محسن انسانیت ﷺ کے احسا نات اور ہمارا رویہ

جمعرات اکتوبر    |    حافظ ذوہیب طیب

تاریخ کی ایک معروف کتاب تنبیہ الغافلین “ میں ایک واقعہ درج ہے جو اپنے قارئین کے نظر کر رہا ہوں ۔1400سال قبل مدینہ میں ایک شام جناب جبرائیل علیہ السلا م ، محسن انسا نیت جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آتے ساتھ ہی ارشاد فر مایااے حبیب خدا ﷺ: آج جہنم کا نظارہ دیکھ کے آیا ہوں جسے دیکھنے کے بعد طبیعت میں غم کا زہر گھل گیا ہے ۔ جبرائیل جیسے بزرگ و بر تر فرشتے کو غم کی اس حالت میں دیکھ کر محسن انسانیت ﷺ گویا ہوتے ہیں کہ:” جبرائیل مجھے بھی جہنم کے بارے کچھ بتاےئے؟“
جبرائیل فر ماتے ہیں کہ:” اے نبی ﷺ! جہنم کے کل سات در جات ہیں ۔
ان میں سے جو سب سے نیچے والا درجہ ہے وہ منافقوں کے لئے ہے ۔ اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں مشرک لوگ ہوں گے ، اس سے اوپر پانچویں درجے میں سورج اور چاند کی پرستش کر نے والے عذاب کا مزہ چکھیں گے،چوتھے درجے میں آتش پرست لوگ ہوں گے ،تیسرے درجے میں یہود اور دوسرے درجے میں عیسائی اپنے گناہوں کی سزا بھگتیں گے۔

(خبر جاری ہے)

یہ کہہ کر جبرائیل  خاموش ہو گئے“ ۔ محسن انسانیت ﷺ ، جبرائیل  کی خاموشی کو دیکھ کر پریشان ہوئے اور بولے :”پہلے درجے میں کون لوگ ہوں گے؟ جس کے جواب میں جبرائیل  نے ارشاد فر مایا:” پہلے در جے میں آپکی امت کے گناہگار لوگ ہوں گے۔


محسن انسانیت ﷺ نے جیسے ہی جبرائیل  کے یہ الفاظ سنے کہ میری امت کے لوگوں کو بھی جہنم کا ایندھن بنا یا جائے گا تو آپ ﷺ بے حد غمگین ہو گئے اور اللہ کے حضور دعائیں کر نا شروع کردیں ۔ مسلسل تین روز ایسے گذرے کہ محسن انسانیت ﷺمسجد میں نماز پڑھنے کے لئے تشریف لاتے اور فورََا اپنے حجرے میں تشریف لے جاتے۔ حضرات صحابہ  جو اس ساری صورتحال کو دیکھ رہے تھے ،پریشان ہوئے اور اسی حالت میں جب جناب ا بوبکر سے رہا نہ گیا تو حجرے کے دروازے پر دستک دی ، لیکن جب کوئی جواب نہ آیا تو آپ روتے ہوئے جناب عمر فاروق کے پاس گئے اور سارا واقعہ بیان کیا، عمر فاروق  کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہوا۔
عمر  نے جناب سلمان فارسی  کو اس ساری صورتحال سے آگاہ کیا اور پھر تینوں حضرت علیکے پاس تشریف لے گئے ۔ علی نے سوچا جب ان تینوں معتبرحضرات کو جواب نہیں ملا تو میرے جانے سے بہتر ہے کہ میں محسن انسا نیت ﷺ کی نو رنظر ، جگر گوشہ، محتر مہ سیدہ فا طمہ  کواُنکے پاس بھیجوں۔ لہذا سیدہ فاطمہ  کو تما م حالات سے آگاہ کیا گیا، فاطمہ  حجرے پر گئیں اور اپنے پیار بھرے مخصوص لہجے میں سلام کیا۔ بیٹی کی آواز سن کر محسن انسانیت ﷺاٹھے، دروازہ کھولااور سلام کا جواب دیا۔
بیٹی گو یا ہوئیں : ”ابا جان!آخر کیا بات ہے کہ تین دنوں سے آپ ﷺیہاں تشریف فر ما ہیں اور کسی سے بات بھی نہیں کر رہے؟“فر مایا:اے بیٹی!جب سے جبرائیل نے جہنم کے بارے آگاہ کیا ہے کہ میرے امت کے لوگ بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے تب سے اپنی امت کے گناہگاروں کا غم مجھے کھائے جا رہا ہے اور میں اپنے اللہ سے دعائیں کر رہا ہوں کہ اللہ انکو معاف کردے ، پھر آپ ﷺسجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کر دیا“۔

قارئین!جب سے میں نے یہ واقعہ پڑھا ہے تو میں شرمندگی کے مارے اپنے اندر ہی مرتا چلا جا رہا ہوں۔ مجھے اپنے آپ سے گھن محسو س ہو رہی ہے ۔ اتنے مہربان اور شفیق نبی ﷺ جو ہمارے لئے کبھی طائف کے میدان میں پتھر کھا کھا کر لہو لہان ہو جاتے ہیں، شعب ابی طالب میں سخت ترین دن کا سا مناکر نا پڑتا ہے جہاں عزیز ترین بیوی اور عرب کی امیر ترین عورت جناب سیدہ خدیجہ  کی وفات ہوتی ہے تو ان کے کفن کے اخراجات نھی نہیں میسر ہوتے اور بالآخر انہیں ان کے پرانے کپڑوں میں ہی دفن کر دیا جا تا ہے ۔
جبکہ دوسری جانب مجھ جیسے لوگ ہیں جو پوری زندگی اتنے شفیق اور مہربان نبی ﷺ کے احکامات کے خلاف گذارتے ہیں ۔ ان کے بتائے ہوئے طریقوں کواپنے نفس کی اجارہ داری کے آگے بے وقعت کر دیتے ہیں ۔ انسانوں سے پیار کر نے کا نبوی ﷺ فرمان ،اپنی انا اور گھمنڈ کی نظر کر دیتے ہیں اور انسانو ں پر ایسے ایسے مظالم رو اء رکھتے ہیں کہ الامان الحفیظ۔
قارئین کرام !کتنی ظلم کی بات ہے کہ ایک طرف تو ہمارے نبی ﷺ اپنے امتی کو جہنم کا ایند ھن بننے کی خبر پر کئی روز تک اپنے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو کر دعائیں مانگتے رہے جبکہ ہم اپنے منبروں محرابوں سے ایک ہی لمحے میں دوسرے کو جہنمی قرار دینے کا اعلان کر دیتے ہیں ۔
محسن انسانیت ﷺجس امت کے لوگوں کے لئے رات بھر رو رو کر دعائیں مانگتے تھے ، ہم انہیں تکلیف، پریشانی اور رنج پہنچانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔کیا کبھی ہم نے اس پر غور کیاکہ ایسے حالات میں ، روزقیامت ،ہم اتنے شفیق نبی ﷺ کے سامنے کس منہ سے حاضر ہو نگے ؟میرے پاس تو سوائے شرمندگی کے اور کوئی جواب نہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے منگل اکتوبر کے مزید کالم