سید علی گیلانی کا بند دروازہ!

جمعہ ستمبر    |    صریر خالد

اب جبکہ بھارتی سیاستدانوں کا کُل جماعتی وفد خاک و خون میں لتھڑی ہوئی وادیٴ کشمیر کے سیر سپاٹے سے بے مراد لوٹ چکا ہے بھارتی میڈیا اور خود کشمیرمیں ”دانشور“ کہلائے جانے کے لئے مرے جارہے کچھ عناصر کشمیری قیادت میں ”انسانیت“کا فقدان بتاکر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ جیسے کشمیریوں نے مسئلہ کشمیر کے ”حل“کا سب سے بڑا موقع گنوادیا ہو۔اس حقیقت سے آنکھیں چرا کر ،کہ بھارتی وفد نے در اصل کشمیری قیادت تک پہنچنے کی کوشش بھی نہیں کی،دلی میں شاہ سے زیادہ وفاداری دکھانے والے اور کشمیر میں کچھ مفاد پرست عناصر کسی نہ کسی طرح کشمیری عوام سے یہ منوانے کے جتن کر رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر حل ہو ہی گیا ہوتا کہ اگر مزاحمتی قیادت نے بھارتی سیاستدانوں کی راہوں میں آنکھیں بچھائی ہوتیں۔

(خبر جاری ہے)

حالانکہ محصور مزاحمتی قائدین کے پاس بھارتی سیاستدانوں سے ملنے کا موقعہ تھا اور نہ ہی گنجائش بلکہ اگر انہوں نے اُنہیں خوش آمدید کہنے کی ”انسانیت“دکھائی ہوتی تو عجب نہیں کہ وہی لوگ جو ابھی ناقد بنے ہوئے ہیں کسی اور بہانے سے قائدین کی تنقید جاری رکھے ہوئے ہوتے۔
9/جولائی کو حزب المجاہدین کے نامور کمانڈر بُرہان وانی کے دو ساتھیوں سمیت مارے جانے کے ساتھ ہی کشمیر میں اٹھی احتجاجی اور مطالباتی لہر کے اب دو ماہ پورے ہوچکے ہیں اور نئی دلی کے ماتحت ریاستی سرکار کی جانب سے نافذ کردہ کرفیو اور بندشیں بھی اتنی ہی پُرانی ہوچکی ہیں۔
اس دوران میں کشمیریوں پر کیا بیتی ہے اور ابھی بھی وہ کن مصائب کا شکار بنے ہوئے ہیں ،سب عیاں ہے۔چناچہ قریب اسی بے گناہ سرکاری فورسز کی گولیوں اور ”غیر مہلک“چھرے دار بندوق سے چھلنی کردئے گئے ہیں جبکہ کم از کم دس ہزار افراد زخمی ہوگئے ہیں جن میں سے نہ جانے کتنے بد نصیب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آنکھوں کی روشنی کھو چکے ہیں۔جیسا کہ روز ہی اخباروں میں اور بعض ٹیلی ویژن چینلوں پر رپورٹ ہوتا آرہا ہے کہ سرکاری فورسز نے گھروں میں گھس کر املاک کو تباہ کردینے کو غیر اعلانیہ مگر ایک پالیسی کی طرح اپنایا ہوا ہے اور ابھی تک اس طرح کی کارروائیوں میں سینکڑوں گھروں کو تباہ کردیا جاچکا ہے۔

گوکہ کُتے بلیوں کے رومانس کی بے پر کی ”خبروں “پر گھنٹوں صرف کرتے رہنے اور ساس بہو کی نوک جھوک کی کہانیوں پر پرائم ٹائم میں بحث و مباحثے کرانے والی بھارتی ٹیلی ویژن چینلوں نے کشمیر میں جاری کشت و خون کے تئیں آنکھیں موندھ لی ہیں لیکن اسکے باوجود بھی دلی دربار کشمیر کے حالات سے بے خبر نہیں ہے البتہ اسے اپنے ”اٹوٹ انگ“کے شدید درد کی ٹیس تک احساس ہونے میں ڈیڑھ ماہ کا وقت لگا۔
حزب اختلاف کی جماعتوں کے بار بار اسرار کئے جانے،تاکہ انہیں سیاست کرنے کا موقعہ ملے اور وہ قومی مفاد کے لئے خود کو ایک دوسرے سے زیادہ متفکر ثابت کریں ،پر پر پارلیمنٹ میں بحث کی گئی تو کشمیریوں کے زخموں پر پھاہا رکھنے کی بجائے ”ہم سب ایک ہیں“کے نعرے لگاکر گویا اس طوفان بدتمیزی کی حمایت کی گئی کہ جو وادی میں سرکاری فورسز نے مچارکھا ہے۔جہاں فرقہ پرست جماعتوں نے کشمیر کی عوامی تحریک کو پاکستان کی سازش کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کشمیر کی گلیوں میں اپنے سیاسی حقوق کی بازیابی کے لئے قربان ہونے والوں کی تذلیل کی وہیں بقیہ جماعتوں نے پوری بحث کو چھرے دار بندوق کے ارد گرد گھما کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے پورا معاملہ ان بندوقوں کا متبادل تلاش کرنے کا ہو۔
یعنی اس حوالے سے یوں بحث کی گئی کہ جیسے کشمیری عوام محض اسلئے مر رہے ہوں کہ وہ پیلٹ گن کی جگہ کسی اور بندوق سے مرنے کے خواہش مند ہوں۔بڑی لعت و لعل کے بعد مودی سرکار کُل جماعتی وفد کو کشمیر روانہ کرنے پر آمادہ ہوئی اور ایسا لگا کہ شائد با الآخر بھارت کا دل پسیج گیا ہے اور اب اس سے کشمیریوں کی حالتِ زار دیکھی نہیں جاتی ہے اور اسی لئے ملک کے ”دانشمندوں“اور قانون سازوں کو یہاں بھیج کر مسئلے کا حل تلاشنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔

