کہاں گئے وہ لوگ

جمعہ ستمبر    |    محمد ثقلین رضا

جنوبی پنجاب(جسے سرائیکی وسیب کے نام سے بھی جانا مانا ،پہچانا جاتاہے) میں سرائیکی شاعری، ادب کی پہچان ملک بشیرگوندل کا شمار ایسے لوگوں میں کیاجاتا ہے جنہیں کسی پل چین میسر نہیں ہوتا، ایسے بے چین لوگ عموماً کچھ نہ کچھ کرنے کی تگ ودو میں مصروف رہتے ہیں،یہ ان کی بے چین طبیعت کا ہی کمال ہے کہ وہ گذشتہ ستائیس برس سے وسیب کے مہاندرے شعرا ، ادبا ،دانشوروں کو اکٹھا کرتے چلے آرہے ہیں۔ خاص طورپر دہشتگردی کے اس ماحول میں جبکہ سو پچاس افرادکا اکٹھ بھی محال دکھائی دیتا ہے ایسے میں ملک بشیر گوندل کی طر ف سے سرائیکی شعرا کا اکٹھ اورپھر وسیب کے ترستے، سرائیکی سے محبت کرنیوالوں کا بھاگے دوڑے چلے آنا بھی یقینا محبتوں کا اعجاز دکھائی دیتاہے۔
اکٹھ کالفظ جونہی ذہن میں آتاتو ماضی کی کتاب کھل کر آجاتی ہے، بہت سی دیکھی ان دیکھی باتیں، سنے سنائے قصے اور بزرگوں کی چسکے دار کہانیاں بھی کانوں میں گونجنے اور آنکھوں کی پتلیوں پر رقص کرنے لگتی ہیں۔

(خبر جاری ہے)

خیر عرض کررہے تھے کہ بشیر گوندل جیسی متحرک شخصیت سے بہت عرصہ تعلق ،واسطہ رہا اب یہ تعلق واسطوں کا محتاج نہیں رہابلکہ ا س کی بدولت مزید کئی واسطوں نے جنم لینا شروع کردیا ہے۔ہر ملاقات میں کوئی نہ کوئی اچھوتی کہانی سناتے ہیں، کسی نہ کسی سرائیکی شاعر، دانشور ،ادیب کا قصہ ان کے منہ سے سننے کو ملتا ہے، بلکہ ایک مشترکہ دوست نے یہ بتاکرحیران کردیا کہ سالوں سے مشاعرے میں آنیوالے سرائیکی شعرا اگر سٹیج پر شعر کا کوئی مصرعہ بھول جائیں تو بشیر گوندل لقمہ دیتے ہیں ،ان جیسا ہی ذوق ایم این اے ڈاکٹرافضل خان ڈھانڈلہ میں بھی پایاجاتا ہے، سرائیکی زبان وادب سے ان کی محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، تبھی تو انہوں نے ملک بشیر گوندل کے ساتھ ستائیس برس تک مسلسل مشاعرہ کے انعقاد میں تعاون کیا۔

برسوں بیشتر ملک بشیر گوندل کو مشاعرہ کیلئے شاعروں کا انتخاب کرنا پڑتاتھا ، دن رات دوستوں سے مشاور ت کی جاتی کہ ایسے کون سے شاعر کو بلایاجائے جو عوام کی توقعات پر پورا اتر سکے،کیونکہ ان ستائیس برسوں میں جہاں دنیاایک سے دوسری جانب کروٹ لے چکی ،ان تبدیلیوں نے شعر وادب کو بھی متاثر کیا ہے، اب حسن وعشق کے ساتھ ساتھ مزاحمتی شاعری، ادب بھی پروان چڑھ چکاہے بلکہ اب یوں کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مزاحمتی ادب اب پوری طرح جوان ہوکر ہرجگہ دوڑتا نظرآتاہے۔
اس کی بنیادی وجہ سماج میں پنپنے والے روئیے اور دنیا کی مزاجاً تبدیلی بھی ہے۔ دنیا نے مزاج بدلا تو ادب نے بھی دوسری طرف کروٹ لے لی ہے۔ اس بدلتے افکار، نظریات کا ایک نقصان بہرحال یہ بھی ہوا ہے یا پھر اسے ہماری کوتاہ نظری کہاجاسکتاہے کہ اب زمانے میں وہ محبتوں کے پرچارک نہیں رہے، یا شاید لوگوں کے پاس محبتوں کے اظہار کاوقت نہیں رہا اگر وقت ہوتاتو دنیا میں رو ز پنپتی نفرتیں کب کی دم توڑ چکی ہوتیں۔
خیر بشیر گوندل کے ضمن میں عرض کررہے تھے کہ وہ اس معاملے میں خاصے امیر واقع ہوئے ہیں کہ برسوں انہیں شاعروں کے انتخاب کیلئے تگ ودوکرناپڑتی مگر آج صورتحال بدل چکی ، اب سرائیکی کے مہاندرے شعر اکی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس سالانہ مشاعرہ میں شرکت کریں۔ گویا یہ ایک اعزاز اورسند بھی ۔
ملک بشیر گوندل یوں تو ہمیں بے شمار شعرا کاکلام سناتے اورپھراسکے پس منظر سے آگاہ کرتے رہتے ہیں ان کی یہی خاصیت انہیں ممتاز کرتی ہے کہ وہ باتوں میں الجھانے کا ہنر جانتے ہیں ان کے تلفظ میں سحر اورلفظوں میں چاشنی ہوتی ہے۔
جسے سن کر ماضی کے اس وسیب میں کھوجاتاہے جب ہرگھر میں محبت کھیلا کرتی تھی، گلیوں میں کھیلتے بچے بالے ، چھوٹی دیواروں والے صحن میں پیٹوگرام کھیلتی لڑکیاں، میدان میں دنگل ،دودہ لڑتے نوجوان، شام ڈھلے کسی ایک مخصوص مقام پر اکٹھے ہوکر دنیا جہان کی خیر خبر سے آگاہی حاصل کرنے والے بزرگ ہوا کرتے تھے ، بچوں کی محفل میں نوجوان، نوجوانوں کی محفل میں بزرگ ، بزرگوں کی محفل میں نوجوان محض تقاضہ ادب کے تحت نہیں جاتے تھے، بچوں کے ضمن میں پوچھنے والے کو بتانا پڑتا تھا کہ یہ فلاں کا بچہ ہے ،نوجوان چھوٹی دیواروں کے باوجود دوسری حویلی میں محض اس لئے نہیں جھانکتے تھے کہ ان کے اپنے گھر کی دیواریں بہت چھوٹی ہوا کرتی تھیں، ایک ادب، ایک لحاظ تھا جواب ختم ہوچکا، اب وہ ماحول تبدیل ہوچکا، اسی ضمن میں ہمیں ملک بشیر گوندل نے خوشاب کے معروف شاعر صفد ر راہداری کا سرائیکو(یہ جاپانی ہائیکو کی ایک شکل ہے) سنایاتھا ۔

