قُربانی آسانی

منگل ستمبر    |    پروفیسر رفعت مظہر

اب کی بار عید الالضحیٰ سے پہلے کانگو وائرس نے ایسی دہشت پھیلائی کہ ہمیں راتوں کو بھی ”کانگو چیچڑ“ کے ڈراوٴنے خواب آنے لگے ۔ الیکٹرانک میڈیا پر بھی حکومت کی جانب سے سارا دِن ایسے اشتہارات آتے رہتے (جو تاحال آ رہے ہیں ) جنہیں دیکھ دیکھ کر ہم اَدھ موئے ہوگئے۔ اِس لیے منڈی میں جا کر قُربانی کا جانور خریدنے کا حوصلہ ہی نہ ہوا ۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ بھی عالمی دہشت گرد امریکہ ہی کی سازش ہوگی جو ہمیں کسی پَل چین نہیں لینے دیتا۔
اگر یہ امریکی سازش نہیں تو پھر اِس میں یقیناََ ”را“ اور ”مساد“ کا ہاتھ ہوگا ۔ ہماری اِس ارسطوانہ سوچ کا محور یہ ہے کہ کانگو کا چیچڑ بھلا پیدل چل کر پاکستان کیسے پہنچ سکتا ہے ۔اسے یقیناََ ”را ،مساد اور سی آئی اے“ نے مِل کر امپورٹ کیا ہوگا تاکہ ہم ”وَخت“ میں پڑے رہیں۔

(خبر جاری ہے)

اِس سازش کا توڑ ہم نے یہ نکالا کہ ”قُربانی آسانی“ کی طرف مائل ہوگئے۔
ویسے بھی ہم جعلی قصابوں کے ستائے ہوئے تھے جو ہر بقرعید پر اپنے آپ کو ” اصلی تے نَسلی قصاب“ ظاہر کرکے یہ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں کہ اُن کی سات پشتیں یہی کام کرتے کرتے جہانِ فانی سے رخصت ہوئیں۔

حقیقت مگر اِس کے بَرعکس کہ ہر موچی ،تیلی ،نائی حتیٰ کہ عیسائی بھی اُس دِن قصاب کا روپ دھار ن کرکے گلیوں میں دندناتا پھرتا ہے۔ ایسے نامی گرامی قصابوں نے بکرے کی کھال تو کیا اتارنی ہے البتہ ”بکرا مالکان“کی کھال ضرور اُتر جاتی ہے ۔ پچھلی بقرعید پر ہمارا واسطہ ایک ایسے ہی ”قصائی“ سے پڑا جس نے صبح ۹ بجے ہمارے بکرے کی کھال اتار کر گیراج میں لٹکایا اور 5 منٹ کا وعدہ کرکے یوں غائب ہوا جیسے گدھے کے سَر سے سینگ۔
ہم 12 بجے تک” قصاب صاحب“ کا انتظار کرتے رہے اور ہمارا ”ننگ دھڑنگ“ لٹکا ہوا بکرہ چشمِ تصور میں یہ گاتا نظر آیا
اب تو آ جاوٴ بلم کہ فرقت کے مارے رو دیئے
اِس قربانی کی داستانِ غم پھر کسی وقت کے لیے اُٹھا رکھتے ہیں ،پہلے اُس ”قُربانی آسانی“ کا ذکر جس میں ہمارے ساتھ ایسا ”ہَتھ“ ہوا کہ ہم ابھی سے سوچ میں پڑ گئے ہیں کہ اگلی قُربانی پر بشرطِ زندگی کیا کریں گے۔ ویسے اگر ہم حکمران ہوتے تو سب سے پہلے قصابوں کے لائسنس بنواتے تاکہ بھولے بھالے عوام کو اِن کی پہچان میں آسانی رہتی لیکن پھر سوچتے ہیں کہ ہم تو وہ ہیں جو بڑے بڑے قصابوں کو اپنے ووٹوں کا لائسنس دے کر میدان میں اتارتے ہیں اور پھر جب وہی ہماری کھال کھینچتے ہیں تو ہم چیختے بھی ہیں حالانکہ ”خود کردہ را علاجے نیست“۔

