چنگیزخان

بدھ ستمبر    |    میر افسر امان

سفاک قاتل چنگیز خان منگولیہ سے تعلق رکھتاتھا۔صبا ٹوانہ صاحبہ نے اپنی کتاب” چنگیز خان“جو افسانوی طرز پر لکھی ہے ،میں اس کی متمدن، تہذیب یافتہ مسلم دنیا پرظلم، قتل و غارت اور انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنا کر اپنی انا کی تسکین کیا کرنے کی داستان بیان کی ہے۔ شاید ہی دنیا میں کوئی اس جیسا خونخوار بھیڑیا سور جیسی صفت والا حکمران گزرا ہو۔ہٹلر بھی ہولو کاسٹ کے حوالے سے مشہور ہوا تھا مگر تاریخ نے اس واقعہ کو غلط اورمبالغہ آمیز کہا ہے۔
اس کا اصل نام تموچن تھا جو بعد میں ایک مشاورتی اجلاس میں چنگیز خان کے نام، یعنی سرداروں کا سردار سے مشہور ہوا ۔یہ صحرائے عرب کی طرح صحرائے گوبی کے ایک خانہ بدوش وحشی چھاپہ مار قبیلہ، یاکا مغل کے سردار یسوگائی کا بڑابیٹا تھا۔

(خبر جاری ہے)

ان قبائل کا ایمان نیلے جاوادانی آسمان کو مانے والے میں سے ہے۔اس نے ایک وحشی اور غیر مذہب فیصلہ کیا تھا جو اس نے ساری زندگی استعما ل کیا۔ دشمنوں کے ساتھ رعایت نہیں کرنی، ظلم ،شقادت، بے رحمی اور سفاکی کو اپناشعاربنایاتاکہ جابر قوت مرغوب ہو جائے۔

