علی اور صنم کے نام

پیر ستمبر    |    عمار مسعود

دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں چلے جائیں ایک عجیب سا احساس محرومی پاکستانیوں کے دلوں پر چھا جاتا ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی انسان اس ملک کے حالات کا اپنے ملک کے حالات سے موازنہ کرنے لگتا ہے ۔ یہ وہ ممالک ہیں جن سے ہم کم از کم پچاس سال ضرور پیچھے ہیں۔ ان ممالک میں مسائل اب بھی ہیں مگر وہ ان مسائل سے بہت آگے نکل چکے ہیں جن کا ہم کو آئے روز سامنا ہے۔ ان ممالک میں چپے چپے پر موٹروے بن چکی۔
زیرزمیں ٹرین بھی ہر خاص و عام کے لیئے موجود ہے ۔ یہ جو ہم اورنج ٹرین پر جھگڑ رہے ہیں یہ ان ممالک میں دہائیوں پہلے بن چکی ہے۔ سکول ہر بچے کے لئے لازمی ہو چکا ہے۔ خواتین کے حقوق صرف نعرہ نہیں ہیں ۔ ملازمتیں سب کے لئے ہیں۔ صحت کے جدید مراکز ہر شخص کی دسترس میں ہیں۔

(خبر جاری ہے)

لوڈ شیڈنگ کا کوئی تصور بھی نہیں ہے۔ پولیس کا فرض عوام کی مدد ہے۔ لڑکے اور لڑکیوں کے حقوق پر کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ آبادی پر قابو پانے کے لئے عوام حکومت سے تعاون کرتے ہیں۔

انگریزی زبان احساس برتری یا کمتری نہیں ہے ۔
ہانگ کانگ کا کل رقبہ یہی کوئی اپنے راولپنڈی اسلام آباد جتنا ہو گا۔ اتنی کم زمین کے باوجود یہ ملک دنیا کی تمام معیشتوں کا محور کیسے بن گیا ؟ اتنی ترقی کیسے کر لی؟ یہ سوال سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ وہاں کے ایک سیانے سے سوال کیا تو جواب میں ساری بات کھل گئی۔ سیانے نے کہا کہ ہم نے مشینوں سے زیادہ اپنے انسانوں کی قدر کی ہے۔انکی ترقی کو محور مانا ہے۔
ان کی قابلیت کوپہچانا ہے۔ انکے ہنر کو عزت دی ہے۔ بس یہی ہے ہماری ترقی کا راز ۔
تقابل تو فطری ہے۔ انسان سوچتا ہے ہمارے ہاں ان ہیومن ریسورسز کی ترقی پر کب سوچا جائے گا؟ یہ جو آج ڈھائی کڑوڑ بچے سکول نہیں جا رہے یہ کل کو کیسے کار آمد ہوں گے؟کیسے ترقی کا پہیہ بنیں گے؟ کیسے معیشت کی گاڑی چلائیں گے؟ کیسے پاکستان کا پرچم دنیا میں لہرائیں گے؟ہمارے ملک میں کتنے وقار یونس ہوں گے جن کو کبھی کرکٹ کا بال بھی کھیلنے کو میسر نہیں ہوائی ہوگی۔
کتنے ڈاکٹر عبد السلام جیسے ذہین ہوں گے جو سڑکوں پر گاڑیاں صاف کر رہے ہوں گے۔ کتنے ارفع کریم جیسے باصلاحیت ہوں گے جوسکول نہ ہونے کی وجہ سے پہلی دوسری جماعت بھی نہ پڑھ سکے ہوں گے۔
ہانگ کانگ میں جب ہم پہنچے تو الیکشن میں چار دن رہ گئے تھے۔ کوئی سڑک کسی جلسے کی وجہ سے بند نہیں تھی، کہیں ووٹروں کو بریانی کے بہانے ورغلایا نہیں جا رہا تھا۔ احتجاج کے نام پر ملکی املاک کی کہیں توڑ پھوڑ نہیں کی جا رہی تھی۔
متوقع دھاندلی کے الزامات بھی کہیں نہیں لگائے جا رہے تھے۔ حتی کہ الیکشن والے دن بھی کوئی نظم و ضبط کا مسئلہ نہیں تھا۔ لوگ آئے ، ووٹ ڈالے اور پھر اپنے اپنے کام کاج میں لگ گئے۔ نہ کہیں جیت کے جشن میں فائرنگ ہوئی نہ مخالفین کے کیمپ جلائے گئے۔ کوئی ہنگامہ ہوا نہ کہیں آگ لگی۔ چپ چاپ الیکشن آیا اور گزر گیا۔ ہمارے ہاں ان تمام مراحل پر جو شدت دکھائی جاتی ہے اس کا شائبہ تک وہاں نہ تھا۔ وہ قومیں اب سمجھدار ہو گئی ہیں۔
ہمیں ابھی
پچاس سال کم از کم لگیں گے۔ اس پچاس سالہ تاخیر میں کس کا قصور ہے ؟ یہ سوال بحث طلب ہے فی الوقت یہی احساس زیاں کاٹ کھائے جا رہا ہے کہ بہت دیر ہو گئی ہے۔
ہانگ کانگ میں پاکستانی کونصلیٹ کے تعاون سے ایسے پاکستانی طلبہ سے بھی ملاقات ہوئی جو پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ یہ وہ ذہین دماغ ہیں جن کے ہنر کو ہم پہچاننے میں ناکا م رہے۔ یہ ایسے ایسے کارنامے کر رہے ہیں کہ ان کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا ۔
ان دوستوں سے ملاقات میں سب کی زبان پر یہی خواہش تھی کہ کسی طرح وہ پاکستان کی خدمت کر سکیں۔ اپنے نوجوانوں کو وہ راستہ دکھا سکیں ۔ لیکن یہاں کسے اتنی فرصت کہ انسانوں کے ہنر کو پہچان پائے۔ اور کچھ نہیں اگر ان نوجوان سکالرز کیے کارناموں کی تفصیل ہی سرکاری سطح پر بیان کر دی جائے تو یہی کاوش بہت سوں کے لیئے راستہ بن سکتی ہے۔ روشنی دکھا سکتی ہے
ایک دورہ ہانگ کانگ کے نابینا بچوں کے سکول کا بھی کیا۔
اس بارے میں کیا لکھیں بس اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ جتنی سہولتیں وہاں نابینا طلباء کے لئے موجود ہیں اگر اس میں سے آدھی بھی پاکستان میں بینا بچوں کے سکولوں کومیسر آجائیں تو یہ ملک کہاں سے کہاں پہنچ جائے۔
ہانگ کانگ میں بہت سے دوستوں سے ملاقات ہوئی ۔ پاکستانی کونصل جنرل عبد القادر میمن سے ملاقات ہوئی تو انہیں پاکستانیوں کے مسائل کے بارے میں بہت ہمدرد پایا۔ گفتگو کا سلیقہ انہیں میسر ہے۔
ذہن بھی رسا ہے اور دل بھی روشن ہے۔پی آئی اے کے حوالے سے ان کا ایک پیغام مجھ پر قرض ہے۔ پی آئی اے نے اپنی پروازیں ہانگ کانگ سے بند کر دی ہیں۔ اگر خدا نخواستہ کسی پاکستانی کا وہاں انتقال ہو جائے تو جسد خاکی کو وطن کی مٹی نصیب ہونے میں بہت دشواری ہوتی ہے۔ انکی استدعا یہی تھی کہ پروازیں دوبارہ شروع کی جائیں۔ بات میں وزن بھی ہے اور طلب میں چاہت بھی ہے۔ پی آئی کو ہانگ کانگ میں پاکستانیوں کے مسائل کا سدباب کرنا چاہیے اور جلد کرنا چاہیے۔

