لازمی سیاسی ایکٹ کیوں نہیں۔۔۔۔۔؟

اتوار ستمبر    |    عمر خان جوزوی

اس بدقسمت ملک میں ظلم وستم اورسیاسی انتقام کانشانہ ہمیشہ غریب ۔۔مجبور ۔۔مظلوم ۔۔بے کس اوربے چارے عوام ہی بنے ۔۔یہ عوام جہاں بھی رہے۔۔ ظلم وستم اورسیاسی انتقام نے ان کاپیچھا کبھی نہیں چھوڑا ۔۔گلی ۔۔محلوں ۔۔چوکوں ۔۔چوراہوں اوربازاروں میں کیا یہ غریب عوام اپنے گھروں اورسرکاری دفتروں میں بھی حکمرانوں کے ریشہ دانیوں اورسیاسیوں کے شر سے کبھی محفوظ نہ رہے ۔۔یہ جہاں بھی رہے۔۔ انتقام کی آگ ان تک ضرورپہنچی ۔
۔حکومت پیپلزپارٹی کی ہو۔۔نوازلیگ کی ۔۔جماعت اسلامی کی ۔۔جے یوآئی کی ۔۔اے این پی کی یاپھر انصاف لیگ کی۔۔ ان غریبوں کوہردور میں بد سے بدترین انتقام کانشانہ بنایاگیا۔۔اس ملک میں غریبوں کے نام پر اپنے خالی پیٹ توسب نے بھرے ۔۔مفادات ہرکسی نے سمیٹے ۔

(خبر جاری ہے)

۔ووٹ سب نے بٹورے ۔۔غریبوں کے صدقے اقتدار سے دودوہاتھ قربان بھی اکثر ہوئے ۔لیکن جب بھی غریبوں کے حقوق ۔۔غریبوں کے مفادات۔۔غریبوں کی ذات اورغریبوں کے بجھتے چولہوں کاکہیں کوئی ذکر آیا۔

