پنجابی زبان کا مقدمہ

اتوار ستمبر    |    شبیر چوہدری

پنجابی دنیا کی 10 ویں بڑی زبان ہے ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 13 کروڑ لوگ پنجابی بولتے ہیں جن میں سے 10 کروڑ لوگ پاکستان میں رہتے ہیں.بدقسمتی سے پنجابی زبان کی بے حرمتی سب سے زیادہ پنجابیوں کے ہاتھوں ہی ہو رہی ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں خاص طور پر ممی ڈیڈی طبقے کو پنجابی بولتے ہوئے شرم آتی ہے اس حوالے سے دو تین طرح کے طبقات پائے جاتے ہیں.ایک طبقہ وہ ہے جو ہے تو پنجابی ہی لیکن کیونکہ وہ برگر فیملی سے تعلق رکھتا ہے اس لئے وہ گھر میں آفس میں بازار میں ہر جگہ اردو یا پھر جہاں تک ہو سکے انگلش بولنے کو ترجیح دیتا ہے دوسرا طبقہ وہ ہیجوکہ گھر میں تو بچوں کے ساتھ پنجابی میں بات کر لیتا ہے لیکن جوں ہی گھر کی دہلیز پار کرتا ہے ان کا احساس کم تری جاگ جاتا ہے اور وہ فوری طور پر، اردو بولنا شروع کر دیتے ہیں۔

(خبر جاری ہے)

ایک وکیل صاحب ہمارے دوست ہیں میں نے انہیں اپنی بیگم سے اردو میں باتیں کرتے سنا تو میں نے پوچھا کیا آپکی بیوی اردو سپیکنگ ہے تو انہوں نیجواب دیا نہیں جی ہے تو وہ بھی پنجابی لیکن ہم نے تو شروع دن سے ہی فیصلہ کر لیا تھاکہ آپس میں اردو میں بات چیت کرنی ہے تاکہ ہمارے بچے بھی اردو ہی بولیں میں نیبہت سمجھایا کہ بچوں کو ان کی مادری زبان سے محروم کرنا اس زبان اور بچوں سے زیادتی ہے اگر ہر بندے نے یہی سوچ کر اپنی زبان سے منہ موڑ لیا تو آنے والی نسلیں تو پنجابی کے لفظ سے بھی نا آشنا ہوں جائیں گی(اس طرح کے حالات میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں ہمارے گاوں میں پٹھان برادری کے کچھ لوگ رہتے ہیں لیکن وہ صرف نام کے پٹھان ہیں ان کے بچے تو کیا بڑے بھی پشتو کی الف ب سے واقف نہیں ہیں جو لوگ ان کو نہیں جانتے وہ انہیں پنجابی ہی سمجھتے ہیں۔
) لیکن میری ان باتوں کا وکیل صاحب پر کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ اپنے فیصلے سے ٹس سے مس نہیں ہوئے. کیا کریں جی ولایتی بننے کے چکر میں آجکل کے ہر دیسی کڑی منڈے کی یہی کہانی ہے. سمجھ نہیں آتی کہ ہم جبلی اور نسلی طور پر تو پنجابی ہیں لیکن ہمیں فیشن نے اندھا کر رکھا ہے یا ہمارے اندر اس قدر احساس کمتری جمع ہو چکا ہے کہ ہم بڑی تیزی کے ساتھ اپنی مادری زبان بولنا چھوڑتے جا رہے ہیں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے اعداد وشمار کے مطابق اس وقت دنیا میں تقریباً سات ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے 50سے90فیصد زبانیں سن 2100 تک متروک(ختم) ہو جائیں گی اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہو گی بچوں کو ان کی مادری زبان سے نا آشنا رکھنا. اردو ہماری قومی زبان ہے ہمیں اس سے بھی پیار ہے لیکن یاد رہے کہ اردو مختلف قوموں(پنجابی سندھی کشمیری وغیرہ) کے درمیان مکالمے کا ذریعہ ہے اردو ضرور بولئے لیکن پنجابی دشمنی نہ کیجئے.بچوں کو اررو بھی سکھائیں اس کے ساتھ ساتھ بچے بڑی آسانی سے سکولوں میں بھی اردو بولنا سیکھ جاتے ہیں۔

.پڑوسی ملک بھارت کے صوبہ پنجاب اور ہریانہ میں پنجابی کو سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے جہاں تک سوال ہے ہمارے حکمران طبقے,افسر شاہی اور کرپٹ لیڈروں کا تو پنجابی زبان تو رہی ایک طرف وہ تو اردو کو بھی صرف اس لئے سرکاری زبان کے طور پر رائج نہیں ہونے کی دیرہے کیونکہ انہیں خدشہ ھے کہ اِس سے ان کے بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا.کچھ دن قبل موم بتی گروپ کی جانب سے لاہور میں پنجابی زبان کے فروغ کے لئے مظاہرہ کیا گیا جس میں.مضحکہ خیز پہلو یہ تھا کہ مضاہرین نے جو کتبے اور بینر وغیرہ اٹھا رکھے تھے ا ن پر انگریزی میں مطالبات لکھے ہوئے تھے.یونیسکو کے مطابق صرف وہی زبان مِحفوظ تصور کی جائے گی جو بچے بولتے ہیں کیا آپ کے بچے اپنی مادری زبان بولتے ہیں؟ اگر جواب نہیں میں ہے تو پھر انتظار کریں حضرت وارث شاہ, بلھے شاہ ‘ سلطان باہو, بابا فرید اور میاں محمد بخش کی پنجابی کو ناپید ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکے گی اور آپ اس جرم عظیم میں برابر کے شریک ہوں گے۔
.
آویکھ سخن دیا وارثا تیرے جنڈیالے دی خیر
اج پتر ماں بولی دے پئے رکھن ما نال ویر
اج ہیر تیری پئی سھکدی اج کیدو چڑیا رنگ
اج تخت ہزارے ٹیہ گئے اج اجڑیا تیرا چنگ
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

شبیر چوہدری کے اتوار ستمبر کے مزید کالم