وزیرِ داخلہ کی قیادت والے وفد کی وادی آمد سے دو ایک دن قبل سے ہی بھارتی ٹیلی ویژن چینلوں نے کچھ اس طرح کی خبریں چلانا شروع کیں”وادی میں پیلٹ گن کی جگہ مرچوں والے پاوا شیل کئے جائیں گے استعمال،وزیر داخلہ کے وادی دورہ سے پہلے کیندر کا بڑا قدم“۔یعنی جیسے یہ کوئی تکلیف دہ ہتھیار نہیں بلکہ الہٰ دین کا وہ چراغ ہو کہ جسے رگڑتے ہی کشمیریوں کے دکھ درد دور ہوجاتے۔اس طرح کی خبریں اس انداز سے چلائی جارہی تھیں کہ جیسے پاوا شیل نام کا کوئی خاص تحفہ لیکر وزیر داخلہ کشمیریوں کی برسوں پُرانی مانگ پوری کرنے آرہے تھے۔
حالانکہ بھارت سرکار کو اپنے ”اٹوٹ انگ“کے لوگوں کے لئے یہ سب بھی زیادہ لگا اور اس نے فوری طور وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پیلٹ گن یا چھرے دار بندوق کو بند نہیں کیا جارہا ہے بلکہ پاوا شیل اسکے ساتھ ہی استعمال کیا جائے گا۔
کُل جماعتی وفد میں شامل بھارتی لیڈروں نے اپنے دورے کو سنجیدگی سے لیا ہوتا تو حالات شائد مختلف ہوتے اور اس دورے کے اس سے قبل کے اسی طرح کے دوروں سے مختلف ہونے کے اشارے ضرور مل گئے ہوتے۔
چناچہ وفد میں شامل لوگ اس بات سے واقف تھے کہ وادی میں ستر کے قریب لوگ مارے جاچکے ہیں اور ہزاروں دیگر زخمی ہوگئے ہیں لہٰذا اپنے دورے کو خاص بنانے اور وادی کے عوام میں کسی حد تک اعتماد بحال کرنے کے لئے سرکار کو وادی آمد سے قبل ہی اعتماد سازی کے بطور کچھ اقدامات کرنے پر آمادہ کرسکتے تھے۔یہ ڈیلی گیشن ان حالات میں کشمیر کے دورے پر آرہا تھا کہ جب یہاں لوگ اب تک کے سب سے طویل کرفیو سے گذر رہے تھے اور احتجاجیوں کو جان سے مار دئے جانے کے علاوہ زندہ بچنے والوں کو اندھا کیا جارہا تھا۔
ایسے میں کوئی یہاں کے لوگوں کی خبر گیری کرنے آنے والا تھا تو لازم تھا کہ وہ پہلے متاثرین و مصیبت زدگان کے ساتھ ہمدردی رکھنے کا ثبوت دیتا جو وہ سرکار کو بعض اقدامات اعتماد سازی اور مزاحمتی قیادت کو بات چیت کی باجابطہ دعوت دینے پر آمادہ کرکے کرسکتا تھا…اس نے مگر ایسا نہیں کیا۔
اس بات میں شک نہیں ہے کہ بھارتی سیاستدانوں کے کل جماعتی ڈیلی گیشن کا دورہٴ جموں کشمیر ناکام رہا لیکن سمجھنے کی بات ہے کہ یہ دورہ شروع ہونے سے قبل ہی تب ناکام ہوچکا تھا کہ جب بھارت سرکار نے مزاحمتی قیادت کو مدعو کرنے سے انکار کردیا۔
چناچہ ڈیلی گیشن سرینگر آکر اُنہی لوگوں کے ساتھ ملاقی ہوکر چلا گیا کہ جو ویسے بھی بھارت سرکار کی سیٹی بجانے پر سر کے بل دلی جانے پر ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔محبوبہ مفتی ہوں،عمر عبداللہ یا پھر مین اسٹریم کا کوئی اور سیاسی لیڈر ان کے لئے دلی دور ہے اور نہ وہ دلی کے لئے دور ہیں بلکہ انہیں جب چاہے دلی طلب کیا جاسکتا ہے۔اگر ڈیلی گیشن کو انہی لوگوں کے ساتھ بات کرنی تھی تو پھر ڈیلی گیشن کا سرینگر آنا شائد ضروری بھی نہیں تھا۔
ہاں اگر ڈیلی گیشن کے شرکاء واقعی کشمیریوں کی حالتِ زار دیکھ کر مر رہے ہوتے تو وہ مزاحمتی قیادت کے ساتھ نہ سہی سرینگر یا اس سے باہر جاکر لوگوں سے مل کر انکا حال جاننے کی کوشش کرتے ۔
جو لوگ کشمیری قیادت کو انسانیت کا درس پڑھانے لگے ہیں وہ اس بات پر تبصرہ کرنے سے کیوں کتراتے ہیں کہ جب بھارت سرکار نے قائدین کو دعوت ہی نہیں دی تو وہ کس سے اور کیسے ملاقات کرتے۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہوسکتا ہے کہ سیتا رام یچوری اینڈ کمپنی بھارت سرکار کی رضامندی کے بغیر سید گیلانی وی دیگراں کے ساتھ ”ذاتی ملاقات“کرنے کی جسارت نہیں کرتی لیکن اس ”ذاتی ملاقات“سے ان قائدین کو کیا حاصل ہوسکتا تھا کہ جب بھارت سرکار کھلے عام اس ملاقات کو منظوری دینے تک پربھی آمادہ نہیں تھی۔
اگر یچوری صاحب یا کسی اور لیڈر کو کشمیری قائدین سے ملنا ہی تھا تو انہیں کم از کم ان لوگوں کو پہلے حراست و نظربندی سے رہا کرانا چاہیئے تھا،سرکار چاہتی تو ان لوگوں کو بعدازاں پھر سے نظربند کرسکتی تھی اور یہ اسکے لئے ایک معمولی اور معمول کی بات ہے۔ایسے میں یقیناََ ایک ماحول بن سکتا تھااور مہمان لیڈر میزبانوں کو کسی حد تک یہ ماننے پر آمادہ کرسکتے تھے کہ اگر وہ انسے کوئی بات چیت کرینگے تو اسکی بھارت سرکار کے سامنے کوئی وقعت ضرور ہوگی۔

