”نیا پاکستان نہیں،پرانا پاکستان بچاؤ“

منگل ستمبر    |    ممتاز امیر رانجھا

تاریخ گواہ ہے ہندوستان نے قیامِ پاکستان لیکر اب تک بارہا پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بُنا ہے۔ہندوستان نے پاکستان کو خدانخواستہ توڑنے کے لئے کیا سے کیا نہیں سوچا اور نجانے کون کون سے مذموم مقاصد کے حصول تک کی رسائی کے لئے کون کون سے پاپڑ نہیں بیلے۔پاکستان سے مغربی بنگال سے بنگلہ دیش بنانے میں ہندوستان کی کارستانیاں کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں۔مقبوضہ کشمیر کے چپے چپے میں پاکستانی پرچم لہرایا جا رہاہے۔
مضبوضہ کشمیر کے کونے کونے میں نوجوانوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔سالہا سال سے بھارتی درندے کشمیری خواتین کی عصمت دردی کر رہے ہیں۔بھارت جنگی مقاصد کو پھیلاؤ دینے کی ہر کوشش کرارہا ہے۔کشمیر (اوڑی) میں ہندوستان نے خود ہی ڈرامہ رچا کر اس کے تمام ذمہ دارکرداروں کو پاکستانی قرار دیا ہے۔

(خبر جاری ہے)

پاکستانی وزیرا عظم جناب میاں نواز شریف نے جب اقوام متحدہ میں تقریر کرنا تھی ٹھیک اس سے دو دن یہ ڈرامہ رچا کر پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنے کی ایک بہت سازش تھی۔

ہندوستان بغیر کسی ثبوت کے ہر الٹی کاروائی پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتاہے۔یہ تو اچھا ہوا کہ پاکستانی تاریخ میں پہلی دفعہ اقوام متحدہ کے فورم پر کسی پاکستانی وزیر اعظم نے ہندوستان کے کشمیر پر مظالم اور کشمیریوں کی آزادی کے لئے بہترین طریقہ سے آواز بلند کی ہے۔
اسی پر کہتے ہیں کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ،بھار ت اس سے پہلے بلوچستان میں بارہا اپنے ایجنٹوں کے ذریعے دہشت گردانہ کاروائیاں کر چکا ہے۔
پاکستانی فورسز کے ذریعے کلبھوشن دیو کا پکڑے جانا دراصل گندے ہندوستان کی گندی مذموم کڑی ہے۔علاوہ ازیں افغانستان کے رستے ہندوستانی ایجنٹ بارہا پاکستان میں کاروائیاں کر چکے ہیں۔پاکستان نے ہندوستان نے لاہور سمیت کئی شہروں میں دہشت گردانہ کاروائیاں کیں جنکے ٹھوس ثبوت ہندوستان کو دیئے جا چکے ہیں۔
ہندوستا ن نے پاکستان کو حالیہ دھمکی دیکر اپنی بزدلی کا خوب مظاہرہ کیاہے۔ہندوستانی فوج نے پاکستان میں کسی بھی وقت کاروائی کی دھمکی دیکر دراصل اپنے آپکومشکل میں ڈال دیا۔
ہماری فوج اور ہماری حکومت پاکستانی محبت سے سرشار ہے اور یہ فوج کسی بھی وقت ملکی حفاظت میں جام شہادت نوش کرنے سے نہیں کتراتی۔ہماری فوج کے علاوہ باقی سویلین لوگ بھی ملک پر خدانخواستہ جنگ مسلط ہونے کی صورت میں ملک کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کے لئے ہر دم تیار رہتے ہیں۔ساری دنیا نے دیکھ لیا ہماری فوج نے ہندوستانی دھمکی کے بر ی ،بحری اور فضائی فورسز نے جنگی مشقیں کر کے ہندوستان کو خوف میں مبتلا کر دیا اور اب ہندوستانی ڈرپوک حکومت اور ہندوستانی ڈرپوک فوج پاکستان سے معافیاں مانگتے پھرتے ہیں۔
جنگ کرنا ہر دور میں مشکل ترین اور غیر محفوظ راستہ ہے لیکن اگر جنگ کسی فریق کی طرف سے مسلط کردی جائے تو پھر ہر مرد مومن پر ملک و ملت کے لئے جنگ کرنافرض ہو جاتا ہے۔الحمدو للہ ہم سار ے صاحب ایمان ہیں اور ہمارے ایمان کے سامنے ہندوجیسا پلید وجود ٹھہر نہیں سکے گا۔ملک پرجنگی وقت آنے پرہماری ساری حکومت،فوج اور عوام ہندوستان کو کچا کھائے گی انشاء اللہ۔
ایک طرف بیان کردہ جنگی حالات اور دوسری طرف پی ٹی آئی کے خان صاحب،چوہدری برادران،شیخ رشید لوٹہ گروپ اور طاہر القادری صاحبان جن کے مقاصد سیاسی کرسی اور حکومت کا حصول دھرنے کی صورت پاکستان کی ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔
ہر ملک میں ایسے حالات میں حکومت اور اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہو جایا کرتی ہیں ۔یہ محض ہمارا ملک ہے جہاں ٹیکس چور ملکر حکومت گرانا چاہتے ہیں ۔اپنے آپکو ایماندارثابت کر کے عوامی منتخب شدہ حکومت کو غلط ثابت کرنے والے شوخے باز وں کو درست سمجھنے والے یا تو احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں یا وہ کوئی اپنا کوئی غیر قانونی دھندہ حکومت سے بچانے کے چکر میں ہیں۔عمران خان،شیخ رشید،چودھری برادران اور طاہر القادری راتوں رات ایوان اقتدار پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔

