دنیا بدل رہی وزارت خارجہ کے”بابے“بھی بدلے جائیں

اتوار ستمبر    |    اظہر تھراج

سیاست مقامی ہو،ملکی ہو یا عالمی ہو ،اس میں کامیاب وہی ہوتا ہے جو بہترین پراپیگنڈے،اعصابی جنگ لڑنے کا ماہر ہو،اچھا پراپیگنڈا بھی وہی شخص کرسکتا ہے جو اچھی شخصیت کامالک ہو،جو اپنی زبان،آنکھ ،کان،دل اور دماغ اچھے انداز میں چلا سکتا ہو،اس وقت عالمی سطح پران اعضاء کا سرد جنگ کیلئے خوب استعمال کیا جارہا ہے،ترکی سے لے کر روس،امریکہ سے چین،پاکستان سے سعودی عرب،آسٹریلیا سے ایران ،بھارت سے ویت نام تک سفارتی جنگ دیکھنے کو ملتی ہے،اوبامہ شی چن پنگ کو جنوبی چینی سمندرکوچھوڑنے کی دھمکی دیتا ہے اور ساتھ ہی بھارت کو سمندری جنگ کیلئے سازوسامان فراہم کرنے کی بات کرتا ہے،ایرانی سعودی شاہوں کے خلاف اٹھنے کی بات کرتے ہیں توسعودی مفتیوں کی طرف سے ایرانیوں کو ”کافر“قرار دے دیا جاتا ہے،آسٹریلیا کہتا ہے کہ میں چین کا راستہ روکوں گا آؤ یورپ والو میرا ساتھ دو،
ویت نام کو ایشیاء کا ٹائیگر بنانے کی بات کی جاتی ہے،بھارت پاکستان کے خلاف الزامات کی بارش کررہا ہے تو پاکستانی توپیں دفاع کیلئے گولے پھینکتی نظر آتی ہیں۔

(خبر جاری ہے)


اس وقت بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کھل کر پاکستان اور چین کے خلاف امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں،ایسا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے جس سے پاکستان کا نقصان اور بھارت کا فائدہ ہوتا دکھائی دیتا ہو، ایسے ایسے ممالک تک رسائی حاصل کی ہے جو بھارتی بنیوں کے وہم وگمان میں نہیں ہونگے،مودی جس کے وزیراعظم بننے سے پہلے امریکہ میں انٹری بین تھی وہی مودی امریکہ صدر سے آٹھ نو بار مل چکا ہے،بھارتی وزیراعظم ایک توسیع پسندانہ منصوبے کے تحت اپنے ملک کو ایشیا ء کا چودھری بنا کر پاکستان کو تنہا کرنا چاہتے ہیں،چند دن پہلے چین میں گروپ 20کے ممالک کے اجلاس کے فوری بعد اوبامہ اور مودی کے درمیان وینٹیانے میں رازو نیاز کی باتیں ہوئی ہیں،بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا لکھتا ہے کہ امریکی صدر اوبامہ نے نیوکلیئر سپلائیرز گروپ میں شمولیت کیلئے مودی صاحب یقین دہانی کروائی ہے،گزشتہ ماہ امریکہ وزیر خارجہ جان کیری بھی دہلی یاترا پر آئے اور ان کو بھارتیوں نے رام کرنے خوب کوشش کی،سی پیک منصوبے کو متنازعہ بنانے اور پاکستان کو دہشتگرد ظاہر کرنے کی خوب کوشش کی گئی۔

براعظم ایشیاء اور بحرالکاہل کے نقطہ اتصال پر چار طاقتیں پہلے ہی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھیں اور اب ایک پانچویں طاقت کے بھی اس خطے میں کودنے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے بعد یہ خدشات زور پکڑ گئے ہیں کہ یہ خطہ اگلی عالمی جنگ کا میدان بننے والا ہے، جسے جنگ عظیم سوئم اور عالمی ایٹمی جنگ کا نام بھی دیا جارہا ہے۔، امریکی پیسفک کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل ہیری ہیرس نے خبردار کیا ہے کہ اب داعش کا خطرہ بھی ایشیاء پیسفک کے خطے کی جانب بڑھ رہا ہے، بنگلہ دیش میں دہشت گردی کے حملوں، انڈونیشیاء میں گرجا گھروں پر ہونے والے حملے اور فلپائن کے بازاروں میں پھٹنے والے بم اس خطرے کی گھنٹی بجارہے ہیں۔
داعش کی جانب سے بھی حالیہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا اس کا اگلا ہدف ہے، جبکہ آسٹریلوی وزیراعظم میلکم ٹرن بال بھی اس خطرے کی تصدیق کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ داعش جنوب مشرقی ایشیا میں قدم جمانا چاہتی ہے جو کہ صرف آسٹریلیا نہیں بلکہ پورے خطے کے لئے بڑا خطرہ ہوگا،بحیرہ جنوبی چین کے تنازعے میں امریکہ اور چین پہلے ہی ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ شمالی کوریا آئے روز امریکہ اور جنوبی کوریا کو ایٹمی حملے کی دھمکیاں دے رہا ہے جبکہ روس بھی اس خطے میں پوری طرح سرگرم ہے،دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دنیا ایک بار پھر عالمی جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے،ایسی صورتحال میں پاکستان بھی متاثر ہوگا۔

بھارت نے دوستوں میں اضافہ کیا ہے ادھر پاکستان نے دشمنوں کی صف طویل کی ہے،بھارتی وزیر اعظم اور اس کی ٹیم خود میدان میں ہے جس کا صرف اور صرف فوکس پاکستان دشمنی اور اپنی معیشت کا فروغ ہے،پاکستان کے پاس سوائے بیماروں اور بزگوں کی خارجہ ٹیم کے سوا کچھ نہیں،کسی کا دل خراب ہے تو کسی کا دماغ کام نہیں کرتا،بیماروں سے ہسپتالوں کے بل بڑھتے ہیں ملک نہیں چلائے جاتے ،ہم کشمیر لینے بات کرتے ہیں،پاکستان کو ایشیائی ٹائیگر بنانے کی بھی بات کرتے ہیں لیکن اعصاب کی عالمی جنگ میں مضبوط اعصاب مالک افراد کو اتارنے کی ضرورت ہے جن کے پاس بھی اور بات کرنے،بات منوانے کی صلاحیت بھی،”پاکستان ناکام ریاست ہے اور نہ ہی دہشتگردی کا ذمہ دار “اس بات کو ثابت کرنے کیلئے دنیا کو بتانے والی زبان دکھانے والی آنکھوں کی ضرورت ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

اظہر تھراج کے اتوار ستمبر کے مزید کالم