ان لوگوں ،کہ جنہیں گھروں یا جیلوں میں بند کرکے اس حد تک بے بس کردیا گیا ہو کہ وہ اپنے لوگوں کی نعشوں پر ماتم بھی نہ کرسکتے ہوں اور متاثرین کی ڈھارس بھی نہیں بندھا سکتے ہوں ،سے کیونکرتوقع کی جاسکتی ہے کہ وہ پلکیں بچھائے منتظر رہیں گے ۔پھر یچوری صاحب کوئی پہلی بار سید گیلانی کے دروازے پر نہیں آئے تھے بلکہ وہ اس سے پہلے سید گیلانی کی انسانیت کا مشاہدہ کرچکے ہیں لیکن جیسا کہ خود سیتا رام یچوری نے اقرار بھی کیا ہے کہ انہوں نے 2010میں کشمیری قیادت کے ساتھ مفصل ملاقات کے بعد معاملے کا کوئی فالو اپ نہیں کیا اور اسے یونہی چھوڑ دیا جس سے یقیناََ اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔

دلچسپ ہے کہ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سید گیلانی کے بن بلائے مہمانوں پر دروازہ بند کردئے جانے میں سید گیلانی کے یہاں انسانیت کا فقدان تو پاتے ہیں لیکن قریب نوے سال کے اس دیندار بزرگ کو برسوں سے نمازِ جمعہ تک کے لئے جانے کی اجازت نہ دینے میں انہیں کچھ غیر اخلاقی یا غیر انسانی نظر نہیں آتا ہے۔وہ ان لوگوں تک کو بات چیت کے لئے مدعو کرتے ہیں کہ جنہیں شائد ہی اپنی بیگمات کے سوا کوئی جانتا بھی ہو لیکن سید گیلانی،عمر فاروق یا یٰسین ملک ،جن کے کشمیر کی اکثریت پر غالب اثر رکھنے سے شائد ہی کوئی صحیح العقل انکار کرسکتا ہے،وغیرہ کو نہ صرف یہ کہ دعوت نہیں دی جاتی ہے بلکہ وضاحتاََ انہیں نہ بلائے جانے کے اعلانات کئے جاتے ہیں ۔
پھر جب یہ لوگ” گپ شپ “کرنے اور ایک ”مقصد“کے لئے فوٹو سیشن کرانے سے انکار کرتے ہیں تو انہیں انسانیت و اخلاق سے عاری قرار دیا جاتا ہے…جوکہ ایک بڑا ظلم ہے اور اس میں وہ لوگ بھی شمار ہیں کہ جو اس طرح کے تاثر پر یقین کرتے ہیں یا اسے عام کرنے میں مددگار بنتے ہیں۔امر واقع یہ ہے کہ نئی دلی نے جن حالات میں اور جس انداز میں مزاحمتی قیادت کو ”مصروف“کرنا چاہا تھا اسے دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا محال نہیں ہے کہ مزاحمتی قیادت کے پاس پیٹھ پھیرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا۔

بھارت سرکار کشمیر مسئلے کے حوالے سے در اصل ایک مخمصے کی شکار ہے کہ ایک طرف وہ چاہتے ہوئے بھی یہاں کی عوامی تحریک کو نظر انداز نہیں کر پاتے ہیں تو دوسری جانب ملک کی دو اہم ریاستوں میں ہونے جارہے انتخابات کو مد نظر رکھتے ہوئے بھاجپا کشمیر کے حوالے سے سخت سے سخت پالیسی پر کاربند رہنا چاہتی ہے۔اگر بھاجپا اس مخمصے کا شکار نہیں ہوتی تو پھر ایک طرف حریت سے ملنے سے انکار نہیں کیا جاتا اور دوسری جانب سیتا رام یچوری،اسدالدین اویسی یا دیگراں کو مزاحمتی قیادت کے پاس نہیں بھیجا گیا ہوتا۔
