ہُوا ہو اور وہ اپنی زبان چھوڑ آپس میں ایک اجنبی زبان بولنا شروع کردیں۔
یہاں تک تو ایک بات تھی ۔ تماشہ یہ ہُوا کہ تمام تر ملازمتوں پر قابض ہوتے، کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھاتے مہاجروں کو جیسے ہی آسودگی مِلنا شروع ہوئی، انہیں مقامی آبادی بد تہذیب ، گنوار، پینڈو نظر آنے لگی۔ مشکوک قابلیتوں کے حامل چھوٹے بڑے بیوروکریٹ مقامی آبادی کو براوٴن صاحبان کی نظروں سے دیکھنے لگے۔ ابے تبے کرتا ہر شخص مقامی لوگوں کو تہذیب سکھانے کے دعوے کرتا نظر آتا۔ آج بھی آپ کراچی کے کِسی مہاجر نوجوان سے بات کرکے دیکھ لیں وہ آپ کو بتائے گا کہ سندھیوں کو پینٹ پہننا مہاجروں نے سِکھایا۔
اِ س بات کو جانے دیجئے کہ ہندوستان کے علاقے یوپی میں جہاں سے مہاجروں کی اکثریت نے پاکستان کا رُخ کیا تھا، آج بھی مسلمان پسماندہ ترین حیثیت میں رہ رہے ہیں اور ان کی اکثریت شہروں میں پاجامے اور دیہاتوں میں دھوتی پہنتی ہے۔شاید یہی وہ وجوہات تھیں جِن کی بناء پر ذوالفقار علی بھٹو جیسے لیڈر، سندھی قوم پرست بن گئے اور اقتدار میں آتے ہی مہاجر افسر شاہی پر کاری وار کرنے کے ساتھ ساتھ کوٹہ سسٹم جیسے گھاوٴ بھی لگا دیئے۔
لیکن اِ ن سب وجوہات سے بھی بڑی وجہ یہ تھی کہ پاکستانیوں نے انسانیت اور اسلام کا مساوات اور انصاف کا سبق بھلادِیا تھا۔قابلِ غور بات یہ ہے کہ بھٹو کے ساڑھے پانچ سالہ دور میں خالص سرکاری ملازمتوں میں تو سندھیوں کا حِصّہ بڑھا مگر کارپوریشنوں ، بینکوں، مالیاتی اداروں ، انشورنس سیکٹر، جہاز رانی، پی آئی اے وغیرہ میں مہاجروں کی حکمرانی قائم رہی، کراچی کے پروفیشنل تعلیمی اداروں بشمول انجینئرنگ، میڈیکل کالجوں میں بھی مہاجر طلباء کی بدستوراکثریت رہی۔
بہترین فضائی رابطوں کی بدولت کراچی کے لوگوں کو بیرون ملک ملازمتوں کے بھی زیادہ مواقع میسر رہے۔ اِس کے باوجود مبینہ طور پر مہاجروں میں احساس محرومی نہ صرف جنم لیتا رہا بلکہ مضبوط بھی ہوتا رہا۔
بلآخر الطاف حسین نے اِس مبینہ احساس محرومی کو ایم کیو ایم کے نام سے مارکیٹ میں پیش کر دِیا۔ اُن دنوں مہاجروں کی اکثریت، جماعت اسلامی اور مولانا نورانی کی جمعیت علماء پاکستان کی حامی ہوا کرتی تھی۔
اسکے علاوہ معراج محمد خان کی قومی محاذِ آزادی ، فتحیاب علی خان کی مزدور کسان پارٹی ، خواجہ خیر الدین اور شیخ لیاقت حسین کی مسلم لیگوں کو بھی مہاجروں کی حمایت حاصل تھی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ باوجود پیپلز پارٹی کے معاندانہ اقدامات اور کراچی کے مہاجر اکثریتی پریس کے پیپلز پارٹی کے خلاف ہونے کے، مہاجروں کی قابل ذکر تعداد پیپلز پارٹی کی بھی حامی تھی۔ اُن دنوں کراچی اور حیدر آباد کے سیاسی افق پر زیادہ تر متوسط طبقے کے پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے سیاستدان نمایاں تھے جن میں مولانا نورانی، پروفیسر غفوراحمد، صدیق راٹھور، سید منور حسن، شاہ فرید الحق، عبدالستا ر افغانی، معراج محمد خان، فتحیاب علی خان، نواب راشد علی خان، مولانا وصی مظہر ندوی، پروفیسر این ڈی خان، کمال اظفر، امیر حیدر کاظمی شامل ہیں۔
