ہن بندہ بڑھک وی نہ مارے

جمعہ ستمبر    |    محمد ثقلین رضا

برسوں پہلے جب لولی وڈ فلم انڈسٹری میں سلطان راہی مرحوم کاسکہ چلتاتھاتو ہرسو بڑھکیں ہی بڑھکیں سنائی دیتی تھیں‘ بلکہ بعض حوالوں سے پتہ چلتاہے کہ پاکستان کے لوگ خصوصاًپنجابی طبقہ تو اس معاملہ میں خودکفیل واقع ہوا کرتاتھا‘ کہ بات بات پر بڑھک‘ ان دنوں کہاجاتا کہ سلطان راہی فلم میں ہواوراس میں بڑھک نہ ہوتو پھر سلطان راہی کو سلطان راہی کون کہے گا ۔ کسی دل جلے نے مشورہ دیا کہ سلطان راہی کو اس فلم میں گونگے کاکردار ادا کرنے کوکہاجائے تو آفاقے کی امید ہے مگر سامنے والے نے جواب دیا کہ فلم کے کلائمکس میں کہیں نہ کہیں سلطان راہی کو بولناتوپڑیگا جب سلطان راہی دس منٹ بولے گاتو اڑھائی گھنٹے کی کسر نکل جائیگی۔
خیر وہ ایک خوبصورت دورتھا البتہ بعض حوالوں سے بڑھک بازی کو آڑے ہاتھوں بھی لیاگیا۔

(خبر جاری ہے)

آج سلطان راہی دنیا میں نہیں مگران کاکام آج کے سیاستدانوں اورعوام نے خود سنبھال رکھاہے بلکہ حیرت کی بات ہے کہ یہ ہوا پڑوسی ملک تک بھی پہنچی ہوئی بلکہ خوبی پہنچی ہوئی ہے ‘ برسوں بیشتر سلطان راہی کے مقابل پڑوسیوں نے سنی دیول بیچارے کو لانے کی کوشش کی مگر بیچارا جٹ پنجابی ہونے کے باوجود بھی مار کھاگیا اوربڑھک کے معاملے میں پیچھے رہ گیا بلکہ بڑھک مارتے ہوئے چہرے پروہ تاثر نہ لاسکا جو سلطان راہی مرحوم کی شخصیت کاخاصہ تھے۔

