جنگ اور امن

پیر اکتوبر    |    محمد عرفان ندیم

سر ونسٹن چرچل برطانیہ کے مشہور وزیر اعظم تھے ، انہوں نے اپنی زندگی کا آغاز ایک سپاہی اور اخباری نمائندے کی حیثیت سے کیا ،وہ1901میں پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے اور مختلف عہدوں سے ہوتے ہوئے 1965میں انتقال کر گئے ۔وہ ہوم سیکرٹری، نیوی اور فضائیہ کے سربراہ ،وزیر جنگ ، وزیر خزانہ اور اسلحے کے وزیرسے ہوتے ہوئے وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچے۔1936میں برطانوی وزیر اعظم چیمبر لین نے ہٹلر کو خوش کرنے کی پالیسی اپنائی تو چرچل میدان میں کو د پڑا ،یہی وہ وقت تھا جب چرچل کو برطانوی سیاست میں ”ان “ ہو نے کا موقعہ ملا۔
دوسری جنگ عظیم شروع ہو ئی تو اسے ایڈ مرل کی حیثیت سے کابینہ میں شامل کر لیا گیا اوروہ مئی 1940میں برطانیہ کا وزیر اعظم بن گیا ۔ہٹلر نے خود کشی کی اور 1945میں جنگ ختم ہو گئی ،برطانیہ میں لیبر پارٹی کی حکومت قائم ہو ئی، چرچل قائد حزب اختلاف بن گیا ،یہ وہ دور تھا جب روس اور مغربی اتحادیوں میں سرد جنگ عروج پر تھی ، چرچل نے اس سرد جنگ میں روس اور مغربی اتحادیوں میں اختلافات بڑھانے میں اہم کر دار ادا کیا ، وکٹری کا نشان اور روس کے خلاف ”آہنی پردے “ کی اصطلاح بھی اسی نے ایجاد کی ۔

(خبر جاری ہے)