روجربیکن کہتا ہے کہ” چنگیز خان منگولیاکادجال تھااور مغل دجال کے سپاہی تھے“چنگیز خا ن نے پہلے چھاپا مار جنگ دریائے انگورڈا کے پاراپنے پڑوسی قبیلے تائی جوت سے لڑی اور اس کے زرخیز علاقے پر قبضہ کیا اور اپنی سرداری کو مستحکم کیا۔نیلے جاوادانی آسمان کو مانے والے چنگیز خان نے اپنی سرداری مستحکم کرنے کے بعد اپنے باپ کے دوست تغرل خان جو ایک طاقت ور قبیلے کا سردار تھا سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور اپنی سرداری کو مذید طاقت ور بنایا۔
چنگیز خان نے دوسرے لڑائی اپنے دشمن ترغاتائی سے لڑی اور اُسے شکست دی۔ترغا تائی کو شکست سے دوچاکرنے پر خانہ بدوش قبائل تاتاری،منگول مرکیت، قرایت، نائیان اور ایغوران جو کہ عظیم دیوار سے لیے کر مغرب میں وسط ایشیا کی دور دراز پہاڑیوں تک چراگاہوں کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لڑ تے جھگڑتے رہتے تھے اب یہ سب چنگیز خان کے پرچم تلے جمع ہو گئے تھے۔جھیل بیکال کے اررد گرد بسنے والے خانہ بدوشوں کو ایک مدت بعد ان کی خواہش کے مطابق، ایک طاقت ور خان مل گیا۔
چنگیز خان نے تمام خانہ بدوش قبائل کو ایک مرکز پر جمع کر لیا۔ تغرل خان نے چنگیز خان سے غداری کرتے ہوئے اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ تغرل خان جسے چینیوں نے اونگ خان کا لقب دے رکھا تھاسے لڑائی کاطے کیا۔چنگیز خانے تغرل خان کو شکت دی مشہور شہر قراقرم پر قبضہ کرلیا۔ اب چنگیزخان صحرائے گوبی کا واحد حکمران بن گیا۔گوبی کے شمالی حصے سے لے کر کرٹنڈرا اور سائبیرا تک اور مغرب میں قراقرم سے مشرق میں منچوریہ تک صرف چنگیز خان کی طاقت کا طوطی بول رہا تھا۔
ان اسے عظیم سمندر کہا جانے لگا۔عجیب اتفاق ہے یا اس نے قریب کی متمدن دنیا کے اصولوں تک رسائی حاصل کی ہوگی کہ اس سراسراجڈ، وحشی،خونخوار اور ان پڑھ نے ”یاسا“ کے نام سے اپنی قوم کو وہ قانون،ضابطہ حیات۔دستور و آئین دیا جو متمدن قوموں سے ملتا جلتا تھا۔ اسی” یاسا“ قانون نے وحشیوں کو انداز جہان بانی سکھائے۔چنگیز خان اب دیوار چین پھلانگ کر مہذب دنیا کو فتح کرنا چاہتا تھا۔ چین جہان تین ہزار سال سے لوگ بڑی پر سکون زندگی گزار رہے تھے۔
ان وحیشی قبائل سے بچنے کے لیے چینیوں نے دیوار چین جو دنیا کا عجوبہ ہے تیار کی ہوئی تھی۔ یہ اسی طرح کی دیوار ہے جیسے قرآن میں جوج مجوج وحشی قبائل سے بچنے کے لیے کوہ قاف کے پہاڑوں کے درمیان میں دربند میں تانبہ پگلا کر تیار کی گئی تھی۔ چنگیز خان نے چین پر حملے سے پہلے دیوار چین کے دروازوں کے سامنے اپنے جھنڈے گھاڑ دیے تھے۔اس وقت چین کے لیاؤ خاندان نے چین کے خاندان زرین سے سلطنت چھین لی تھی۔
چنگیز خان نے دیورا چین کے سامنے پڑاؤ کیا۔ دیوار چین کے بڑے دروازوں کے محافظوں کو تحائف دے کر رام کر لیا اور بغیر قطرہ خون بہائے چین میں جنگیزخان کی فوجیں داخل ہو گئیں۔ پہلی مرتبہ ایک وحشی نے چین کی متمندن دنیا کے نظارے دیکھ کر حیران رہ گئے۔شہروں میں کشادہ او رپختہ سڑکیں اور محل نما مکانات دیکھ کرہکابکہ رہ گیا۔چین میں داخل ہونے کے بعدچین کی ٹڈی دل فوج کو ناکوں چنے چباؤ اور سامنے آنے والی ہر فوجی دستہ کو تہ تیخ گیا۔
یہ ۱۲۱۱ء کا سال تھا جسے چینی جنتریوں کے مطابق بھیڑ کا سال کہا جاتا ہے۔یہ وہ سال تھا جب صحرائی بھیڑیوں نے چینی بھیڑیوں پر حملہ کر کے ان کی تکا بوٹی کر دی تھی۔ چنگیز خان قتل و غارت کے بعد واپس اپنی ہیڈ کواٹر چلا گیا۔چنگیز خانے اپنے تین بیٹوں کے ہمراہ ایک بار پھرچین پر حملہ کر دیا۔ چین کے کافی شہر فتح کر لیا حسن اتفاق کہ چنگیز خان اس لڑائی میں زخمی ہو گیا۔ پھر وہ واپس لوٹ گیا۔ تیسری بار پھر چنگیز خان ے چین پر حملہ کر دیا اور عزم کیا کہ اس دفعہ پورے چین کو فتح کرنا ہے۔
چنگیز خان نے واقعی چین کو فتح کیا اورمقولی بہادر کو چین کا حکمران بنا دیا اور قراقرم چلا گیا۔ چنگیز خان نے اپنا ہیڈ کواٹر قراقرام(یعنی کالی ریت کاعلاقہ) کو بنایاتھا۔چنگیز کے چار بیٹے تھے۔بڑا بیٹا جوجی خان میر شکار مقرر ہوا۔چغتائی میرقانون یعنی ”یاسا “کا محافظ۔اوغدائی میر مشاورت اور تولی فوج کا سپہ سالار مقرر ہوا۔جوجی کے بیٹے باتوخان نے روس کو فتح کیا۔چغتائی کو وسط ایشیا ورثے میں ملا جس کی اولاد ظہرالدین بابر نے ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی۔
