سینچری کا سفر

ہفتہ ستمبر    |    عارف محمود کسانہ

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ صرف عقلِ انسانی زندگی کے تمام مسائل کا حل پیش نہیں کر سکتی بلکہ اسے رہنمائی کی ضرورت ہے جو وحی یعنی قرآنِ حکیم سے ہی مل سکتی ہے۔زندگی کے عملی مسائل اور مغربی معاشرہ میں قرآنی فکر سے رہنمائی کے لئے نومبر 2007 ء میں کچھ احباب نے سٹاک ہوم سٹڈی سرکل تشکیل دیا تاکہ قرآنِ حکیم کو سمجھ کر اور اس پر عمل کرتے ہوئے سفر زندگی اس کی روشنی میں طے کیا جائے۔ یہ بھی ایک حسین اتفاق ہے کہ اس عظیم کام کا آغاز پیامبر قرآن، حکیم لامت علامہ اقبال کے یوم پیدائش کے موقع پر ہوا۔
نو سال سے قرآن فہمی کا یہ سفر مسلسل جاری ہے اور ایک سو دروس کی تکمیل سے اہم سنگ میل عبور کیاہے ۔ سینچری کا یہ سفر علمی و دینی افکار کی رہنمائی میں جاری رہا۔

(خبر جاری ہے)

سٹاک ہوم سٹڈی سرکل کے تعارف اور طریقہ کار کی تفصیل سابق وفاقی وزیر جناب ڈاکٹر غلام حسین نے افکار تازہ میں یوں لکھی ہے کہ” عارف کسانہ فہم قرآن میں بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ قرآن فہمی میں ان کا علم و فضل کافی عمیق ہے اور پُر تحقیق ہے۔

کافی سالوں سے وہ اپنے گھر میں ماہانہ محفل قرآن باقاعدگی سے منعقد کرتے ہیں جس میں موضوع پہلے دیا جاتا ہے اور اس موضوع کو قرآنی حوالوں سے بیان کرتے ہیں اس دینی محفل میں پڑھے لکھے پاکستانی شوق سے شرکت کرتے ہیں۔محفل کا آغاز عارف کسانہ قرآنی آیات اور تفسیر کے ذریعے ٹی ویسکرین پر کمپیوٹر کے ذریعے بیان کرتے ہیں اور دوستوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہیں اورپھر سب حاضرین باری باری موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور بہت اچھے ماحول میں دو گھنٹے کی محفل میں ایمان تازہ کرنے اور قرآن فہمی کا موقع ملتاہے۔
مجلس کے اختتام پر High Tea سے مہمانوں کی تواضع کی جاتی ہے۔ ان محافل میں جو دوست باقاعدگی سے شمولیت کرتے ہیں وہ خود بھی صاحب علم و دانش ہوتے ہیں اور اکثر ہمارے پاکستان کے سفیر صاحب بھی تشریف لاتے ہیں۔پاکستان سے باہر ایسی دینی ، علمی محفلیں الله تعالیٰ کا خاص انعام اور رحمت باری تعالیٰ ہیں کہ ہم لوگ سویڈن میں رہتے ہوئے بھی اپنے دین اور کلچر کے قریب تر رہتے ہیں اور دین اسلام کے بارے میں سیر حاصل معلومات میسر ہوتی ہیں۔
ہر نشست کے بعداُس کی تفصیل ویب سائیٹwww.ssc.n.nu پر دی جاتی ہے اور ای میل کے ذریعہ دنیا بھر میں علم و دانش کے متلاشیوں کو بھیج دی جاتی ہے تاکہ وہ بھی فہم قرآن سے فیضیاب ہوسکیں۔اس ماہانہ مجلس میں دینی معاملات کے علاوہ فکر اقبال،سائنسی و تحقیقی موضوعات،سماجی معاملات، حالاتِ حاضرہ اورسیاسی امورپر بھی بحث ہوتی ہے اور صاحب علم دوست مختلف موضوعات پر اپنے مقالے بھی اس محفل میں پڑھتے ہیں اورپھر دیگر دوست اس پر تبصرہ کرتے ہیں“۔

قرآن حکیم کو سمجھنے کے لئے تصریف آیات کا اصول اپنایا گیا ہے یعنی ہم قرآن حکیم کو مضامین کے لحاظ سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک موضوع پر قرآن حکیم کی تمام آیات کو ایک نشست میں لیا جاتا ہے اوراس طرح سے متعلقہ موضوع کے بارے میں مکمل فہم حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اُن آیات کی مطابقت میں صحیح اور احسن احادیث مبارکہ بھی پیش کی جاتی ہیں۔ اسوہ حسنہ اور تاریخ اسلام میں اگر اُن کی بابت کچھ موجود ہو تو اُسے بھی شامل کیا جاتا ہے۔