خیر جیسا کہ عرض کررہے ہیں کہ سلطان راہی مرحوم کے اثرات پڑوسی ملک بھی پہنچے اور اس قدر خوب پہنچے کہ آج تک پڑوسی ملک کی قیادت اس سے نہیں نکل پائی۔ بلکہ ہمارے ہم پیشہ حضرات بھی اس معاملے میں خود کفیل واقع ہوئے ہیں بیچارے بات بات پر بڑھک تو مار دیتے ہیں لیکن انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ زبان سے بولنا آسان مگر میدان میں آکر مقابلہ کرناکتنا مشکل ہوتاہے۔خیر برسوں بیشتر 11مئی 1998 کو اگر ذہن میں رکھیں تو لال قلعہ بھی یاد آجاتا ہے جب اس وقت کے پردھان منتری اٹل بہاری واجپائی نے تلوار لہراتے ہوئے پاکستان کو للکارا اور بڑی بڑی بڑھکیں ماری تھیں مگر یہ غبارے کی یہ وقتی ہوا 28مئی کو اس وقت ہوا ہوگئی جب پاکستان نے بیک وقت پانچ ایٹمی دھماکے کردئیے۔
یہ ہوا اس وقت تک ہوا رہی جب تک ڈبل کیریکٹرکے حامل ”امریکہ بہادر “ نے اس کی پشت پناہی نہ کی‘ اب مودی سرکار کی گیند میں ابھی تھوڑی سی ہی ہوا بھری تھی کہ گیند نے اچھلنا شروع کردیا کسی نے کہا ”مودی جی ‘ آپ کی گیند بہت اچھل رہی ہے ذرا سنبھل کے“ بولے ”اس میں میرا قصور نہیں بلکہ یہ گیندمیں بھری ہواکا کمال ہے“ اب بھلا بندہ کس کوگلہ کرے گیند کو یا گیند میں ہوا بھرنے والے کو ‘بیچارے نے حد سے زیادہ ہوا بھرکر گیندکو خواہ مخواہ اچھلنے پر مجبورکردیا ہے اور بیچاری ہے کہ کسی جگہ ٹکنے کانام نہیں لے رہی ۔
ہواتو پڑوسی ملک کے میڈیا کی گیند میں بھی حد سے زیادہ بھر دی گئی کہ کسی جگہ ٹکنے کانام ہی نہیں لے رہا۔ مودی سرکار نے فیصلہ کیا نہیں‘ آرمی ‘دیگرا فواج کے ذہن میں تھا نہیں اور میڈیا چلا جنگ کرانے‘ بڑے بڑے میڈیاہاؤسز میں بیٹھے لوگوں کو پتہ نہیں تھا کہ پاکستان اس معاملے کواس قدر سنجیدہ لے گا ‘ جونہی موٹروے پر فضائیہ کے جانبار اترے‘ افواج نے سرحدوں کارخ کیا تو بیچارے مودی کھسیانے ہوکر کہتے ہونگے” ہن بندہ بڑھک وی نہ مارے“برسوں بیشتر ایک کہانی سننے کو ملی کہ ایک شخص دریا میں گرگیا ‘ کوئی پانی میں کود کر اس شخص کی جان بچانے کو تیار نہیں تھا ‘ ایک خدا ترس کے دل میں جانے کیا آئی کہ وہ دریامیں کود گیا‘ خیردونوں باہر نکل آئے‘ سب نے جان بچانے والے کی بڑی تعریف کی اوربہادر کالقب جڑ دیا مگر وہ شخص غصے سے بھرا باربار یہی کہے جارہاتھا کہ ”بتاؤ مجھے دھکا کس نے دیاتھا“ یعنی اب پڑوسی ملک کا میڈیا مودی سرکار کو جنگ کے میدان میں دھکا دینے پرتلا ہوا ہے ۔
فی الوقت تو مودی سرکا را ور افواج لڑنے کو تیار نہیں کہ”ہن بندہ بڑھک وی نہ مارے“
برسوں سے پڑوسی 1971کے سانحہ کو یاد کرکرکے بہت بڑھک بازی کرتے رہے جبکہ حقیقت یہی ہے کہ اگر ہمارے ہاں کے غدار کام نہ دکھاتے تو دنیا 1965 کادوسرا روپ ضروردیکھتی۔خیروہ زخم آج بھی پاکستانی قوم کو یاد ہے مگر وہ زخم پڑوسیوں سے زیادہ گھر والوں کا لگایا ہوا ہے اور اس زخم پر نمک چھڑکنے کافریضہ بھی گھر والے انجام دیتے رہے اورآج تک یہی فریضہ انہی کی طرف سے انجام دیاجارہاہے۔
سیانے کہتے ہیں کہ اگر گھر میں اتفاق ہو تو بیرونی بڑے دشمن سے مقابلہ آسان ہوتا ہے مگر نااتفاقی کی صورت میں چھوٹا مگر کمزور دشمن بھی حاوی ہوتاہے اسی قول کے مصداق ہمیں اپنے گھر کی نااتفاقی لے ڈوبی تھی ۔ وہ 1971 تھا اور آج 2016 ء ہے ‘ آج جنگیں میدانوں میں نہیں کمروں میں بیٹھ کر لڑی جاتی ہیں‘ ہوا میں رقص کرتے جنگی طیاروں کی اہمیت اپنی جگہ مگر جو کام کمرے میں بیٹھا ایک شخص بٹن دباکر کرسکتاہے وہ کام درجنوں طیارے بھی نہیں کرسکتے۔
بڑھک بازی پڑوسی جان بوجھتے ہوئے کہ پاکستان دنیا کی ساتویں بڑی ایٹمی قوت ہے اور اس کا دفاعی نظام بھی ان سے (پڑوسیوں) سے کہیں بہتر ہے اس کے باوجود بڑھکوں پر بڑھکیں مارتے ماحول کو خراب کرنے اور مودی سرکار کو ”لاچے “ سمیت میدان میں اترنے پر مجبورکررہے ہیں۔ایک بہت پرانا لطیفہ تھوڑ ی سی ترمیم کے ساتھ کہ گلی میں سے گزرتے ہوئے ایک شخص پر کسی نے دوسری منزل سے دال پھینکی ‘ اس شخص کو بڑا ہی غصہ آیا اس نے بڑی زور دار آواز میں بڑھک لگائی ”کون اے اوئے“ جواب میں میخنی سے آواز سنائی دی ” میں ہوں“ وہ شخص اور شیرہوگیا اور بولا ”ذرا تھلے تے آ“ مگر میخنی سی آواز کامالک شخص جب نیچے تو گلی میں کھڑا وہ شخص دہل گیا اورنہایت ہی عاجزی سے بولا ”دسو جی ہن بندہ بڑھک وی نہ مارے‘
صاحبو! بڑھک بازی دشمن پر رعب ڈالنے کیلئے درست مگر اس وقت تک درست جب اپنے حالات درست ہوں ‘ پڑوسیوں کو اس وقت راکھ میں دبی خالصہ تحریک جیسی چنگاری کا بھی سامنا‘ کشمیر ان سے سنبھل نہیں رہا ‘ کئی دوسری اندرونی تحریک اپنی جگہ کام دکھارہی ہیں اور چلے ہیں پاکستان کی طرف ہاتھ بلند کرکے بڑھکیں مارنے‘ پڑوسیوں کاوار بلوچستان میں ناکا م ہوا ‘ کراچی میں را کے پروردہ بے نقاب ہوئے ‘اب الحمدللہ صورتحال بہتر ہے ۔
عرض صرف اتنا کرنا ہے‘سیانے کہتے ہیں کہ بندے کا قد چھ فٹ ہوتو اپنی جسامت سے دو فٹ کم ظاہرکرے اور اپنی جسامت کے مطابق قدم بڑھائے ‘سو پڑوسیوں کویہی مشورہ ہے کہ ”دھیرج مہاراج کہیں جنگ کے میدان میں اترتے ہی آپ کی دھوتی نہ کھل جائے“۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد ثقلین رضا کے جمعرات ستمبر کے مزید کالم