۔اس وقت پھر نوازشریف سے آصف علی زرداری تک ۔۔سراج الحق سے فضل الرحمن اوراسفند یارسے عمران خان تک سب گونگے ۔۔بہرے اوراندھے پائے گئے۔۔غریب غریب کے نعرے توسب لگارہے ہیں لیکن اس بدقسمت ملک میں آج بھی غریب کیلئے الگ اورامیر کیلئے الگ نظام رائج ہے ۔۔تحریک انصاف کے سونامی ۔۔پیپلزپارٹی کے جیالے۔۔مسلم لیگ ن کے متوالے۔۔عوامی تحریک کے کفن پوش اورجماعت اسلامی کے ورکراگر جلسے جلوس ۔۔ریلیوں اوردھرنوں کے ذریعے کراچی سے گلگت اورپشاور سے کاغان تک شہروں کے شہر اوربازاروں کے بازار جام کرکے پورا ملک سرپراٹھائے توانہیں نہ کوئی ۔
۔روکتا ہے۔۔نہ ٹوکتا ہے اورنہ ہی کچھ کہتا ہے۔۔ لیکن دوسری طرف اگر پی آئی اے۔۔ریلولے ۔۔محکمہ صحت سمیت دیگرسرکاری اداروں کے غریب ملازمین چوکوں ۔۔چوراہوں ۔۔گلی ۔۔محلوں اوربازاروں میں نہیں چاردیواری کے اندر بھی اگر اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھائیں تولازمی سروس ایکٹ کی تلوار سے ان کی نوکریوں کے کئی ٹکرے کرکے انہیں گھر بھیج دیاجاتا ہے ۔۔سوئس بینکوں کوبھرنے اورحکمرانوں کے دن بدلنے کیلئے اسلام آباد سے پشاور تک سرکاری اداروں کی نجکاری کانہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوچکا جس کوپایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے اس وقت۔
۔ان اداروں کے غریب ملازمین کودیوار سے لگانے کی ہرممکن کوششیں جاری ہیں۔۔ اب اگر کسی ادارے کے ملازمین اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھاناچاہیں توفوری طورپران کے سروں پرلازمی سروس ایکٹ کی تلوار لٹکادی جاتی ہے ۔مانا۔کہ احتجاج۔۔ جلسے ۔۔جلوس اورہڑتال کوئی اچھاکام نہیں لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ اگرسرکاری اداروں میں احتجاج ۔۔مظاہرے ۔۔جلسے اورجلوس مناسب نہیں توپھر چوکوں ۔۔چوراہوں۔۔گلی ۔۔محلوں اوربازاروں میں بھی تو احتجاج ۔
۔جلسے ۔۔جلوس اوردھرنے جائز نہیں ۔۔ایک سرکاری ادارے میں تواحتجاج وہڑتال سے ہزار۔۔ دوہزار لوگوں کوتکلیف پہنچتی ہوگی لیکن کسی چوک۔۔چوراہے اوربازار میں احتجاج اوردھرنے سے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ متاثر ہوتے ہیں ۔۔اقتدار کے حصول کیلئے چوکوں ،چوراہوں اوربازاروں میں احتجاج و دھرنے دیکر شہروں کے شہر جام کرنا کوئی انصاف نہیں ۔۔اگرغریبوں کااپنے حق کیلئے گھروں اوردفاتر سے نکلنا غیرقانونی ہے توپھر سیاستدانوں اوران کے چیلوں کااقتدار کیلئے آسمان سر پر اٹھانا کونساقانونی ہے ۔
۔غریب سرکاری ملازمین سے جان چھڑانے کے لئے توحکمران اورسیاستدان ،،عوام کاکچھ خیال کرو،،کاراگ الاپتے ہیں لیکن جب انہی حکمرانوں اورسیاستدانوں کے مفادکی بات آتی ہے توپھراپنے لاؤلشکرسمیت چوکوں اورچوراہوں پرنکل کرشاہراہیں بلاک اوربازارجام کرکے یہ حکمران اورسیاستدان عوام کیا۔۔پھرانسانیت کوبھی بھول جاتے ہیں ۔۔چوکوں اورچوراہوں میں لاؤلشکرسمیت دھرنے دے کر۔۔بازاروں اورشہروں کوبزوربازوجام کرتے ہوئے کیاکبھی کسی حکمران اورسیاستدان نے اس ملک میں رہنے والے انسانوں۔
۔بیماروں۔۔بوڑھوں ۔۔خواتین اوربچوں کے بارے میں سوچا۔۔؟کیاانہوں نے کبھی دھرنے ۔۔جلسے ۔۔جلوس۔۔مظاہرے اورہڑتالوں کی وجہ سے ایمبولینس میں ایڑھیاں رگڑرگڑکردم توڑنے اورآخری سانسیں لینے والے اس انسان کے بارے میں کبھی سوچا۔۔؟جن کوان کے پیارے۔۔رشتہ دار۔۔والدین۔۔بہن یابھائی دل میں ایک امیدلے کرہسپتال پہنچانے کے لئے گھرسے نکلے ہوں گے۔۔ان حکمرانوں اورسیاستدانوں نے کبھی اس غریب کے بارے میں سوچا۔