عابد بیگ کا تعلق کراچی سے ہے ۔ اردو کے عشق میں ڈوبے رہتے ہیں۔ ہانگ کانگ کی شام کے نام سے ایک پروگرام ریڈیو سے بھی کرتے ہیں۔ مقبولیت کے اعتبار سے ہانگ کانگ میں مقیم پاکستانیوں کی فہرست میں سر فہرست انکا نام آتا ہے۔شیریں لہجے میں بات کرنے کا وہ قرینہ آتا ہے کہ بات دل میں اترتی ہے۔ شعر کا وہ ذوق ہے کہ میر و غالب کے دور میں لے جاتے ہیں۔ انکے دم سے ہانگ کانگ میں اردو کا پرچم بلند ہے۔ شعر کا ذوق زندہ ہے۔

ہانگ کانگ میں گلزار صاحب کے دم سے پنجاب کا رنگ دیکھنے کو ملتا ہے۔ انکو سیاست سے خاص شغف ہے۔ وطن کی محبت سے معمور ایسے لوگ اب دیار غیر میں خال خال ہی ملتے ہیں۔ جو بھی پاکستانی یہاں سے عازم ہانگ کانگ ہوتا ہے اسکی میزبانی یہ اپنے آپ پر فرض کر لیتے ہیں۔میزبانی میں وہی پنجاب کا رنگ کہ کھلا کھلا کر مارتے ہیں۔ ان سے ملاقات کیا ہوئی تجدید عہد غذاہو گئی۔
ہانگ کانگ کے سفر کا ذکر ادھورا ہے کہ اگر اس میں علی نواز اور انکی اہلیہ صنم کا ذکر نہ ہو۔
علی نواز ویسے تو پاکستانی کونصلیٹ میں پریس اتاشی ہیں مگر یہ دونوں میاں بیوی بنیادی طور پر میزبان ہیں۔ پاکستان سے آنے والوں کی اسطرح دیکھ ریکھ کرتے ہیں کہ جیسے کوئی اپنے اہل خانہ کی بھی نہیں کرتا ہوگا۔وطن سے انکی محبت کا یہ عالم ہے کہ انکا بس نہیں چلتا کہ ہانگ کانگ کہ ہر بلند و بالا عمارت پر پاکستان کا پرچم لہرا آئیں۔ شعر و شاعری کے دلدادہ، ادب سے محبت کرنے والے، فنون کی پہچان رکھنے والے، موسیقی کو سمجھنے والے، دیار غیر میں پاکستان کے ترانے گانے والے لوگ ہی اثاثہ ہیں اس زمین کا۔
یہی قرض اتارتے ہیں اس سر زمین کا۔ ایسے لوگ دنیا کے کسی بھی خطے میں ہوں انکا روم روم انکے پاکستانی ہونے کی گواہی دیتا ہے۔یہ لوگ لمحہ لمحہ وطن کی محبت کا ثبوت دیتے ہیں۔پاکستان کو یاد رکھتے ہیں اور دیار غیر میں بھی
اس دھرتی سے محبت کی شمع جلائے رکھتے ہیں۔ ان کی وطن سے محبت اختیاری نہیں ہے یہ انکی زندگی کا لازمی جزو ہے۔ انکا روز مرہ ہے۔ انکی تربیت ہے۔انکا عزم ہے ۔ یقین مانیئے۔ ہانگ کانگ میں پاکستان سے محبت کا نام علی اور صنم ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمار مسعود کے پیر ستمبر کے مزید کالم