متعلقہ موضوع کے بارے میں علوم جدیدہ اورفکرا قبال سے رہنمائی درس کا ایک اہم جزو ہوتا ہے ۔ زندگی کے عملی مسائل بھی موضوع میں لازمی زیر بحث آتے ہیں۔ سیشن کا دسرا حصہ راؤنڈ ٹیبل ڈسکشن ہوتا ہے جس میں تمام شرکاء کو آزادانہ اظہارِ خیال کا موقع دیا جاتا ہے۔ قرآن حکیم پر غور وفکر اورزندگی کے عملی مسائل کا حل تلاش کرنے میں سویڈن میں موجود برصغیر سے تعلق رکھنے والے اہل علم و دانش جن میں ڈاکٹر، انجنئیر ، ماہرین تعلم، سیاستدان، تاجر، طالب علم اور زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے احباب شرکت کرتے ہیں۔
پاکستان کے علاوہ بھارت اور بنگلہ دیش کے صاحبان علم ودانش کا ایک حلقہ سٹاک وہم سٹڈی سرکل کی صورت میں قائم ہوگیا ہے جو دین کے حوالے سے فکری رہنمائی کرتا رہے گا ۔فرقہ واریت، شخصیات اور غیر ضروری بحث سے اجتناب کیا جاتاہے۔ ان محافل میں شرکت کرنے والے اپنے پس منظر میں مختلف مکاتب فکر رکھتے ہوں گے لیکن کبھی بھی فرقہ وارانہ بحث اور ماحول پیدا نہیں۔ جب قرآن کی دعوت دی جاتی ہے تو فرقوں کا کوئی تصور نہیں رہتا اور قرآن نے واضح کیا ہے کہ وہ اختلاف مٹاتا ہے۔
ہر ماہ مہینہ دو گھنٹے کی یہ محفل قرآن فہمی کے ساتھ فکر اقبال اور اردو کے فروغ کے لئے بھی کوشاں ہے۔۔ اردو ہم عصر ڈنمارک کی نائب مدیرہ ہمانصر نے اپنے ایک تحقیقی مقالے” سویڈن اور مسلمان“ میں ہماری اس کوشش پر کچھ اس طرح سے تبصرہ کیا کہ ”سٹاک ھولم اور اس کے مضافات میں اس سلسلے میں ڈاکٹر عارف کسانہ ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں جو نہ صرف اپنے ہم وطنوں بلکہ سویڈش حلقوں میں بھی اپنی اسلامی دینی و رفاعی اور سماجی خدمات کی بنا پر قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر عارف کسانہ دینی درس و تدریس کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو سویڈش سماج میں آگے بڑھانے کے لیے مختلف اجتماعات منعقد کرتے اور سویڈشوں کے ساتھ مشترکہ میل ملاپ کے مواقعے مہیا کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے حلقے میں ” قرآن فہمی “ اور مسلمان بچوں کی ” دینی تعلیم “ کا باقاعدہ ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور یہ حلقہ بتدریج وسیع ہوتا جا رہا ہے“۔
اردو نیٹ جاپان کے ایڈیٹر ناصر ناکا گاوا اپنے دورہ سویڈن کے دوران سٹڈی سرکل کی ایک نشست میں شریک ہوئے اور انہوں نے اس بارے میں اپنے سفرنامے میں لکھا کہ سٹاک ہوم سٹڈی سرکل کی ماہانہ نشست کا بنیادی مقصد قرآن کی روشنی میں زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کرنا اور متعلقہ موضوع پر تبادلہ خیالات کرکے قرآن حکیم کی تعلیمات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا ہے۔
یہ باعث مسرت ہے کہ تمام شرکاء وقت کی پابندی کا خیال رکھتے ہیں۔ نشست میں تعلیمی اور تحقیقی اداروں سے وابستہ اہم افراد شرکت کرتے ہیں۔ دو گھنٹے کی نشست میں قرآنی تعلیمات پر کھل کر تبادلہ خیالات ہوتا ہے ۔ قرآن حکیم کو محض برکت اور ثواب حاصل کرنے والی کتاب کے طور پر نہیں بلکہ عملی زندگی کی رہنماء کے طور پر لیا جاتا ہے۔ اس علمی نشست میں روایتی درس قرآن کی بنائے اہل علم ہمارے روزمرہ کے عملی اور زندہ مسائل کا حل قرآن حکیم کی روشنی میں تلاش کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔
پاکستان اور عالم اسلام کے حالات کو اگر دیکھا جائے تو سٹاک ہوم سٹڈی سرکل جیسی علمی و عملی تنظیموں کی اشد ضرورت ہے۔ میرے لئے یہ ایک اعزاز تھا کہ میں ایک نشست میں شامل ہوا جس میں شرکت کرکے مجھے بہت خوشی ہوئی اور میرے حوصلے بلند ہوئے۔
ان سو نشستوں میں ہم نے زندگی کے اہم اور زندہ مسائل کو لیا اور ہرایک موضوع پر نشست منعقد کی۔ موضوعات کی تفصیل سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دین کے ہر گوشہ اور عملی زندگی کے ہر موضوع کو لیا گیا ہے نشستوں میں لئے گئے موضوعات کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے۔
اسلام اور سیکولر ازم، حدود اللہ، حج اور قربانی، پردہ، تعدادِ ازواج، آدابِ معاشرت اور اخلاق، آخرت، قیامت، حیات بعد الموت، برزخ، حشر،عذاب و ثواب، اجتہاد، حلال و حرام، سود یعنی ربوٰ، صلوٰة یعنی نماز، صوم یعنی روزہ، قرآن کی معاشی تعلیمات، زکوٰة، تقدیر، عائلی زندگی، نکاح، طلاق،عدت، عذابِ قبر،ایصالِ ثواب، مغفرت، شریعت، علم و عقل،قرآن اور سائینس، تخلیقِ کائنات، تخلیقِ انسان، تخلیق آدام، ارتقا ، ابلیس، مومن، کردار، نبوت و رسالت، حضور قرآن کی روشنی میں، اسباب زوالِ اْمت اور حل، عورت قرآن کی روشنی میں، دْعا،عدل و انصاف، ظلم،توبہ، ختمِ نبوت، دہشت گردی، اھم قرآنی الفاظ اور اصطلاحات کے معنی اور مفہوم، حْرمتِ رسول، سائنس اور قرآن، ا،مور مملکت اور قرآن، سیرتِ رسولِ پاک سے میں نے کیا سیکھا جزا وسزا کا قرآنی قانون ، تصورِ الہ، ہدایت اور گمراہی، آیات متشبہات اور محکمات، حقوق انسانی، مذہبی آزادی اور اعتدال، جہاد، درود شریف کا مفہوم اور مقام رسالت، لین دین اور تجارت، ماحولیات اور قرآن، فساد فی الارض، فرقہ واریت، خواب قرآن و حدیث اور جدید سانسی تحقیقات کی روشنی میں، جھوٹ بولنا، خوف خدا، محبت الہی اور محبت رسول ، تواہمات، انسان کے بارے میں قرآن نے کیا کہا، اسلام کیا ہے ، ہم میں عمل کی کیوں کمی ہے، قرآن حکیم اپنے بارے میں، حلم، عفو ، جہاد اور دہشت گردی، حریت آزادی ،شرک، روزہ کیوں فرض ہے، یورپ میں مقیم مسلمانوں کے مسائل اور قرآنی تعلیمات میں اْن کا حل،عبد کامفہوم، بگ بینگ، تخلیق کائنات اور قرآن، خدا نے کائنات کیوں بنائی،کائنات کیسے بنی، قرآن اور سائنس کی یکجائی،بدعت سے مراد، رسول اکرم کی ولادت باسعادت، فضول خرچی، میل جول اور سلام کرنا، قوانین خداوندی،جہنم میں عوام اور لیڈروں کے مکالمے اور قرآن،روزے کا مقصد قرآن کی روشنی میں، فلسفہ تاریخ سورہ الشعراء کی روشنی میں،نزول قرآن اور خطبات اقبال، انداز گفتگو ، اور گھریلو زندگی۔
بہت سے احباب کی خوہش ہے کہ ان تمام موضوعات پر ہونی والی نشستوں میں پیش کئے جانے والے مواد پر مشتمل ایک کتاب شائع کی جائے جس سے وہ لوگ بھی استفادہ کرسکیں جو شرکت نہیں کرسکتے۔ یہ تجویز نہایت اہم ہے اور انشاء اللہ کوشش کریں گے کہ ان تمام دروس کو کتابی صورت میں پیش کیا جاسکے۔
سٹاک ہوم سٹڈی سرکل ایک سو سیشن مکمل ہونے کے موقع پر ایک بڑی تقریب منعقد کی گئی جس میں خواتین اور بچوں نے بھی شرکت کی۔
