شائد کسی عقل مند کو عقل ہی آجائے

اتوار ستمبر    |    ارشاد بھٹی

جہاں افتخار عارف سے اداکارہ میرا زیادہ مقبول ہو ، جہاں مرد ایک غسل کے بعد پاک جبکہ عورت کو پاکیزگی ثابت کرتے کرتے عمر بیت جائے ، جہاں جھوٹ اور غیبت کاروبار ٹھہرے، جہاں پگڑی اچھالنا قابلِ فخر کارنامہ ،جہاں اہلِ علم کو کوئی پوچھے نہ جبکہ جہلا ء کو سلام ٹھوکے
جا ئیں،جہاں زیادہ تر لوگ وہ مکھیاں جو پورا تندرست جسم چھوڑ کر زخم ڈھونڈتی پھریں،جہاں گاڑی تک پہنچنے سے پہلے ہی ریموٹ سے دروازہ کھولنے والا، رات سونے سے پہلے ناشتے کیلئے انڈے اور ڈبل روٹی لانے والا ، بادل دیکھ کر چھتری نکالنے والا، اندھیرا ہونے سے پہلے روشنی کا انتظام کرنے والااور جہاں سفر پر جانے سے پہلے گاڑی کی ہوا،پانی اور پٹرول چیک کرنے والا قبر اور حشر کے بارے میں یہ کہہ کر بات ختم کردے کہ ”اللہ غفور ورحیم ہے، دیکھی جائے گی “ وہاں کچھ بتانا ، کسی کو سمجھانا یا مفت مشورہ دینا کسی بے وقوفی سے کم نہیں مگر پھر بھی آج یہ بے وقوفی اس لیئے کر رہاکہ شائد کسی عقل مند کو عقل آ ہی جائے۔

(خبر جاری ہے)


جب ڈنمارک پاناما لیکس کی دستاویزات 10لاکھ پونڈ میں صرف اس لیئے خرید چکا کہ وہ اپنے ملک کے ٹیکس چوروں کو پکڑ سکے ، تب پاناما لیکس پر ہمارا حال یہ کہ نیب کہے ”یہ اخباری خبر، اس سے ملنا کچھ نہیں اور ایسی تحقیقات ہمارے دائرہ اختیارات سے باہر“ ،سٹیٹ بینک یہ کہہ کر جان چھڑالے ” ہمارے پاس اتنی طاقت کہاں کہ ہم دنیا بھر سے پاکستانیوں کی جائیدادوں کی تفصیلات حاصل کرتے پھریں “، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن یہ کہہ کر بری الذمہ ہوجائے کہ ”جو کمپنیاں انکے پاس رجسٹرڈ چونکہ ان کمپنیوں کے اکاوٴنٹس سے کوئی لین دین یا پیسہ باہر نہیں بھجوایا گیا لہذا وہ کاروائی سے قاصر“ اور پورے ملک کو چکر چڑھادینے والی ایف آئی اے مسکین لہجے میں بولے ”پاناما لیکس سے ہمارا کیا تعلق، یہ تو نیب یا ایف بی آرکا معاملہ“،اب ایک طرف بڑوں کے خلاف اپنے اداروں کا یہ حال جبکہ دوسری طرف بڑوں کی پالیسیوں کی یہ حالت کہ گذرے 3سالوں میں نواز حکومت نے 24ارب ڈالر کا قرضہ لے لیا، ایکسپورٹ 4ارب ڈالر نیچے آگئی اور دنیا کے 84ملکوں سے پاکستان کا تجارتی بیلنس خسارے میں اور پھر ان لمحوں میں جب امریکہ بھارت کو گود لے چکا ،بھارت اور افغانستان ایک ہو چکے اور جب ایک غیر ملکی ٹی وی چینل یہ سازش بے نقاب
کر ے کہ امریکی خفیہ ادارے اپنی ایک ائیر بیس پر نقلی حملہ کرواکر اس کا الزام پاکستان پر لگانا چاہتے تھے تا کہ دنیا بھر میں یہ ثابت کیا جاسکے کہ ہر برائی کی جڑ پاکستان اور یہی چینل بتائے کہ خفیہ طاقتیں پاکستان کے ٹکڑے کرنے کیلئے دن رات ایک کیئے ہوئے ، اب ایک طرف ہمارے سب دشمن United جبکہ دوسری طرف باہم دست وگریباں ہم کتنے Divided اس پر کیا بات کرنی ،یہ مجھ سے زیادہ آپ بہتر جانتے ہیں !
جوقوم اپنے حکمرانوں سے ان کے اثاثوں کا حساب نہیں مانگ سکتی ،وہ بھارت سے کشمیر کیا مانگے گی ۔