تولی کو چین ملا جس کے بیٹے ہلاکو خان ایران سے لیکربغداد تک ایل خانی حکومت کی داغ بیل ڈالی۔ چنگیزخان نے اپنے سیانوں سے اسلا می سلطنت کے میمنے یعنی خوارزم شاہ کو شکست دینے کی تدبیر کا پوچھا۔ سب نے حملہ کر د ینے کا مشورہ دیا۔ چنگیز خا نے حملے کی بجائے خوارزم شاہ سے تجارتی معاہدہ کیا اور سے طرح اپنے جاسوس اسلامی دنیا میں پھیلا دیے جو تجارت کے ساتھ ساتھ چنگیز خان کو پل پل کی خبریں اور دشوار گزار پہاڑی راستوں کی معلومات فراہم کرتے رہے۔
اس وقت عباسی خلیفہ ناصر بغداد کے تخت پر بیٹھا تھا۔چنگیز خان نے اپنے فوجی ہیڈ کواٹر قراقرم میں اپنے بھائی کو اپنا قائم مقام بنا کر سب سرداروں کو ساتھ لے کر خوارام شاہ پر اپنی فوجوں کو حملہ کے تیار کیا۔ اس وقت اسلامی دنیا کی حالت بقول شاعر اسلام علامہ اقبال یہ تھی کہ” آ، تجھ کو بتاؤں میں، تقدیر امم کیا ہے۔ شمشیر سنا اوّل طاؤس و رباب آخر“۔ ۱۲۱۹ء کا موسم بہار تھا چنگیز خان اپنی فوج کے ساتھ خوارزم شاہ پر حمہ آور ہوا۔
خورازم شاہ کی پانچ لاکھ فوج دریائے سائر کے کنارے کنارے پانچ سو میل تک باڑھ بنا کر پھیلی ہوئی تھی۔چنگیز خان کی فوج نے خوارزم شاہ کی فوج نے سب سے پہلے ترار کے قلعے کو فتح کیا۔ ہر طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں۔ چنگیز خان ہر حالت میں خوارزم شاہ کو شکست دینا چاہتا تھا۔ اسے یہ بھی فکر تھی کی کہیں آسمان پرتوں کے سامنے خدا پرست صف آرا ہو گئے تو اور افریقہ سے ہندوستان کی مسلم فوجیں اکٹھی ہو گئیں تو شاید میں واپس قرقرام نہ جا سکے۔
چنگیز خان اسلامی دنیا کے قلعوں کو فتح کرتا ہوا بخارا کی طرف بڑھا اور اسے فتح کر لیا ۔بخارا کاگورنرگوک خان فرار ہو گیا۔ تاشقند کو تہ تیغ کر دیا گیا۔چنگیز خان نے ۱۲۲۰ء میں سمر قند پرقبضہ کر کے ہر چیز کر خاک میں ملا دیا۔ وہ بلخ کے دروازے پر پہنچ گیا۔خوارزم شاہ ملکوں ملک بھاگتا رہا آخر وہ بحیرہ خزر کے ایک جزیرے میں ایک مہلک بیماری میں مبتلا ہو کر مر گیا۔ خوارزم شاہ کا آبائی شہر بھی تباہ کر دیا گیا اور اس کو والدہ کو بھی قیدی بنا لیا گیا۔
پھر”مرو“کا شہر جو ریگستان کے بیچ میں واقع تھا اوربیابان کا پھول کہلاتا تھا کو ایسا تباہ کیا کہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔نیشا پور بھی تباہ کر دیا گیا۔ ہرات اور بامیان کی طرف پیش قدمی کی۔ دس روز کے اندر اندر شہر فتح کر لیا اور حسب معمول قتل عام کر کے ہر چیز تباہ کر دی گئی۔ خوارزم شاہ کا بیٹاسلطان جلالالدین چنگیز خان کے خلاف آخر دم تک لڑتا رہا آخر دریائے سندھ کے کنارے آخری لڑائی میں دریا سندھ عبور کر کے ہندوستان کی طرف چلا گیا۔
چنگیز خان نے اس کی بہادری کی تعریف کی تھی۔چنگیز خان نے دریائے سندھ سے بحیرا خزر تک اور بحیرا خزر سے تبت تک کے علاقے فتح کر لیے۔ جس میں چین، روس اور خورازم شاہ کی سلطنت کے مسلم علاقے شامل تھے۔ چنگیز خان نے تھک کر اور بڑھاپے کی وجہ سے واپس قراقرم جانے کا فیصلہ کیا۔راستے میں ایک سور نے اس پر حملہ کیا اور اسے اندرونی زخم آئے۔ سور کی سی عادتوں والے چنگیز خان کو سور کے حملہ کی وجہ سے ۱۲۲۷ء میں موت ہوئی۔
چنگیز خان نے لاکھوں مسلمان جن کو غلام بنایا تھا بغیر قصور کے ان کے سر مولی گاجر کی طرح کاٹ دیے۔ انسانی کھوپڑیوں پر اپنا محل تعمیر کیے تھے۔ چنگیز خان کی خواہش کے مطابق قراقرم میں برخا ن کلدون کی پہاڑی کا وہ دامن منتخب کیا گیا جہاں صنوبر کے درختوں کی بہتات تھی۔سور والی صفت کے جنگیز خان کی قبر کے ساتھ چالیس خوبصورت لڑکیوں کو بھی دفن کیا گیا۔ چنگیز خان کے گھوڑے کے ساتھ چالیس سفید گھوڑے بھی دفن کیے گئے۔ یہ شخص اپنی موت کے بعد بعد ان گنت انسانی کھوپڑیوں کے مینا ر چھوڑ کیا۔ اس ظالم کا کیا دھرا سب کچھ یہیں رہ گیا ۔ کروڑوں انسانوں کو تہ تیغ کرنے والے سفاک قاتل ضرور دوزخ میں ڈالا جائے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

میر افسر امان کے بدھ ستمبر کے مزید کالم