فلسفہ شہادت حسین

پیر اکتوبر    |    حافظ ذوہیب طیب

جب بھی محرم الحرام کے مہینے کا چاند اپنی تما م تر رعنائیوں اور روشنیوں کے ساتھ نمودار ہوتا ہے تو اہل ایمان کے دل ، نواسہ رسول ﷺ،جناب حسین  اور انکے ساتھیوں کی شہادت سے غمناک ہو جاتے ہیں ۔ محرم الحرام کو جہاں یہ فضیلت حاصل ہے کہ ہجری سال کا یہ پہلا مہینہ ہے وہاں قرآن مجید میں سورہ التوبہ میں حر مت والے مہینوں کی روشنی میں اس ماہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس مہینے کا احترام کیا جائے ، قتل و غارت ، جنگ و جدل اور لوٹ مار نہ کی جائے اور امن و سکون قائم رکھا جائے ۔
اس مہینے کی ایک اور خاصیت یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اس ”شھراللہ“ کہا ہے اور رمضان کے بعد سب سے افضل مہینہ محرم الحرام کو قرار دیا گیا۔
لیکن تاریخ اسلام پر نظر دوڑانے کے بعد جہاں کئی ایسے واقعات پڑھنے کے بعد ہمارے سر فخر سے بلند ہو جاتے ہیں وہاں اسلامی تاریخ کا دردناک اور تکلیف دہ واقعہ اسی مہینے کی 10تاریخ کو پیش آیاجس میں نواسہ رسول ﷺ سیدنا حسین اور بیشتر اہل بیت عظام کو انتہائی سفاکی کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔

(خبر جاری ہے)

ستم تو یہ ہے کہ انہیں شہید کر نے والے بھی اپنے آپ کو مسلمان ہی کہلاتے تھے، جس کو پڑھنے کے بعد سر شرم کے مارے جھک جاتے ہیں۔
خلافت راشدہ کے بعد پہلے حکمران امیر معاویہ  نے اپنی آخری عمر میں اپنے بیٹے یزید کو خلیفہ نامزد کر دیاجس پر مسلمانوں کی اکثریت نے اس غیر شرعی فیصلے کو قیصروکسریٰ کا طریقہ قرار دے کر رد کر دیا جس میں سے سب سے زیادہ مخا لفت جناب حسین  نے کی ۔سنہ 60ہجری میں جب یزید نے باپ کی وصیت کے مطابق عنان خلافت سنبھالتے ہی والی مدینہ مروان بن حکم کو سیدنا حسین سے بیعت لینے کی تاکید کی تو ظلم اور جبر کے نتیجے میں قائم ہونے والے حکومت کو تسلیم نہ کرتے ہوئے جناب حسین  اور ان کے رفقا ء کار نے مدینہ چھوڑ کر مکہ کی راہ لی، تاکہ مروان کے دباؤ سے بچ سکیں۔

مکہ میں قیام کے دوران جناب حسین  کو کوفیوں کی طرف سے پیغامات موصول ہونا شروع ہو گئے کہ آپ یہاں عراق یعنی کوفہ ہمارے پاس آجائیں ،یہاں سب آپ کے حمایتی اور خیر خواہ ہیں۔ جس پر جناب حسین نے اپنے اہل بیت کے ساتھ کوفہ جانے کا ارادہ کر لیا۔ کوفہ میں آپ  کے بارے میں پوری مخبری ہو رہی تھی جس کی روشنی مین ابن زیاد نے ایک ہزار لشکر حر بن یزید کی قیادت میں بھیجا کہ یا تو جناب حسین  سے بیعت لو یا انہیں گھیر کر میرے پاس واپس لے آؤ۔
کچھ دنوں بعدعمرو بن سعدکی سر براہی میں ایک دوسرا لشکر جو چار ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھا،پہنچ گیاجس نے بھی وہی مطالبے دہرائے۔لیکن جناب حسین  نے ان دونوں کے مطالبات کو تسلیم کر نے سے یکسر انکار کر دیا اور کسی بھی صورت ظلم کے آگے سر تسلیم کر نے کی بجائے ظالم کے خلاف لڑنے کا علا ن کیاجس کے نتیجے میں ابن زیاد کے حکم پر قافلہ حسین پر پانی بند کر دیا گیاجس کے بعد شمر ذی الجوشن بھی مزید دستے لے کر آن پہنچااور حالات میں مفاہمت اورمصا لحت کا کائی امکان باقی نہ رہا۔

ظلم اور بد معاشی سے بر سر اقتدار آنے والوں کی طرف سے جناب حسین  اور اہل بیت پر مظالم کی ایسی ایسی داستانیں رقم کیں جسے پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ 10،محرم الحرام سنہ 61ہجری کو کر بلا کے مقام پرپاک بیبیوں کو بے پردہ کیا گیا، خیموں کو آگ لگا دی گئی، معصوم بچوں کے گلے کاٹے گئے، جوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور بالآخر ایک شقی القلب انسان، سنان بن انس نے آگے بڑھتے ہوئے نواسہ رسوال ﷺ، جگر گوشہ بتول  ،سیدنا حسین  کاسر مبارک تن سے جدا کر دیا۔

قارئین!جہاں واقعہ کر بلا ہمیں ایک عظیم قربانی کی یاد دلا تا ہے وہاں ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ ظلم، نا انصافی اور بر بریت کے آگے جھک جانے سے بہتر ہے کہ ظالمانہ نظام کے آگے کلمہ حق بلند کر نے کو ترجیح دیں جس طرح جناب حسین نے اپنے اسوہ حسنہ سے اپنے اہل بیت اور تما م امت کو اس پائے استقلال سے راہ حق کے مصا ئب و مشکلات برداشت کر نے کا سبق دیا۔میرے نزدیک جناب حسین  اور ان کے رفقا ء کار کی شہادت کے بعد یہ سلسلہ شروع ہوا تھا اور تا قیامت یہ سلسلہ جاری رہے گا کہ جہاں جہاں ظلم اور نا انصافی کا دور دورہ ہو گا وہ معاشرہ کو فہ کہلائے گا ، واقعہ کربلا ہم سے اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم بھی جناب حسین  اور اہل بیت عظام  کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس ظالمانہ نظام کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے ہوئے یزیدیوں کا آلہ کار بننے کی بجائے حسینی  قافلے کے مسافر بنیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے پیر اکتوبر کے مزید کالم