آمدم بَر سرِمطلب ،ذکر ہو رہا تھا قُربانی آسانی کا جس کے بڑے بڑے اشتہاروں اور کانگو وائرس نے ہمیں اِس کی طرف مائل کیا ۔ ہم نے ایک بڑے سٹور پر جا کر اپنا بکرا بُک کروایا ۔اُس سٹور کے انتخاب کی واحد وجہ یہ تھی کہ ہمیں خادمِ اعلیٰ کے میٹرو منصوبے بہت پسند ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ میٹروبَس خادمِ اعلیٰ کا ایسا تحفہ ہے جسے لاہوریے اور پنڈی وال ہمیشہ یاد رکھیں گے ۔چنانچہ بہت بڑے اور نامی گرامی سٹور پر بُکنگ کروائی۔
ہمارا خیال تھا کہ میٹروبَس کی طرح یہ ڈیپارٹمنٹل سٹور بھی عوامی خدمت کے لیے کھولا گیا ہے ۔عید کی نماز کی ادائیگی کے بعد ہم نے گوشت کے انتظار میں گھڑیاں گِن گِن کر گزارنی شروع کر دیں کیونکہ ہمیں 3 بجے گوشت لے جانے کا حکم صادر ہوا تھا۔ خُدا خُدا کرکے گھڑی نے 3 بجائے اور ہم سٹور کی طرف روانہ ہوئے ،جب مطلوبہ جگہ پر پہنچے تو وہاں کھڑکی توڑ رَش دیکھ کر پہلے تو ہم یہی سمجھے کہ شاید غلطی سے کسی سینما گھر آگئے ہیں لیکن پھر آنکھیں مَل کر دیکھا تو یقین ہوگیا کہ یہ تو وہی جگہ ہے جہاں ہم نے بکنگ کروائی تھی۔
تَب ہم نے سوچا کہ یہ کیسی قُربانی آسانی ہے جس میں گوشت کی وصولی تو دَرکنار ،سٹور کے اندر داخل ہونے کا یارا بھی نہیں۔میرے میاں اسی دھکم پیل میں پتہ نہیں کیسے اندر داخل ہوئے اور لَگ بھگ پندرہ منٹ بعد واپس آکر یہ نوید سنائی کہ ابھی تو مذبح خانے سے گوشت سٹور میں پہنچا ہی نہیں اِس لیے اُس کی تَرسیل کا کیا سوال۔شدید گرمی اور حبس میں 5 بجے تک اِدھر اُدھر ٹہلتے رہے پھر کہیں جا کر ہماری قسمت کا دَروازہ کھلا اور ہم اپنا بکرا لینے میں کامیاب ہو ہی گئے جو تھرموپول کے خوبصورت ڈبے میں استراحت فرما رہا تھا۔
ڈبے کو ٹیپ کے ساتھ اتنی مضبوطی سے پَیک کیا گیا تھا کہ اُس کے اندر تانک جھانک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ میرے میاں ڈبے کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہنے لگے ”دیکھیں ! اب اندر سے کون سی کستوری بَرآمد ہوتی ہے“۔
گھر پہنچ کر ہم نے بڑے شوق سے ڈَبے کو کھولا تو سب سے پہلے ہماری نظر کلیجی پر پڑی جسے دیکھ کر ہم چونک اُٹھے کیونکہ وہ کسی بکرے کی نہیں ،بڑے مُرغے کی محسوس ہو رہی تھی ۔کلیجی کے بعدپائے دیکھے تو ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ کیا یہ واقعی ہمارے قُربانی کے بکرے کے پائے ہی ہیں کیونکہ ہم نے زندگی میں پہلی بار اتنے ننھے مُنّے پایوں کا دیدار کیا تھا ۔
اِس کے بعد جب گوشت کی باری آئی تو ہم حقیقتاََ سَر پکڑ کر بیٹھ گئے کیونکہ وہ گوشت کم اور ہڈیوں کا انبار زیادہ تھا جنہیں صاف کرنے کی سِرے سے زحمت ہی نہیں کی گئی تھی ۔ہم نے ہڈیاں نما بوٹیاں جوڑ جوڑ کر سالم بکرا تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن بُری طرح ناکام رہے۔ شاید یہ اونچی دوکان کا پھیکا پکوان تھا جو ہمارے حصّے میں آیا۔ ہمیں یقین ہے کہ ایک ہی قت میں چھوٹے بڑے کئی بکرے ذبح کرکے اُن کا گوشت پہلے ایک جگہ اکٹھا کیا گیا اور پھر اُسے بِنا صاف کیے وزن کے حساب سے ڈبوں میں بند کرکے بُکنگ کروانے والوں کو یہ پیغام دے دیا گیا کہ دوبارہ کبھی اِدھر کا رُخ نہ کرنا۔

قُربانی سُنتِ ابراہیمی ہے اور ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر واجب ۔ربّ ِ لَم یَزل کے ہاں گوشت نہیں ،نیت جاتی ہے اور یہ علامت ہے اِس اَمر کی کہ ہم وقت آنے پر رَبّ ِ کردگار کے حضور اپنی جان کا نذرانہ دینے کے لیے تیار ہیں۔ ہماری نیت تو اُس عزوجَل کے ہاں پہنچ چکی ۔سوال مگر یہ ہے کہ
جن لوگوں نے سنتِ ابراہیمی کو بھی کاروبار کا ذریعہ بنایا اور دنیاوی دولت کی خاطر بے ایمانی پر اُتر آئے ، اُن کا حشر کیا ہوگا؟۔
اِس میں کوئی شک نہیں کہ دولت کی ریل پیل انسان کو اللہ سے دور کرنے کا سبب بن جاتی ہے اسی لیے اولاد اور دولت دونوں کو آزمائش قرار دیا گیا ہے۔ مومن تو وہی ہے جو اِس آزمائش پر پورا اترتا ہے لیکن اِس دَورِجدید میں کَم کَم ہی ہوں گے جو سُرخ رُو ہو کر نکلتے ہوں گے ۔ سچ یہی کہ ہمارا اپنے رَبّ کے ساتھ تعلق اُس بگڑے بچے کی مانند ہے جس کی سرشت میں بغاوت کوٹ کوٹ کر بھری ہو ۔شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری دعائیں بھی مستجاب نہیں ہوتیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

پروفیسر رفعت مظہر کے پیر ستمبر کے مزید کالم