دلائل سے قائل کریں

ہفتہ ستمبر    |    عبدالماجد ملک

سنا ہے کہ نام شخصیت پر کافی اثر انداز ہوتا ہے اور لباس شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے اگر اس فقرے کولے کر یوں چلوں اور یہ کہوں کہ یہاں شخصیت سے مراد دھرتی ہے، دھرتی ماں جیسی ہوتی ہے اور دھرتی کا نام اس میں بسنے والوں کے دلوں میں دھڑکن بن کر دھڑکتا ہے ،اور لباس سے مراد میں اس قوم کی بود وباش لے لوں تو کچھ عجیب سی اور دھندلی سی تصویر ذہن میں آتی ہے ،اسلامی جمہوریہ پاکستان کا انتہا پسند مذہبی معاشرہ یا پھر لبرل کا وہ طبقہ جو مدر پدر آزادی کا خواہشمند،یہاں توکہیں بھی اعتدال کا گزر نہیں اور اس تصویر میں الجھنیں ہیں کہیں بھی اور کسی طور پر بھی واضح نہیں ،حالانکہ جب اسے حاصل کیا گیا تو اس کا مقصد بھی واضح اور اس کی تصویر بھی روز روشن کی طرح کھلی ہوئی دکھائی دے رہی تھی ،مگراب اس تصویر کی آڑھی ترچھی لائنیں مزید باعث الجھن ہیں۔

(خبر جاری ہے)


دوسرے لفظوں میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ،اسلام بھی مشکل میں ،جمہور بھی پریشان اور جس پاکستان کو پہلے اک نظریے کے تحت ہندوٴوں اور انگریزوں سے آزاد کروایا گیا تھا ،آج سیکولر قوتیں اسلام اور لباس سے بھی آزاد کروانے کے لیے کوشاں ہیں اور اس کوشش میں میرے دیس کے انتہا پسند مُلا اس گناہ ِ عظیم میں برابر کے شریک ہیں جو اعتدال پسندی کی بجائے انتہاپسندی کا پرچار کر کے اسلام کا نام مسخ کر رہے ہیں اور اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے سے قاصرہیں،جبکہ اسلام میں توایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔

میری سوہنی دھرتی کوپاکستان کہتے ہیں ،اسے حاصل تو اسلام کے نام پر کیا تھا مگر یہاں کافر کافر کی گردان اتنے زور زور سے گردانی جا رہی ہے کہ اب تو لبرل خواتین و حضرات خوشی سے بغلیں بجاتے ہوئے زیر لب یہ کہہ رہے ہیں کہ اسے سیکولر ہی ہونا چاہیے ،بندہ ان سے پوچھے دنیا میں سیکولر ممالک کے افراد سکون کی تلاش میں تیزی سے اسلام کی طرف راغب ہو رہے ہیں اور آپ مزید بد آرامی کے خواہاں ہیں ۔
میں اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا مگر مذہب کے ان ٹھیکیداروں سے دست بستہ یہ ضرور گزارش کروں گا کہ معاشرے میں اگر اسلام کو صحیح طرح سے پیش نہیں کر سکتے تو خدارا! اسلام کی ایسی تصویر بنا کر لوگوں کو نہ دکھائیں جس سے لوگ مذہب بیزار ہوں یا جس سے سیکولر طبقے کو شہ ملے اوروہ لٹھ لے کر اسلام پر چڑھ دوڑیں ،جس کے نتیجے میں معاشرہ انتشار کا شکار ہو، اگر معاشرے میں اعتدال پسندی کا رجحان نہیں ہوگا تو آپ چین کی تلاش میں سرگرداں ہونگے اور کہیں ڈھونڈے سے بھی سکون قلب میسر نہیں ہوگا۔

اس معاشرے کی منظر کشی سے پہلے یہ تعریف آپ کے گوش گزار کر دوں کہ یہ معاشرہ کیا ہوتا ہے ؟
معاشرہ افراد کے ایسے گروہ کو کہا جاتا ہے جس کی بنیادی ضروریات زندگی میں ایک دوسرے سے مشترکہ روابط موجود ہوں،اس میں یہ لازم نہیں کہ اس گروہ میں سبھی ایک قوم سے یا ایک مذہب سے ہوں ،اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جس میں سب کے خیالات بھی ملتے ہوں۔
ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں اس میں لبرل طبقہ بھی ہے ، انتہا پسند مذہبی طبقہ بھی اور ایک چھوٹا سا گروہ اعتدال پسند لوگوں کا بھی ہے مگر وہ تعداد میں کم ہیں۔

اس معاشرے میں دونوں کے نظریات اور خیالات میں زمین و آسماں کا فرق ہے ،دونوں خود کو ٹھیک سمجھتے ہیں ،یہاں اس معاشرے میں دلائل کی کمی ہے ،دلیل کی بجائے شور شرابے سے کام لیا جاتا ہے اور جو زیادہ اونچا بولتا ہے سادہ لوح اسے ٹھیک سمجھتے ہیں، اس معاشرے کا ایک اور المیہ یہ ہے کہہ یہاں کے افراد میں برداشت کامادہ قلیل ہے،جس کی وجہ سے دلیل کی بجائے بات غلیل پہ آجاتی ہے اور ایک دوسرے پر پورے زور سے کنکر برسائے جاتے ہیں ،امن پسند اور اعتدال پسند دبک کر بیٹھ جاتے ہیں جبکہ دونوں طرف کے انتہا پسندپوری دلجمعی سے یہ فریضہ انجام دینے کی سعی میں مشغول ہوتے ہیں کہ کس طرح مکالمے کی فضا کی بجائے انتشار کی فضا بحال رہے اور ہم کیچڑ اچھالتے رہیں۔

اگر یہی روش رہی اور ہم نے اپنے آپ کو تبدیل نہ کیا،معاشرے میں دلائل اورمکالمے کی فضا نہ بننے دی تو ڈر ہے کہ اس معاشرے میں اعتدال پسندی ختم ہو جائے اور کچھ بعید نہیں کہ نام کو توڑ مروڑ دیا جائے اور لباس کو میلا کچیلا کر دیا جائے ،پھر ہم دیکھتے اور چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کر پائیں گے جب ہماری آنکھوں کے سامنے اس چمن میں زبردستی خزاں کو مسلط کر دیا جائے گا ،ہماری آہ و زاری اس دن کسی کام نہیں آئے گی ،ہم ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف تیزی سے یہ نوحہ پڑھتے ہوئے جا رہے ہونگے #
لاکھوں جانوں کے عوض جہاں میں
بڑی مشکل سے چمن کو سنوارا تھا
اجڑ جائے گا وہ باغ محبت بھی کیا
جو جان تھا مگر جان سے پیارا تھا
امید ہے بلکہ یقین ہے کہ یہ وقت کبھی نہیں آئے گا مگر ہمیں دوسروں کو برا بھلا کہنے سے قبل اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ پہلے ہم اپنا قبلہ درست کریں گے اور پھر دوسروں کو دلائل کے ساتھ قائل کریں گے کہ یہ چمن میرا بھی ہے اور آپ کا بھی،اس کی آبیاری مل کر کریں گے تاکہ اس باغ میں محبت کے پھول کھلتے رہیں اور امن کی فاختہ چہکتی رہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عبدالماجد ملک کے جمعہ ستمبر کے مزید کالم