اسپتالوں میں چھاپوں کیلئے جانے والے جب اسپتالوں میں علاج کیلئے جائیں گے ،تب چھاپے مارنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی ۔
آئن سٹائن نے کہا میں نے ہر چیز Calculateکر لی حتی کہ Speed of lightبھی ،مگر میں لوگوں کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپی انکی نفرت کبھی Calculateنہ کر پایا ۔
ایک شخص نے کسی بزرگ سے کہا ”میں سکون چاہتا ہوں “بزرگ بولے ”اگر سکون چاہتے ہو تو اس جملے سے پہلے” میں“ نکال دو کیونکہ یہ تکبر کی علامت ، پھر جملے سے” چاہتا ہوں“ کاٹ دو کیونکہ یہ خواہشِ نفس کی نشانی ، یہ کر دو گے تو سکون زندگی بھر تمہارا پیچھا کر یگا ۔

معافی غلطیوں کی ہوتی ہے ،زیادتیوں کی نہیں ۔
جسے ”میں “کی ہوا لگی ،پھر اُسے نہ دوا لگی نہ دعا لگی ۔
بے عمل عالم کی مثال ایسے ہی جیسے اندھے کے ہاتھ میں چراغ۔
جو لوگ فائدے میں کسی کو شریک نہیں کرتے ،پھر انہیں نقصان بھی اکیلے ہی اُٹھانا پڑتا ہے ۔
اگر کھانے میں کوئی زہر گھول دے تو اس کا علاج ممکن لیکن کوئی کان میں زہر گھول دے تو اس کا علاج ناممکن ۔
ویسے تو سچ کی بہت ساری تعریفیں مگر سچ کی سب سے سچی تعریف یہی کہ سچ وہی جو ہم سننا چاہتے ہیں۔