تقریب میں ڈاکٹر محسن سلیمی، جمیل احسن، حارث کسانہ ، شفقت کھٹانہ ایڈووکیٹ ، کونسلربرکت حسین، تیمور عزیز، سید شوکت علی،ڈاکٹر سہیل اجمل ، سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر غلام حسین اور مہمان خصوصی کونسلرسید اعجاز حیدر بخاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سٹاک ہوم سٹڈی سرکل نے قرآنی تعلیمات کے فروغ میں عظیم کردار ادا کیا ہے اور اس کے تحت ہونے والے ہر درس سے ہمیں قرآن حکیم کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ فرقہ واریت سے بالا تر ہوکر مضامین کے اعتبار سے قرآن حکیم کو سمجھانے کا سلسلہ نو سال سے جاری ہے۔
درس قرآن کے ساتھ فکر اقبال سے آگاہی اضافی خوبی ہے۔ ان محافل میں شرکت کرنے ان کے بہت سے سوالوں کے جواب ملے ہیں اور اسلام کے بارے میں کئی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا ہے۔ سفیرپاکستان جناب طارق ضمیر نے صدارتی خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے کہا کہ قرآن حکیم پر غوروفکر اور اس کی تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش قابل تحسین ہے اور جس انداز میں یہ سلسلہ جاری ہے وہ ایک منفرد مثال ہے ۔ روایتی انداز سے ہٹ کر قرآن حکیم کا فہم اور روزمرہ کی زندگی میں اپنے مسائل کا تلاش کرنا قابل تحسین کوشش ہے اور یہ تقریب بہت سے حوالوں سے ممتاز ہے اور ہمیشہ یاد رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ سٹاک ہوم سٹڈی سرکل بہت اہم کرادر ادا کررہاہے اور مجھے جب بھی موقع ملتا ہے اس کے تحت ہونے والے درس قرآن میں شرکت کرتا ہوں۔ انہوں بہت اہم بات کی کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قیامت میں قرآن ہمارے حق یا مخالفت میں گواہی دے گا۔ اب ہمیں سوچنا چاہیے کہ کہ کس طرح ہم اپنے حق میں گواہی لے سکتے ہیں۔
سٹڈی سرکل کے تحت مستقبل میں نوجوانوں اور خواتین کی تعلیم و تدریس اہم ترجیح ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے مصروف عمل رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ہمارے دلوں میں عشق رسول اکرمﷺکی شمع روشن ہو او ر ہم قرآن حکیم سے زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی لے کر اپنا سفر حیات طے کرتے جائیں اور ایک مرد مومن کی زندگی بسر کریں۔ ہم اپنے حصے کا کام کرتے جائیں کیونکہ
شکوہ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
کلام اللہ انسانوں کے لیے زمان و مکاں کے ہر دور میں رہنمائی ہے۔ یہ دنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔
یہ ہماری شاہراہ زندگی پر درست سمت میں سفر کے لیے ہمارا Navigator ہے۔
یہ کوئی عام خیال کے مطابق مذہبی کتاب نہیں بلکہ صحیفہ فطرت ہے جو انسان کو اْس کے مقام سے آشنا کرتی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسائل کو کتاب اللہ کی روشنی میں ہی حل کیا جاسکتا ہے ۔کلام اللہ ہمارے پاس ہو بہو اسی شکل میں پہنچا جس طرح وحی الہی کے مطابق رسول اللہﷺنے اسے ترتیب دیا۔ یقین کامل، جہد ِمسلسل اور خلوص نیت سے فکری و ذہنی انقلاب ممکن ہے اور اللہ کی رحمت پر ایمان ہے کہ آنے والا کل انسانیت کے لیے بہتر ہوگا۔
ذرات کو سیمابی کردے گی سبک سیری
چھٹ جائے گی رستے کی تاریکی و بے نوری
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عارف محمود کسانہ کے ہفتہ ستمبر کے مزید کالم