نہ او دنگل ،نہ اودودہ
نہ او کوئی ہاسہ ،بوک
ہک تنور تے سارا ویہڑہ
ہک نلکے تے ساری جھوک
کن گئے ایجھے لوک
صفد رنے بہت ہی خوبصورت سے چند لفظوں میں ماضی کو آنکھوں میں پھر سے زندہ کردیا، اب جب کبھی ہم اپنے بچوں سے اس ماحول کاذکرکریں تو عجب طرح کے تبصرے سننے کوملتے ہیں، ایک کم سن نوجوان کہنے لگا ” اس دور میں لوگوں کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں تھا کیا؟ حیرانی سے پوچھا ”مطلب“ بولا” کیا ان کے بچوں کے پاس کمپیوٹر نہیں تھا کہ وہ دوسروں کے گھر جانے کی بجائے گھر بیٹھ کر کوئی گیم کھیل کھیلتے، ان کی بہنوں کے پاس ٹی وی نہیں تھا کہ وہ پڑوس کی سہیلی کے گھر ”پیٹو گرام“ کھیلنے پہنچ جاتی تھی، کیا لڑکوں کے پاس موبائل نہیں تھے کہ وہ کھیل کے میدان میں دنگل ،دودے کے لئے پہنچ جاتے اور کیا بزرگوں کو گھر والے گھر سے نکلنے کی اجازت دے دیاکرتے تھے کہ وہ رات گئے تک دنیا جہان کے قصے سنتے سناتے رہتے“ ہم آہ سی بھری اور کہا کہ ”ہاں ڈئیر!اب واقعی سب کچھ بدل گیا، واقعی اب بزرگوں کو گھر سے نکلنے کیلئے بیٹوں،بہوؤں سے اجازت لیناپڑتی ہے، کیبل، ٹی وی نے بچوں کو ایک کمرے تک محدود کردیا، موبائل نے رشتوں کو ایک انگلی پر تو محدود کرہی دیا ہے مگر دراصل وہ موبائل استعمال کرنیوالا اکیلاہوتا جارہا ہے۔
ظاہراً اس کی دنیا انگلیوں کے ٹچ میں چھپی ہوئی ہے مگر دراصل وہ تنہا ہوتاجارہا ہے۔
اسے اپنی بدقسمتی سمجھیں یا بدلتے ماحول کا فسانہ قرار دیں کہ سب کچھ بدل چکا، آنکھوں میں ان دھندلی دھندلی تصاویر کے خواب سجانے کی کوشش کریں تو آنکھوں میں صرف پانی کے چند قطرے ہی تیرتے نظرآتے ہیں کہ اب ان خوابوں کوبھی آنکھوں میں آنے کی اجازت نہیں ہے، سارا منظر نامہ بدل گیا ، دنیا اسے ترقی کا سفر قرار دے رہی ہے مگر روایات سے جڑے لوگ آج بھی اسے محرومی کا سفر سمجھتے ہیں، رشتوں، تعلقات، اخلاص سے محرومی کاسفر
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد ثقلین رضا کے جمعرات ستمبر کے مزید کالم