سیاسی جماعتوں کے عام کارکنان بھی غریب اور متوسط طبقے کے شریف النفس لوگ ہوتے تھے۔ایم کیو ایم کا ظہور چونکہ مہاجر طلباء تنظیم اے پی ایم ایس او کے بطن سے ہوا تھا اسلئے اس جماعت میں ابتداء میں مہاجر طلباء کی تو بڑی تعداد شامل ہوئی، لیکن مہاجروں کے پڑھے لکھے طبقے نے ایم کیو ایم کے قیام کو سنجیدگی سے نہیں لِیا۔ اِس طبقے کو ایم کیو ایم کی فکری اٹھان میں موجود کنفیوژن نے شش و پنج میں ڈالا ہوا تھا۔
مہاجروں کے حقوق کے نام پر قائم کی گئی جماعت فوراً ہی سندھو دیش تحریک کے حامیوں کی ہم نوا بن گئی اور مہاجر سندھی بھائی بھائی ، نسوار دھوتی کہاں سے آئی اور کھینچ کے رکھو تان کے رکھو، پینڈو بستر باندھ کے رکھو کی صدائیں بلند کرتے اجرکوں کے تبادلے شروع کر دیئے۔ پڑھا لکھا مہاجر طبقہ حیران تھا کہ نفرت کی بنیاد پر قائم کی گئی اس جماعت کی پالیسیاں دراصل کیا ہیں۔ نہ تو کوٹہ سسٹم پنجابیوں اور پختونوں کے لئے نافذ ہُوا تھا، نہ ہی پنجابی اور پختون، بہاریوں کی پاکستان آمد کے خلاف تھے اور نہ ہی پنجابیوں اور پختونوں نے حیدرآباد شہر میں یونیورسٹی کے قیام کو روکا تھا۔
اس کے برعکس حیدرآباد اور سکھر کے مہاجر جو چند برس پہلے مہاجر پنجابی پختون اتحاد بنا چُکے تھے، حیران تھے کہ اگر سندھ کے مہاجروں کے مفادات کا کہیں ٹکراوٴ ہے بھی تو یہ پنجابیوں اور پختونوں سے کس طرح ہے۔ ہاوٴ ہو ہلا گلا دوڑو بھاگو کرتی ایم کیو ایم کی طرف سب سے پہلے مائل ہونے والے یا مائل کئے جانے والے، اولین گروپوں میں گلی محلوں کے تھڑوں پر بیٹھے ڈبو اور تاش کھیلتے یا وڈیو کیسٹوں کی دوکانوں پر بیٹھے ابتدائی کلاسوں میں اسکول چھوڑ کر بھاگے ہوئے نوجوان تھے ، ان میں زیادہ تر اٹھائی گیرے اور چھوٹی موٹی وارداتیں کرنے والے تھے۔
محلوں کے شرفاء عام طور پر ایسے نوجوانوں کے مُنہ لگنے سے گریز کرتے تھے۔ ان اٹھائی گیرے نوجوانوں کے ہاتھوں میں دیکھتے ہی دیکھتے گراری والے چاقووٴں کی جگہ ماوٴزر اور کلاشنکوفیں آگئیں اور ڈبو کے اڈوں کے بجائے یونٹ اور سیکٹر آفسوں کی محفوظ پناہ گاہیں میسر آگئیں۔صورتحال وہی ہوگئی جیسے چند بدمعاشوں سے سارا شہر ڈرتا ہے، یہاں تو محلے محلے کے بدمعاش جمع ہو کر ایک بڑی طاقت میں تبدیل ہوگئے تھے۔
مہاجر قوم پرستی کے بلند آہنگ نعروں اور بندوق کی طاقت نے تحریک کو دو آتشہ کر دیا۔ محلوں کے چھوٹے موٹے تنازعات کے فیصلے گٹکے اور مین پوری کھاتے ہوئے یونٹ انچارج کرنے لگے۔ یونٹ، سیکٹر اور زونل آفس متوازی حکومت میں تبدیل ہوگئے۔مافیا طرز پر منظم کی گئی جماعت میں اختلاف رائے کی کڑی سزا مقرر ہوئی، اختلاف کرنے والے قائد کے غدار اور موت کے حقدار قرار دیئے گئے۔ دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے لئے اپنا وجود قائم رکھنا ناممکن ہوتا گیا۔
پولنگ اسٹیشنوں پر مکمل قبضے ، دیگر جماعتوں کے پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ اسٹیشنوں میں قدم بھی نہ رکھنے دینا، خفیہ رائے دہی کو ناممکن بنا نا اورکارکنوں کے ذریعے ٹھپے لگا لگا کر بیلٹ بکس بھرنا الیکشن جیتنے کا طریقہ قرار پایا۔ اس بات کا ثبوت مئی ۲۰۱۳ کے الیکشن میں ایک بار پھر زیادہ واضح ہوکر سامنے آیا جب ملک بھر میں ووٹ ڈالنے کے لئے لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں لگیں تھیں اور لوگ دن بھر بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں میں ووٹ ڈالنے آرہے تھے، کراچی کے پولنگ اسٹیشنوں میں کئی گھنٹوں تک پولنگ ہی شروع نہ ہوسکی کیونکہ ایم کیو ایم کی منظم مافیا نے زیادہ تر علاقوں میں پولنگ عملے کو ہی نہ پہنچنے دِیا اور یر غمالی بنائے رکھا، دن بھر کراچی کے چند ایک کو چھوڑ کر تقریباً تمام علاقوں میں ہُو کا عالم طاری رہا، کہیں ووٹ ڈالنے کے لئے لوگوں کی قطاریں نظر نہ آئیں ۔