بھاجپا کا مخمصہ اس بات سے بھی سمجھ میں آتا ہے کہ ایک طرف راجناتھ سنگھ مزاحمتی قیادت کے بھارتی لیڈروں پر دروازے بند کردئے جانے پر انسانیت اور کشمیریت کا رونا روتے ہیں تو دوسری جانب مزاحمتی قیادت کو غیر متعلق ”ثابت“کرنے کے جتن کئے جاتے ہیں۔سوال ہے کہ اگر مزاحمتی قیادت واقعی مسئلہ کشمیر یا یہاں جاری عوامی تحریک کے حوالے سے غیر متعلق ہے تو پھر سیتا رام یچوری وغیرہ کو اس قیادت کے دروازے پر کیوں بھیجا گیا اور اگر یہ قیادت مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اہم ہے تو پھر پوچھا جاسکتا ہے کہ بھارت سرکار نے اسے مصروف کرنے کو انا کا مسئلہ کیوں بنایا ہوا ہے۔

ابھی تک کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ بھارت سرکار کشمیریوں کو تھکا نے کی پالیسی پر کاربند ہے،یہاں آئے روز ہورہے قتل عام کو نظرانداز کرکے نوکریوں،پیکیجز،ترقی وغیرہ کی باتیں کرکے ایک طرح سے کشمیریوں کی سیاسی خواہشات کا مذاق اپڑایا جاتا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ جموں کشمیر میں بے روزگاری نہیں ہے،سڑک،پانی اور بجلی کے مسائل نہیں ہے اور یہاں کے لوگ ترقی کے حوالے سے بقیہ دنیا سے پچھڑے ہوئے نہیں ہیں لیکن یہ مسائل تو دلی،یوپی اور بھارت کی دیگر ریاستوں میں بھی ہیں لیکن وہان آج تک ایک بار بھی لوگ کشمیریوں کی طرح مہینوں ہڑتال پر کبھی نہیں بیٹھے اور نہ ہی انہوں نے کبھی بندوق تو کبھی پتھر اٹھایا۔

گوکہ ایل لمبے مون بھرت کو توڑتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کچھ دن قبل ،یہ اعتراف کرکے کہ مسئلہ کشمیر کے بیچ 1947میں ہی بوئے گئے تھے،یہ امید ضرور جگائی تھی کہ شائد وہ اس مسئلے پر حقیقت پسندانہ سوچ اپنانے پر آمادہ ہیں لیکن انکی حکومت،پارٹی اور اداروں نے کشمیریوں کی جاری جدوجہد کو جس بچگانہ انداز میں لینے کی روش جاری رکھی ہوئی ہے اسے دیکھتے ہوئے فی الواقع کسی بات چیت سے کسی چمتکار کی امید کرنا عبس ہے حالانکہ دنیا کے کسی بھی مسئلے کا حل فقط بات چیت سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

صریر خالد کے جمعہ ستمبر کے مزید کالم