۔؟جوصبح خالی پیٹ وخالی ہاتھ اپنے معصوم بچوں کوایک وقت کی روٹی پیداکرنے کے لئے محنت۔۔مزدوری اوردیہاڑی لگانے کے لئے شہرپہنچاہوگا۔۔کیاان مفادپرستوں کویہ اندازہ بھی ہے کہ سیاسی جلسوں۔۔جلوسوں ۔۔مظاہروں ۔۔ہڑتالوں اوردھرنوں سے کتنے لوگ بیروزگارہوتے ہیں ۔۔؟کتنے ایڑھیاں رگڑرگڑکردم توڑتے ہیں ۔۔؟کتنے چوکوں اورچوراہوں میں پھنس کراذیت سے گزرتے ہیں ۔۔؟ایک جلسے ۔۔جلوس ۔۔مظاہرے اوردھرنے سے بھی غریبوں کاکام تمام ہوجاتاہے مگرافسوس اس کی کسی کوکوئی فکرنہیں ۔
۔فکرہے توصرف سنگ مرمرسے بنے اس محل کی جس میں آج کل نوازشریف محوخواب ہیں ۔۔عمران خان۔۔آصف علی زرداری۔۔شیخ رشید۔۔اسفندیارولی۔۔سراج الحق۔۔مولانافضل الرحمن ۔۔طاہرالقادری تک سب سیاستدان اس محل تک پہنچنے کے لئے عوام کوپاؤں تلے روندنے سے بھی دریغ نہیں کررہے ۔۔عوام بھوک سے مریں یا پاؤں تلے کچلیں ۔۔لیکن ان مفادپرستوں نے تو ہرحال میں اقتدارتک پہنچناہی ہے۔۔یہی وجہ ہے کہ سب عوام کوبطورتشوپیپرکے صرف ضرورت کیلئے استعمال کررہے ہیں ۔
۔اورکیوں نہ کریں۔۔؟جب منزل پرائم منسٹرہاؤس اورمقصداقتدارہو۔۔پھرعوام سے کیالینادینا۔۔؟انصاف مانگنے کے نام پررائیونڈکے گھیراؤکی دھمکیاں دینے والے عمران خان کی صوبائی حکومت نے اپنے جائزحقوق کے لئے احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین کوکیالازمی سروس ایکٹ کی تلوارنہیں دکھائی ۔۔؟بے انصافی کارونارونے والے وزیراعظم نوازشریف نے کیاپی آئی اے کے غریب ملازمین کے سروں پرلازمی سروس ایکٹ کاوارنہیں کیا۔
۔؟سیانے کہتے ہیں اورٹھیک ہی کہتے ہیں کہ ۔۔جیساکروگے ویسابھروگے۔۔ وزیراعظم نوازشریف اور عمران خان دونوں نے اب تک جوبویاہے اب انہیں وہی کاٹناپڑرہاہے۔۔مزہ توتب آئے گاجب اس ملک میں لازمی سروس ایکٹ کی طرح لازمی سیاسی ایکٹ نافذکرکے سیاستدانوں کے چیخنے اورچلانے پربھی پابندی لگائی جائے ۔۔غریب لوگ اگراپنے حقوق کے لئے آوازنہیں اٹھاسکتے توپھران سیاسی مداریوں کابھی گلی ۔۔محلوں اورچوکوں ۔
۔چوراہوں میں اوئے نوازشریف۔۔اوئے عمران کے نعرے لگاکرآسمان کو سرپراٹھانے کاکوئی جوازنہیں بنتا۔۔یہ ملک جس طرح ان حکمرانوں اورسیاستدانوں کاہے اس سے بڑھ کریہ ان غریبوں کاہے جوفاقہ کشی کے عالم میں آج بھی اس کی بقاء وسلامتی کے لئے ہرقربانی دینے کو تیاربیٹھے ہیں ۔۔اس ملک کوحاصل کرنے کے لئے بھی غریبوں نے قربانیاں دیں ۔۔اس پرجب بھی کوئی مشکل وقت آیاتب بھی غریب سب سے آگے رہے ۔۔آئندہ بھی ملک کی بقاء وسلامتی کے لئے قربانی دینے کاکوئی موقع آیاتب بھی یہی غریب سب سے آگے ہوں گے ۔
۔اس لئے ان غریبوں کودیوارسے لگانے کایہ سلسلہ ہمیشہ کے لئے بندہوناچاہئے۔۔اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرنااگرگناہ ہے توپھراس گناہ سے بچنے کااطلاق غریبوں کے ساتھ امیروں پربھی ہوناچاہئے تاکہ ملک میں انصاف کاتوازن برقراررہ سکے۔۔اس کابہتر حل یہی ہے کہ یاتوامیراورغریب سب کواحتجاج اوردھرنوں کاحق دیاجائے یاپھرلازمی سروس ایکٹ کی طرح ملک میں لازمی سیاسی ایکٹ بھی نافذکرکے سیاستدانوں اورحکمرانوں کوبھی عوام کاسکون غارت کرنے سے روکاجائے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمر خان جوزوی کے اتوار ستمبر کے مزید کالم