برین واشنگ

ہفتہ اکتوبر    |    سید بدر سعید

ہر تصویر کے کئی رخ ہوتے ہیں ۔ سوچ کا زاویہ بدل جائے تو منظر نامہ یکسر تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہی پراپگنڈے کا بنیادی اصول ہے ۔ چانکیہ نے کہا تھا کہ جھوٹ کو اس قدر دوہراؤ کہ وہ تمہیں سچ لگنے لگے ۔ ہندو آج بھی چانکیہ کے ”سنہری اصولوں“ پر عمل کرتے ہیں ۔ اسی پراپگنڈے کا میڈیا میں باقاعدہ استعمال ہٹلر نے کیا تھا ۔ جرمنی کی فوجوں کو شکست ہو رہی تھی لیکن ہٹلر کے میڈیا سیل نے ریڈیو پر فتح کے نعرے لگانے کا سلسلہ جاری رکھا ۔
عام شہریوں کو یہی معلوم تھا کہ جرمنی کی فوجیں آگے بڑھ رہی ہیں جبکہ فوجیں واپسی کے راستے پر پلٹ رہی تھیں ۔ علم تب ہوا جب ہٹلر اور اس کے ساتھی فرار ہو چکے تھے ۔ میڈیا کے ذریعے پراپگنڈے کے اس باقاعدہ آغاز نے ہٹلر کو صحافت کی کتب میں بھی زندہ کر دیا ۔

(خبر جاری ہے)


اب صورت حال یہ ہے کہ دنیا بھر میں پراپگنڈا باقاعدہ صحافت کا ایک شعبہ بن چکا ہے ۔ طالب علموں کو پراپگنڈے کے طریقے بتائے جاتے ہیں ۔ صحافت کی کتب میں پراپگنڈے کی تھیوریاں موجود ہیں ۔

ملٹی نیشنل کمپنیاں پراپگنڈے کا سہارا لے کر اپنی مصنوعات فروخت کرتی ہیں ۔ پراپگنڈا سیل کو خاص مراعات دی جاتی ہیں ۔ یہاں کلرک کی بجائے بھاری معاوضہ پر ”دماغ“ اکٹھے کئے جاتے ہیں اور نت نئے آئیڈیاز پر کام ہوتا ہے ۔ اب پراپگنڈے کے اصول اور قوانین بھی بن چکے ہیں ۔ پراپگنڈہ سیل کے ماہرین براہ راست کمپنی کی چیزیں نہیں بیچتے ۔ یہ برین واشنگ کرتے ہیں ۔ یہ مشروب ساز کمپنی میں جاتے ہیں تو چند روپے کی چھوٹی سی گیند بنانے والی کمپنی سے بھی معاہدہ کر لیتے ہیں کہ گیند بنانے والی کمپنی ان کے ادارے کا نام بے شک پرنٹ نہ کرے لیکن گیند کا رنگ وہی رکھے جو ان کے مشروب کی بوتل پر بطور لوگو چھپا ہوا ہے ۔
اس طرح بچہ گیند خریدتے وقت دکاندار کو بتاتا ہے کہ مجھے فلاں کولا والی گیند چاہئے ۔ یہ اس حربے سے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ذہن میں بھی اپنی کمپنی کا نام بٹھا دیتے ہیں ۔ یہ ان کی سرمایا کاری ہے کہ چند سال بعد بچے کے ذہن میں اسی کمپنی کا نام نقش ہو چکا ہوتا ہے اور وہ پیاس بجھانے کے لئے غیر ارادی طور پر بھی دکاندار سے یہی کولا بوتل طلب کرتا ہے ۔
دنیا بھر میں پراپگنڈا سیل جدید بنیادوں پر کام کرتا ہے ۔
ملٹی نیشنل کمپنوں کے یہ پراپگنڈا سیل ہی کمپنی کے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر تصاویر اور سٹیٹس اپ لوڈ کرنے کے حوالے سے ہماری برین واشنگ کر چکے ہیں ۔ ہم نے آج تک یہ نہیں سوچا کہ ہم مہنگے فاسٹ فوڈز بھی خریدتے ہیں اور معاوضہ کے بنا اس کمپنی کی تشہیری مہم کا حصہ بھی بنتے ہیں ۔ کمپنی ہمیں اس تشہیر کا ایک روپیہ بھی نہیں دیتی الٹا ہم عام مارکیٹ سے زیادہ قیمت بھی ادا کرتے ہیں ۔ یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا ۔
ان کمپنیوں کے پراپگنڈا سیل نے لاکھوں روپے اور مراعات کا حق ہماری برین واشنگ کر کے ادا کیا ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری برین واشنگ کرنے والے یہ پراپگنڈا سیل کے اراکین کی اکثریت اپنی کمپنی کی بنی اشیا نہیں کھاتے کیونکہ یہ ہماری برین واشنگ تو کردیتے ہیں لیکن خود حقیقت سے آگاہ ہوتے ہیں۔
تیسری دنیا میں پراپگنڈا سیل متحرک تو ہو چکے ہیں لیکن تا حال اتنی جدید بنیادوں پر کام نہیں کر رہے ۔
ہمارے یہاں یہ سیل سیاسی جماعتوں نے بنا رکھے ہیں جو سوشل میڈیا پر پوری الیکشن کمپین چلاتے ہیں ۔ 2013 کے انتخابات میں انہی سیلز نے اہم کردار ادا کیا تھا ۔ دوسری جانب عام آدمی کو جس پراپگنڈے سیل سے واسطہ پڑتا ہے وہ بلا معاوضہ کام کرتا نظر آتا ہے۔ اس کا مقصد اپنی علمیت یا اہمیت کا احساس دلانا ہوتا ہے ۔ یہ وہ دانشور ہیں جو چائے خانوں اور نائی کی دکانوں پر بیٹھے سستے اخبارات پڑھتے ملتے ہیں ۔ یہ ان دکانوں کے مالک یا ملازم بھی ہوتے ہیں ۔
ان کے پاس بیٹھیں تو لگتا ہے کہ انہیں دنیا بھر کی سیاست اور عالمی تبدیلوں سے لے کر ایوان صدر تک کی ہر خبر معلوم ہے ۔ ان کی رائے حتمی ہوتی ہے جس پر یہ کسی کی تنقید برداشت نہیں کرتے۔ ہر سیاسی فیصلے کے پیچھے یہ کوئی نہ کوئی عالمی سازش بھی تلاش کر لیتے ہیں۔ ملک میں کوئی بھی افواہ اٹھے یہ پورے اعتماد سے اسے ہوا دیتے ہیں۔ ان کی پوٹلی میں ایسے ایسے واقعات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے یہ افواہیں سچی معلوم ہونے لگتی ہیں ۔

