ساڈی پُولس تے سردار جی !

بدھ ستمبر    |    ارشاد بھٹی

خوب بے عزتی کرنے کے بعد انسپکٹر نے حوالدار سے کہا ” عجیب انسان ہو تمہارے سامنے سے ملزم بھاگ گیا اور تم کھڑے منہ تکتے رہے “ حوالدار غمگین لہجے میں بولا ” سرمیں کیا کرتا میرے ایک ہاتھ میں پستول اور دوسرے میں ہتھکڑی تھی ، میراایک ہاتھ بھی فارغ ہوتا تو پھر میں دیکھتا کہ وہ کیسے جاتا“۔ ایک تھانیدار نے پولیس مقابلے کے بعد نامی گرامی ڈاکو کا ہاتھ کاٹ کر افسر کے سامنے پیش کیا تو افسر نے شاباش دیتے ہوئے ایسے ہی پوچھ لیا ” تم نے ڈاکو کی گردن کیوں نہیں کاٹی “ تھانیدار بولا ” سر وہ تو میرے پہنچنے سے پہلے ہی کوئی کاٹ کر لے گیا تھا “ ۔
ایک سپاہی نے دوسرے سپاہی کے کان میں سرگوشی کی ” میں یہاں خفیہ مشن پر آیا ہوں “ جب پوچھا گیا کہ کس مشن پر تو جواب ملا ” مشن اتنا خفیہ ہے کہ ابھی تک ایس پی صاحب نے مجھے بھی نہیں بتایا “۔

(خبر جاری ہے)

ایک پولیس اہلکار شربت کا گلاس رکھ کر بیٹھا تھا کہ اسکا دوست آیا اور آتے ہی بنا پوچھے شربت پی گیا ،یہ دیکھ کر پولیس اہلکار بولا ” تمہارا کوئی قصور نہیں ،آج میرادن ہی خراب چل رہا ہے، پہلے صبح مجھے معطل کر دیا گیا ، پھر میری موٹر سائیکل چوری ہوگئی،ویگن میں بیٹھا تو کسی نے جیب کاٹ لی ،دو گھنٹے پہلے بیوی سے لڑائی ہوئی تو وہ بچوں کو لیکر میکے چلی گی اور اب شربت میں زہر ملا کر خودکشی کرنے والا تھا کہ شربت تم پی گئے مگر تمہارا کیا قصور، آج میرا دن ہی خراب چل رہا ہے “۔


