اوئے ! ۔۔۔۔۔

منگل ستمبر    |    پروفیسر رفعت مظہر

ہمارے کپتان صاحب کی دہشت ہی بڑی ہے ۔جب وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے پارلیمنٹ میں آئے تو سپیکر قومی اسمبلی محترم سردار ایاز صادق چپکے سے کھسک لیے۔ شاید سردار صاحب کے ذہن میں یہ خیال آیا ہو کہ اگر کپتان صاحب نے اُنہیں بھی ”اوئے سپیکر“ کہہ کر مخاطب کیا تو اُن کی سرداری کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ جائے گا، اِس لیے کھِسک لینے میں ہی عافیت ہے ۔کپتان صاحب ،جو بہت کچھ سوچ کر پارلیمنٹ میں آئے تھے ، شکار کو یوں ہاتھ سے جاتا دیکھ کر کچھ زیادہ ہی برہم ہو گئے اور اعلان کر دیا کہ وہ ایاز صادق صاحب کو سپیکر نہیں مانتے اِس لیے آئندہ ”جنابِ سپیکر“ کی بجائے صرف نام سے مخاطب کریں گے۔
اب یہ نہیں پتہ کہ خاں صاحب سپیکر صاحب ”کو محترم ایاز صادق“ کہہ کر مخاطب ہوں گے یا ”اوئے ایاز صادق“ کہہ کر۔

(خبر جاری ہے)

ویسے اُمیدِ واثق یہی ہے کہ وہ ”اوئے“ کہہ کر ہی مخاطب ہوں گے کیونکہ یہ اُن کا تکیہ کلام بَن چکا ہے اور ہماری پارلیمانی سیاست کا جزوِ لاینفک بھی۔ سپیکر صاحب کو تو خوش ہونا چاہیے کہ اب وہ بھی اُس طویل فہرست میں شامل ہو گئے جنہیں کپتان صاحب کا ”شرفِ قبولیت “ حاصل نہ ہو سکا اور اِس فہرست میں میاں برادران سمیت عدلیہ بھی شامل ہے اور الیکشن کمیشن بھی، نگران حکومتیں بھی شامل ہیں اور مقتدر حلقے بھی۔

مقتدر حلقے اِس لیے کہ کپتان صاحب کے اتنا لمبا چوڑا ”رَولا“ ڈالنے کے باوجود بھی امپائر کی انگلی کھڑی نہ ہوئی، جس کے بارے میں کپتان صاحب کہتے ہیں کہ اُن کے ساتھ ”ہَتھ“ ہو گیا۔
کپتان صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا ”ہم جب بھی پاناما پیپرز پر جواب مانگتے ہیں تو وزیرِاعظم فیتے کاٹنے چلے جاتے ہیں“۔ یہی رونا ڈاکٹر طاہرالقادری بھی روتے نظر آتے ہیں ۔ اُنہوں نے فرمایا ”یہ ہمارے احتجاج کا اثر ہے کہ چار بار دِل کی سرجری کروانے والے وزیرِاعظم پورے ملک میں پٹواریوں ،حواریوں ،مالیوں اور سوالیوں کے جلسوں سے خطاب کرتے پھر رہے ہیں۔
وہ جتنا مرضی بھاگ لیں ، سانحہ ماڈل ٹاوٴن اور پاناما لیکس کا جواب دینا ہی پڑے گا“۔ ہمیں اِن عظیم رہنماوٴں کے بیانات سے مکمل اتفاق ہے۔ واقعی وزیرِاعظم صاحب کو فیتے کاٹنے کا شوق ہی بہت ہے ۔ اُنہوں نے تو شوکت خانم میموریل ہسپتال کے لیے زمین بھی دی ،اُس کا سنگِ بنیادبھی رکھا اور فیتہ بھی کاٹا۔ یہ الگ بات کہ کپتان صاحب نے بعد میں غصّے میں آ کر شوکت خانم میں لگی میاں صاحب کے نام کی تختی کو اکھاڑ پھینکا۔
وزیرِاعظم صاحب شاید دوسروں پر احسان کرنے کے نفسیاتی مریض ہیں۔ سبھی جانتے ہیں کہ طاہرالقادری صاحب کو آسمان کی رفعتوں سے روشناس کروانے والے میاں صاحب ہی ہیں ۔ یہ ایک طویل داستان ہے جس سے سبھی باخبر لیکن شاید میاں صاحب اُس وقت حضرت علی کا یہ قول بھول گئے ”جس پر احسان کرو ،اُس کے شَر سے بچو”۔
کپتان صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ میاں نوازشریف ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے اُنہیں وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے دور کر دیا۔
2013ء کے انتخابات سے پہلے اُنہیں حواریوں نے یقین دلا دیا تھا کہ وہ دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہوں گے ، اسی لیے وہ ٹی وی اینکرز کو لکھ کر دینے کو بھی تیار تھے کہ اگلے وزیرِاعظم وہی ہوں گے۔ اُنہوں نے تو لندن میں اپنے بیٹوں سے ملاقات کے وقت یہاں تک کہہ دیا کہ اب اُن سے اگلی ملاقات بطور” وزیرِاعظم پاکستان “ہوگی لیکن میاں نوازشریف صاحب نے ایسا ”جھُرلو“ پھیراکہ کپتان صاحب کے ہاتھ ”کَکھ“ نہ آیا۔
دراصل میاں صاحب نے مرکزی سمیت تمام نگران حکومتیں خرید لیں، پورے الیکشن کمیشن کا سودا کر لیا اور عدلیہ کی بولی لگا کر اُسے اپنے بَس میں کر لیا،اِس لیے کپتان صاحب چاروں شانے چِت ہو گئے۔ اب لوگ کہتے ہیں #
اتنی بھی بَدمزاجی ہر لحظہ میر تم کو !
اُلجھاوٴ ہے زمیں سے ، جھگڑا ہے آسماں سے
سچ تو یہی ہے کہ جب کپتان صاحب کے ساتھ اتنے بڑے بڑے ”ہَتھ“ ہو گئے تو پھر کہاں کی شائستگی اور کیسی اخلاقی قدریں۔
یہی وجہ ہے کہ وہ اپنا سارا غصہ دوسروں کی تضحیک کرکے اور اُنہیں اُلٹے پُلٹے ناموں سے پکار کے نکالتے ہیں۔ سپیکر صاحب کو بھی وہ کھَری کھری سنانے آئے تھے کیونکہ سپیکر صاحب نے وزیرِاعظم صاحب کے خلاف دائر کردہ ریفرنس تو مسترد کر دیا لیکن کپتان صاحب کے خلاف ریفرنس مزید کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن بھیج دیا ، جس کے بارے میں کپتان صاحب کہتے ہیں کہ یہ الیکشن کمیشن نہیں ”نوازکمیشن“ ہے۔ کپتان صاحب کے حواری کہتے ہیں کہ اِس ریفرنس کی بدولت الیکشن کمیشن خاں صاحب کی سیاسی زندگی کو ”ٹائیں ٹائیں فِش“ بھی کر سکتا ہے۔

