کوئی کہنے والا نہ آجائے!

پیر ستمبر    |    ساجد خان

پاکستان کی پارلیمان کے اندر ایک دستور پاکستان کے نام سے کونا یا ایک پتلی سی گلی بنائی گئی ہے۔ جس میں دستور پاکستان کے حوالہ سے تحریریں، تصاویر اور تاریخ ترتیب دی گئی ہے۔ مقام شکر ہے کہ اس ادھم ذدہ دور میں کوئی ایسا فارغ شخص یا ادارہ ہے جس کو اتنی فرصت ملی کہ وہ ملی خدمات سے فارغ ہو کر دستور پاکستان کی تاریخ مرتب کر سکے اور پھر اہتمام محبت کے لیے سینٹ کے چیرمین جناب رضا ربانی کو مدہو کرئے۔
جناب رضا ربانی پیپلز پارٹی کی مددی طاقت کے تناظر میں چیرمین سینٹ بنے ۔ حیرانگی کی بات ہے کہ سابق صدر اور حالیہ پیپلز پارٹی کے ناخدا، آصف علی زرداری نے رضا ربانی پر غیر معمولی اعتماد کا اظہار کیا پیپلزپارٹی میں وہ دستور پسند حلقے کی ترجمانی کرتے ہیں جبکہ ان کو دستور شناسی کے معاملہ میں مشکلات کا سامنا ہے۔

(خبر جاری ہے)

دستور پاکستان کی ایک حالیہ تریم کے موقعہ پر ان کا بیان کہ انہوں نے پارٹی کی خاطر اصول اور نظریہ کو نظر انداز کر کے ووٹ دیا تھا اور اس کیفیت پر ان کے چہرہ پر اشکوں کا سلاب تھا۔