گذشتہ سال برطانیہ میں ہوئے ایک سروے سے پتا چلا کہ دنیا کی سب سے اچھی پولیس آئس لینڈ کی جو 1778میں وجود میں آئی اوریہ پولیس ہوکر بھی ایسی معصوم کہ بندوق تک نہ چلا سکے لہذا مشکل وقت میں اس کا سب سے بڑا ہتھیار ڈنڈا اور سرخ مرچیں ،دوسرے نمبر پر آئرلینڈ کی پولیس ، آسٹریا کی تیسرے ،نیوزی لینڈ کی چوتھے اور چین کی پولیس پانچویں نمبر پر ،اسی سروے نے بتایا کہ 16لاکھ فورس کے ساتھ چین کی پولیس سب سے بڑی ،15لاکھ 85ہزار ملازمین پر مشتمل بھارت کی پولیس کا نمبر دوسرا جبکہ 8لاکھ پولیس کے ساتھ امریکہ تیسرے نمبر پر اور اس فہرست میں پاکستان کا دسواں نمبراور اسی سروے کے مطابق دنیا کی کرپٹ ترین پولیس ہیٹی کی ، میکسیکو کی دوسری اورکینیا کی پولیس کی تیسری پوزیشن اور گو کہ کرپشن میں پاکستانی پولیس دسویں نمبر پر مگر یہ آگے ایسے بڑھتی ہوئی کہ اب تو یوں لگے کہ ”ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں“ ، ویسے اپنی پولیس کے کیا کہنے ،باہر کی پولیس تو وہ چیزیں ڈھونڈے جو کھوئی ہوتی ہیں لیکن ہماری پولیس تو وہ چیزیں بھی ڈھونڈ لے جو ابھی کھونا ہوتی ہیں، اپنی پولیس کبھی شک کی بنا پر پکڑا کرتی تھی مگر اب تو بنا شک کے بھی دھرلے ،پہلے یہ بالغوں پر ہاتھ ڈالا کرتی تھی لیکن اب تو بچے بھی اس سے محفوظ نہیں اور پھر اس کی تفتیش ایسی کہ اگر اسے چند گھنٹے مل جائیں تو اوبامہ بھی کہہ اٹھے کہ” میرا نام اسامہ اور نائن الیون کا ماسٹر مائنڈ میں ہی “ ۔
کہا جاتا ہے کہ ایک بار ہٹلر کی گھڑی گم ہونے پر جب تفتیش شروع ہوئی تو شام تک 20افراد یہ اقرار کر چکے تھے کہ گھڑی اُنہوں نے چرائی ،یقین جانیئے اگریہ تفتیش اپنی پولیس کومل جاتی تو شام سے پہلے ہٹلر خود کہہ رہا ہوتا کہ ” حضور معاف کر دیں ، میں نے اپنی گھڑی خود ہی چرالی تھی “ ۔
ہمارا ایک پولیس افسر دوست جو بڑا ہی مادہ پرست یہاں مادہ سے مراد وہی ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں ، جس کی نظر سکول کے زمانے سے ہی خراب لہذا جس کو بھی دیکھے خراب نظر سے ہی دیکھے ،جسے کالج دور میں جب پروفیسر صاحب نے پوچھا کہ ”اگر تمہیں کہیں تنہا لڑکی مل جائے تو کیا کرو گے “ تو یہ بولا ” سر لڑکی کی تصویر دکھائیں “ ، جسکی طبیعت ایسی کہ اگر یہ ٹیپو سلطان ہوتاتو ”گید ڑکی 100سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر کہہ کرپھر 100سال زندہ رہتا اور اگر یہ سلطان محمود غزنوی ہوتا تو سترہواں حملہ پہلے کرتا جبکہ باقی 16حملے بعد میں ، جو بولتے وقت کان ،لفظ اور غصہ بہت کھائے ، جسکی باتوں میں اتنا وزن کہ چند منٹوں میں ہی بندے کو اپنا سر بھاری لگنے لگے ، جو دو منٹ میں بندے کو قائل کرلے جیسے اگر وہ آپ کو وقت ضائع ہونے پر لیکچر دے رہا ہو تو 2منٹ میں ہی آپ قائل ہوجائیں گے کہ آپ کا وقت ضائع ہو رہا ہے،جسے پرندے بہت اچھے لگتے ہیں بشرطیکہ وہ بھُنے ہوئے ہوں ،جسے اسکے مرشد نے جب کہا کہ وزن کم کرو زندگی سکھی ہو جائے گی تو اس نے اگلے ہی دن بیوی کو طلاق دیدی،جوشکی ایسا کہ اکثر کہے ” جوتم دیکھتے ہو اس پر بھی فوراً یقین نہ کر لیا کرو کیونکہ نمک چکھنے سے پہلے چینی کی طرح ہی دکھائی دیتا ہے“، اور جو جب لاہور کا ٹریفک انچارج تھا تو کہا کرتا ” لوگوں کی ڈرائیونگ دیکھ کر ایسے لگتا ہے کہ سٹرک تو انکی اپنی ہے مگر گاڑی اپنی نہیں “ ، ہمارے اسی پولیس افسر دوست کا کہنا ہے کہ ”اپنے ہاں وہ کام برا جودوسرا کرے اور وہ کام بڑا جو بندہ خود کرے “، اسی کا ماننا ہے کہ پاکستان میں ایماندار دو قسم کے ایک وہ جنہیں کچھ کرنے کا موقع نہیں ملا اور دوسرے وہ جو بے وقوف ہیں ، یہی سب کو مشورہ دے کہ” ملزم ہو یا مجرم اسکا دل مت توڑنا کیونکہ بند ے کے پاس دل ایک ہی، ہاں البتہ ہڈیاں چاہے جتنی توڑدوکیونکہ کسی جسم میں کم سے کم ہڈیاں بھی 206 اور ہمارا یہی دوست اپنی 25سالہ سروس کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ” پولیس سے کرپشن کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے کہ حکومت کسی اچھے مترجم سے لفظ ”کرپشن “ کا ارد و میں ترجمہ کر وادے “۔