جب گناہ کے کاموں میں دل لگنے لگے تو سمجھو تمہار ا ربّ تم سے ناراض اور جب گناہوں کے بعد بھی تمہیں نعمتیں ملتی رہیں تو سمجھو اللہ رسی دراز کر رہا ۔
اسلام کو دنیا کی نظر سے نہ دیکھو بلکہ دنیا کو اسلام کی نظر سے دیکھو۔
پریشانیوں کی گنتی کا ماہر انسان نجانے کیوں نعمتوں کا حساب بھول جاتا ہے ۔
ایک بچے کا سمندرمیں جوتا کھو گیا وہ روتے روتے بولا ” سمندر چور ہے“،ذرا آگے ایک مچھیرے نے سمندر میں جال پھینکا اورجب بہت ساری مچھلیاں جال میں آگئیں تواس نے خوشی سے جھوم کرکہا ”اے بحر سخاوت تم سے اور تم سخاوت سے“، تھوڑا دور ایک نوجوان غوطہ خور نے سمندر میں غوطہ لگایا اورجب وہ غوطہ اسکا آخری غوطہ ثابت ہوا تو کنارے پر دھاڑیں مارتی ماں سمند ر کو دیکھ کر چیخی ”تم قاتل ہو“ ،اور پھر اس دُکھی ماں سے چند قدم آگے جب ایک بڑی لہر ساحل پر بیٹھے بوڑھے کے آگے موتی پھینک گئی تو فرحتِ جذبات میں بوڑھا چلایا ”اے سمندر تو کتنا مہربان “۔
بتانے کا مقصد یہی کہ ہر شخص وہی سمجھے یا کہے جو اس کے ساتھ بیتے یا جو کچھ وہ دیکھے یا سنے اور یہ ضروری نہیں وہ سچ بھی ہو، لہذا جب کوئی آپکے بارے میں کچھ ایسا کہہ دے جو آپ میں نہیں تو برا نہ منائیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جہاں وہ ہے وہاں سے اُسے تم میں وہی کچھ دکھائی دے رہا ہو، جو وہ کہہ رہا ہے۔
ایک بزرگ سے کسی نے پوچھا زہر کسے کہتے ہیں، بولے ” ہر وہ چیز جو ضرورت سے زائد ہو زہر ہے، خواہ وہ قوت ، اقتدار، دولت ، بھوک ،اَنا ، لالچ ، سستی ، محبت ، ہمت ، نفرت ہو یا خو ف ، جو چیزبھی ضرورت سے زیادہ ہوگی وہ ایکدن زہر بن جائے گی“،سوال ہوا خوف کس شے کا نام،جواب آیا ”غیرمتوقع صورتِ حال کو قبول نہ کرنے کا نام خوف ہے، اگر ہم غیر متوقع صورتحال کو قبول کر لیں تو پھر خوف کی بجائے یہ سب کچھ ہمارے لیئے ایک ایڈونچر اور ایک مہم ہو جائے گا “پوچھا گیا حسد کیا ہے ،جواب ملا ” دوسروں کی خیر اور خوبی کو تسلیم نہ کرنا حسد کہلائے اور اگر ہم دوسروں کی خیر خوبی تسلیم کرلیں تو پھر یہ حسد رشک اور انسپریشن میں ڈھل کر ہمارے آگے بڑھنے کا ذریعہ بن جائے “، سوال کیا گیا، غصہ کس بلا کا نام ہے، بزرگ بولے ”جو اُمور ہمارے قابو سے باہرہو جائیں ، ان کو تسلیم نہ کرنے کا نام غصہ ہے اگرہم تسلیم کر لیں تو غصے کی جگہ خودبخود ہی عفو، درگزر اور تحمل جیسے جذبات لے لیں گے “ پوچھنے والے نے آخری سوال کیا کہ نفرت کسے کہتے ہیں، بزرگ مسکرا کر بولے ”کسی کو جیسا وہ ہے ویسا تسلیم نہ کرنے کا نام نفرت ہے ہاں اگرہم غیر مشروط طور پر اسے جیسا وہ ہے ویسا ہی تسلیم کر لیں تو نفرت کی جگہ ہمیں اس سے غیر مشروط محبت ہو جائے گی ( یہ سب تب تک پڑھیں جب تک بات سمجھ نہ آئے)۔

علم یہ کہ آپ کو معلوم ہو کہ کیا کہنا جبکہ حکمت یہ کہ آپ کو معلوم ہو کہ کب کہنا ، علم کتاب سے نہیں نصیب سے ملتاہے ۔سورج کے پاس علم نہیں روشن نصیب ہے ۔ہر عارف عالم ہوتا ہے مگر ضروری نہیں کہ ہر عالم ،عارف بھی ہواور یاد رہے کہ ہماری تعلیم علم نہیں ، ہماری تعلیم کا تعلق ڈگری سے جبکہ علم ڈگریوں اوریونیورسٹیوں سے بے نیاز ، یونیورسٹیوں میں تو اکثر ان کی کتابیں بھی پڑھائی جائیں جو خود کسی یونیورسٹی کے طالب علم نہ تھے اور پھر تعلیم تو ہوتی ہے نوکر ی کیلئے ،نوکری چاہیے حصولِ رزق اور سماجی مرتبے کیلئے لیکن علم کا مطلب نوکری کرنا ، روٹی کمانا یا حکومت میں آنا نہیں،علم تو پہچان ہے ، علم تو عرفا ن ہے اور پھر یہ بھی ذہن میں رہے کہ ضرورت کا علم اور شے جبکہ علم کی ضرورت اور شے ۔
اوراب آخر میں آخری نبی کافرمان ” ایسا اشارہ بھی حرام کہ جس سے کسی کو رنج ہو (اپنا حال دیکھ لیں )۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ارشاد بھٹی کے ہفتہ ستمبر کے مزید کالم