اب یہ نہیں معلوم کہ وہ ندامت کے انسو تھے یا ملامت کے۔
پاکستان میں دستور کی تاریخ مرتب کرنے والے بہت مگر دستور پر عمل کرنے والوں میں بہت کمی ہے ۔ اب حالیہ دور میں ہی دیکھ لیں دستور کو پارلیمان میں کتنی اہمیت ملتی ہے دستور انصاف اور قانون کے لیے جو تحفظ دیتاہے کیا ہماری سرکار اس تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کر ہی ہے۔دستور میں اہم ترین فریق عوام اور ادارے ہیں۔ اس وقت جو ادروں کا حال ہے ۔
پھر عوام کے بارے میں سرکار کی پالیسی مبہم اور غیر واضح ہے۔ عوام کو مراعات اور حوصلہ دینا تو دور کی بات ہے۔ اس وقت تو وہ عدم تحفظ کا شکار نظر آتے ہیں ۔ دستور کی تشہر میں سیاسی جماعتوں کا کردار عوام کو مزید اپنے بارے میں مشکوک بناتا ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت نے کبھی بھی اپنے دستور پر عمل کیا ہو ؟ مگر جمہوریت کی راگنی کے لیے دستور کو استعمال کیا جاتا ہے ۔ یہ کسی جمہوریت ہے جو دستور کو نظر انداز کر کے جمہوریت کو مضبوط بنانے میں لگی ہے۔
ابھی چند دن پہلے وزیر پاکستان نے ترقیاتی منصوبوں کے تناظر میں عظیم الشان جلسہ کیا۔ وہاں نعرے لگے اور خوب لگے۔ ” دیکھو دیکھو کون آیا“ ” دیکھو دیکھو کون آیا“ جبکہ ملک کے محبوب وزیراعظم ان کے سامنے براجمان تھے۔مگر عام لوگوں کو اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ کون کیوں آیا ہے اس لیے مسلم لیگ نواز کے زرخیز دماغوں نے کیا خوب نعرہ گھڑا۔ شکر ہے میاں نواز شریف نے خواص سے نہیں پوچھا کہ یہ دیکھو دیکھو کیا ہے ہاں اگر اشرافیہ سے پوچھ لیا جائے تو ان کا جواب ہوتا کہ جناب آپ کے ہوتے ہوئے کوئی دوسری طرف کیوں دیکھے۔
اس لیے تو کہتے ہیں دیکھو دیکھو بس ہماری جمہوریت میں ایک ہی نعرہ ہے کہ دیکھو دیکھو۔ مگر کیا دیکھیں جبکہ جمہوریت میں تو نظر آنا ویسے ہی بند ہو جاتا ہے۔
وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف جمہوریت کے سپاہی ہیں۔ مگر اس دفعہ یوم دفاع کے موقعہ پر جمہوریت پسندوں کا کردار صاف نظر نہیں آیا۔ ملک کی اشرافیہ، پارلیمان کے ممبران، سیاسی جماعتوں کے قایدان اور نوکر شاہی کے اہم لوگ دفاع پاکستان کی اہم تقریبات میں جوش اور جذبے کے ساتھ نظر نہیں آئے۔
ایک تو دہشت گردی کی وجہ سے اشرافیہ، عوامی نمائندے اور اعلیٰ نوکر شاہی بہت ہی محتاط ہو چکی ہے۔ پھر دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا بھی خوف معاشرے میں نمایاں نظر آنے لگا ہے۔
اس سال دہشت گردوں نے اپنا ہدف خیبر پختون خواہ اور بلوچستان بنا رکھا ہے۔ پنجاب اور سندھ محفوظ نظر آتے ہیں۔ کراچی میں دہشت گرد، سہولت کاروں کی عدم توجہ کی وجہ سے کچھ کرتے نظر نہیں آتے۔ مگر وہاں دہشت گردی کے بعد جو دوسرا بڑا مسئلہ ہے بنا ہوا ہے وہ بدیانتی ہے۔
سندھی نوکر شاہی نے نیب کے ساتھ مکمل مک مکہ کر رکھا ہے۔ حالیہ دنوں میں اعلیٰ عدالت کو مداخلت کرنی پڑی کہ نیب نے کس حیثیت میں بددیانت لوگوں کو تحفظ دیا اور ان کے ساتھ مک مکہ کرکے ان کی ملازمتوں کے محفوظ کیا۔ دستور کے مطابق جرم ثابت ہونے پر سزا ضروری ہے مگر نیب نے سزا کی بجائے اپنے طور پر جزا دینے کا قائدہ بنا رکھا ہے۔ نیب کا قانون سابق جنرل مشرف کے دور میں میں جمہوریت کو مقبول مشہور کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔
ایک سابق فوجی گورنر خالد مقبول نے بارگینگ کا اصول رائج کر دیا۔ کہ اگر لوٹ مار کے ما ل میں سے کچھ رضا کارانہ طور پر واپس کر دیا جائے تو جرم ختم ہو سکتا ہے اور اس پر آج بھی عمل ہو رہا ہے اور قانونی تحفظ دیا جا رہا ہے جوکہ جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔
پاکستان میں رائج جمہوریت نے قانون اور اصول کے طور طریقے ہی بدل دیئے ہیں اور ملک میں کرپشن کا شور ہونے کے باوجود کوئی بھی شخص یہ نعرہ مستانہ نہیں لگاتا کہ دیکھو کون آیا ہے دیکھو کون آیا ہے۔
اصل میں عوام کو نظر بھی نہیں آتا۔ ان کی آنکھوں میں جمہوریت کا موتیہ ایسا اترا ہوا ہے کہ اس کا علاج بھی ممکن نہیں ہے۔ عوام کو (بددیانتی) کرپشن سے کوئی تکلیف نہیں اور اگرہے تو یہ کہ سرکار عوام کے مفاد میں جلسے جلوس کم نکال رہی ہے اور مخالف سرکار جلسوں کی وجہ سے عوام کا وقت ضائع ہو رہا ہے ۔ مہنگائی اور بجلی کی کمی اب عوام کو پریشان نہیں کرتی۔ اگر کوئی چیزسستی ہو بھی جائے تو پریشانی ہوتی ہے کہ یہ ایسا کیوں ہے۔ دنیا بھر میں پیٹرول اور گیس سستی ہو رہی ہے۔ مگر ہمارے ہاں قیمت برقراررکھنے کے لیے ٹیکس لگایا جاتا ہے ۔ یہ بھی جمہوریت کو مضبوط کرنے کا ایک ٹوٹکہ ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹوٹکے والی جمہوریت پاکستان کے دستور کو بے نور نہ کر دے۔ کوئی کہنے والے نہ آجاتے۔
میں نہیں مانتا اس دستور کو۔!!!
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ساجد خان کے پیر ستمبر کے مزید کالم