حیدر آباد تو تقریباً سنسان رہا۔ اتنی بڑی میڈیا موجودگی کے باوجود کہیں ووٹنگ کی گہما گہمی نظر نہ آئی۔ مگر اس کے باوجود بیلٹ بکسوں سے ہر حلقے سے ایم کیو ایم کے لاکھوں ووٹ نکل آئے۔ دھونس، دھمکی، طاقت کا یہی نسخہ ہے جو اکثر الیکشنز میں ایم کیوایم کامیابی سے آزماتی رہی۔ عام سیاسی جماعتوں کے برعکس ایم کیو ایم لسانی بنیادوں پر قائم ہوئی اور ابتداء سے ہی دیگر زبانیں بولنے والوں کے خلاف نفرتوں کو بڑھا وا دینا اس کی حکمت عملی کا بنیادی نقطہ رہا۔
مافیا طرز کی تنظیموں کی اگلی منزل مسلح جدوجہد ہُوا کرتی ہے۔ اِس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے الطاف حسین نے مہاجروں کو ٹی وی اور وی سی آر بیچ کر اسلحہ خریدنے کا مشورہ دِیا۔ اِس بات کا کوئی ثبوت یا اطلاع موجود نہیں ہے کہ کِسی مہاجر نے قائد کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے ٹی وی یا وی سی آر بیچا ہو ، اس کے باوجود کراچی اور حیدر آباد میں اسلحہ کی اتنی فراوانی ہوگئی جیسے جمعے کی نماز کے بعد مفت تقسیم کیا گیا ہو۔
شاید یہی بھارتی مداخلت کا آغاز تھا۔ سندھو دیش کی ناکام تحریک سے مایوس بھارت کو امید کی نئی کرن ایم کیو ایم میں نظر آئی ۔ راء کی ایم کیو ایم کو سپورٹ اب ایک کھلی حقیقت کے طور پر سامنے آچکی ہے۔ مسلح طاقت منظم ہوتے ہی چندہ مہمات جبری بھتہ ٹیکس میں تبدیل ہوگئیں ، زکوٰت، فطرہ اور قربانی کی کھالیں بھی ایم کیو ایم کے آہنی شکنجے سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ فاشسٹ نظریات رکھنے والی اِس تنظیم نے ابتداء میں سندھیوں کو بھائی بنایا اور پختونوں اور پنجابیوں کے خلاف مہم چلائی جِسکا مقصد ان کو کراچی اور سندھ سے نکالنا قرار دِیا گیا ۔
پنجابی اور پختون یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ جو لوگ خود ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آکر کراچی میں آباد ہوئے ہیں وہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے آکر کراچی میں آباد ہونے والوں کوکیوں نکالنا چاہتے ہیں، جبکہ پنجابیوں اور پختونوں کی اکثریت جس نوعیت کے سخت جسمانی محنت والے گرے اور بلو کالر شعبوں سے منسلک تھی وہاں ان کی مہاجروں سے کوئی خاص معاشی مسابقت بھی نہ تھی۔پنجابیوں اور پختونوں سے الجھنے کے بعد سندھیوں اور بلوچوں کو بھی نشانے پر رکھ لِیا گیا۔
عام سندھیوں کے ساتھ ساتھ سندھی افسروں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔تاہم یہ سب کچھ کافی نہ تھا، ایم کیو ایم کو ایک مستقل دشمن تراشنے کی ضرورت تھی تاکہ ہمہ وقت اپنی منفی سیاست چمکانے کا موقع میسر رہے، بھلا پنجاب اور اسٹیبلشمنٹ دشمنی سے اچھا چورن کون سا ہوسکتا تھا۔ لِہٰذا پنجاب اور اسٹیبلشمنٹ دشمنی ایم کیو ایم کی ہمہ وقتی ہٹ لسٹ میں شامل ہوگئی۔ (جاری ہے)۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

متحدہ قومی موومنٹ

شاہد سدھو کے ہفتہ ستمبر کے مزید کالم



متعلقہ کالم