ok۔بالفرض ہم مان لیتے ہیں کہ موجودہ حکومت غلط ہے لیکن یہ دھرنا گروپ اپنی حکومت آنے کے بعد کونسے ایسے اقدامات کرے گی کہ عوام سونے کی نوالے کھانا شروع ہو جائے گی۔عوام کو سب کا پتہ ہے ۔مشرف دور میں چودھری برادران نے کونسی کونسی عیاشیاں نہیں کیں۔کیا سے کیا نہیں لوٹا۔عمران خان نے مشرف دور میں،پی پی دور میں نہ تو کوئی دھرنا دیا اور نہ ہی جہانگرترین کے ذاتی طیارے پر مفت کی اڑانیں بھریں۔
سب سے پہلے تو ذاتی طیارے میں چلتی حکومت گرانے والوں کا ٹرائیل ضروری ہے۔عوام کیا بیوقوف ہے کہ جس کو پتہ ہی نہیں کہ ہر پانچ سال بعد بھی کتنی مشکلوں سے عام الیکشن ہوتے ہیں۔کتنی کثیر رقم سے الیکشن ہوتے ہیں اس کا اندازہ رکھنا ہر پاکستانی پر فرض ہے۔اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جب بھی کوئی پارٹی الیکشن ہارے گی یہی کہے گی کہ” صاحب دھاندلی ہوئی ہے،ہم تو دھرنا دیں گے“۔بھائی جان کون ان نام نہاد سیاستدانوں کو بتائے کہ اگر آپ میں اتنی اہلیت ہے تو تھوڑا عرصہ باقی ہے ۔
آپ اپنے ووٹرز کو اعتماد دیں ۔پھر الیکشن ہوں تو شائد آپ جیت جاؤ۔مگر یہ لوگ ہیں کہ الزامات،الیکشن اور دھرنے کے علاوہ نہ تو کچھ سوچتے ہیں اور نہ کچھ کرتے ہیں۔خان صاحب ایک سوال کا جواب دے دیں ،احقر نواز شریف کے خلاف لکھے گا،کوئی ان سے پوچھے کہ ان کی حکومت کو خیبرپختوانخواہ میں چار سال گزر گئے ہیں۔پورے خیبر پختوانخواہ میں ایک بھی برن سینٹر نہیں بنایا گیا۔انہیں ماسوائے سیلفیاں لینے اور دینے کے کوئی کام باقی ہیں نہیں۔
جو ٹائم بچتا ہے وہ نئی شادی کے چکر میں گزار دیتے ہیں۔گو نواز گو کہنے والے آئندہ الیکشن بھی ہار جائیں گے اور پھر کہتے رہیں گے کہ دھاندلی ہوگئی ہے ہ تو دھرنا دیں گے۔صاحب یہ دھرنا حکومت کے خلاف نہیں بلکہ یہ دھرنا عوام کی ترقی کی قسمت پر دھرنا ہے۔آپ جس شہر میں دھرنا دیتے ہیں،نجانے وہاں کتنے گھروں کے چولہے بند ہو جاتے ہیں،کتنے کاروبار ٹھپ ہو جاتے ہیں۔طاہر القادری تو دھرنے کے چکرمیں زکوٰة،فطرہ اور قربانی لیکر رفو چکر ہو جاتے ہیں مگر خان صاحب دھاندلی ہوگئی کا نعرہ لیکر نئے دھرنے کی تیاری کرتے ہیں۔
خدارا ہو سکے تو ملک میں ترقی ہو نے دو،مداریاں چھوڑو،پانامہ لیک چھوڑو،ہندوستان پاکستان کے خلاف محاز آرا ئی کا سوچ سکتا ہے تو ہم اتفاق کا کیوں نہیں سوچ سکتے۔حکومت کرپٹ ہے تو عدالتوں میں ثابت کریں۔ذرا سوچیئے گا دھرنا گروپ غلط ہے یا حکومتی گروپ۔ حقیقت میں جب تک ہم عوام ایماندار اور اہل نہیں ہونگے تب تک اہل لوگ ایوان میں نہیں آئیں گے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ممتاز امیر رانجھا کے پیر ستمبر کے مزید کالم