اب سردار ایاز صادق کہتے ہیں کہ اُنہوں نے آئین اور قانون کی روشنی میں ہی رولنگ دی ہے ،جنہیں اِس پر اعتراض ہے وہ عدالت کا دروازہ کھٹکٹائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خاں کو شروع سے ہی اُن کی شکل پسند نہیں۔ اُن کی ذات شروع سے ہی عمران خاں کے لیے مسلہ بنی ہوئی ہے۔ اُن کا جرم یہ ہے کہ خاں صاحب اُن سے متواتر تین بار شکست کھا چکے اور وہ شکست خاں صاحب کو آج تک ہضم نہیں ہوئی۔ اُنہیں سپیکر ایوان نے بنایا ،کپتان صاحب نے نہیں۔
دراصل ”جنابِ سپیکر“ کہتے ہوئے خاں صاحب کے سینے پر سانپ لَوٹتے ہیں ۔ ہم سپیکر صاحب کو یاد دلا دیں کہ اُنہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایک دفعہ اُنہوں نے کپتان صاحب کے ”گِٹّے“ پر ہاکی ماری تھی، شاید کپتان صاحب وہ چوٹ بھول نہیں سکے۔ اب پتہ نہیں یہ چوٹ کا اثر ہے یا الیکشن کمیشن میں ریفرنس بھیجنے کا، بہرحال جو کچھ بھی ہے یہ ”دشمنی“ کُہن سالہ لگتی ہے، تازہ بہ تازہ نہیں اِس لیے اگر کپتان صاحب محترم سپیکر صاحب کو بھی کسی وقت ”اوئے ایاز صادق“ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں تو یہ سیاسی معاملہ نہیں، پرانی ”دشمنی“ کا شاخسانہ سمجھا جائے۔
بالکل ایسی ہی دشمنی جیسی آجکل علامہ طاہرالقادری شریف برادران سے نبھا رہے ہیں۔ اُنہوں نے 9 ستمبر کو پریس کانفرنس میں شریف خاندان کو سکیورٹی رِسک قرار دیتے ہوئے شریف فیملی کی مِلّوں میں کام کرنے والے 50 بھارتیوں کی فہرست جاری کی جس کے جواب میں شریف فیملی کے ایم ڈی یوسف عباس شریف نے یہ کہا کہ عدالت ڈاکٹر طاہرالقادری کو جھوٹ بولنے کا نفسیاتی مریض قرار دے چکی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ شریف خاندان کی شوگر مِل میں کوئی بھارتی ملازم نہیں، تمام ملازمین پاکستانی ہیں۔ وہ جھوٹ بولنے پر طاہرالقادری کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کریں گے اور اُنہیں عدالت میں گھسیٹیں گے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

پروفیسر رفعت مظہر کے منگل ستمبر کے مزید کالم