1951کے انتخابات میں قدامت پسند پارٹی کو دوبارہ منظم کیا ،الیکشن ہوئے ،قدامت پسند پارٹی جیت گئی ، چرچل دوبارہ وزیر اعظم بنااور 1955میں بڑھاپے کی وجہ سے سیاست سے الگ ہو گیا ۔ ونسٹن چرچل کو سیاست کی دنیا کا امام کہا جاتا ہے ،دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر اور جرمنی کی شکست میں ا سنے اہم کردار ادا کیا ، کہا جاتا ہے اگر دوسری جنگ عظیم میں چرچل نہ ہوتا تو آج دنیا کا نقشہ کچھ اور ہو تا ۔جرمنی کے بعد وہ روس کا بھی خاتمہ چاہتا تھااور اس کے لیئے اس نے مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر بھر پور لابنگ کی، امریکی صدر روزویلٹ نے اس لابنگ کی مخالفت کی جس کی وجہ سے روس بچ گیا۔
چرچل برطانوی نوآبادیات کی آذادی کا سخت مخالف تھا ، اس نے صرف اس وجہ سے وزیر اعظم بننے سے انکار کر دیا تھا کہ اسے بطور وزیر اعظم ہندوستان کی آذادی کی تقریب کی صدارت کر نی پڑنی تھی ۔چرچل اگرچہ اسلام اور مسلمانوں کا سخت مخا لف تھا لیکن وہ اسلامی تہذیب وثقافت کا دلدادہ تھا ، بلنٹ اس کا ایک عربی دوست تھا ،چرچل اس کی پارٹیوں میں جاتا تو عربی جبہ اور لباس زیب تن کرتا ،اسلامی تہذیب کی طرف اس کا رجحان اس قدر شدید تھا کہ اس کے گھر والوں کو اس کے مسلمان ہونے کا ڈر رہتا ، چرچل نے ایک بار خط میں لکھا کہ وہ پاشا بننا چاہتا ہے جس پر اس کی بھابھی نے اسے ایک خط تحریر کیا جس میں لکھا ”مہربانی کر کے آپ اسلام قبول نہ کریں میں نے یہ نوٹ کیا ہے آپ میں مشرقی تہذیب کو قبول کرنے اور پاشا بننے کے رجحانات پائے جاتے ہیں “
ونسٹن چرچل کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک بار قوم سے خطاب کے لیئے اسے ریڈیو اسٹیشن جانا تھا ، وہ سڑک پر آیا اور ایک ٹیکسی والے کو اشارہ کیا کہ اسے برٹش براڈ کاسٹنگ ہاوٴس جانا ہے ، ٹیکسی ڈرائیور نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ چرچل کی تقریر سننے جارہاہے ،چرچل یہ سن کو جھوم اٹھا اور جیب سے ایک پاوٴنڈ نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا،ٹیکسی ڈرائیور نے پاوٴنڈ دیکھا تو بولا ”بھاڑ میں جائے چرچل اور اس کی تقریر ، آپ بیٹھیں میں آپ کو چھوڑ آتا ہو ں آپ جیسا رحم دل اور نیک انسان مجھے کہاں ملے گا “ چرچل نے بتایا کہ میں ہی چرچل ہوں اور مجھے ہی تقریر کرنے جانا ہے تو ٹیکسی ڈرائیور بہت شرمندہ ہوا اور اپنی گستاخی کی معافی چاہی ، چرچل نے اسے سمجھاتے ہو ئے کہا ” کو ئی بات نہیں روپیا پیسا اکثر تعلقات اور رشتے بھلا دیتا ہے “چرچل ایک بار پاگل خانے گیا اور وہاں کھڑے ایک شخص سے پوچھا ”آپ کا تعارف “اس شخص نے جواب دیا”میں پاگل خانے میں زیر علاج تھا ابھی صحت یاب ہو گیا ہوں اور آج گھر جا رہا ہوں ۔
“اس نے چرچل کا تعارف پوچھا تو چرچل نے کہا ”میں برطانیہ کا وزیر اعظم ہوں “وہ شخص قہقہے لگا نے لگا ، آگے بڑھا اور بڑی ہمدردی کے ساتھ چرچل کے کندے پر ہاتھ رکھ کر کہا ”میاں فکر نہ کرو آپ بہت جلد ٹھیک ہو جا وٴ گے ، یہ بہت اچھا ہسپتال ہے ، یہاں آنے سے پہلے میں بھی خود کو برطانیہ کا وزیر اعظم سمجھتا تھالیکن اب میں مکمل طور پر ٹھیک ہو “
بات دور نکل گئی ہم واپس آتے ہیں ،چرچل نے دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کو شکست سے بچایا تھا ،جنگ کے فورا بعد برطانیہ میں الیکشن ہوئے تو برطانوی عوام نے چرچل کو ووٹ دینے سے انکا رکر دیا ،برطانوی عوام کا کہنا تھا کہ چرچل ایک جنگی ہیرو ہے اور اب ہمیں جنگ نہیں امن چاہیئے اس لیئے چرچل برطانیہ کی تعمیر نو اور امن کے لیئے موزوں امیدوار نہیں ۔
برطانوی عوام نے مناسب وقت پر درست فیصلہ کیا تھا، برطانوی عوام جانتے تھے کہ چرچل ایک جنگجو ہے اور ایک جرنیل سے صرف جنگ کی امید ہی کی جا سکتی ہے ۔ یہ حقیقت ہے چرچل اگر الیکشن جیت جاتاتو دنیا ایک نئی جنگ میں مبتلا ہوجاتی ۔
برطانوی عوام اور یورپ وہ سبق آج سے ستر سال پہلے سیکھ چکا تھا جو پاک انڈیا عوام،ان کا میڈیا اورحکمران ستر سال بعد بھی نہیں سیکھ سکے ۔ پاکستان اور انڈیا کے عوام ہر دو ماہ بعد جنگ جنگ کھیلنے لگ جاتے ہیں ، ایشیا کے اکثر خطے آج بھی جنگ کی لپیٹ میں ہیں ،کبھی شمالی اور جنوبی کوریا آمنے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور کبھی پاک بھارت فوجیں بارڈر پر آ جاتی ہیں ، کبھی روس اور چین کے حالات خراب ہو جاتے ہیں اور کبھی عرب اسرائیل تنازع زور پکڑ لیتا ہے، یہ براعظم ایشیا کی بدقسمی ہے کہ یہ ہیروشیمااور ناگا ساکی جیسے سانحات سے سبق نہیں سیکھ سکا ، جنگ عظیم اول اور دوم میں بھی ایشیا میں کروڑوں افراد ہلاک ہوئے لیکن ایشیا نے پھر بھی سبق نہیں سیکھا اور آج ایک بار پھر ایشیا کے دو اہم ممالک،ان کا میڈیا اور ان کے عوام جنگ کے لیے پر تول رہے ہیں ،یہ ثابت کرتا ہے کہ ایشیائی عوام کا شعور آج بھی 1945کے یورپی عوام سے بہت پیچھے ہے ، ان لوگوں نے 1945میں سیکھ لیا تھا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہوا کرتی اور یہ پورے کے پورے ملک ہڑپ کر لیتی ہے لیکن ایشیائی عوام آج بھی جنگوں کے لیے تیار بیٹھے ہیں اوریہ جنگوں کی پٹاری سے اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
آپ دنیا کا نقشہ اپنے سامنے میز پر پھیلائیں اور دنیا کے 260ممالک کی فہرست بنائیں، اس فہرست میںآ پ ترقی یافتہ ممالک کو الگ کریں ،آپ کو نظر آئے گا ترقی یافتہ ممالک صرف اس لیئے ترقی یافتہ ہیں کہ وہاں امن اور قانون ہے اور اور ان ممالک نے اپنے ہمسائیوں سے جنگ بندی کے معاہدے کیئے ہوئے ہیں ،ترقی پذیر اور تیسری دنیا صرف اس لیئے پیچھے ہے کہ وہاں امن ہے نا قانون او ر یہ ممالک اپنے ہمسائیوں سے الجھے رہتے ہیں۔
آج پاکستان اور بھارت اپنا دفاعی بجٹ کم کر دیں اگلے دس سال میں ان ممالک سے غربت ختم ہو جائے گی اور اگلے پندرہ سال میں یہ ممالک ایشیا کے ترقی یافتہ ممالک کہلائیں گے۔ میں پاک بھارت میڈیا، عوام اور حکمرانوں کے جنگ جنون کو دیکھتا ہوں تو سر پکڑ لیتا ہوں کہ ڈیڑھ سے پونے دو ارب آبادی والے خطے میں کوئی بھی ایسا نہیں جو جنگ کی بجائے امن کی بات کرے اور وہ یہ بات سمجھ سکے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوا کرتیں بلکہ جنگیں ہیروشیما اور ناگا ساکا جیسے وہ مسائل پیدا کرتی ہیں جن کے زخم ستر سال گزرنے کے بعد بھی نہیں بھرتے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد عرفان ندیم کے اتوار اکتوبر کے مزید کالم