بنیادی طور پر یہ وہ بوڑھے داستان گو ہیں جنہیں اپنی بات سنانے اور توجہ حاصل کرنے کے لئے سامعہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جوانی میں کچی پگڈنڈی پر خوبصورت چڑیلوں سے ملاقات کے احوال سے لے کر گاؤں کی لڑکیوں کے مر مٹنے تک کی داستانیں تو یہ ہر دوسری بات کے جواب میں سناتے ہیں ۔ پولیس کے خلاف بھی ان کے پاس سینہ گزٹ میں بہت کچھ موجود ہوتا ہے ۔ کئی پولیس مقابلوں کے یہ عینی شاہد ہوتے ہیں ۔ تھانوں میں خود انہیں یا ان کے کسی دوست کو ٹھیک ٹھاک پھینٹی بھی پڑ چکی ہوتی ہے ۔
ان کے بقول ہر سرکاری محکمہ کرپٹ ہوتا ہے اور تمام سرکاری افسر و اہلکار آپس میں ملے ہوتے ہیں ۔ یہ کسی بھی سرکاری ادارے پر اعتماد نہیں کرتے ۔ ہمارے یہاں پولیس سمیت دیگر سرکاری اداروں پر عدم اعتماد کا رحجان بڑھنے میں ان داستان گو تجزیہ نگاروں کا خاص کردار ہے ۔
اگلے روز ہم ایسے ہی ایک چائے خانے پر بیٹھے چائے کی پیالی میں طوفان اٹھا رہے تھے ۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی تھیں ۔ایک بابا جی پولیس کی کرپشن کی داستان سنا رہے تھے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈاکو اور پولیس آپس میں ملے ہوتے ہیں لہذا ڈکیتی کے بعد تھانے جا کر رپورٹ لکھوانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ مجھ سمیت لگ بھگ سبھی ان سے اتفاق کر رہے تھے ۔ اتنے میں کسی نے سوال کر دیا کہ اگر ہم پولیس کو بتائیں گے ہی نہیں تو اس کا فائدہ براہ راست ڈاکوؤں کو ہی ہو گا ۔ کالج کے ایک طالب علم نے پولیس کے نئے کمپلین سیل کا بھی ذکر کر دیا کہ اگر پولیس اہلکار سے شکایت ہو تو 8787 پر پر کمپلین کی جا سکتی ہے ۔
یہ شکایت ڈائریکٹ اعلی افسران کے پاس جاتی ہے ۔ بابا جی نے اس لڑکے کو ڈانٹے ہوئے کہا کہ یہ سب میڈیا اور پولیس کی ملی بھگت ہے۔ پولیس پر اب عوام کو اعتبار نہیں رہا ۔ گفتگو کے دوران بابا جی کی نظر دکان کے باہر پڑی تو معلوم ہوا ان کی سائیکل اپنی جگہ موجود نہیں ہے ۔ ہم سب باتوں میں اس قدر مصروف تھے کہ کسی کو بھی خبر نہ ہوئی کہ سائیکل کون لے کر گیا ہے ۔ بابا جی کو سائیکل غائب ہونے کا علم ہوا تو بے ساختہ چلا اٹھے : ون فائیو پر کال کرو ، چور زیادہ دور نہیں گئے ہوں گے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

سید بدر سعید کے جمعہ ستمبر کے مزید کالم