ابھی پچھلے ماہ ہوئے اک سروے کے مطابق 97فیصد پاکستانیوں نے اپنی پولیس کوبُرا بھلا کہا ،یہاں پولیس کا امیج ایسا کہ پولیس والامر تا مر جائے تو بھی کسی منہ سے خیر کا ایک لفظ تک نہ نکلے حالانکہ سوچنے کی بات تو یہ کہ وی آئی پیز کی ذاتی ملازم بن چکی پولیس کو ہم نے دیا کیا ، وہ جن گھروں کی ڈیوٹیاں کر یں ان گھروں کے ایک دن کا ناشتہ انکی پورے مہینے کی تنخواہ سے زیادہ ، انکی گاڑیاں وہ جو دھکا سٹارٹ ، اسلحہ وہ جو فلموں میں بھی نہ چلے ، زیادہ تر تھانوں کی حالت ابھی بھی ایسی کہ بھوتوں کی ماڈرن نسل تک ان ویران وبیابان جگہوں پر رہنا پسند نہ کرے اور اوپر سے مسلسل سیاسی اور غیر سیاسی مداخلت نے محکمے کا وہ حال کر دیا جو حال کل تک تحریک ِ انصاف کا تھا یا جو حال آج پیپلز پارٹی کا ہے ،اور پھر اپنی پولیس اُس ملک میں کام کررہی کہ جہاں کا میڈیا اپنے بچپن میں بھی ایسا دوراندیش تھا کہ بہت پہلے ایک اخبار نے اداکار مظہر شاہ کی وفات کی خبر چھاپ دی،اگلے دن پتا چلا کہ وہ بیمار ضرور مگر ابھی زندہ ہیں، خیر چند ہفتوں بعد جب واقعی ان کا انتقال ہو گیا تو اسی اخبار نے یہ خبر چھاپی کہ ” دوسرے اخبارات تو مظہر شاہ کی موت کی خبر آج شائع کر رہے ہیں ہمیں تو یہ اعزاز حاصل کہ ہم نے 22روز قبل ہی یہ خبر شائع کر دی تھی“،اورتو اور لیڈ ی ڈیانا کو بھی پہلی بار ہمارے ہی ایک اخبار نے یہ اطلاع دی تھی کہ ”بی بی آپ امید سے ہیں“، اورپھر یہ وہ ملک کہ جہاں ہرشخص کی جیب میں سفارش، جہاں بجلی کا بل جمع کروانے والا بھی شارٹ کٹ ڈھونڈے اورجہا ں 95فیصد لوگوں کی ذہنی حالت ایسی کہ ایک مریض کی تازہ رپورٹ دیکھ کر ڈاکٹر نے جب کہا کہ” اللہ کا اپنا نظام ہے مگر لگتا یہی ہے کہ اب آپ کے پاس تھوڑا ہی وقت رہ گیا ہے “ تو پانچ ہزار کا نوٹ ڈاکٹر کی جیب میں ڈال کر یہ مریض بولا ”ڈاکٹر صاحب یہ تھوڑا وقت کم ازکم 5سال ضرور ہونا چاہیے “ ۔
اب ان حالات میں اگر باہر کی پولیس کو یہاں کام کرنا پڑتا تو اسکا بھی ق لیگ کی طرح کام تمام ہو چکا ہوتا ، یہ تو ہماری پولیس ہی کہ جو نہ صرف ان حالات میں بھی ہر وقت کام کرتی اور ہرگھڑی کام ڈالتی ہوئی بلکہ اوپرسے اسکی دن بدن بہتر ہوتی کارکردگی بھی ایسی کہ بے اختیار وہ سردار جی یاد آجائیں کہ جنہوں نے جب اپنے بیٹے سے پوچھا کہ ”9کو 8سے ضرب دی جائے تو کیا جواب آئے گا“ ،لڑکا بولا76تو سردار نے خوش ہو کر پہلے بیٹے کی کمر تھپکائی اور پھر انعام کے طورپر اسے چاکلیٹ دیدی ،مگر پاس کھڑے سردار جی کے دوست نے یہ سب دیکھ کر حیران وپریشان ہو کر کہا” 9کو 8سے ضرب دی جائے تو جواب 72 آتا ہے اور تم غلط جواب دینے پر بیٹے کو شاباشیاں دے رہے ہو “، سردار جی بڑے اطمینان سے بولے ” میرا بیٹا دن بدن بہتر ہو رہا ہے ،ابھی کل ہی اس نے 9کو 8سے ضرب دے کر جواب 80 بتایا تھا “۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ارشاد بھٹی کے منگل ستمبر کے مزید کالم